faqeer e kamil

Sultan ul Ashiqeen Batoor Faqeer e kamil | سلطان العاشقین بطورِ فقیر ِ کامل اکمل

سلطان العاشقین بطورِ فقیر ِ کامل اکمل  – حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی تعلیمات کی روشنی میں

تحریر: عرشیہ خان سروری قادری ۔لاہور

 اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (النسائ:59)
ترجمہ : اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کر و اللہ کے رسول کی اور اُس کی جو تم میں اولی الا مر ہو ۔
حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی تعلیمات کے مطابق صاحب ِ امر اُسے کہتے ہیں جس کا امر روکا نہ جائے کیو نکہ فقیر کی زبان رحمن کی تلوار ہوتی ہے۔ وہ جس کام کے لیے کُن کہتا ہے وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ صاحب ِ امر فقیر کامل اکمل اور انسانِ کامل ہوتا ہے جس کا  امر ہر شے پر غالب ہوتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں:
عارف کامل قادری بہر قدرتے قادر و بہر مقام حاضر ۔( رسالہ روحی شریف)
ترجمہ : عارف کامل قادری (انسانِ کامل) ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔
فقیر ِ کامل کو یہ شرف تب حاصل ہوتا ہے جب وہ حدیث ِ نبویؐ ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا‘‘ (مرنے سے پہلے مرجاؤ) کے مرتبہ پر پہنچ چکا ہو اور اس کے بعد فقر کے انتہائی مقام فنا فی ھُو کو پا چکا ہو جسے  وحدت، فقر فنا فی اللہ بقا باللہ یا وصالِ الٰہی کہتے ہیں اور یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان سر اپا ’’توحید‘‘ ہو جاتا ہے۔ اس مرتبہ پر صاحب ِ فقر کی اپنی ہستی ختم ہو جاتی ہے اور ’میں اور تُو‘ کا فرق مٹ جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے یکتائی کے اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے جس کے متعلق حضرت امیر خسروؒ نے ان الفاظ میں فرمایا: 

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری 

ترجمہ: میں تو ہو گیا اور تو میں ہو گیا میں جسم ہو گیا اور تو اس کی جان۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور۔ (شمس الفقرا)
درج ذیل حدیث ِ قدسی میں بھی اسی مقام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
مَنْ طَلَبَنِیْ فَقَدْ وَجَدَنِیْ وَ مَنْ وَجَدَنِیْ عَرَفَنِیْ وَ مَنْ عَرَفَنِیْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَحَبَّنِیْ عَشَقَنِیْ وَ مَنْ عَشَقَنِیْ قَتَلْتُہٗ وَ مَنْ قَتَلْتُہٗ فَعَلَیَّ دِیَّتَہٗ وَ اَنَا دَیَّتَہٗ
ترجمہ:جو میری طلب کرتا ہے وہ مجھے پالیتا ہے اور جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے اور جو مجھے پہچان لیتا ہے اسے مجھ سے محبت ہو جاتی ہے اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے میرے ساتھ عشق ہو جاتا ہے اور جسے میرے ساتھ عشق ہو جاتا ہے میں اسے قتل کر دیتا ہوں اور جسے میں قتل کر دیتا ہوں اس کی دیت مجھ پر لا زم ہوتی ہے اور اس کی دیت میں خود ہوں۔
یعنی حق تعالیٰ اس کامل ہستی کے وجود میں خود جلوہ گر ہو جاتا ہے۔
حق کے متلاشیوں کے لیے ایسے فقیر ِ کامل سے معرفت ِ الٰہی طلب کرنا ضروری ہے کیونکہ فقیر ِ کامل راہِ حق کے سفر کی دشواریوں اور اس کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ حضرت سلطان باھُو ؒ نے فقیر ِ کامل کی صفات کا ذکر اپنی مختلف کتب میں یو ں فرما یا ہے:
جو فقیر مندرجہ ذیل صفات سے موصوف ہو وہی صادق فقیر ہے۔ اوّل مراتب ِفقر فنا الفنا ہیں، دوم مراتب فقر بقا البقا ہیں۔ سوم مراتب ِ فقر اللہ کے قرب و وصال سے مشرف ہونا ہے۔ فنا کسے کہتے ہیں اور بقا کسے کہتے ہیں اور وصال کسے کہا جاتا ہے کہ جس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ فنا و بقا کے مراتب اس آیت کے مصداق ہیں:
یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیَّتَ مِنَ الْحَیِّ  (الروم ۔ 19)
ترجمہ: وہ زندہ کو مردہ میں سے مرد ہ کو زندہ میں سے نکا لتا ہے۔
 فنا یہ ہے کہ فقیر ایک دم میں تما م عالم کو فنا کر دے اور بقا یہ ہے کہ ایک دم میں تمام عالم کو زندگی عطا کر دے۔یُحْیِ الْقَلْبَ وَیُمِیْتُ النَّفْسَ (وہ قلب کو زندہ کرتا ہے اور نفس کو مارتا ہے) کے مصداق فقیر اس طاقت کا حامل ہوتا ہے کہ موجود کو لاموجود، مشکل کو آسانی، ویرانی کو آبادی اور جمعیت کو پریشانی میں بدل سکتا ہے۔ یہ اس فقیر کے مراتب ہیں جو نہ صرف روشن ضمیر بلکہ کونین اور تمام مخلوقات پر غالب و امیر ہوتا ہے۔ عارف صادق اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر (بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہو تا ہے) کی تخت ِ فقر پر مسند نشین ہوتا ہے اور تما م عالم اس کے زیر ِ حکم ہو تا ہے۔ یہاِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ    (جب فقر مکمل ہوتا ہے پس وہی اللہ ہے) کے مراتب ہیں۔ فنا فی اللہ فقیر اس صفت کے مصداق حضرت رابعہ ؒ اور سلطان بایزیدؒ کی مثل ہوتا ہے کہ اللہ کی معرفت ِ توحید کی بدولت اس کے ہا تھوں میں دونو ں جہان کی کلید ہو تی ہے۔ (امیر الکونین)

یہی انسانِ کامل صاحب ِ مسمّیٰ مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ، حامل ِ امانت ِ الٰہیہ او ر خزانۂ فقر کاوارث، امامِ زمانہ اور نائب ِ رسول ؐ ہوتا ہے  جو پہلے ہی روز حق کے متلاشیو ں اور طالبانِ مولیٰ کو سلطان الاذکار ’’ھُو‘‘ عطا کر دے اور ان کے نفس کو مردہ اور روح کو زندہ کر دے۔
حضرت سخی سلطان باھُو ؒ کے روحانی وارث اور ان کے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخ ِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جو فقر کا مرکز اور مرشد کامل اکمل ہیں اور حضرت سلطان باھُو ؒ کے روحانی فیض کو طالبانِ مولیٰ میں عام فرما رہے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:
مَنْ مَاتَ وَ لَمْ یَعْرِفُ اِمَامِ زَمَانَۃَ مَاتَ مَیْتَۃٌ جَاہِلِیَّۃٌ
ترجمہ: جو امامِ زمانہ کی معرفت کے بغیر مر جائے وہ جہالت کی موت مرا۔
امامِ زمانہ سے مراد وہ کامل فقیر ہے جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب و جانشین ہو اور قدمِ محمد ؐ پر ہو، ہر دم مجلس ِ محمدیؐ کی حضوری میں حاضر رہتا ہو، توحید ِ الٰہی میں مستغرق ہو اور جس کے پاس اسم ِ اللہ ذات کا نور ہو اس کامل ہستی سے صراطِ مستقیم حاصل کرنا لازم ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقیر کے ان مراتب کو خوا ہشاتِ نفسانی سے مغلوب لو گ کیا جانیں کہ فقیر ایک دم میں تمام عالم کو اپنی توجہ سے فنا کر سکتا ہے اور ایسا وہ حکم ِ خدا اور اجازتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کرتا ہے۔ کیونکہ فقیر توحید ِ الٰہی میں غرق اہل ِ حضور ہوتا ہے اور اس کے پاس اسم ِ اللہ ذات کا نور اور تمام جلالی و جمالی صفات کی طاقت ہوتی ہے اور اس کی کوئی بھی بات حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ (امیر الکونین) 

 علامہ اقبال ؒ نے اپنے اشعار میں ایسے ہی فقیر ِ کامل کا ذکر فرمایاہے: 

ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکشا کارساز
خاکی و نوری نہاد، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس انہی صفات کے حامل اور بلاشبہ حضر ت سخی سلطان باھُو ؒ کے روحانی وارث ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس طالبانِ مولیٰ کیلئے باعث ِ رحمت ہیں، آپ کی شفقت اور مہربانی کی بدولت لاکھوں طالبانِ مولیٰ کو معرفت ِ الٰہی نصیب ہوئی کیونکہ آپ مدظلہ الاقدس خزانہ فقر کی کلید اور فقر کا واحد مرکز ہیں۔ سلسلہ سروری قادری کے مرشد کامل کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ صادق طالب کو ایک ہی نگاہ میں اور ایک ہی توجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر کر دیتا ہے اور ایک ہی توجہ سے ذاتِ حق تعالیٰ کے مشاہدے میں مشغول کر دیتا ہے۔ اس پاک و طیب سلسلہ میں رنج ِریاضت، چلہ کشی، حبس ِ دم، ابتدائی سلوک اور ذکر و فکر کی الجھنیں ہر گز نہیں ہیں۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد پارس پتھر کی طرح ہوتا ہے۔ مرشد کسوٹی کی طرح ہے۔ اس کی نظر سورج کی طرح (فیض بخش) ہے جو بد خصائل کو ( نیک عادات سے) تبدیل کر دیتی ہے۔ مرشد رنگریز کی طرح ہے۔ مرشد تنبولی کی طرح باخبر ہوتا ہے جو پان کے پتوں (کی خصوصیات) سے آگاہ ہے (اسی طرح مرشد بھی اپنے مریدوں کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہو تا ہے)۔

آہن کہ بپارس آشنا شد
فی الحال بصورتِ طلا شد 

ترجمہ: لوہا جو پارس کو چھو جائے فوراًسونا بن جاتا ہے۔ (عین الفقر)

    باھُو مرشدانِ این زمانہ زر بگیر
ہر کہ نظرش زر کند آن بے نظیر 

ترجمہ: اے باھُوؒ! اس زمانہ کے مرشد پیسہ لوٹنے والے ہیں۔ ایک ہی نظر سے سونا بنانے والے مرشد نایاب ہیں۔ (عین الفقر)

فقیر فنا فی اللہ کا وجود ہمہ تن تجلی ہوتا ہے کیونکہ فقیر عین ذات کے ساتھ ہم ذات ہو تا ہے اس لیے اس پر اللہ تعالیٰ کے نور کی تجلیات (ہر وقت) روشن رہتی ہیں۔ 

باھُوؒ از سرتا پا تجلی گشت نوری
من ازاں نورم کہ از من ظہوری 

ترجمہ: باھُو ؒ سر سے پائوں تک نوری تجلی بن چکا ہے ۔میں اسی کے نور سے ہو ں کہ جس کا نور مجھ سے ظاہر ہے۔ (عین الفقر) 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی نگاہ ِ کامل سے مریدین کا تزکیہ نفس فرما رہے ہیں اور دنیاوی محبت کے باعث ان کے زنگ آلود قلوب کو نورِ الٰہی سے منور فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مریدین کی تربیت آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقش ِ قدم پر فرماتے ہیں۔ آپ حقیقی معنوں میں علامہ اقبال ـؒ  کے مردِ مومن ہیں۔ اس حقیقت کا مشاہدہ آپ مدظلہ الاقدس کے لاکھوں مریدین کر چکے ہیں اور اپنے ساتھ پیش آنے والی کرامات اور روحانی مشاہدات کے بعد حق الیقین کی منازل طے کر چکے ہیں کہ آپ مدظلہ الا قدس واقعی ولی ٔ کامل ہیں۔جیسا کہ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

مردِ میدان زندہ از اللہ ھُو است
زیرِ پائے او جہانِ چار سُو است

ترجمہ: مردِ میدان (انسانِ کامل) اللہ ھُو (اسم ِ ذات) سے زندہ ہے اور یہ جہان چار سُو اس کے قدموں کے نیچے ہے۔
سیّدنا غوث الا عظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؓفرماتے ہیں:
اے بندے! جب تو مقام ِ فنا میں پہنچے گا تو تجھ پر تکونین (امر ِکن کا اِذن) وارد کی جائے گی یعنی فنائیت کے بعد موجود کرنا اورکائنات پیدا کرنا تیرے سپرد کیا جائے گا اور عالم میں تصرف کرنے کی طاقت تجھے عطا کی جائے گی جس کی بدولت تو دو جہان میں تصرف کرے گا۔  ( فتوح الغیب)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فقیر ِ کامل کے تصرفات کے متعلق فرماتے ہیں:
فقیر کو اہل ِ دنیا گدا و مفلس سمجھتے ہیں۔ دراصل فقیر کو کل وجز کے بے شمارخزانوں پر تصرف حاصل ہو تا ہے جبکہ اہل ِ دنیا کو محدود دولت پر اختیا ر ہوتاہے جس کی طرف فقیر نظر بھی نہیں ڈالتا۔ بیت:

باھُوؒ بہر از خدا این راہنما
گر بیائی میرسانم باخدا 

ترجمہ: باھوؒ اللہ کی خاطر اس کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اے طالب! اگر تو آئے تو میں تجھے اللہ تک پہنچا دوں گا۔
مرشد جس طا لب مرید کا نام لے کر اسے یا د کرتا ہے اسے ولی اللہ کے مرتبہ پر فائز کر دیتا ہے اور اس کا مرتبہ (دنیاوی) بادشاہ سے بھی فائق تر کر دیتا ہے کیو نکہ اللہ کے فقیر کی نگاہ میں دنیاوی بادشاہ سائل، عاجز، مفلس اور گدا ہوتے ہیں۔ مرشد کامل جس طا لب کو تصور اسم ِ اللہ ذات بخشتا ہے اسے چشم ِعیاں عطا ہوتی ہے اور ملک ِ سلیمانیؑ کی بادشاہی اس طالب کے قید و قبضہ میں آجاتی ہے۔ مرشد کامل اپنے طالب مرید کو ہر عمل اور کیمیا میں کامل کرتا ہے اور اسے غنایت و سنگ ِ پارس سے ایسا تصرف عطا کرتا ہے کہ بادشاہ اس کی خدمت میں حلقہ بگوش اور جاں فدا غلام کی مثل حاضر ہو جاتا ہے اور اپنی زندگی کے تمام ماہ و سال وہیں گزارتا ہے ۔
  ابیات:

من غنی ام بادشاہ ہم باخدا
بادشاہ در نظر من مفلس گدا

ترجمہ: میں خدا کے ساتھ وصال کی بدولت غنی بادشاہ ہوں اور یہ دنیاوی بادشاہ میری نظر میں مفلس اور گدا ہیں۔

احتیاجے نیست ما را سیم و زر
غالبم باموسیٰؑ غالب بر خضر

ترجمہ: مجھے کسی مال و دولت کی ضرورت نہیں بلکہ میں موسیٰ ؑ اور خضر ؑ سے بھی زیادہ روحانی طور پر طاقتور ہوں۔

ہر تصرف از تصور بردہ ایم
کونین را در حکم خود آوردہ ایم 

ترجمہ : اسم ِ اللہ ذات کے تصور سے ہی میں نے ہر شے پر تصرف حاصل کیاہے اور دونوں جہاں میرے حکم کے ماتحت آگئے ہیں۔ (امیر الکونین) 

ہر کرا مرشد شود آن راہبر
حاضر و ناظر بود صاحب ِ خبر 

ترجمہ: جس کا را ہبر کامل مرشد ہو اسے حضور ِ حق اور دیدارِ الٰہی حاصل ہے اور وہ صاحب ِ خبر ہوتا ہے۔ (امیر الکونین)
مرشد کامل کیلئے اپنی دونوں آنکھو ں سے کونین کا تماشا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے شیشہ ٔعینک آنکھ کی پتلی پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ ظاہری آنکھ سے دیکھنے کے مراتب ہیں کہ فقیر کی ظاہری آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں وہی اس کی باطنی چشم ِ عیاں سے منعکس ہوتا ہے اور وہ چشم ِ عیاں سے مشاہدہ و دیدار کر کے معرفت و معراج حاصل کرتا ہے اور اپنے مریدین پر بھی دیدار کی راہ کھولتا ہے۔ مرتد و مردود عارف بہت سے ہیں ( کہ معرفت سے متعلق ان کا علم غلط ہے) اور اللہ کے دیدار کے سوا ہر شے دیکھتے ہیں۔ (امیر الکونین)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اپنی تصنیف ’’سلطان الوھم‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
اور بے شک وہ انسانِ کامل جس کا ظاہر مخلوق کے ساتھ اور باطن حق کے ساتھ ہے اور وہ لاھوت میں روحانی صورت میں متعین ہے جو عالم غیب ہے۔ اس کا باطن ہی اس کی نظر صورت کی تدبیر (حقیقت) ہے۔ اس کا نام ’’حضرت خمس‘‘ ہے کیونکہ وہ پانچوں عالموں (احدیت، لاھوت، جبروت، ملکوت، ناسوت) میں بیک وقت موجود ہے تمام عالم اس میں موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ فقیر کے قدموں کے نیچے لاتعداد خزانے ہیں۔ فقیر کا قدم جہاں کے بادشاہوں کے سر پر ہے۔ فقیر رازِ خداوندی ہے۔ (سلطان الوھم)
فقیر اللہ تعالیٰ کا ایک راز ہوتا ہے جس کے دل و دماغ میں محبت ِ الٰہی رہتی۔ شہباز عارفوں کی حقیقت کو کو ّ ے کیا جانیں؟ (قربِ دیدار)
دنیا کے راہی کو فقیر ِ کا مل کی کبھی ضرورت ہی کیوں پڑے گی کیونکہ وہ خود کی بنائی ہوئی دنیا میں مگن ہے۔ فقیر ِ کامل تک رسائی اُسے حاصل ہوتی ہے جس کو اس کی جستجو ہو۔ فقیر عشق ِ الٰہی اور وحدت کے سمندر میں ا س قدر غرق ہوتا ہے کہ اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی اس کو پہچانے یا نہیں۔ جیسے کہ میرے مرشد میرے ہادی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
فقیر کو نہ عزت سے غرض ہے نہ ذلت سے کوئی اسے مانے یا نہ مانے اسے کوئی پرواہ نہیں۔
فقیر وہ ہے جس میں قرآن کی روح بے پردہ نظر آئے۔
فقیر کی نظر میں اللہ کے سوا کسی کا کوئی مقام ومرتبہ نہیں ہوتا۔
بیشک بیان کردہ تمام اوصاف سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی ذات میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ آ پ مدظلہ الاقدس وحدت کے سمندر میں اس قدر مستغرق ہیں جس کا اندازہ عام بندے کے بس کی بات نہیں مگر جسے آپ چاہیں اس سے مطلع فرما دیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی زندگی اللہ پاک اور اس کے پیغام کو پھیلانے کے لیے وقف کر دی ہے۔ جیسے حضرت سلطان باھُوؒ نے اللہ پاک کے پیغامِ فقر کو فروغ دینے کے لیے تقریباً140 کتب تحریر فرمائیں اسی طرح جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آپ مدظلہ الاقدس نے نہ صرف بے شمار کتب تصنیف فرمائیں بلکہ موجودہ دور کے مطابق ہر قسم کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں فقر کی تعلیمات کو عام فرما رہے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ پاک تمام امت ِمسلمہ کو آپ مدظلہ الاقدس کی پہچان نصیب کرے تاکہ لوگوں کو حقیقی دین ِمحمدیؐ نصیب ہو سکے۔ آمین 

 

Sultan ul Ashiqeen Batoor Faqeer e kamil | سلطان العاشقین بطورِ فقیر ِ کامل اکمل” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں