تصرفات سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن Tasarrufaat Sultan ul Ashiqeen

تصرفات سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

ڈاکٹر محمد حامد جمیل سروری قادری۔لاہور

موج میں جب آگئے قطرے سے دریا کر دیا
پڑ گئی جب بندے پر نظر بندے کو مولیٰ کر دیا

اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ جملہ ارواح میں سے چند ایسی بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے روزِ الست خاص الخاص اپنی ذات کے لیے چن لیا کیونکہ ان کا دھیان ما سوائے اللہ کہیں نہ تھا یعنی نہ انہیں دنیا سے کوئی غرض تھی نہ جنت و جہنم و دیگر مخلوق سے۔ جب وہ اس ناسوتی لباس کو اوڑھ کر اس دنیا میں آئیں تو بھی وہ خالصتاً صرف محبوبِ حقیقی کی معرفت و وصال کے سمندر میں غرق رہیں یعنی وہ مقد س اور پاکیزہ ہیں۔ یہ ارواح انبیا، رُسل، صحابہ کرام، سلطان الفقر اور مرشدانِ کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کی ہیں جو روزِ الست سے لقاءِ الٰہی سے مشرف ہیں اور ناسوت میں ذاتِ سرچشمۂچشمانِ حقیقتِ ھاھویت کا لبادہ اوڑھے مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز لقاءِ الٰہی کا درس عام کر رہی ہیں۔ انہی ارواح میں سے ایک روحِ منور و معظم اس دور میں نورِ فقر سے زمانہ کو روشن کرنے اور طالبانِ مولیٰ کو لقاءِ الٰہی کی نعمت سے سیراب کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صورت میں موجود ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس عہدِ حاضر کے مجددِ دین، امام الوقت، سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور کامل اکمل مرشد ہیں اور حکمِ الٰہی سے لوگوں کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔
فقرا کاملین کی یہ ارواح اللہ سے کامل وصال کی بدولت بے شمار تصرفات کی حامل ہوتی ہیں۔ ’’تصرف‘‘ ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قبضہ و اختیار کے ہیں کچھ لوگ اس لفظ کو معجزہ یا کرامت سے بھی ملاتے ہیں مگرحقیقتاً معجزہ ایک ایسا عمل ہے جو خلافِ عقل یا خرقِ عادت ہو، یہ خاص الخاص انبیا علیہم السلام کا مخصوص وصف ہے۔ معجزہ دراصل ایک نادر الظہور واقعہ ہے جس کی بنیاد وہ خاص وصف ہے جو انبیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا اور آقائے دو جہان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد آپ کے اصحابؓ اور پھر اولیا کاملین کو کرامت کی صورت میں عطا کیا گیا۔ اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ معجزہ یا کرامت ایک خلافِ عقل واقعہ ہے یعنی عقل سے ماورا ہے اور تصرف حکمِ الٰہی سے وہ اختیار ہے جس کی بدولت خرقِ عادت واقعہ پیش آتا ہے یعنی معجزہ یا کرامت نتیجہ ہے اُس اختیار کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیا علیہم السلام اور سرکارِ دوجہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت کے اولیا کاملین کو عطا کیا گیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مختارِ کُل سرورِ انبیا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چاند کو دو ٹکڑے کیا، چاند کا دو ٹکڑے ہونا معجزہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی انگشت مبارک کا اس چاند کو اشارہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصرف ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت کے اولیا کاملین جو حق پر ہیں، ان کی کرامت بھی حق پر ہے اور وہ اس پر حکمِ الٰہی سے مکمل تصرف رکھتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ کامل ہوں اور تصرف کو پوشیدہ رکھیں، نہ اسے کسی ذاتی مقصد کے لیے استعمال کریں نہ اس کا فائدہ اٹھائیں بلکہ صرف رضائے الٰہی سے اس کو عمل میں لائیں اور اس تصرف کے ہوتے ہوئے بھی حکمِ خداوندی کو بجا لائیں اور شکر گزاری کریں کیونکہ یہ بھی ایک آزمائش ہے۔
لہٰذا یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ جس ولی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصرف کھلتا ہے اسے اختیار ہے کہ وہ ربِ قدرت کی طرف سے عطا کی گئی طاقت کا استعمال اُمت کے دینی مفاد و ہدایت کے لیے کرے۔ اب یہاں یہ بات مزید واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ ورد وظائف اور چلہ کشی کے خاص طریقے کے استعمال سے کچھ روحانی قوتیں محض اپنے نفس کی لذت کے لیے حاصل کر لیتے ہیں لیکن انہیں اللہ سے منسوب کرنا غلط بات ہے کیونکہ تصرف تو محض رضائے الٰہی ہے اور اگر کوئی شخص اسے خواہشاتِ نفس کی تکمیل یا دوسروں پر غالب آنے یا کسی اور نیتِ بد کے زیرِ اثر حاصل کرتا ہے تو اس میں ہرگز رضائے الٰہی نہیں لہٰذا اسے تصرف بھی نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ محض ایک نفسانی قوت ہے جو جلالِ الٰہی سے زائل بھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ فنافی اللہ مرشدِ کامل اکمل جامع نور الہدیٰ مقامِ رضا پر ہوتا ہے اور تصرف رکھتے ہوئے بھی رضا پر ہی رہتا ہے۔ اس لیے اس کے تصرف کی قوت کبھی زائل نہیں ہوتی البتہ مخلوق سے پوشیدہ رہتی ہے۔ایسے فقرا ہی خودی کے اس مقام پر ہوتے ہیں جس کے متعلق اقبالؒ نے فرمایا:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا خود بندے سے پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

یعنی فنا فی اللہ مرشد کامل اکمل اللہ کی رضا سے حاملِ تصرف ہوتا ہے جو کسی راہب، پنڈت، مُلّا، چلہ کش ذاکر کے بس کی بات نہیں۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* جب تو دیکھے کہ کوئی (نام نہاد) فقیر زہدو تقویٰ ، چلہ کشی اور عبادات میں کثرتِ ریاضت کرتا ہے مگر باطن سے بے خبر ہے تو جان لے کہ وہ ابھی ذلالت اور گمراہی کے جنگل میں بھٹک رہا ہے اسکی عاقبت گوبر کے کیڑے جیسی ہے۔ ( عین الفقر)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
* ہر عام و خاص مرشدی کا اہل نہیں ہوتا مرشد تو پارس پتھر کی مثل ہوتا ہے جسے چھو کر لوہا سونا بن جاتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
موجودہ دور میں سلسلہ سروری قادری کے امام اور مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس حاملِ امانتِ الٰہیہ اور حاملِ فقر ہیں اور حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے مطابق ’’فقر عین ذات پاک ہے ۔‘‘ (عین الفقر)
سلسلہ سروری قادری کے مشائخ کا یہ خاصہ ہے کہ وہ تصرفِ کُل کے حامل ہوتے ہوئے بھی اپنا تصرف طالبوں کے فانی اور مادی فوائد کی بجائے ہمیشہ رہنے والے لازوال فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں یعنی اسے قرب و معرفتِ الٰہی عطا کر کے دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری عطا فرماتے ہیں جن سے بڑی اور کوئی نعمت کائنات میں نہیں۔ حضرت سلطان باھُوؒ سروری قادری مرشد کے اس تصرفِ خاص کے متعلق فرماتے ہیں:
* سروری قادری مرشد کی ابتدا کیا ہے؟ قادری نظرِ کامل سے یا تصور اسمِ اللہ ذات سے یا تصرفِ کلمہ طیب سے یا باطنی توجہ سے طالبِ مولیٰ کو معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق کر کے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچاتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
* معرفتِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کسی صاحبِ باطن مرشد کامل سے طلب کر کہ باطن کسی صاحبِ باطن سے ہی کھلتا ہے اور کوئی صاحبِ باطن ہی اپنی توجہ و باطنی توفیق سے یا تصور اسمِ g ذات سے یا کلید کلمہ طیبات لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ سے باطن کھول کر دکھا سکتا ہے۔ محال ہے کہ مرشد کامل کے بغیر وصال و معرفتِ الٰہی اور جمال محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاصل ہو جائے۔ مرشد کامل ہی پل بھر میں اس درجہ پر پہنچا سکتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
صادق طالبانِ مولیٰ کو پل بھر میں واصل باللہ کر دینا ہی سلطان العاشقین کا عظیم ترین اور لازوال تصرف ہے جس کی صرف ایک ہی شرط ہے کہ طالب اپنی طلب میں سچا اور پکا ہو۔ ناقص طالب تو اس عظیم نعمت کا نہ ہی طلبگار ہوتا ہے اور نہ ہی لائق۔ حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* بے شک جب طالب صادق اور صاحبِ تصرف مرشد کامل مکمل اکمل ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو مرشد اگر چاہے تو طالب کو مشرق سے مغرب تک تمام جہان کا تصرف بخش دے اور اگر چاہے تو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر کر کے مناصبِ فقر سے سرفراز کرا دے۔ اس پر تعجب و اعتراض نہ کر کہ صاحبِ باطن کے بغیر مقصود باطن حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ صادق ہو۔ (کلید التوحید کلاں)
آپ مدظلہ الاقدس اپنے فیضانِ نظر سے طالب کا تزکےۂ نفس، تصفےۂ قلب اور تجلےۂ روح کر کے اسے پاک کرتے ہیں۔ یہ آپ ہی کا تصرف ہے کہ لاکھوں لوگوں پر اسمِ اللہ ذات کا فیض کھلا ہے اور طالبانِ حق اس کیفیت سے واصل ہوتے ہیں جس کا ارشاد یوں ہے ’’اور مشرق ومغرب اللہ کے لیے ہیں لہٰذا تم جدھر بھی دیکھو گے تمہیں اللہ تعالیٰ کا چہرہ نظر آئے گا۔ (البقرہ۔115)
آپ مدظلہ الاقدس فقر کا منبع ہیں۔فنا فی ذات ہیں تو اس ذات کے تمام وصف آپ میں ہوبہو موجود ہیں۔ اسی لیے آپ مدظلہ الاقدس کا ظاہری وجود بھی تصرف ہے جس سے ہر وقت نورِ الٰہی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ جو کوئی بھی آپ مدظلہ الاقدس کو طلبِ حق کی خالص نیت سے دیکھتا ہے وہ حقیقتاً حق کو آپ میں ظاہر پاتا ہے اور اس کا قلب ذکرِ الٰہی میں مصروف ہو جاتا ہے اسی لیے آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت بھی تصرف ہے۔ یہ آپ ہی کی صحبت کا تصرف ہے کہ جوکوئی صدقِ دل سے اُس کو اختیار کرتا ہے وہ خود کو اللہ تعالیٰ کے حضور پاتا ہے اور عشقِ الٰہی میں غرق ہو جاتا ہے جس سے وہ فقر کی سیڑھی چڑھتا ہے اور فقر ہی معراج ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کا ایک تصرف عشق بھی ہے۔ آپ عاشقوں کے سلطان ہیں اور آپ کو یہ خطاب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے آپ مدظلہ الاقدس کے بے پناہ عشقِ حقیقی کی بدولت ملا۔ یہ آپ ہی کا تصرف ہے کہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے سالک کو آپ اس دولتِ لازوال سے ہمکنار کردیتے ہیں جس سے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب و معرفت حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں :

عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات
علم مقامِ صفات، عشق تماشائے ذات

مرشد کامل اکمل کے کمالات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سلطان باھُوؒ اسے یُحْیِ وَیُمِیْتُ کے تصرف کا حامل قرار دیتے ہیں یعنی زندہ کرنے والا اور مارنے والا۔ آپؒ فرماتے ہیں:
* مرید کو چاہیے کہ وہ اپنے شیخ کو متصرفِ کل سمجھے جیسا کہ فرمایا گیا ہے اَلشَّیْخُ یُحْیِ الْقَلْبَ اَلْمَیِّتِ الْمُرِیْدُ بِذِکْرِ اللّٰہِ وَ یُمِیْتُ النَّفْسَ  ترجمہ: ’’شیخ مرید کے مردہ قلب کوذکرِ اللہ سے زندہ کرتا ہے اور اس کے نفس کو مار دیتا ہے۔‘‘ (سلطان الوھم)

صادق طالبانِ مولیٰ اپنے محبوب مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے اس تصرف کو اپنی ذات میں جاری دیکھتے ہیں جس کے تحت ان کا نفس دنیاوی خواہشات سے بالکل فارغ ہو جاتا ہے یعنی مر جاتا ہے، ہر عمل رضائے الٰہی کے تابع ہو جاتا ہے اور قلب زندہ ہو کر وھم کے ذریعے اللہ سے ہم کلام ہو جاتا ہے جیسا کہ سلطان العارفین حضر ت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* مرشد کامل اور مرشد واصل کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے مرید کو عالمِ اوہام تک پہنچاتا ہے اور اس پر فتحِ قلب (دل کی زندگی) واضح کرتا ہے۔ فتحِ قلب یہ ہے کہ مرشد کامل بحکم اَلشَّیْخُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ  (ترجمہ: مرشد کامل زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے) کے مصداق اپنے اوہام اور تصرف سے مرید کے دل کو ذکر اسمِ اللہ سے اس طرح زندہ کر دیتا ہے کہ مرید کا کوئی سانس حق تعالیٰ کے ذکر کے بغیر باہر نہیں آتا اور مرید سوتے جاگتے ہر حالت میں اللہ کا ذاکر ہو جاتا ہے اور اسے دائمی طور پر سیرِ اوہام حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مرید کے دل میں اس قدر بصیرت پیدا کرتا ہے کہ وہ تمام عالمِ الطاف (عالمِ باطن) کا معائنہ کر لیتا ہے اور اسی بصیرت کی بدولت ہر لمحہ اپنے دل میں اللہ کے جمال اور دیدار سے مستفید ہوتا رہتا ہے۔ (سلطان الوھم)
نیک نیت طالبانِ مولیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی باکمال ذات میں سروری قادری مرشد کے اس تصرف اور کمال کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ وہ طالب کی ہر ظاہری و باطنی حالت سے باخبر ہوتا ہے اور اگر طالب سے کوئی گناہ سرزد ہونے لگے تو وہ فوراً اسے روک لیتا ہے اور توبہ کرواتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* مرشد کامل وہ ہے جو طالب کے ہر حال، ہر قول، ہر فعل، حالتِ معرفت و قرب و وصال اور ہر حالت و دلیل و وہم سے باخبر رہے۔ مرشد کو اس قدر ہشیار ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت طالب کی گردن پر سوار رہے اور اس کی ہر بات اور ہر دم نگہبانی کرتا رہے۔ مرشد اس قدر باطن آباد ہو کہ طالب اسے حاضراتِ اسم اللہ ذات کی مدد سے ظاہر و باطن میں ہر وقت حاضر ناظر سمجھے اور اس پر کامل اعتقاد رکھے۔ (کلید التوحید کلاں)
* اگر کوئی صاحبِ صورت فنا فی الشیخ طالب گناہ کی طرف مائل ہونے لگتا ہے تو صورتِ شیخ مانع ہو کر اسے گناہ سے روک لیتی ہے اور پوری قوت سے شہوتِ گناہ کا غلبہ توڑ دیتی ہے۔ ( کلید التوحید کلاں)
بلا شبہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے ان الفاظ کی مجسم صورت ہیں کہ

عارف کامل قادری بہر قدرتے قادر و بہر مقام حاضر

ترجمہ: عارف کامل قادری ہر قدرت پر قادر اور ہر جگہ حاضر ہوتا ہے۔
اسی قدرت کی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس ہر لمحہ ہر پل باطنی طور پر اپنے ہر صادق مرید کے ساتھ ہر جگہ موجود اور اس کی ہر حالت سے باخبر رہتے ہیں اور طالب اس حقیقت کو بلا شک و شبہ محسوس کرتا ہے۔
یہ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہ کا فیضِ عام ہے کہ آپ طالبانِ حق کی نفسانی مرادوں کو رضائے الٰہی میں ڈھال دیتے ہیں اور نفس کو وجودِ عشق کے تابع کر دیتے ہیں اور یہی کامل اکمل مرشد کی پہچان ہے جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں :

کامل مرشد ایسا ہووے، جیہڑا دھوبی وانگوں چھٹے ھُو
نال نگاہ دے پاک کریندا، وچ سجی صبون نہ گھتے ھُو

نہ صرف یہ کہ آپ طالبانِ حق کو روحانی پاکیزگی عطا کرتے ہیں بلکہ ان کی ظاہری زندگی کی مشکلات کو بھی اپنے تصرف سے آسان فرما دیتے ہیں تا کہ جو مصائب طالب کے سفرِ حق میں رکاوٹ بن رہے ہیں یا اس کی توجہ اللہ سے ہٹانے کا باعث بن رہے ہیں ان کو ختم کر کے اسے مکمل طور پر مائل بحق کیا جا سکے۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اپنی کتب میں جابجا سروری قادری مرشد کامل کی زبان کو ’’سیف الرحمن‘‘ یعنی اللہ کی تلوار اور ’’زبانِ کُن‘‘ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سروری قادری مرشد جو بھی فرماتا ہے وہ جلد یا بدیر پورا ہو کر رہتا ہے اور یہی تصرف سلطان العاشقین کے مریدین آپ مدظلہ الاقدس کے بے انتہا کمالات میں سے ایک کمال کے طور پر مشاہدہ کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ’’زبان کُن‘‘ سے نکلا ہوا ہر لفظ مبنی برحکمت و فراست ہوتا ہے اور اپنے وقت پر پورا ہو کر رہتا ہے کہ آپ کی فراست اس حدیث کی عین مصداق ہے ’’مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘
اگر آپ مدظلہ الاقدس کے تصرفات کا باریکی سے ذکر کیا جائے تو اسکے لیے دفتروں کے دفتر بھی کم پڑ جائیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کا کُل وجود ہی تصرف ہے لیکن جو ناقص و خام طالب اور بداعتقاد مرید آپ مدظلہ الاقدس کے ان تصرفات کا مشاہدہ نہیں کر پاتے اس کی وجہ ان کی اپنی روح پر چھائے ہوئے بے یقینی اور ناقص طلب کے سیاہ بادل ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق سلطان العارفینؒ فرماتے ہیں:

کور مادر زاد منکر بی یقین
گر آفتابش گرم سوزد بر جبین

ترجمہ: جو شخص (باطنی طور پر) مادر زاد اندھا ہے وہ منکر اور بے یقین ہی رہے گا خواہ سورج کی تپش اسے اپنی پیشانی پر ہی کیوں نہ محسوس ہو رہی ہو۔ ( نور الہدیٰ کلاں)

کور چشمی را ز حق دیدار نیست
جز دیدارش دگر درکار است

ترجمہ: باطنی اندھے کو دیدارِ حق تعالیٰ نصیب نہیں ہوتا کیونکہ اسے دیدارِ حق کی بجائے کچھ اور ہی درکار ہوتا ہے۔( نور الہدیٰ کلاں)
آپ سب کو دعوت ہے کہ آئیں مکمل یقین اور طلبِ حق کی خالص نیت کے ساتھ اس ہستی کامل کے دستِ اقدس پر بیعت ہو کر معرفتِ حقیقی سے روشناس ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس نعمتِ عظیم سے بہرہ مند فرمائے۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں