کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ –Qula Youmin hoo fee shan

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ

تحریر: یوسف اکبر سروری قادری۔ لاہور

اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے۔ وہ ازل سے پہلے بھی موجود تھا جب کوئی شے اور مخلوق نہ تھی اور ابد کے بعد بھی موجود رہے گا جب ہر شے اور مخلوق فنا ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کے لیے اس کائنات اور اس کی تمام تر مخلوقات خاص طور پر انسان کو تخلیق کیا۔ اس قدیم ذات کی پہچان کا یہ سفر ازل سے شروع ہوا اور ابد تک جاری رہے گا اور اس پہچان کی تکمیل کے لیے اللہ عزوجل کی ذاتِ مبارکہ ہردور میں نئے انداز اور نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوتی رہے گی جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
* ’’کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (الرحمن۔29)  ترجمہ: ہر روز ھُو کی نئی شان ہے۔

اگرچہ ہر شے میں اللہ پاک کی جلوہ گری ہے ہر صورت میں اس کی صفات اور انوار و تجلیات کا اظہار ہے لیکن مندرجہ بالا آیت کی رو سے حق تعالیٰ ہر دور میں ہر زمانے میں ایک نئے انداز اور ایک نئی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
علامہ قرطبی اس آیتِ مبارکہ کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیتِ مبارکہ کا مفہوم دریافت کیا مگر وہ بتانہ سکا، اس نے بادشاہ سے مہلت مانگی اور نہایت افسردہ و پژمردہ گھر واپس لوٹا۔اس وزیر کا ایک سیاہ فام غلام تھا۔ اس نے پوچھا میرے آقا! آپ آج پریشان اور افسردہ کیوں ہیں؟ اس وزیر نے اپنی پریشانی و افسردگی کی وجہ بتائی۔ غلام نے کہا کہ آپ مجھے بادشاہ کے پاس لے چلیں میں اسے اس آیتِ مبارکہ کا مفہوم بتاؤں گا۔وہ غلام جب بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ یوں گویا ہوا: 

ایھا الامیر! شانہ ان یولج اللیل فی النھار ویولج النھار فی اللیل و یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی۔ یشفی سقیما وَیسقم سلیما وَیبتلی معافًا وَ یعافی مبتلا وَ یعز ذلیلا وَیذل عزیزًا وَیفقر غنیا وَیغنی فقیرًا۔۔

ترجمہ: اے بادشاہ! اللہ جل شانہٗ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ وہ علیل اور بیمار کو صحت یاب اور صحت مند کو بیمار کرتا ہے۔ آرام و عافیت لیکر بے چینی و مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اور جو پریشان حال ہو اور مصیبت میں گرفتار ہو اس کو راحت، آسائش اور آرام و سکون عطا فرما تا ہے۔ وہ حقیر کو عزت و احتشام سے نوازتا ہے اور صاحبِ عزت کو (اس کے تکبر و غرور اور نافرمانی کی بنا پر) ذلیل و خوار کرتا ہے وہ غنی کو گدائی اور فقیر کو سلطانی و دولت مندی سے سرفرازی عطا کرتا ہے۔
بادشاہ نے جب اس غلام سے اس آیتِ مبارکہ کی تفسیراور وضاحت کو سنا تو خوش ہو کر وزارت کا قلمدان اس کے حوالے کردیا۔
وہ غلام پھر گویا ہوا، یَا مولائی ھٰذا مِن شان اللّٰہ تَعَالٰی   کُلَّ یَوْمَ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ۔
ترجمہ: میرے آقایہ بھی میرے اللہ جل شانہٗ کی ایک شانِ کریمی ہے کہ ہر روز اس کی ایک نئی شان ہوتی ہے۔
زمین و فلک میں جو کچھ بھی ہے نوری ہو یا خاکی، آبی ہو یا آتشی، جسامت اور قدمیں چھوٹی ہو یا بڑی، مقدار میں قلیل ہو یا کثیر، عزیز ہو یا حقیر‘ بلا امتیاز و استثنا تمام کے تمام اس اللہ جل شانہٗ کے دربارِ عالی شان میں اپنا دامنِ سوال پھیلائے ہوئے ہیں اور ’’اللہ‘‘ کے جود و سخا پر آس لگائے ہوئے ہیں۔ علیل صحت کا طالب ہے، بھوکا رزق کا، طالبِ علم گو ہرِ علم کے لیے اپنی جھولی دراز کئے ہوئے ہے، دولت کے طلب گار سیم وزرمانگ رہے ہیں اور اربابِ صدق و اخلاص اس مالک و خالق اللہ جل شانہٗ کی رضا کے طلب گار ہیں۔ کون ہے جو وہاں سائل نہیں ہے، کون ہے جو اس در کا بھکاری اور گداگر نہیں ہے۔ مخلوق کا تو یہ حال ہے اور خالق اپنی مخلوق کی التجاؤں کو سن رہا ہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشادِ ربانی ہے:اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعُ الْبَصِیْر ترجمہ: بے شک اللہ جل شانہٗ سننے اور دیکھنے والا ہے۔

اور وہ ’’اللہ‘‘ جل شانہٗ ان کی دعاؤں کو، التجاؤں کو قبول فرما رہا ہے، کسی کو نعمتِ علم سے نواز رہا ہے اور کسی کے سینے میں چراغِ معرفت ’’اسم اللہ ذات‘‘ کو فروزاں کر رہا ہے اور کسی کو اپنے لقا، معرفتِ سلطانی سے سرفرازی و فقر کی نعمتِ عظمیٰ سے نوازرہا ہے۔ کوئی اس جہانِ فانی میں پیدا کیا جارہا ہے اور کسی کو دارِ فانی کی طرف روانہ کیا جارہا ہے ۔ کہیں قحط کی کیفیت ہے اور کہیں ابرِ رحمت کی صورت برس رہا ہے، کسی کو نوازشات سے نوازا جا رہا ہے اور کسی کو اس کی نافرمانی و ناشکری کے باعث نعمتوں سے محروم کیا جارہا ہے۔ وہ ہر لمحہ ہر کسی کے ساتھ ایک نئے انداز اور نئی شان کے ساتھ معاملہ فرما رہا ہوتا ہے۔ اس کی جلوہ گری ہر شے میں ہے بہاروں میں گلزاروں میں، سورج، چاند اور ستاروں میں، ندیوں اور آبشاروں میں۔ غرضیکہ زمین و آسمان کی ہر شے میں اللہ کا ظہور ہے لیکن انسان کے اندر اس کا کامل اظہار ہے۔ حدیثِ قدسی میں ارشاد ہے:

 اَلْاِنْسَانُ سِرِّیْ وَ اَنَا سِرُّہٗ   ترجمہ: انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔

یعنی انسان کے اندر اللہ پاک کی ذات موجود ہے جس کا واضح اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں موجود ہے:
وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنِ۔ (الذٰریت۔21)
ترجمہ: اور میں تمہارے اندر موجود ہوں کیا تم دیکھتے نہیں۔
جب اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو درحقیقت وہ آدم علیہ السلام کے روپ میں جلوہ گر اس ذات کو سجدہ تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوْحِیْ فَقَعُوْلَہٗ سٰجِدِیْنَ ۔(الحجر۔29)
ترجمہ: اور جب میں اس (آدمؑ ) کے اندر اپنی روح پھونک دوں تو (اے ملائکہ) تم سب سجدے میں گر جانا۔
اپنی روح پھونکنے سے مراد اللہ پاک کا اس ظاہری جسمانی وجود میں اپنا اظہار ہی تھا۔ وجود در وجود اظہار کا یہ سفر مختلف انبیا و کاملین کی صورت میں ہر زمانے میں اس زمانے کی شان کے مطابق جاری رہا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ میں اس ذاتِ اقدس کا کامل اظہار ہوا اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَایَ الْحَقْ۔
ترجمہ: جس نے مجھے دیکھا تحقیق اس نے حق دیکھا۔
آدم علیہ السلام میں ذات و صفات کا اظہار اللہ پاک نے قرآن کی اس آیت میں واضح فرمایا:
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا۔ (البقرہ۔31)
ترجمہ: اور آدم ؑ کو تمام اسما کا علم سکھایا۔
تمام اسما کا علم سکھانے سے مراد اللہ پاک کی ذات کا اپنا اظہار تھا جو اس نے بصورتِ صفتِ علیم کیا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام میں ذات و صفات کے کامل ومکمل اظہار کے بعد وہ ذات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی صورت میں ظاہر ہوئی اور طالبانِ مولیٰ کے لیے اللہ پاک کی معرفت کا ذریعہ بنی۔ اظہار کا یہ سفر چلتے چلتے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ پر پہنچا۔ آپ خاتم الاولیا ہیں اور محی الدین کے لقب سے ملقب ہیں کہ آپؓ نے دینِ اسلام کو نئے سرے سے زندہ کیا اور اس میں موجود باطل فرقوں اور فتنوں کا خاتمہ فرمایا۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے بعد آپؓ کے روحانی سلسلہ کے اولیا کاملین سے ہوتے ہوئے وہ ذات ایک نئی شان کے ساتھ حضرت سخی سلطان باھُوؒ رحمتہ اللہ علیہ کی صورت میں ظاہر ہوئی جنہوں نے تعلیماتِ فقر کو ایک نئے انداز میں طالبانِ مولیٰ کے لیے اپنی نادر و نایاب کتب کی صورت میں مرتب کیا۔
اسی طرح آج وہ ذات ایک نئی شان کے ساتھ ایک نئے روپ میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صورت میں جلوہ گر ہے۔کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ  کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ وہ ذات ہر دور میں اپنے دین کو اس دور کے تقاضوں کے مطابق عوام الناس تک پہنچاتی ہے تاکہ ان کے لیے حقیقی دین کی پیروی آسان ہو جائے۔ اسی اصول کے پیشِ نظر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس طالبانِ مولیٰ کی ظاہری و باطنی تربیت جدید دور کے تقاضوں کے مطابق فرما رہے ہیں۔ اسم اللہ ذات کا فیض جو پہلے صرف خواص تک محدود تھا اور طویل ریاضت کے بعد حاصل ہوتا تھا آپ مدظلہ الاقدس کی عظیم شان کی بدولت وہ فیض عوام الناس میں بغیر مجاہدے و ریاضت کے جاری ہے۔
جس فقیرِ کامل کو دینِ متین کی خدمت کا ذمہ سونپا گیا ہو اللہ ربّ العزت لوگوں کے دلوں میں اس فقیرِ کامل کی محبت و الفت القا کر دیتا ہے۔ ایسے فقیرِ کامل کی عقیدت و احترام اور پیار و محبت شخصیت پرستی کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ ایسے فقرا کے ظاہری وجود میں اللہ جل شانہٗ کی ذات جلوہ گر ہوتی ہے جنہوں نے خود کو اپنے اہل و عیال اور مال کو راہِ حق کے لیے وقف کر دیا ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت کے فقرا سر تا پا توحید ہیں۔ ان کے دل اور جان (ظاہر و باطن) توحید میں غرق ہیں۔ نہ خدا نہ خدا سے جدا۔ جیسے آگ اور چنگاری، جیسے کھانا اور نمک۔ ہر چہ در نمک افتد ہمہ نمک گردد ۔(معنی:جو چیز نمک کی کان میں پڑی نمک ہو گئی) جیسے دودھ اور پانی مل کر ایک ہو جاتے ہیں اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت کے فقیر وحدت میں غرق ہو کر ہمہ تن توحید بن جاتے ہیں۔ (عین الفقر)
ایسے فقیر سے عقیدت و محبت درحقیقت اللہ جل شانہٗ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی محبت و عقیدت ہوتی ہے کیونکہ یہ انہی کے پیغام کی بدولت ہے کہ ایک انسان کو اس قابل بنایا کہ لاکھوں مردوزن ان سے عقیدت و محبت کا رشتہ استوار کر لیتے ہیں، ان کو اپنا راہبرِ کامل تسلیم کرتے اور ان کی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس حمیت و تحریکی جذبوں کے پسِ پردہ درحقیقت اللہ ربّ العزت کی ذات سے محبت و عقیدت پوشیدہ ہوتی ہے جیسا کہ سلطان العارفینؒ فرماتے ہیں:

اگر آنہارا خدا خوانی بجا و اگر بندۂ خدا دانی روا

ترجمہ: اگر تو انہیں خدا کہے تو بجا ہے اور اگر بندۂ خدا سمجھے تو بھی روا ہے۔ (رسالہ روحی شریف)
اس کامل راہبر کے چہرہ مبارک کو دیکھ کراللہ ربّ العزت یاد آتا ہے کیونکہ مرشد کامل اکمل کے چہرے کے پیچھے اسم اللہ ذات اور نورِ محمدیؐ کا ہی فیض جلوہ گر ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۔(سورہ مریم)
ترجمہ: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو خدا رحمان ان کے لئے (لوگوں کے) دلوں میں محبت پیدا فرما دے گا۔
تفسیر ابنِ کثیر میں حافظ ابنِ کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
* نیک عمل کرنے والے ایمان داروں (کاملین) سے اللہ تعالیٰ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن (طالبِ حق) ان سے محبت کرنے لگتے ہیں، ان کا ذکرِ خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعدبھی ان کی تعلیمات باقی رہتی ہیں۔
حضرت عمرو بن جموحؓ روایت کرتے ہیں کہ آقا دوجہان سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ اَحِبَّآئِیُ وَاَوْلِیَآئیِ الَّذِیْنَ یذکرون بِذِکْرِیْ وَاذْکُرْ بِذِکْرِھِمْ۔(مسند احمد ، سنن ابن ماجہ)
ترجمہ: ’’بے شک میرے احباب اور اولیا وہ شخصیات ہیں کہ میرا ذکر کرنے سے وہ یاد آجاتے ہیں اور ان کا ذکر کرنے سے میں یاد آجاتا ہوں۔‘‘ اسی وحدت کی کیفیت کو امیر خسروؒ یوں بیان فرماتے ہیں:

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

ترجمہ: میں تو ہو گیا ہوں تو میں ہو گیا۔ میں جسم ہوں تو اس میں جان ہے۔ اب اس کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں تو اور ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ ایک بیت میں فرماتے ہیں:

ایہہ تن میرا چشماں ہووے،تے میں مُرشد ویکھ نہ رَجّاں ھُو
لُوں لُوں دے مُڈ لکھ لکھ چشماں،ہِک کھولاں تے ہِک کَجّاں ھُو
اِتنا ڈِٹھیاں صبر ناں آوے، میں ہور کِتے وَل بھَجّاں ھُو
مُرشد دا دیدار ہے باھوؒ ، مینوں لکھ کروڑاں حجّاں ھُو

مرشد کامل اکمل کی صورت اور اس کے دیدار کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ لاکھوں کروڑوں حجوں سے بہتر قرار دے رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ مرشد کامل اکمل میں اللہ تعالیٰ کی ذات جلوہ گر ہوتی ہے۔
علامہ ابن عربیؒ فرماتے ہیں:
* اللہ تعالیٰ مرشد کامل کی صورت میں تجلی فرماتا ہے۔ (فصوص الحکم)
عَنْ اَسْمَاءَ بنتِ یَزِیْدَ قَالَتْ سَمِعْتُ رسول اللّٰہ ؐ یَقُوْلُ اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِکُمْ قَالُوْا :بَلٰی یا رَسُوْلَ اللّٰہ ِؐ قَالَ: خَیَارُکُمْ الَّذِیْنَ اِذَا رُئووا ذُکِرَ اللّٰہ۔ (ابنِ ماجہ، سنن مسند احمد، کتاب الذہد)
ترجمہ: حضرت اسماء بنتِ یزید سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں تم میں سے بہترین لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! کیوں نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آجائے۔
دینِ اسلام کے نام پر ساری محبتوں اور روابط کا سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ یعنی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری تک جا پہنچتا ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت دراصل اطاعت اور محبتِ الٰہی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے:

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

پس اللہ کی ہر وقت،ہر لحظہ،ہر لمحہ،ہر پل نئی شان ہے اور جب اس کی ہر وقت نئی شان ہے تو اس کے عاشقوں یعنی فقرا کی بھی ہر وقت نئی شان ہوتی ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ قلندر لاہوری نے کیا خوب کہا ہے۔

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی ذات کو سمجھنے اور اپنی رضا پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں