karbala

Karbala Darsgah Deen o Ishq | کربلا درسگاہ ِ دین و عشق

کربلا درسگاہ ِ دین و عشق

مسز عنبرین مغیث سروری قادری

نورِ فقر کی لطافتوں سے مزین، تاجدارِ فقر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خانوادے کے روشن چراغ، سلطان الفقر سیّدۃ النساء فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی مبارک گو د کے لعل، بابِ فقرحضرت علی کرم اللہ وجہہ کی آنکھوں کے تارے، امت کے سردار، عاشقین کے امام، عارفین کے راہنما، سیّد الشہدا حضرت امام حسین ؓ کی عظمت تاقیامِ قیامت بیان کی جاتی رہے تو بھی بیان نہ ہو پائے ۔ چودہ صدیا ں ہونے کو آئیں امت ان کی عظمت کوسلام اور ان کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے لیکن ان کی عظمت اور قربانی کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ چودہ عالم چودہ بار پیدا ہو کر ختم ہو جائیں تو بھی ان کی عظمت کا بیان مکمل نہ ہو پائے۔ الفاظ کربلا کے خون آشام واقعات تو بیان کر سکتے ہیں لیکن اس دوران جو عالم اہل ِ بیتؓ ِرسول ؐ کے دلوں پر قیامت کی طرح گزرا اسے لفظ بیان کرنے سے قاصرہیں۔ میدانِ کربلا میں سیّدنا امام حسین ؓ نے جو قربانی دی وہ بیان کی جا سکتی ہے لیکن اس قربانی کے پس ِ پرد ہ عشق ِ الٰہی کا جو جذبہ کارفرما تھا اسے لفظ کیسے بیان کر سکتے ہیں۔ وصالِ الٰہی کی جو تڑپ حضرت امام حسین ؓ کو مدینہ سے کربلا تک کھینچ لائی وہ کیسے بیان ہو، بھوک پیاس سے نڈھال قافلے نے اپنوں کے خون کو کربلا کی پیاس بجھاتے دیکھ کر جو محسوس کیا ہو گا وہ احساس لفظوں میں کیونکر ڈھل سکتا ہے۔ حضرت امام حسین ؓ نے اپنے بچپن میں جس دردناک شہادت کا تذکرہ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مبارک زبان سے سن رکھا تھا زندگی کا ایک ایک دن اس کے انتظار میں کیسے کاٹا ہو گا، کبھی شوق غالب ہوا ہو گا کبھی بے قراری ‘ یہ ہم کیا جانیں اور کیسے بیان کریں۔ 

سیّدہ کائنات حضرت فاطمہ ؓ کے لعل جب دنیا میں تشریف لا ئے تو پورامدینہ خوشی سے جھوم اٹھا ۔ آقا ؐ خوشی خوشی حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں تشریف لائے اور نومولود کو گود مبارک میں لے کر خوب پیار کیا۔ لعاب ِ دہن منہ میں ڈالا اور خود اسم ِ مبارک تجویز کیا۔ پیارے حسین ؓ کو اپنی محبت بھری نظروں کے سامنے روز بروز بڑے ہوتے دیکھا اور ہر پل ہر گھڑی ان پر محبتیں نچھا ور کیں۔ یہاں تک کہ اپنی عزیز از جان بیٹی حضرت فاطمہ ؓ جن کے متعلق بارہا فرمایا ’’ فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اُسے تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ‘‘ کو بھی ایک بار حضرت امام حسین ؓ اور امام حسن ؓ کی محبت میں ڈانٹ دیا۔ جب دونوں شہزادوں کے کسی وجہ سے رونے کی آواز سنی تو بے چین ہو گئے اور حضرت فاطمہؓ سے فرما یا ’’کیا تم نہیں جانتی کہ ان کے رونے کی آواز مجھے تکلیف پہنچاتی ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو آزمانے کے لیے ان سے ان کی سب سے عزیز شے کی قربانی مانگ لیتا ہے کہ دیکھوں میں زیادہ پیارا ہوں یا کوئی اور رشتہ۔ جس نواسے کے رونے کی آواز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تکلیف پہنچاتی تھی اسی کے متعلق ایک روز حضرت جبرائیل ؑ خبر لے کر آتے ہیں کہ انہیں ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت ہی انتہائی دردناک حالت میں شہید کر دے گی اور اس مقام کی مٹی بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ خبر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نازک قلب پر کیا گزری ہو گی اسے کیسے بیان کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تو طریقہ ہی رضائے الٰہی پر صبر اور تسلیم ورضا ہے چنانچہ اس خبر کو بھی صبر و رضا سے قبول فرماتے ہیں۔ یہ خبر حضرت فاطمہؓ اور حضرت علی ؓ تک بھی پہنچ جاتی ہے لیکن وفا کے پیکر ایک بھی حرفِ شکایت زبان پر یا ایک بھی خیال رضائے الٰہی کے خلاف دل میں لائے بغیر اسے قبول کرتے ہیں۔ اس دن کے بعد سے خاتونِ جنت ؓ نے اپنے اس نونہال کو زمین ِ کربلا میں خون بہانے کے لیے اپنا دودھ پلایا، علی المرتضیٰ ؓ نے اپنے لاڈلے کو خاکِ کربلا میں لوٹنے کے لیے سینے سے لگا کر پالا، مصطفیؐ نے بیابانِ کربلا میں خشک حلق کٹوانے اور راہِ خدا میں مردانہ وار جان کانذرانہ پیش کرنے کے لیے اپنے لعل کی اپنی آغوشِ رحمت میں تربیت فرمائی، جب گود میں لے کر پیار کرتے ہوں گے تو اس وقت کا تصور تڑپا دیتا ہو گا اور اس فرزند ِ ارجمند کی مظلوم شہادت کا نظارا آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہو گا۔ حضرت علی ؓ جب سینے سے چمٹاتے ہوں گے تو سنت ِ ابراہیم ؑ ادا کرنے کے درد کی لذت پاتے ہو ں گے۔ جب پیار سے ماںسے لپٹ لپٹ کر تو تلی زبان میں پیاری پیاری باتیں کرتے ہوں گے تو والدہ کا جگر اس منظر کی تاب کیسے لا تا ہو گاکہ جب اس حلق سے خون کے فوارے چھوٹنے ہوں گے۔

یہ آنکھوں کا تارا کوئی عام انسان ہوتا تو بھی ایسی دردناک شہادت کی دلگداز خبر سب کا جگر چھلنی کر دیتی لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ اس فرزند ِ ارجمند کے جد ِکریم حبیب ِ خدا ہیں جن کی رضا کا اللہ خود طالب ہے وَ لَسَوْف یُعطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی  ترجمہ: اللہ آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں۔‘‘  بحروبر میں ان کا حکم نافذ ہے۔ شجر وحجر سلام عرض کرتے ہیں۔ چاند اشاروں پر چلتا ہے۔ کونین کے ذرہ ذرہ پر بحکم ِ الٰہی حکومت ہے باوجود اس کے اس فرزند کی شہادت کی خبر پا کر چشم ِ مبارک سے اشک تو جاری ہو جاتے ہیں مگر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دعا کے لیے ہا تھ نہیں اٹھاتے۔ بارگاہِ الٰہی میں حضرت اما م حسین ؓ کے لیے امن و سلامتی اور اس کربناک حادثہ سے محفوظ رہنے یا ان کے دشمنوں کے تباہ و برباد ہونے کی دعا نہیں فرماتے، نہ ہی علی المرتضیٰ ؓ عرض کرتے ہیں ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس خبر نے تو دل و جگر پارہ پارہ کر دئیے ۔آپ کے قربان بارگاہِ الٰہی میں اپنے اس فرزند کی سلامتی کی دعا فرمائیے۔‘‘ نہ خاتونِ جنت ؓ التجا کرتی ہیں ’’اے سلطانِ دارین! آپ کے فیض سے عالم فیضیاب ہے اور آپ کی دعا مستجاب، میرے اس لاڈلے کو ہر آفت سے محفوظ رکھنے کے لیے دعا فرما دیجیے۔‘‘ نہ اہل ِ بیتؓ، نہ ازواجِ مطہرات، نہ صحابہ کرام، سب شہادت کی خبر سنتے ہیں، شہرہ عام ہو جاتا ہے مگر بارگاہِ رسالت میں کسی طرف سے دعا کی درخواست پیش نہیں ہوتی۔حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک بار ہاتھ اٹھا کر اللہ سے حضرت امام حسین ؓ کی زندگی مانگ لیں گے تو آپؐ کو آپؐ کی رضا کی حد تک عطا کرنے کا وعدہ کرنے والا کبھی ردّ نہ کرے گا۔

اس میں امت کے لیے سبق یہ ہے کہ تسلیم و رضا مردانِ حق اور مومنین کا شیوہ ہے۔ مقامِ امتحان میں ثا بت قدمی درکار ہے۔یہاں اپنا آپ بچا کراللہ کی رضا نہیں پائی جا سکتی بلکہ اپنا سب سے قیمتی اثاثہ خوشی خوشی لٹا کر نعمت ِ قربِ الٰہی پائی جا سکتی ہے۔ وقت ِ امتحان جان بچا لینا جا نباز مردوں کا شیوہ نہیں۔ دعائیں تو کی گئیں لیکن یہ کہ ہمارا لاڈلا فرزند جس کی ذات اللہ کو پسند آگئی ہے اور اس نے اِس کی قربانی طلب کر لی ہے ‘ وقت ِ آزمائش کے آنے تک اور اس وقت کے دوران ثابت قدم رہے۔ مصائب وآلا م کا ہجوم اس کے قدم کو پیچھے نہ ہٹا سکے۔ یقینا یہ دعائیں بارگاہ ِ الٰہی میں مقبول ہوئیں اور تمام عمر خصوصاً شامِ کربلا میں حضرت امام حسین ؓ کے کا م آئیں۔ مقدر کی گئی شہادت کے انتظار میں عمر ِ حسین ؓ کے شب وروز کٹتے ہیں۔ اس دوران کا ئنات کے عظیم ترین انسان اور امامِ انبیا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اولاد کے شایانِ شان ایک کامل حیات بسر کرتے ہیں جو اپنے نانا کے اخلاق، علم، سخاوت، عشق ِ الٰہی، صبرو رضا، زہد و تقویٰ، قناعت و فقر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ علم ِ معرفت اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ورثہ فقر کی حفاظت پوری تندہی سے کرتے ہیں اور علم و فقر کو امت کے اگلے وارثین تک بہترین صورت میں منتقل کرنے کے لیے وعظ و تلقین کا راستہ اختیار فرماتے ہیں۔ 

بالآخر 60 ہجری بھی آن پہنچتی ہے۔ حالات کچھ ایسا رخ اختیار کرتے ہیں کہ شہادتِ حسین ؓ کی راہ ہموار ہوتی صاف دکھائی دیتی ہے۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے تقریباً بیس سال مسلمانوں کی امارت سنبھالنے کے بعد اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ نامزد کیا اور اپنی حیات ہی میں اہل ِ کوفہ سے ا س کی بیعت کروا لی۔ حضرت امیر معاویہ ؓنے  اپنے بیٹے کو خصوصاًتاکید کی کہ اہل ِ بیت ِ رسولؐ سے حسن ِ سلوک اختیار کرے۔یزید25 ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ کے ہاں میسون بیت کلبیہ کے بطن سے پیدا ہوا۔ نہایت موٹا، بدنما، بدخلق، فاسق، فاجر، شرابی، بدکار، ظالم اور بے ادب تھا۔ والد کی نصیحت کا اسے کچھ پاس نہ تھا۔ امارت سے اس کی دلچسپی صرف عیش و عشرت تک محدود تھی۔ امت ِ مسلمہ کی بھلائی کا اسے کچھ خیال نہ تھا۔ ایسے شخص کی بیعت بھلا حضرت امام حسینؓ اور ان کے اہل ِ خاندان کے لیے کس طرح قابل ِ قبول ہو سکتی تھی۔ یزید اُمت مسلمہ کے دلوں میں پائی جانے والی حضرت امام حسینؓ کی محبت سے خوب واقف تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اگر انہوں نے خلافت کا دعویٰ کر دیا تو تمام حجاز، عراق اور دیگر عرب ممالک کی اکثریت لازماً ان کا ساتھ دے گی۔ حضرت امام حسین ؓ نے خلافت کا دعویٰ تو نہ کیا لیکن اس بد باطن انسان کی بیعت بھی نہ کی۔ یزید نے خصوصاً حضرت امام حسین ؓ اور دیگر اہل ِ مدینہ کی بیعت کے لیے مدینہ کے عالم ولید بن عتبہ کو خط لکھا۔ جب ولید بن عتبہ نے آپ ؓ کو رات کے وقت بیعت کے لیے بلوایا تو آپ ؓ سمجھ گئے اور یہ کہہ کر واپس لوٹ آئے کہ میرے جیسا شخص رات کے اندھیرے میں چھپ کر بیعت نہیں کر سکتا۔ صبح جب سب بیعت کریں گے تو میں بھی کر لوں گا۔ آپ ؓ جانتے تھے کہ اگر مدینہ میں رُکے تو اس غیر شرعی بیعت کے لیے مجبور کیا جائے گا اس لئے اہل ِ خانہ کے ساتھ مکہ مکرمہ ہجر ت کر گئے۔ 

یہ ہجرت پہلا قدم تھا شہادت گاہِ الفت کی طرف جو اٹھا تو پھر رکنے نہ پایا۔ اللہ بھی ایسے حالات پیدا فرماتا گیا جو آپؓ کو آپ ؓ کے مستقبل کی طرف کھینچے لیے جاتے رہے۔ اگر ایک طرف آپ ؓ شہادت کے عظیم الشان رتبے اور اپنے ربّ تعالیٰ سے وصال کے لیے بے چین تھے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ بھی اپنے اس محب و محبوب کا منتظر تھا جس نے زندگی کا ایک ایک پل اس وصال کے انتظار میں گزارا تھا۔ ظاہری طور پر اللہ نے آپؓ کو کربلا کے مقام تک لے جانے کا یہ انتظام کیا کہ کوفہ والو ں نے خود آپؓ کو خط لکھ لکھ کر اپنی حمایت کا یقین دلایا اور کوفہ بلوایا تاکہ انہیں یزید کے ظلم و ستم سے نجات مل سکے۔ حضرت امام حسین ؓ کو خلافت سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اگر ہوتی تو مکہ میں ہی اپنی خلافت کا اعلان کر دیتے۔ آپؓ کے اعلان کرتے ہی یزید کے حامیوں سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ آپ ؓ کی بیعت کر لیتے اور پھر ایک جنگ کے ذریعے اس کی قوت کو ختم کرنا کچھ مشکل نہ رہتا۔ لیکن آپ ؓکے دل میں سوائے شوقِ شہادت و وصالِ الٰہی کے اور کوئی خواہش نہ تھی۔ چنانچہ اکابر صحابہ ؓ کے منع کرنے کے باوجود آپ ؓ نے کوفہ والوں کے خطوط کے جواب میں کوفہ کا سفر اختیار کیا۔ مومن کی فراست نورِ الٰہی کی بدولت ہوتی ہے اس لئے ظاہر اً بھی ایسا کوئی عمل نہ کیا جسے بے حکمتی پر محمول کیا جا سکے۔ خود کوفہ کے لیے سفر اختیار کرنے سے قبل کوفہ کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل ؓ کو کوفہ روانہ کیا۔ حضرت مسلم بن عقیل ؓ کا کوفہ میں بہترین استقبال کیا گیا۔ وہاں کے حاکم نعمان بن بشیر نے بھی آپ ؓ کا ساتھ دیا اور لوگ حضرت امام حسینؓ کے نمائندہ کے طور پر جوق در جوق آپ ؓ کی بیعت کرنے لگے۔ حضرت مسلم بن عقیل ؓ نے حالات سازگار ہونے کی اطلاع حضرت امام حسین ؓ کو دی۔ اگر اب بھی حضرت امام کوفہ ؓ کی طرف روانہ نہ ہوتے تو اس کے یہی معنی ہوتے کہ وہ اس قوم کو اس جابر حکمران کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ امام عالی مقامؓ اگر اس وقت کوفیوں کی درخواست قبول نہ فرماتے تو بارگاہِ الٰہی میں کوفیوں کے اس مطالبے کو نہ ماننے کا آپ ؓ کے پاس کیا جواز ہوتا۔ کوفی شکایت کرتے کہ ہم نے ہر چند امام عالی مقام ؓ سے درخواست کی مگر امام عالی مقامؓ ہماری نجات کو نہ آئے اور ہمیں یزید کے ظلم و تشدد سے مجبور ہو کر اس کی بیعت کرنا پڑی۔ اگر اما م عالی مقام ؓ ہاتھ بڑھاتے تو ہم ان پر جان قربان کر دیتے۔‘‘ یہ ایسا مسئلہ تھا جس کا حل بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ حضرت امام عالی مقام ؓ ان کی دعوت کو قبول فرمائیں ۔ 

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی محبت اور شہادت کی شہرت اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں اختلاج پیدا کر رہی تھی۔ یہ یقین کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ تھی کہ شہادت کا یہی وقت ہے۔ انہوں نے ہر چند حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو روکنے کی کوشش کی لیکن رکنے کا نہ کوئی شرعی عذر باقی رہ گیا تھا نہ ہی امام عالی مقام رضی اللہ عنہٗ کو اس شہادت سے دوری کی کوئی خواہش تھی۔ محبت ِ عالی مقامؓ جن جن پیروں کی زنجیر تھی وہ بھی ساتھ ہو لیے۔ بھائی عباسؓ، بہن زینبؓ، ازواج، ننھے بچے، عزیز رفقا شہادت کے اس سفر پر امام عالی مقامؓ کو تنہا روانہ کرنے کی ہمت نہ رکھتے تھے نہ ہی ان کی جدائی کا صدمہ سہنا ان کے لیے آسان تھا۔ اس لیے اپنی اپنی جان ہتھیلی پر رکھے معلوم شہادت کی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ کسی کو بھی ایسے وقت میں اپنی جان بچانا منظور نہیں۔

معصوم بچوں، بیبیوں چند جوانوں پر مشتمل حسینی قافلے کا گھر سے روانہ ہونا تھا کہ کوفہ میں حالات نے حیران کن پلٹا کھایا۔ جب یزید کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہٗ کی آمد اور کوفہ والوں کے ان کے حق میں جوش و خروش کی اطلاع ملی تو وہ سیخ پا ہو گیا اور نعمان بن بشیر کو معزول کر کے مکار عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا جس نے اہل ِکوفہ کو ڈرانا دھمکانا شروع کیا۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے وفاداروں کو ندا کی تو آن کی آن میں چالیس ہزار لوگ جمع ہو گئے۔ اگر حضرت مسلم بن عقیلؓ اس وقت ابن ِزیاد کے قلعہ پر حملہ کرتے تو اسی وقت فتح حاصل کر سکتے تھے لیکن آپ ؓ نے مسلمانوں کا خون بہانے سے پہلے انہیں صلح کی پیشکش کی۔ ابن ِزیاد کے قلعے میں امرا و عمائد کوفہ میں چند لوگ موجود تھے۔ اس نے انہیں جائیدادوں اور اقتدار کا لالچ دے کر حضرت مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ موجود ان کے رشتہ داروں کو ان کا ساتھ چھوڑ دینے پر مجبور کرنے کو کہا۔ شہر کے اشراف قلعہ کی دیواروں پر چڑھ کر تقریریں کرنے لگے۔ کچھ نے ڈرایا دھمکایا، کچھ نے لالچ دیا، بہر حال شام تک بدعہد، بے وفا اور بزدل کوفی ایک ایک کر کے حضرت مسلم بن عقیلؓ کا ساتھ چھوڑ گئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے پہلی بار بیعت کا تقدس پامال کیا۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ تن تنہا کوفہ سے نکلے اور کسی نہ کسی طرح خط کے ذریعے حضرت امام حسینؓ کو خبر کر دی کہ کوفہ والے اپنے وعدے سے پھر چکے ہیں لہٰذا آپ ؓ آگے بڑھنے کی بجائے واپس لوٹ جائیں لیکن وہ قدم واپس لوٹنے کے لیے گھر سے نہ نکلے تھے ۔اللہ نے یہ حقیقت بھی لوگوں پر واضح کر دی کہ حضرت امام حسین ؓ کوفہ میں حاصل ہونے والی تائید کے سہارے گھر سے نہ نکلے تھے اور نہ ہی اقتدار حاصل کرنا ان کے سفر کا مقصد تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بیبیوں اور بچوں کو نہیں بلکہ عرب کے سورماؤں کی فوج لے کر گھر سے نکلتے۔ وہ صرف اللہ کے سہارے، اللہ کے لیے، اللہ کی راہ پر نکلے تھے۔ کوفیوں نے بدعہدی کر کے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو نہیں بلکہ اپنے نامہ اعمال اور اپنی وفاداری کو نقصان پہنچایا۔ حضرت امام حسین ؓ کو نہ پہلے ان سے کوئی مطلب تھا اور نہ اب۔ وہ تو راہِ شہادت کے راہی تھے۔ یہ قافلہ کشاں کشاں منزلِ شہادت کی طرف یوں کھینچا چلا آتا تھا جیسے پروانے شمع پر نثار ہونے کو چلے آتے ہیں۔ یہ راز کوئی کیسے سمجھے کہ پروانے کو آگ میں جلنے کی اتنی بے قراری کیوں ہوتی ہے اور دنیا پرست لوگوں کو کیا معلوم کہ امام عالی مقامؓ اور ان کے اہل ِخانہ کو اس دردناک شہادت جس کی خبر انہیں پہلے سے تھی‘ میں کیا مزہ اور کشش دکھائی دیتی تھی‘ روکے نہ رکتے تھے۔ وہ کیا جذبہ تھا جو ان کو اس راہ پر آگے ہی آگے لئے جاتا تھا جس پر ایک درد ناک موت ان کا انتظار کر رہی تھی۔

جب کوفہ 2 منزل رہ گیا تو حُر بن یزید ریاحی ایک ہزار سوار کے ساتھ ابن ِ زیاد کے حکم پر آپ رضی اللہ عنہٗ کو گرفتار کرنے آن پہنچا اس نے آپ پر واضح کیا کہ اگرچہ اس کو آپ کی خدمت میں یہ جرأت بہت ناگوار ہے لیکن وہ مجبور ہے۔ آپ ؓنے اس کو کہا کہ میں آیا نہیں بلکہ بلایا گیا ہوں۔ تم لوگوں نے خود خط لکھ کر مجھے بلایا ہے۔ حرنے کہا مجھے اس بات کی کوئی خبر نہیں اور وہ حضرت امام عالی مقام ؓکو اس طرح آزادانہ کوفہ میں داخل ہونے نہیں دے سکتا۔ بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ اپنا راستہ بدل لیں۔یہ سب ظاہری تدبیر اس لیے کہ کربلا تو اوّل دن سے آپؓ کی منزل تھی اور آپؓ کو ہر صورت کربلا میں پہنچنا تھا۔ راستہ بدل کر جب آپؓ کربلا کے مقام پر پہنچے اور جگہ کا نام معلوم ہوا تو یہیں پراؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ آگے بڑھنے کا کوئی جواز نہ تھا کیونکہ معلوم تھا کہ یہیں جامِ شہادت میسر آنا ہے اور یہیں پہنچنے کے لئے تو گھر سے نکلے تھے۔ ظاہری حالات جو پیش آ رہے تھے وہ سب تو بہانے تھے مقدر وقت کی آمد کے۔

حضرت امام حسینؓ باطنی طور پر تو ہر بات سے آگاہ تھے لیکن ظاہری حکمتوں کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ دشمن سے گفتگو اور معاملہ کرتے ہوئے ہر مناسب تدبیر کو برؤے کار لاتے ہیں تاکہ تاریخ میں یہ نہ لکھا جائے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے جان بوجھ کر خود کو اور اپنے اہل ِخانہ کو موت کے منہ میں جھونک دیا۔ ساتھ ہی دشمن کو بھی موقعہ دیتے ہیں کہ اگر وہ عقل و حکمت سے کام لے تو اپنے مقدر میں لکھی اس سیاہی سے بچ سکتا ہے جو تاازل ہر لمحہ اس کا منہ کالا کرتی رہے گی اور اللہ کے ہاں جو عذاب اس کا انتظار کر رہا ہے اس کا تصور بھی اس کی روح کو ہلا ڈالے۔ چنانچہ جب ابن ِ زیاد کے لشکر کربلا میں اس نہتی معصوم فوج سے مقابلہ کے لیے جمع ہونے لگے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے ابن ِزیاد کے سپہ سالار عمرو بن سعد سے کہا کہ اگرچہ اہل کوفہ نے مجھے بلایا ہے لیکن اگر وہ مجھ سے بیزار ہیں تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔ لیکن شاید جس قدر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو اپنے حسین انجام سے ملنے کی بے تابی تھی اس قدر یزید ملعون اور اس کے ساتھی بھی اپنے بدانجام سے ملنے کے منتظر تھے اس لیے انہیں جانے کی اجازت دینے کی بجائے یزید کی بیعت پر مجبورکرنے لگے جو آپؓ کو کسی صورت منظور نہ تھی۔ باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنا آپؓ کی سرشت میں شامل نہ تھا۔

ابن ِزیاد نے عمرو بن سعد کو حکم دیا کہ کسی بھی طرح حضرت امام حسین ؓ کو بیعت کے لیے مجبور کرو اور اگر نہ مانیں تو انہیں اذیت دے کر اس کے لیے آمادہ کرو۔ چنانچہ ابتداً اہل ِبیتؓ پر پانی بند کر دیا گیا۔ یہ اس رحمت ِ عالم کی اولاد ہیں جنہوں نے اپنی امت کو روزِ محشر حوضِ کوثر سے سیراب کرنا ہے اورپانی بند کرنیوالے کہنے کو انہی کی امت ہیں۔ یقینا ان لوگوں کی آنکھوں اور عقل پر پردے پڑ چکے تھے کہ اگر ساقیٔ امت کے لاڈلوں کو پیاسا ماریں گے تو خود کس منہ سے روزِ محشر اپنی پیاس مٹانے کے لیے حوضِ کوثر کے حقدار بنیں گے۔ قافلہ ٔحسین کی پیاس تو کچھ روزہ تھی۔ جامِ شہادت نوش کرتے ہی مٹ جائے گی لیکن ان بدبختوں کو تڑپانے والی روزِ محشر کی پیاس کیسے بجھے گی۔ 

وہ ریگ ِگرم اور دھوپ اور پیاس کی شدت
کریں صبر و تحمل میر ِکوثر ایسے ہوتے ہیں

عمرو بن سعد نے یہ حربہ حسینی قافلے کے قویٰ کو مضمحل کرنے کے لیے اختیار کیا لیکن سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل صبر و رضا، حوصلے اور فقر کی جن بلندیوں پر ہے دشمن تو کیا دوستوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں سما سکتا۔ یوں بھی یہ لوگ تو گھر سے نکلے ہی سر پر کفن باندھ کر اللہ کی راہ میں ان اذیتوں کو برداشت کرنے اور ان پر صبر و تحمل اختیار کر کے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے تھے۔ ان کی قویٰ یہ تکالیف کیسے مضمحل کر سکتی تھیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے ہر طرح کی تکلیف برداشت کر لی لیکن باطل کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے۔ بالآخر جنگ کے سوا کوئی راستہ نہ رہ گیا۔

اس جنگ کو جنگ کا نام دینا بھی عجیب لگتا ہے۔ دنیا کی کسی جنگ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ بہتر (72) لوگوں، جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں‘ کے مقابلے کے لیے بائیس ہزار کی فوج کا لشکر۔ ان بہتر نفوس کا حوصلہ ان بائیس ہزار سے بھی بلند تھا۔ ان بائیس ہزار کے دلوں میں یا تو یزید کا خوف تھا جو وہ نواسۂ رسول کے خلاف لڑنے پر بادل نخواستہ تیار ہوئے تھے یا اس کے دیئے ہوئے دنیاوی لالچ۔ قوتِ ایمانی کا ذرہ بھی نہ تھا۔ ادھر قافلہ حسینی کے قلوب نورِ ایمان کی قوت سے لبالب بھرے ہوئے تھے۔جذبہ شوقِ شہادت رگ و پے کو مقابلے کی قوت سے سرفراز کرتا ہوا۔ ان اللہ کے شیروں کے قدم بائیس ہزار تو کیا بائیس لاکھ فوج کو دیکھ کر بھی نہ لڑکھڑاتے۔

مقابلہ سے ایک رات قبل حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ہمارا کل کا دن دشمنوں سے مقابلہ کا دن ہو گا۔ میں تم سب کو خوشی کے ساتھ اجازت دیتا ہوں کہ رات کی تاریکی میں چلے جاؤ میری طرف سے کوئی ملامت نہ ہو گی۔ ایک ایک اونٹ لے لواور تمہارا ایک ایک آدمی میرے اہل ِ بیتؓ میں سے ایک ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے لے۔ اللہ تم کو جزائے خیر دے پھر تم اپنے اپنے شہروں میں منتشر ہو جانا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ مصیبت ٹال دے۔ بیشک یہ لوگ میرے ہی قتل کے طالب ہیں جب یہ مجھے قتل کر دیں گے تو پھر کسی اور کی ان کو طلب نہ ہو گی۔ آپؓ کے اہل ِ خاندان نے عرض کی کہ آپؓ کے بعد ہماری زندگی بیکار ہے۔ اللہ آپؓؓ کے بارے میں ایسا بُرا دن ہمیں نہ دکھائے کہ آپؓ موجود نہ ہوں اور ہم ہوں۔‘‘ دیگر ساتھی بھی یوں گویا ہوئے ’’لوگ کیا کہیں گے کہ ہم نے عشرتِ دنیا کی خاطر اپنے شیخ، سردار اور بہترین ساتھی کا ساتھ نہ دیا۔ فقط اس دنیا کی زندگی کے لیے۔ ہرگز نہیں! خدا کی قسم ہم ایسا نہ کریں گے بلکہ اپنی جانوں، مالوں اور اپنے اہل ِ عیال کو آپؓ پر قربان کر دیں گے۔ آپؓ کی ہمراہی میں جنگ کریں گے۔ جو انجام آپؓ کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔ آپؓ کے بعد زندہ رہنے کا کوئی جواز نہیں‘‘۔

مقابلہ کے دن ان وفا کیشوں نے اپنا وعدہ وفا کر دیا اور اپنے امام سے پہلے اپنی جانیں ان پر نثار کر دیں۔ 10 محرم 61 ہجری کا آفتاب اپنی پوری خون آشامیوں کے ساتھ طلوع ہوا۔ آج اس آفتاب کو بھی نہایت حوصلہ درکار تھا کیونکہ وہ گواہ بننے والا تھا روئے زمین کے بہترین خانوادے کے مظلوم ترین قتل کا۔ اسے مسلسل اس خون آشام واقعے کو وقوع پذیر ہوتے دیکھنا تھا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ جو رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نواسے ہیں اور خیر کی طرف بلانا جن کا شیوہ ہے‘ جنگ کے آغاز سے قبل ایک بار پھر دشمن کو اس کے ہولناک انجام سے بچانے کے لیے اس ناحق خون سے باز رکھنے کے لیے خطاب فرماتے ہیں ’’خونِ ناحق حرام اور غضب ِ الٰہی کا موجب ہے۔ میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ تم اس گناہ میں مبتلا نہ ہو۔ تم کس طرح میرے خون کے الزام سے بری ہوگے۔ روزِ محشر تمہارے پاس میرے خون کا کیا جواب ہوگا۔ اپنا انجام سوچو اور اپنی عاقبت پر نظر ڈالو۔‘‘ لیکن بدبختوں نے خود ہی اپنے نصیب میں جہنم کی آگ لکھ لی تھی انہیں نہ اس خون سے ٹلنا تھا نہ ٹلے۔ البتہ ان میں سے ایک خوش نصیب حضرت حُر بن یزید ریاحی کو توفیق ِ الٰہی سے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور وہ یزیدی لشکر چھوڑ کر حضرت امام حسینؓ کے پاس آگئے۔ اپنے گزشتہ رویے پر شرمسار ہوئے اور کفارہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ حضرت امام عالی مقامؓ نے اجازت دے دی۔ یزیدیوں کے تن بدن میں یہ دیکھ کر آگ لگ گئی کہ ان کا ایک ساتھی حضرت امام حسینؓ سے جا ملا ہے۔ جنگ کا آغاز ہوا۔ غرور و تکبر سے ناگ کی طرح پھنکارتا دشمن آگے بڑھا لیکن حسینی جوان کڑکتی بجلیوں کی طرح اس ناگ کو راکھ میں بدلنے لگے۔ کئی دن کے بھوکے پیاسے جب تلواریں ہاتھ میں لیے گھوڑوں کو ایڑھ لگا کر دشمن کی صفوں میں للکارتے ہوئے آگے بڑھتے تو آگ برساتا سورج بھی ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا کہ انہیں لڑنے کے لیے اس قدر قوت کہاں سے مل رہی ہے۔ ایک ایک شیر جوان یزیدی لشکر کے سینکڑوں آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتارتارہا۔ ایسے ایسے وار کرتا کہ دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی۔ نیزوں کی نوک پر دشمن کے سورماؤں کو اٹھا کر خاک میں ملانا ہاشمی نوجوانوں کا معمولی کرتب تھا۔ اسد اللّہی تلواریں تھیں یا شہابِ ثاقب کی آتش بازی۔ معلوم ہوتا تھا ہر حسینی سوار مقتولوں کے سمندر میں تیر رہا ہے۔ شوقِ شہادت تو دلوں میں موجزن ہے ہی لیکن یونہی شہید ہو جانا کسی کو منظور نہ تھا۔ جب تک سو پچاس دشمنوں کے سر تن سے جدا نہ کریں شیرانِ علیؓ کسی بزدل کے نرغے میں کب آنے والے تھے۔ ان بہادروں نے یکے بعد دیگرے جامِ شہادت یوں نوش کیا کہ موت کو بھی لطف آگیا۔ آج موت ان جانبازوں کی محبوبہ بنی تھی۔ جس شوق سے ان شیروں نے موت کو گلے لگایا موت بھی خود پر رشک کرتی ہوگی۔ اس شام کربلا میں ’’زندگی‘‘ اپنی تمام تر رنگینیوں کے باوجود موت کی سرخی کے سامنے بے رنگ اور پھیکی لگتی تھی۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کبھی اپنے جوانوں کے بے سر لاشے لا کر خیموں کے پاس رکھتے تو کبھی ٹکڑے ٹکڑے جسم۔ لیکن مجال ہے کہ باقی رہ جانے والوں کے قدم کسی بھی وقت لڑکھڑائے ہوں اور کسی کو بھی اپنی جان بچانے کی فکر ہو بلکہ شہدا کو دیکھ کر ان کا خون مزید جوش مارتا۔ بالآخر ایک ایک کر کے تمام عاشقان اپنے امام پر جان قربان کر کے رخصت ہوئے۔ اب زہراؓ کے لعل کا وقت ِ وصال ہے۔ دل میں اپنے پروردگار، اپنے محبوب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام، پیارے والدین اور بڑے بھائی سے ملاقات کی امنگیں بھی مچل رہی ہیں لیکن ساتھ ہی پیچھے رہ جانے والی خواتین اور بچوں کی بھی فکر ہے۔ سب کو صبر و حوصلے کی تلقین کرتے ہوئے اللہ کے سپرد کر کے میدانِ جنگ میں نکلتے ہیں۔ شروع ہوتا ہے وہ معرکہ جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ کیا عجیب ہے یہ نظارہ۔ ایک طرف ہزاروں کا جنگی ساز و سامان سے لیس لشکر اور دوسری طرف ایک اکیلا انسان ہاتھ میں ایک تلوار لیے گھوڑے پر سوار۔ حوصلے اور خوف کا مقابلہ ہو تو اب بھی وہ ایک انسان اس تمام فوج پر بھاری ہے۔ جس کے پاس آتے ہی دشمن کے دل لرز رہے ہیں۔ امام عالی مقامؓ اپنوں کے صدموں کی شدتِ غم جن کے دل پر گرفت کیے ہوئے ہے، آنکھوں میں قہر لیے اسی شان سے میدان میں کھڑے ہیں جو شان خاندانِ سرورِ کائناتؐ کا خاصہ ہے۔ اپنی تعداد پر نازاں دشمن ایک ایک کر کے مقابلے پر آتا ہے لیکن آپؓ ہر ایک کا تکبر بھرا سر خاک میں ملاتے جاتے ہیں۔ جو آیا اس حیدری قوت کے سامنے بے بس ہو گیا۔ بالآخر فیصلہ کیا کہ یکبارگی حملہ کرتے ہیں ورنہ اس جلال کے سامنے کبھی ٹک نہ پائیں گے حتیٰ کہ سارا لشکر ختم ہو جائے گا۔ چاروں طرف سے تیروں کی برسات کر دی جاتی ہے۔ امام عالی مقامؓ کا تن ِ ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے۔ نورانی جسم زخموں سے چور ہے۔ اب ان نامردوں کے حوصلے بلند ہونے لگے۔ جانتے تھے کہ امام تنہا ہیں کب تک نہ تھکیں گے کب تک مقابلہ کریں گے۔ لیکن دل میں شرمندہ تو ہوتے ہوں گے کہ ایک تنہا انسان پر قابو پانا اتنے بڑے لشکر کے لیے عذاب بنا ہوا ہے۔ اب بھی جو قریب آتا ہے گاجر مولی کی طرح کاٹ دیتے ہیں۔ عصر کا وقت آ گیا جس کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خسارے میں کہا ہے۔ یہ پورا لشکر، پورا کوفہ اور اہل ِ عراق بلکہ پوری انسانیت اس وقت خسارے میں چلی گئی جب بے قصور مظلوم، محبوبِ الٰہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لاڈلے نواسے، امامِ فقر و امامِ عاشقان کو کربلا کی خاک میں تڑپایا گیا۔ عاشق ِ الٰہی کا سر اذان کے ساتھ ہی بارگاہِ الٰہی میں جھکا اور نام نہاد مسلمان کہلانے والوں نے سجدے میں جھکے سر کو تن سے جدا کر دیا کیونکہ جب تک یہ سر اٹھا تھا کسی کو قریب آنے کی جرأت نہ ہو رہی تھی۔ 

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
اک ضربِ ید الٰہی اک سجدہ شبیریؓ

نواسۂ رسول نے سجدے میں گردن کٹا کر دین ِ اسلام کو سربلندی عطا کردی، کربلا کی خاک کو اپنے خون سے سرخ کر کے اللہ کے دین کو سرخروئی عطا کی۔ رہتی دنیا تک آنے والوں کو دین کے اصل معنی سمجھا دیئے کہ دین اللہ کی رضا کے سامنے بے چوں و چرا سر جھکا دینے کا نام ہے۔ دعا جیسے ہتھیار کو بھی اللہ کی رضا کے قدموں پر نچھاور کر دینے کا نام ہے۔ دین سچ اور حق کی سربلندی کے لیے باطل سے دیوانہ وار ٹکرا جانے کا نام ہے۔ باطل کو نیست و نابود کرنے کے لیے صرف قوتِ الٰہی پر بھروسے کا نام ہے۔ دین عشق ِ الٰہی ہے۔ دین وصالِ الٰہی کی تڑپ ہے۔ دین دنیا کی لذتوں کو محبت ِ الٰہی پر قربان کرنا ہے۔ دنیا میدانِ جنگ ہے تو دین اس میدان میں نماز میں سر کٹا دینے کا نام ہے۔ دین سجدۂ عشق ہے۔ جان جاتی ہے تو جائے یہ سجدۂ عشق قضا نہ ہو۔ دین واحد ذاتِ الٰہی سے تعلق جوڑنے کے لیے اپنی ذات اور اپنے پیاروں کو قربان کر دینے کا نام ہے۔ دین قربانی ہے خواہشوں کی، جذبوں کی، محبتوں کی، رشتوں کی۔ دین رشتہ ہے صرف اللہ سے۔ دین اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت، قوت کو اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں ہی قربان کر دینے کا نام ہے۔

دین نام ہے دنیا کی ہر تکلیف، مصیبت کو اللہ کی سوغات جان کر اس پر صبر و شکر کرنے کا۔ دین استقامت ہے۔ ہر ظاہری و باطنی آزمائش کے باوجود عشق ِ الٰہی پر ثابت قدم رہنا دین ہے۔ بلاشکایت ہر حالت میں اس کے سامنے جھکے رہنا دین ہے۔

دین ِاسلام کو صرف ثواب و عذاب کے دائرے میں قید کرنے والے، صبح و شام بدنی عبادتوں کی کثرت پر تکبر کرنے والے، گائے بکرے کی قربانی کو اصل قربانی سمجھنے والے دین کی حقیقت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ سے سیکھیں۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لائے ہوئے دین کی تشریح و تفسیر حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل اور اپنی قربانی سے کی۔ اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی دے کر امام عالی مقامؓ نے امت کو دین کی حقیقت بتائی۔ دین کا جو اصل روپ حضرت امام حسینؓ نے امت کو دکھایا وہی اصل دین قوت دیتا ہے اسلام کے پیروکاروں کو ظالم حکمران کے سامنے کلمہ ٔ حق کہنے کی۔ وہی دین اخروی زندگی کی قدر و قیمت مسلمان کی نظروں میں اس فانی دنیا سے کئی گنا زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اسی میں راز ہے نجات کا، آزادی کا ہر طرح کی غلامی سے، نفس کی ہو، خواہشات کی یا ظالم و جابر دنیاوی حکمران کی۔ اسی دین پر چل کر دنیا جنت بنے اور جنت لذتِ قربِ الٰہی بن جائے۔

واقعہ کربلا ہمیں دین کی اصل حقیقت سمجھانے کے ساتھ ساتھ یہ سبق بھی دیتا ہے کہ آزمائش ہر مومن کی پرکھ کے لیے شرط ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ’’اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے ڈر اور بھوک سے، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔‘‘ (البقرہ۔155)

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لاڈلے نواسے کو اس قدر کڑی آزمائش سے گزارا تو کیا عام مسلمانوں کو یونہی صرف پانچ وقت نماز اور روزے کے بدلے میں جنت عطا کر دے گا۔ کیا ان کا صبر، رضا، استقامت آزمائے نہ جائیں گے۔ جب اللہ بھوک، جان و مال کی کمی سے انہیں آزماتا ہے تو صبر نہیں کر پاتے پھر جب حالات سازگار ہو جاتے ہیں تو دن رات سجدے کر کے سمجھتے ہیں کہ اللہ کو راضی کر لیا۔ جب اپنے لیے کسی شے کے انتخاب کا وقت ہو تو بہترین سے بہترین شے چاہتے ہیں لیکن جب اللہ کی راہ میں دینے کا وقت آئے تو چند ناکارہ فالتو چیزیں۔ کیا سمجھتے ہیں ان کے اس مال کی اللہ کو ضرورت تھی؟ حضرت امام حسینؓ نے صرف اپنی ذات کی قربانی کو بھی ناکافی جانا اور اپنے اہل و عیال کو بھی راہِ خدا میں قربان کرنے ساتھ لے گئے۔ اگرچہ ہم نہ اس مقام پر ہیں نہ ہی اتنا بڑا حوصلہ رکھتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں قربانی دیتے وقت اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔ مشکلات و مصائب میں صبر ِ حسینؓ کا عشر عشیر ہی کر کے دکھا دیں تو اللہ ہماری ہستی کے مطابق ہم سے راضی ہو جائے۔ اُن کی استقامت، جذبۂ عشق، صبر، بہادری کو مشعل ِ راہ بنا لیں تو ہر مشکل آسان ہو جائے۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے دنیا سے اس قدر محبت کو ترک کر دیں تو موت بھی خوبصورت لگنے لگے اور ہر خوف سے نجات حاصل ہو جائے۔ غرض حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کر اور ان کے سکھائے ہوئے سبق کے مطابق  عمل کر کے ہی دنیا و آخرت سنور سکتی ہے۔ 

 

Karbala Darsgah Deen o Ishq | کربلا درسگاہ ِ دین و عشق” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں