عشق اور  سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن Ishq aur Sultan ul Ashiqeen

عشق اورسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

مسز سونیا نعیم سروری قادری۔ لاہور

مولانا روم ؒ فرماتے ہیں:

عشق آں شعلہ است کہ جوں بر فروخت
ہر کہ جز معشوق باشد جملہ سوخت

ترجمہ: عشق ایسا شعلہ ہے جب بھڑک اُٹھتا ہے تو معشوق (مرشد ) کے سوا تمام چیزوں کو جلا دیتا ہے۔
عشق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گہری چاہت کے ہیں۔ اس لفظ کا کمال یہ ہے کہ اس کی شدت کے مدنظر نہ کوئی اس کا مقبول مترادف ہے نہ متضاد۔ کبھی اس کو آگ سے تشبیہ دی جاتی ہے تو کبھی سمندر کی گہرائی سے۔ انسان کو عطا کردہ جذبوں میں عشق سب سے شدید اور طاقتور جذبہ ہے۔ صوفیا کے مطابق یہ ایک قوت ہے جو بندے کو ربّ تک پہنچاتی ہے اور انسان کو تمام اطراف وجہات سے نکال کر ماورائیت اوراللہ سے یکتائیت عطاکرتی ہے۔ عشق اللہ کے چنیدہ بندوں سے ہوتا ہوا اللہ تک پہنچتا ہے یعنی مجاز سے حقیقت تک۔

ہوا جو عشقِ ثنائے ابوترابؓ مجھے
خدا نے کر دیا ذرے سے آفتاب مجھے

محبت کا بلند ترین درجہ عشق ہے۔ عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبرؓ کہلاتا ہے تو کوئی سیّدنا بلالؓ بنتا ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :
* عشق ایک لطیفہ ہے جو غیب سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور معشوق کے سوا کسی چیز سے قرار نہیں پکڑتا ۔(محکم الفقرا)
قوتِ عشق کی شان اور حقیقت یہ ہے کہ صوفیا نے عشق کو ذاتِ حقیقی سے تعبیر کیا ہے۔ حضرت سلطان باھُوؒ رسالہ روحی شریف میں اللہ تعالیٰ کو ’’حضرتِ عشق‘‘ کہہ کر مخاطب فرماتے ہیں۔
محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی سیّدنا غوث اعظمؓ اپنے رسالہ اسرارِ الٰہیہ میں بیان فرماتے ہیں ’’میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا پھر میں نے سوال کیا اے ربّ! عشق کے کیا معنی ہیں؟‘‘ فرمایا! ’’اے غوث الاعظمؓ! عشق میرے لیے کر، عشق مجھ سے کر اور میں خود عشق ہوں اور اپنے دل کو اور اپنی حرکات کو میرے ماسوا سے فارغ کردے۔ جب تم نے ظاہری عشق کو جان لیا پس تم پریہ لازم ہوگیا کہ عشق سے فنا حاصل کرو کیونکہ عشق عاشق اور معشوق کے درمیان پردہ ہے پس تم پر لازم ہے کہ غیر سے فنا ہو جاؤ کیونکہ ہر غیر عاشق اور معشوق کے درمیان پردہ ہے۔‘‘

عاشقاں ہِکّو وُضو جو کیتا، روز قیامت تائیں ھُو
وِچ نماز رکوع سجودے، رہندے سنج صباحیں ھُو
اَیتھے اوتھے دوہیں جہانیں، سبھ فقر دِیاں جائیں ھُو
عرش کولوں سَے منزل اَگے باھوؒ ، پَیا کَم تنہائیں ھُو

مفہوم: عاشقانِ ذات نے یومِ الست سے ہی روزِ قیامت تک عشق کا وضو کر لیا ہے اور دِن رات حضرتِ عشق کے در پر رکوع و سجود میں مشغول رہتے ہیں۔ دونوں جہانوں میں عزت و شرف صرف فقر کو حاصل ہے اسی لیے عاشقین کا مقام تو عرشِ معلی سے بھی سینکڑوں کوس آگے ہے۔ (ابیاتِ باھُوؒ کامل)
عشق کے اس مقام تک پہنچنے والے فنا فی اللہ بقاباللہ فقرا ہی طالبانِ مولیٰ کو اللہ تک پہنچانے والے کامل مرشد اور ان کے لیے ’’ھُوْ‘‘ کی پہچان ہیں۔

وہ جو لباسِ بشر میں دکھائی دیتا ہے
وہی دل میں نظر آئے تو مثل ھُو آئے

اسی بنا پر تصو ف اور فقر میں عشقِ مجازی کو عشقِ مرشد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ عشقِ حقیقی تک رسائی عشقِ مجازی کے بغیر ناممکن ہے ۔مولانا جامی ؒ کا قول ہے ’’اگر تجھے ذاتِ مرشد کاعشق نصیب ہو جائے تو اسے اپنی خو ش نصیبی جان کیونکہ یہ ذاتِ حق کے عشق تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔‘‘
عشقِ مرشد ہی طالب کو دیدارِ الٰہی تک پہنچاتا ہے۔ عشقِ مرشد فقر کی وہ راہ ہے جس کی منزل صرف ذاتِ خداوندی ہے جیسا کہ مولانا روم ؒ کے مرشد شاہ شمس تبریز ؒ فرماتے ہیں :

عشق معراج است سوئے بام سلطانِ ازل
از رخِ عاشق فرد خواں قصہ معراج را

ترجمہ: عشق ہی معراج ہے اور یہی ازل کے سلطان تک پہنچنے کا دروازہ ہے۔ اگر معراج کی حقیقت سے آگاہی چاہتے ہو تو کسی عاشق صادق (مرشد کامل) کے چہرہ پر نظر جماؤ (یعنی اس کی حقیقت تک رسائی حاصل کرو)۔
جس نے بھی اللہ کو پایا مرشد کامل اکمل سے عشق کے توسط سے ہی پایا۔ مرشد کامل اکمل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باطنی جانشین اور امانتِ فقر کے وارث ہوتے ہیں اور ان کا کام طالبانِ مولیٰ کو ان کے ربّ سے ملانا ہوتا ہے۔ جب طالب ایسے مرشد سے عشق کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی ساری راہیں سیدھی اور ہموار ہو جاتی ہیں۔ بلھے شاہ ؒ نے اس کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔

جے چر نہ عشقِ مجازی لاگے
سوئی سیوے نہ بن دھاگے
عشقِ مجازی داتا ہے
جس پچھے مست ہو جاتا ہے

ترجمہ: اگر عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) نہ ہوتا تو انسان خدا تک نہ پہنچ سکتا جس طرح سوئی دھاگے کے بغیر سلائی نہیں کر سکتی اسطرح عشقِ مجازی یعنی عشقِ مرشد کے بغیر عشقِ حق تعالیٰ تک نہیں پہنچا جا سکتا ۔
عشقِ مرشد ہی وہ قوت ہے جو طالب کے نفس کو فنا کر کے اسے نہ صرف مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری بخشتا ہے بلکہ ربّ تعالیٰ کی ذات تک رسائی بھی عطا کرتا ہے۔ عشق کے خاص تقاضے ہوتے ہیں جن سے طالب کے خالص عشق کا پتہ چلتا ہے۔ حقیقی عاشق اپنی جان و مال اپنے مرشد کامل پر قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ اسے اپنی ذات اور خود سے وابستہ کسی شے کی کوئی ہوش نہیں ہوتی، اس کی کل کائنات اپنے معشوق کے گرد گھومتی ہے۔ عاشقوں کو نہ تو جنت کا لالچ ہوتا ہے اور نہ دوزخ کا خوف‘ ان کی نظر صرف ایک نقطہ پر مرکوز ہوتی ہے اور وہ نقطہ مرشد کریم کی ذات ہوتی ہے.

ایہہ نکتہ جداں کیتا پختہ، تاں ظاہر آکھ سنایا ھُو
میں تاں بُھلی ویندی ساں باھوؒ ، مینوں مرشد راہ وکھایا ھُو

طالبِ صادق مرشد کامل سے اتنے شدید عشق میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس پر یہ قول صادق آتا ہے ’’میرا گوشت تیرا گوشت، میرا خون تیرا خون۔‘‘
وہ اپنے مرشد کے سامنے عجزو انکسار سے رہتا ہے اور اس کی محبت میں اپنا دل چاک چاک کرلیتا ہے۔
مولانا روم ؒ فرماتے ہیں :
ترجمہ:’’اپنے مرشد پاک کے سامنے خود کو مٹی بنا دے تاکہ تیری خاک کو وہ کیمیا بنا دے۔‘‘
حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* اگر طالب بااخلاص ہو اور مرشد صاحبِ تصدیق خاص الخاص ہو تو دونوں کی محبت سود مند رہتی ہے اور ابتدا سے انتہا تک تمام مقامات دَم بھر میں طے ہو جاتے ہیں۔عشق کی منزل تک وہی پہنچا سکتا ہے جس نے یہ سفر طے کیا ہو۔ مرشد کامل عشق کے تمام مقامات کو پار کر کے فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے اور ہر وقت دیدارِ الٰہی میں مگن ہوتا ہے۔
بقول شاعر!

اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا
یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملادیتے ہیں

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس عشق کی کسوٹی پر ہر لحاظ سے پورا اُترے خواہ وہ عشقِ الٰہی ہو، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا عشقِ مرشد۔ آپ مدظلہ الاقدس کی پوری زندگی ہی عشقِ الٰہی سے عبارت ہے۔ کمسنی سے ہی دینِ اسلام اور عبادات سے رغبت اور دنیاوی مشاغل سے بے رغبتی اسی عشق کی علامت ہے۔ عالمِ شباب میں تمام دنیاوی رنگینوں سے منہ موڑ کر آپ مدظلہ الاقدس عبادات میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ دن رات نوافل، اوراد، تسبیحات میں گزارنے لگے حتیٰ کہ کثرتِ تسبیح سے آپ مدظلہ الاقدس کی مبارک انگلیوں میں گٹھا پڑ گیا۔ ان عبادات میں جہاں سکون ملتا وہیں عشقِ حقیقی کی تڑپ میں اضافہ بھی ہوتا گیا اور آپ نے دنیاوی معاملات سے یکسر لاتعلقی اختیار فرما لی اور صرف اللہ کے ہو کر رہ گئے۔
عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لازم و ملزوم ہیں۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے آپ مدظلہ الاقدس کے عشق کی انتہا کا اندازہ آپ کی اس رباعی سے لگایا جا سکتا ہے۔

جنت سے اعلیٰ اور ہر لمحہ انوار کی برسات ہے حضورؐ کی قبرِ انور پر
رحمت کا نزول اور ملائکہ کا درود و سلام ہے حضورؐ کی قبرِ انور پر
نجیبؔ جیسا عاصی و خطا کار نہیں ہے حضورؐ اس زمانے میں
بس ہے یہ التجا کہ سر رکھوں قدموں میں اور جاں نکلے حضورؐ کی قبرِ انور پر

آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشدِ کریم سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ سے ایسا عشق کیا کہ اپنی ذات سے بیگانہ ہو گئے۔ دوستوں، رشتے داروں یہاں تک کہ پہننے اوڑھنے اور کھانے پینے کی بھی کوئی فکر نہ رہی۔ مرشد کریم کی خوشی، سکون اور ان کے دیدار کے علاوہ ہر تمنا اور خواہش ختم ہو گئی۔ آ پ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کریم کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان کی ہر ذمہ داری کو دل سے قبول کیا۔ مرشد کی ذات سے وابستہ ہر شے مثلاً ان کے ہر موسم کے ملبوسات، جوتے، دوائیاں، استعمال کی دیگر تمام اشیا کی ذمہ داری خود پر لی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے دربار پاک کیلئے ساڑھے چھ ایکٹر زمین خرید کر سلطان الفقر ششمؒ کو پیش کی اور تبلیغی دوروں میں سفری آسانی کیلئے ایک قیمتی گاڑی بھی پیش کی۔ ایک بار گرمیوں میں آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد سلطان محمد اصغر علیؒ سے ملنے تشریف لے گئے تو دیکھا مرشد پاک شدید گرمی کے باعث پسینے میں شرابور ہیں۔ آپ واپس آئے اور ائیر کنڈیشنر (AC) خرید کر مرشد کریم کے کمرے میں لگوادیا۔ جب 2001ء میں سلطان الفقر ششمؒ نے آپ مدظلہ الاقدس سے فرمایا ’’اس سال حج ہمارے اور تمہارے لیے بہت ضروری ہے‘‘تو آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی ذاتی استعمال کی گاڑی فروخت کر کے حج کے اخراجات کا انتظام کیا کیونکہ آپ مدظلہ الاقدس اپنی تمام ترجمع پونجی پہلے ہی راہِ خدا میں لٹا چکے تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے بارے میں سلطان الفقر ششمؒ نے فرمایا ’’نجیب بھائی کی مثال تو ایسے ہے ’سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے‘۔‘‘ اس کے علاوہ بھی آپ مدظلہ الاقدس نے بے شمار ڈیوٹیاں کیں مثلاً میلادِ مصطفی ؐ اور دیگر تقریبات کے انتظامات اور ان کی مالی ڈیوٹی، سلطان الفقر ششمؒ کے ذاتی استعمال کی اشیا، پرفیوم، ادویات، ڈاکٹروں اور ہسپتال کے اخراجات، دربار کا سامان یہاں تک کہ آپؒ کے گھوڑوں کا سامان خریدنے کی ذمہ داری بھی آپ نے بخوشی اپنے ذمہ لی اور مرشد کے وصال تک ہر حال میں اسے نبھاتے رہے۔ خود سخت تنگی میں بھی وقت گزارا لیکن مرشد کی خدمت گزاری میں کمی نہ آنے دی۔ پس آپ مدظلہ الاقدس نے حضرت سلطان باھُوؒ کے ان الفاظ کو سچ کر دکھایا:

ثابت عشق تنہاں نوں لدَّھا، جِنہاں تَرَٹی چَوڑ چا کیتی ھُو
نہ اوہ صوفی نہ اوہ صافی، نہ سجدہ کرن مسیتی ھُو

مفہوم: عشقِ حق تعالیٰ تو وہ پاتے ہیں جوراہِ عشق میں اپنا گھر بار تک لٹا دیتے ہیں اور جن پر عشق کا رنگ چڑھ جائے تو اسکو کوئی اتار نہیں سکتا۔ مالکِ حقیقی کے عاشق نہ تو صوفی ہیں نہ ہی صافی ہیں اور نہ ہی وہ مساجد میں عبادت میں مشغول رہتے ہیں بلکہ وہ تو عشقِ الٰہی میں جذب ہو کر دیدارِ حق تعالیٰ میں محو ہیں۔ (ابیاتِ باھُوؒ کامل)
نہ صرف مالی طور پر آپ مدظلہ الاقدس نے مرشد پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا بلکہ عملاً بھی اپنی زندگی کا ہر لمحہ ان کی خدمت میں وقف کر دیا۔
آپ مدظلہ الاقدس نے اسم اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے میں اپنے مرشد کریم کا بھرپور ساتھ دیا اور دعوت و تبلیغ کیلئے بھی آپ مدظلہ الاقدس نے بے انتہا جدوجہد کی۔ پورے ملک میں کئی بار سفر کر کے طالبانِ مولیٰ کو تلاش کیا اور طالبانِ دنیا و عقبیٰ کو فقر کی طرف راغب کیا۔ رسالہ مرآۃ العارفین شائع کرنے کی مکمل ذمہ داری آپ کے مرشد کریم نے آپ مدظلہ الاقدس کو سونپی تو اس کیلئے آپ نے بے انتہا محنت کی۔ اس دوران آپ مدظلہ الاقدس کو مخالفین اور حاسدین کی شدید تنقید و مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن مرشد کی رضا کی خاطر آپ نے ہر زیادتی کو حکمت اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور کسی بھی حالت میں اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہ موڑا۔ شدتِ عشق کی بدولت آپ فنا فی الشیخ کے عظیم مقام پر پہنچے، اپنے مرشد کریم کی ہر صفت کو اپنایا اور اپنی شخصیت کی مکمل نفی کر دی۔ محب ہوتا ہی وہ ہے جو محبوب کی صفات میں اسطرح ضم ہو جائے کہ اس کی اپنی ذات باقی نہ رہے۔

بلھے شاہؒ دی ذات نہ کائی
میں شوہ عنایتؒ پایا اے

آپ مدظلہ الاقدس اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

نجیبؔ نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہو گیا
اپنے غیر سمجھ نہ سکے، کہتے ہیں کہ کیا سے کیا ہو گیا
سنو! نجیب تو کب کا مر چکا اے دوستو
یار سے جب یار مِلا، میں میں نہ رہا وہ ہو گیا

پس فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقاباللہ کے انتہائی مقام پر بھی اپنے عشق کی بدولت رسائی حاصل کی۔
چونکہ آپ مدظلہ الاقدس ازل سے امانتِ الٰہیہ کے وارث کے طور پر منتخب شدہ تھے اسی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کو ظاہری اور باطنی بے شمار کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ آپ مدظلہ الاقدس باطنی آزمائشوں کے متعلق اکثر فرماتے ہیں ’’جو باطنی آزمائشیں ہم پر گزریں اگر وہ کسی پہاڑ پر گزرتیں تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

جے توں چاہیں وحدت ربّ دِی، مَل مُرشد دیاں تلیاں ھُو
مرشد لطفوں کرے نظارہ، گل تھیون سبھ کلیاں ھُو
انہاں گُلاں وچوں ہِک لالہ ہو سی، گُل نازک گُل پھلیاں ھُو
دوہیں جہانیں مُٹھے باھو،ؒ جِنہاں سنگ کیتا دو ڈلیاں ھُو

مفہوم: آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام سالکین کو تاکید فرما رہے ہیں کہ اگر تُو وحدتِ حق تعالیٰ (فنا فی اللہ بقاباللہ) حاصل کرنا چاہتا ہے تو ظاہر و باطن سے مرشد کی اتباع کر۔ اگر مرشد کامل نے توجہ فرمائی تو تمام طالب جو کلیوں کی مانند ہیں ‘پُھول بن جائیں گے یعنی اپنے کمال کو پہنچ جائیں گے اور اُن میں توحید کی خوشبو ہو گی(وہ اولادِ معنوی ہوں گے) مگر اِن تمام پھولوں کا سرتاج ایک پھول ہوگا جسے لالہ کہتے ہیں اور لالہ ایک ایسا پھول دار پودا ہے جو سیدھا اوپر کو ہی جاتا ہے اور دیگر پھولدار پودوں کی طرح زمین کی طرف ہرگز نہیں جھکتا ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ طالبانِ مولیٰ میں ایک طالب ایسا ہوتا ہے جو کہ بالکل مرشد ہی کی ذات ہوتا ہے یا مرشد ہی اس کے لباس میں مُلتَبس ہوتا ہے اور دوسرے تمام طالبوں کے مقابلے میں علمِ توحید میں الگ ، خاص اور نمایاں مقام رکھتا ہے یعنی وہ فرزندِ حقیقی اور مرشد کا روحانی وارث ہے۔اس حدیثِ پاک مَنْ سَلَکَ عَلیٰ طَرِیْقِیْ فَھُوَ اٰلِیْ (جو چلا میری راہ‘ وہی میری آل ہے) میں اسی طرف اشارہ ہے۔
اور آخری مصرعہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس نے دو مرشدوں یا دو جگہ سے معرفتِ حق تعالیٰ حاصل کرنا چاہی تو وہ ناکام رہا اور اس نے دونوں جہانوں میں خسارہ اٹھایا۔ (ابیاتِ باھُو کامل)
ُپس آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے لازوال عشق کی بدولت سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے روحانی وارث اور فرزندِ حقیقی کا مقام حاصل کیا اور سلطان الفقر ششمؒ نے آپ مدظلہ الاقدس کے متعلق فرمایا ’’ہم فقر کا عنوان ہیں اور آپ اس کی تفصیل ہوں گے‘‘۔ آج بھی آپ مدظلہ الاقدس کے اپنے مرشد سے عشق و وفا میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی۔ دورانِ گفتگو بار بار اپنے مرشد کا ذکراس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کسی لمحے بھی اپنے مرشد کو فراموش نہیں کرتے۔ ہر سال سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا یومِ پیدائش اور یومِ وصال اہتمام سے مناتے ہیں۔ ان کے اقوال و فرمودات کو بار بار دہراتے ہیں اور اپنے مریدین کی تربیت کیلئے اپنے مرشد کے فرمودات، ان کی عادات اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے واقعات کا اکثر حوالہ دیتے ہیں۔ سلطان العاشقین کا لقب بھی آپ مدظلہ الاقدس کو آپ کے عشقِ حقیقی اور عشقِ مرشد کی بنا پر عطا کیا گیا۔
عشقِ حقیقی اور عشقِ مرشد کو جس گہرائی اور سچائی سے آپ مدظلہ الاقدس نے محسوس کیا اور اس کی عملی تعبیر پیش کی اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ اسی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس عشقِ حقیقی کو اس قدر خوبصورت پیرائے میں بیان فرماتے ہیں کہ دنیاوی طالب بھی عشقِ حقیقی کا طالب بن جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:

عشق کی ابتدا ہے دیدار و صحبت یار کی
عشق کا حاصل ہے محبت یار کی
عشق کی حقیقت، عشق ہے بس عشق
عشق کی انتہا ہے ذات یار کی

عشقِ حقیقی کے متعلق آپ مدظلہ الاقدس کی تعلیمات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:
* کائنات کی ابتدا عشق ہے اور انسان کی تخلیق عشق کے لیے ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ مبارک سے جب ارواح کو پیدا کیا گیا تو عشقِ الٰہی کا جوہرِ خاص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے ارواحِ انسانی کے حصہ میں آیا۔ لقائے حق کے لیے طالب کے دل میں جذبۂ عشق کا پیدا ہونا لازم ہے۔ دراصل روح اور اﷲ کا رشتہ ہی عشق کا ہے۔ بغیر عشق نہ تو روح بیدار ہوتی ہے اور نہ ہی لقائے الٰہی پاسکتی ہے۔ عشق ایک بیج کی صورت میں انسان کے اندر موجود ہے مگر سویا ہوا ہے۔ جیسے جیسے ذکر وتصور اسم اللہ ذات، مشق مرقومِ وجودیہ اور مرشد کی توجّہ سے یہ روح کے اندر بیدار ہونا شروع ہوتا ہے ویسے ویسے روح کی اﷲ کے لیے تڑپ اور کشش میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
* عشق والوں سے معاملہ بھی جدا ہوتا ہے۔ علمائے محض سے اور طرح بات ہوتی ہے اور عشاق سے دوسرے انداز سے بات ہوتی ہے۔
* اللہ کا سب سے بڑا عاشق وہ ہے جسے دنیا میں (اس کی حیات کے دوران) کوئی بطور عاشقِ الٰہی نہ پہچانے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ’’میرے بعض ولی ایسے ہیں جنہیں میرے سوا کوئی نہیں پہچانتا۔‘‘ البتہ اللہ جسے چاہتا ہے خود ظاہر کر دیتا ہے لوگوں کی بھلائی کے ارادہ سے۔
* اللہ کا عاشق جتنی بھی تکلیف میں ہو‘ لوگوں پر ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس کا چہرہ ہمیشہ ہشاش بشاش رہتا ہے خواہ وہ باطنی یا جسمانی طور پر کتنی ہی اذیت سے کیوں نہ گزر رہا ہو۔ وہ اپنی تکلیف اللہ سے بھی نہیں کہتا بلکہ اس کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔
* جب عشقِ الٰہی کی تڑپ اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے اور وہ زوال سکون کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ یعنی جب عشق اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو لقا و وصالِ الٰہی حاصل ہوجاتا ہے اور لقا و وصالِ الٰہی میں ہی عاشق کا سکون ہے۔ لیکن کچھ عاشق ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کسی منزل پر سکون نہیں آتا وہ ھَلْ مِنْ مَّزِیْد’’کیا مزید کچھ ہے‘‘کی طلب میں سکون سے پھر تڑپ کی طرف سفر کرتے ہیں‘ پھر وصال کا ایک اور درجہ طے کر کے سکون حاصل کرتے ہیں۔ پھر تڑپتے ہیں‘ پھر وصال اور سکون حاصل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ عاشق سے معشوق بن جاتے ہیں۔
* عاشقِ الٰہی کو جہنم کی آگ کا کوئی خوف نہیں ہوتا کیونکہ اس نے تمام عمر عشق کی آگ میں جلتے ہوئے گزاری ہوتی ہے جو جہنم کی آگ سے تیز تر ہے۔ عاشق عشق کی آگ میں جلتے جلتے خود آگ بن چکا ہوتا ہے۔ اس کی ایک آہ جہنم کی آگ کو بجھا سکتی ہے۔
* عشق کے میدان میں کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوتی ہے۔
* عشق محض زبانی دعویٰ کا نام نہیں ہے بلکہ عشق اس ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان اپنے محبوب کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے پر آمادہ ہو جائے۔
* عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔
* عشق کا اصل امتحان جلال سے لیا جاتا ہے۔ جمال کو تو سب محبوب رکھتے ہیں۔نفس پرست طالب محبوب کے جلال میں آنے پر اس سے دور ہو جاتے ہیں جبکہ صادق عاشقوں میں جلال مزید تڑپ پیدا کرتا ہے اور وہ محبوب کی طرف زیادہ شدت سے بڑھتے ہیں۔
* عشق کا پہلا اصول ادب ہے۔
* عشق درد ہے، اسی لیے عاشق کو درد مند کہا جاتا ہے۔
* عشق کسی انسان سے نہیں ہوتا، جو یہ دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے کیونکہ اللہ خود عشق ہے اور عشق سے ہی عشق ہوتا ہے۔
* عشقِ حقیقی ہی بارگاہِ ربّ العالمین میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
* عشق مشاہدہ کا وارث ہے اور حقیقت کی تہہ یا اس کی کنہہ تک کی خبر رکھتا ہے مگر علم (ظاہر) کی نظر سطح تک رہتی ہے۔
* جب طالبِ مولیٰ علم اور عقل کی حد پار کر کے عشق کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو عشق کی قوت اسے تمام حدود پار کروا کے لامکان تک پہنچا دیتی ہے۔
* عشق کی بدولت دل سے اعتراضات دور ہوتے ہیں اور عشق سے دل کے گوشے میں جو نور پیدا ہوتا ہے‘ اسی سے ’’فقیر فنا فی اللہ‘‘ (انسانِ کامل) کی پہچان ہوتی ہے۔
* بہتر ہے کہ دل میں عشقِ حقیقی کی آگ روشن کی جائے۔ یہ آگ ہر قسم کے شکوک و شبہات کے خس و خاشاک کو جلا کر یقین حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
* عاشق محبوب کے نقشِ پا کو دیکھ کر چلتا ہے اور ان کا سرمو انحراف نہیں کرتا۔ اس کا قلب محبوب کی خیرخواہی سے معمور ہوتا ہے۔
* لوگ تو ایک مصیبت سے گھبراتے ہیں جبکہ عاشقِ حق تعالیٰ بصد خوشی بے شمار مصائب مول لے لیتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس راہ میں بے شمار خطرات ہیں‘ اپنی کشتی عشق کی طوفانی لہروں کے حوالے کر دیتے ہیں اور بڑے سے بڑے طوفان میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں۔ (سلطان العاشقین)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں امام، فقیرِ کامل اور قدمِ محمدؐپر ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس مرشدِ کامل اکمل نور الہدیٰ اور فقر کا مرکز ہیں۔ ہر دور کے امام کی تلاش اور اس کے ذریعے حق تعالیٰ تک رسائی کو تمام فقرا نے فرض قرار دیا ہے۔ موجودہ دور کے امام ہونے کی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کی پہچان اور آپ کی ذات سے عشق کے بغیر طالبانِ مولیٰ کی ذاتِ خداوندی تک رسائی نا ممکن ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس عشق کا وہ سمندر ہیں جس کا ایک قطرہ بھی اگر کسی طالبِ مولیٰ کو مل جائے تو وہ اللہ کے عاشق سے معشوق تک کا سفر ایک لمحے میں طے کر لے۔ اس مادیت پرستی کے دور میں صرف آپ مدظلہ الاقدس ہی عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں اور اپنے بے پایاں عشق کے فیض سے اپنے طالبوں کو مالا مال کر رہے ہیں۔

ذکر تصور اسمِ اللہ دا‘ جو ہادی تیرے توں پائے
ھُو دے تصور وچ رہے ہمیشہ‘ ذاتی اسم کمائے
مشق مرقومِ وجودیہ دے نال اوہ اپنے تن نوں پاک کرائے
سلطان نجیب صادقاں عاشقاں نوں‘ اللہ دے نال ملائے

اپنا تبصرہ بھیجیں