داعی الفقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن– Daie ul Faqr Sultan ul Ashiqeen

داعی الفقر.سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

تحریر: مسز انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

فقر موجودہ دور کی کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تو روزِ ازل سے ہے۔ فقر عین اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ کے رازوں میں سے ایک خاص راز ہے۔ فقر قرب و دیدارِ الٰہی کا نام ہے۔ اسی کی بدولت انسان اشرف المخلوقات بنتا ہے اور اسی کی بدولت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔نبی آخر الزماں جناب حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نورِ کُل ہیں اور تمام تر صفاتِ الٰہیہ کے جامع ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا‘ نہ حسب و نسب پر، نہ صدق پر، نہ تقویٰ و عدل پر، نہ سخاوت و شجاعت پر، نہ ترک و توکل پر، نہ ہی فصاحت و بلاغت پر اور نہ ہی صادق و امین ہونے پر۔ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر فخر نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام دینی و دنیوی علوم کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی علم کو اپنی ذات سے منسوب نہ فرمایا سوائے فقر کے۔ فقر ازل سے ہی اُن لوگوں کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے جنہوں نے ’’روزِ اَلست‘‘د نیا و آخرت کی ہر نعمت کو رضائے الٰہی پر قربان کر دیا تھا۔
فقر کیا ہے؟
عرفِ عام میں فقر تنگ دستی اور غربت و افلاس کو کہتے ہیں لیکن دین کی اصطلاح میں فقر سے مراد ایک بندے کا دنیا کی ہر شے اور رشتے کی محبت کو اپنے دل سے نکال کر اپنے ربّ سے مکمل تعلق جوڑ لینا ہے۔ فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حقیقی ورثہ ہے جس کو انہوں نے خاص طور پر اپنی سنت قرار دیتے ہوئے اپنی ذات سے وابستہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:

اَ لْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ الْفَقْرُ مِنِّیْ فَافْتَخِرُّ بِہٖ عَلٰی سَآئِرِ الْاَنْبِیَآءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔

ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فرمان مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ فقر نہ صرف حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا راستہ ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحابؓ، فقرائے کاملین اور تمام انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فقر کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے فرمان ’فقر میرا فخر ہے اور میرے لیے باعثِ افتخار ہے‘ میں فقر سے مراد وہ فقیری نہیں جو عوام میں مشہور ہے بلکہ یہاں حقیقی فقر مراد ہے جس کا مفہوم اللہ کے علاوہ کسی اور کا محتاج نہ ہونا اور اس ذاتِ کریم کے سوا تمام لذات و نعم کا بجان و دل ترک کر دیناہے۔ جب انسان اس مرتبہ پر فائز ہوتا ہے یہی مقام فنا فی اللہ ہے کہ اس ذات وحدہٗ لاشریک کے سوا انسان کے وجود میں کسی اور کا تصور باقی نہ رہے اور اس کے دل میں ذاتِ خداوندی کے علاوہ کسی اور کا بسیرا نہ ہو۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فقر کے بارے میں فرماتے ہیں:
*فقر سِرِّ الٰہی ہے ۔ (عین الفقر)
* تمام پیغمبروں نے فقرکے مرتبے کی التجا کی لیکن صرف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حاصل ہوا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی امت کے سپرد کیایہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم محض فیض ہے ۔ (امیر الکونین)
بانیٔ تحریک دعوتِ فقر، مجدّدِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقر کی تعریف نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں:
* فقر وہ مرتبہ ہے جہاں انسان ہر قسم کی حاجات سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے مدِّنظر رہتی ہے اس لیے ہر حال میں تقدیرِ الٰہی سے موافقت اختیار کیے رکھتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے قرب کے سوا وہ نہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتا ہے اور نہ اللہ کے غیر سے کچھ طلب رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشا اور رضا میں مداخلت کو گناہ سمجھتا ہے اس لیے قرب و حضور کے سوا کچھ نہیں مانگتا۔ (سلطان العاشقین)
فقر دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ یعنی ایسا علم اور راہ جسے اپنا کر قرب و دیدارِ الٰہی کی نعمت کو پایا جا سکتا ہے۔ مگر اس راہ میں بغیر کسی راہبر و راہنما کے ہرگز کامیابی سے نہیں چلا جا سکتا۔ راہبر و راہنما بھی ایسا جو فنا فی اللہ بقا باللہ اور وصالِ الٰہی کے مقام پرفائز ہو اور خود سراپا توحید ہو گیا ہو۔ عام اصطلاح میں ایسے راہبر و راہنما کو ’’فقیرِ کامل یا انسانِ کامل‘‘ کہتے ہیں۔ اللہ ایسا ہر گز نہیں کہ کوئی اخلاصِ نیت سے اس کی طلب کرے اوروہ اس کی اپنی طرف راہنمائی نہ فرمائے۔ ہر دور میں ایک ہستی طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کے لیے موجود ہوتی ہے۔ جب بندہ مادّیت پرستی، حسد، تکبر اور کینہ پروری جیسی نفسانی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر خلوصِ دل سے اللہ کی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے انسانِ کامل کے دَر پر پہنچادیتا ہے جو طالبِ حق کے لیے روحانی طبیب اور باطنی خضر ہوتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کا فرمان ہے: ’’میں دیدار کا علم جانتا ہوں اور پڑھتا ہوں مجھے یہ مراتب جناب سرورِ کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرام اور پنجتن پاک رضوان اللہ عنہم اجمعین کی رفاقت سے نصیب ہوئے ہیں۔ ‘‘ (عین الفقر)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے بعد امانتِ فقر سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کے سپرد ہوئی اور آپؒ کے بعد سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہؒ سے ہوتی ہوئی شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ تک پہنچی۔ آپؒ نے اس امانت کو سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ کے حوالے فرمایا تاکہ وہ اسے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے سپرد کر سکیں۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے ظاہری وصال سے قبل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت و مہربانی سے فقر کی یہ امانت سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے سپرد فرمائی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اس حقیقت کو اپنے مرشد پاک کی شان میں تحریر کردہ ایک منقبت میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

اسمِ اللہ ذات ہے پیغام سلطان الفقر کا
بھول نہ جانا یہ کام سلطان الفقر کا
زمانے کو بتلانا ہے ابھی مقام سلطان الفقر کا
دنیا میں پھیلانا ہے ابھی نام سلطان الفقر کا
نجیبؔ کو ہے یہ خاص وصیت اے نوعِ انسانی
سلطان محمد اصغر علیؒ مظہرِ ذاتِ ربّانی

آپ مد ظلہ الاقدس نے اس امانت کو اللہ کے فضل، مرشد پاک کی باطنی مہربانی اور اپنی انتھک کوششوں سے بخوبی سنبھالا۔ فقر کی یہ راہ جو اب تک صرف خاص الخاص لوگوں تک محدود تھی اسے پوری دنیا میں پھیلایا اور اس نعمت کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ مرشد پاک کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کے اس فیض کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے گراں قدر روحانی و باطنی اور ظاہری و عملی اقدامات سر انجام دیئے جن کی مختصرتفصیل ذیل میں درج ہے:

فیض اسمِ اللہ ذات

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی۔(الاعلیٰ۔1 )
ترجمہ: اپنے ربّ کے اسم ( اسمِ اللہ ذات) کی تسبیح کریں جو سب سے اعلیٰ ہے۔
اسمِ ’’اللہ‘‘ اسمِ ’’ذات‘‘ ہے اور ذاتِ سبحانی کے لیے خاص الخاص ہے۔ علمائے راسخین کا قول ہے کہ یہ اسم مبارک نہ تو مصدر ہے نہ مشتق، یعنی یہ لفظ نہ تو کسی دوسرے لفظ سے بنا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی لفظ بنتا ہے اور نہ اس اسم پاک کا مجازاً اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے اسما مبارک کا کسی دوسری جگہ مجازاً اطلاق ہوتا ہے۔ گویا یہ اسمِ پاک اس قسم کے کسی بھی اشتراک اور اطلاق سے پاک، منزّہ و مبرّا ہے۔ اللہ پاک کی طرح اسمِ اللہ بھی احد، واحد اور ’’لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُلَدْ‘‘ ہے۔ یہ اللہ کا ذاتی نام ہے جس کے ورد سے بندے کا اپنے ربّ سے خصوصی تعلق قائم ہوتا ہے۔ یہ اسم پاک قرآنِ پاک میں چار ہزار مرتبہ آیا ہے۔ عارف باللہ فقرا کے نزدیک یہی اسمِ اعظم ہے۔ (حقیقتِ اسمِ اللہ ذات)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* جسے بھی تقویٰ نصیب ہوا اسمِ اللّٰہُ ذات ہی سے ہوا۔ اسمِ اللّٰہُ ذات سے چار اسم ظاہر ہوتے ہیں اوّل اسمِ ’ اللّٰہُ ‘جس کا ذکر بہت افضل ہے۔جب اسم اللّٰہُ سے ’ا‘ جدا کیا جائے تویہ اسمِ ’لِلّٰہ‘ بن جاتا ہے، اسمِ ’لِلّٰہ‘ کا ذکر فیضِ الٰہی ہے۔ جب اسمِ’لِلّٰہ‘ کا پہلا ’ل‘جدا کیا جائے تو یہ اسمِ ’لَہُ‘ بن جاتا ہے ، اسمِ ’لَہُ‘ کا ذکرعطائے الٰہی ہے۔ جب دوسرا ’ل‘ بھی جدا کر دیا جائے تو یہ ’ھُوْ  ‘ بن جاتا ہے اور اسمِ ’ھُوْ ‘ کا ذکر عنایتِ الٰہی ہے چنانچہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’لَآ اِ لٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘ نہیں کوئی معبود سوائے ھُوْ (ذاتِ حق تعالیٰ )کے۔ (البقرہ۔ 255)‘‘ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔‘‘ (محک الفقرکلاں)

جو طالب اسمِ اللہ ذات کا تصور کرتا ہے وہ زندہ دل اورروشن ضمیر ہو جاتا ہے جس سے وہ ذاتِ حق کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے کرنے لگتا ہے اور حیاتِ جاودانی پا لیتا ہے۔علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دِل کا نور نہیں
سلطا ن الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کی ذاتِ رحمت نے تمام طالبانِ مولیٰ پر سب سے اہم کرم یہ فرمایا کہ آپؒ نے اسمِ اعظم (اسمِ اللہ ذات) کو ہر خاص و عام کے لیے کھول دیا۔ آپ ؒ سے پہلے اولیا کا اصول تھا’’اسمِ اعظم کو بتا نا حرام ہے۔‘‘لیکن آپؒ کی یہ تعلیم رہی ’’اسمِ اعظم کو چھپانا حرام ہے۔‘‘
آپؒ کے اسی مشن کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنے ہر مرید کو بیعت کے پہلے روز ہی ذکرِ ’’یاھُو‘‘ عنایت کر کے اسے ایک ہی دم میں بارگاہِ الٰہی کی حاضری کے لائق بنا دیتے ہیں۔ مزید برآں ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے تما م تر ذرائع ابلاغ کو استعمال میں لاتے ہوئے تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے آسانیاں فرما رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا تعلق اپنے حقیقی خیر خوا ہ اور محبوب اللہ ربّ العزت سے مضبوط ہو جائے اوروہ اپنا مقصدِ حیات پا لیں۔ یہ آپ مد ظلہ الاقدس کی قابلیت اور اعلیٰ روحانی مراتب کی دلیل ہے کہ آپ مد ظلہ الاقدس اسمِ اللہ ذات کے فیض سے اپنے طالبوں کو لاھوت لامکان میں با آسانی پہنچا سکتے ہیں۔

فیض اسمِ محمدؐ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کا فرمان ہے:
* جب طالب اسم محمد کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو بے شک جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک مع ارواحِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہایت لطف و کرم سے تشریف فرما ہوتی ہیں اور صاحبِ تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں ’’میرا ہاتھ پکڑ۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہاتھ پکڑتے ہی طالب کا دِل معرفتِ الٰہی کے نور سے روشن ہو جاتا ہے جس سے انسان ارشاد کے لائق ہو جاتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صاحبِ تصور کو اپنی زبان مبارک سے فرماتے ہیں کہ خلقِ خدا کی امداد کرو۔ پس حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم سے صاحبِ تصور خلقِ خدا کو تعلیم و تلقین کرتا ہے۔ (کلیدِ جنت)
سلطا ن الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے اپنے ہزاروں لاکھوں مریدوں میں سے اسم محمد کا تصور صرف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو عطا فرمایا اور دنیا سے ظاہری طور پر پردہ فرمانے سے قبل آپ مد ظلہ الاقدس سے فرمایا: ’’اب اسمِ اللہ ذات اور اسمِمحمد تمہارے حوالے ہیں۔ ان کے فیض کو عام کرنا اب تمہاری ذمہ داری ہے۔‘‘ (سلطا ن الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات)
اپنے مرشد کی اسی وصیت پر عمل کرتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے طالبوں پراسمِ محمد کا فیض بھی کھول دیا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی تعلیمات کے مطابق صرف وہی مرشد کامل اکمل ہوتا ہے جو اپنے طالبوں کواسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمد عطا کرے۔ان کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس طالبانِ مولیٰ کا حقیقی تعلق ذاتِ حق کے ساتھ مضبوط کرنے کے لیے انہیں قوتِ وھم، علمِ دعوت اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری سے بھی نوازتے ہیں۔بلاشبہ یہ تمام مراتب آپ مدظلہ الاقدس کے اعلیٰ روحانی مقام کی نشانیاں ہیں۔

تحریک دعوتِ فقر(رجسٹرڈ) کا قیام

کسی بھی کام کی ترویج کے لیے کسی تنظیم یا جماعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مادہ پرست دور میں ہر کوئی سرکار یا سیاست کا سہارا لے کر جھوٹی خلافت کا لبادہ اوڑھے روحانیت کے نام پر سادہ لوح عوام کو لوٹ رہا ہے۔ انہی حالات کے پیشِ نظر حقیقی فقرِ محمدیؐ کی دعوت کو منظم طریقے سے عام کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد پاک سلطا ن الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے عرس کے موقع پر 23۔اکتوبر 2009ء (3 ذیقعد1430ھ) بروز جمعتہ المبارک ’’تحریک دعوتِ فقر‘‘ کی بنیاد رکھی۔ تحریک دعوتِ فقرکے قیام کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو راہِ فقر کی دعوت دینا ہے تاکہ طالبانِ حق وہ روحانی پاکیزگی حاصل کر سکیں جو قربِ الٰہی اور مجلسِ محمدی ؐ کی حضوری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس تحریک کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس کا تعلق کسی بھی سرکاری، نیم سرکاری یا سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔ تحریک دعوتِ فقر کے اغراض و مقاصد میں لقاءِ الٰہی اور معرفتِ الٰہی کے فریضہ کی ادائیگی، تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، تجلّیۂ روح، دنیا و آخرت میں اللہ کے ہاں کامیابی، اللہ کے سوا غیر کی محتاجی سے نجات اور مقصدِ حیات میں کامیابی شامل ہیں۔ تحریک دعوتِ فقر مختلف شعبہ جات کے ذریعے فقرکی تعلیمات کو عام کر رہی ہے۔

خانقاہ سلسلہ سروری قادری

خانقاہ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں طالبانِ مولیٰ صبح و شام اسمِ اللہ ذات کا ذکر کرتے ہیں اور مرشد کی صحبت و رہنمائی میں اپنی روح کی پاکیزگی حاصل کر کے اللہ کے قرب کی نعمت سے مالا ما ل ہوتے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے تمام مشائخ سروری قادری اور دیگر صوفیا کرام کے طریقہ کے مطابق اپنے مرشد پاک سلطا ن الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے عرس کے موقع پر 23۔اکتوبر 2009 بمطابق (3 ذیقعد1430ھ) بروز جمعتہ المبارک ’’خانقاہ سلسلہ سروری قادری‘‘ کی بنیاد سلطان الفقر ہاؤس 4/A ایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہور میں رکھی۔بعد ازاں طالبانِ مولیٰ کی روزبروز بڑھتی ہوئی تعداد اور ضروریات کے پیشِ نظر اس خانقاہ کو وسعت دی گئی۔خانقاہ کا موجودہ پتہ سلطانُ الفقر ہاؤس 4-5/A ایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہور ہے۔یہ خانقاہ طالبانِ مولیٰ کے لیے روحانی و باطنی تربیت گاہ ہے۔ اس خانقاہ میں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے بھی مریدین آکر مقیم ہوتے ہیں اور اپنے مرشد کی صحبت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ اس خانقاہ کے دروازے ہر خاص و عام، ہر مکتبہ فکر اور ہر فرقے کے لیے دن رات کھلے ہیں۔ حضور مرشد کریم کی زیرِ نگرانی تمام تر روحانی محافل اور سالانہ عرس کی تقریبات بھی اسی خانقاہ میں منعقد ہوتی ہیں۔
اللہ بزرگ و برتر کی مہربانی سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مریدین ومحبین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جس کی بنا پر یہ خانقاہ بھی ضروریات کو اب پورا نہیں کر پارہی لہٰذا آپ مدظلہ الاقدس نے نئی اور بڑی خانقاہ کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طالبانِ مولیٰ کو فیض پہنچایا جا سکے۔ اس نئی خانقاہ کے ساتھ ایک جامع مسجد، مدرسہ، لائبریری، ریسرچ سنٹر، چھوٹا ہسپتال اور دور دراز سے آنے والے مریدین کی رہائش کے لیے کمرے بھی تعمیر کئے جائیں گے۔ اس خانقاہ کی تعمیر کے لیے کثیر رقم درکار ہے۔ جس کے لیے اندرنِ ملک و بیرونِ ملک سے طالبانِ مولیٰ فنڈ جمع کر رہے ہیں۔ اس کارِ خیر میں حصہ ڈالنا صدقہ جاریہ ہے جس کا اجر رہتی دنیا تک حصہ ڈالنے والے کو ملتا رہے گا اور روزِ قیامت بھی بہت سے گناہوں کا کفارہ اور باعثِ نجات ہو گا۔ انشاء اللہ

سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ)کا قیام

نشرو اشاعت موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے اور پیغام رسانی کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ دعوتِ فقر کو عام کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اگست 2006 میں سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ) کی بنیاد رکھی اورکتب و رسائل کی اشاعت کے ذریعے تعلیماتِ فقر کو عام فرمایا۔ سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ)کا مر کزی دفتر ’’سلطان الفقر ہاؤس‘‘ 4-5/A ایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہوریعنی خانقاہ سلسلہ سروری قادری میں ہے ۔یہاں آپ مدظلہ الاقدس کی زیرِ نگرانی نہ صرف طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کے لیے کتب شائع ہو رہی ہیں بلکہ یہ کتب دنیا بھر کے طالبانِ مولیٰ کے آن لائن (Online)مطالعہ کے لیے سلطان الفقر پبلیکیشنزکی ویب سائٹ
www.sultan-ul-faqr-publications.com پربھی موجود ہیں ۔ اس ویب سائٹ پر تمام کتب کا نہ صرف آن لائن مطالعہ کیا جاسکتا ہے بلکہ مفت ڈاؤن لوڈ(Download) کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ماہنامہ سلطان الفقرلاہور

عوام الناس کو فرقہ پرستی، ظاہر پرستی اور مسلک پرستی جیسی باطنی بیماریوں سے نکالنے اور ان میں اسمِ اللہ ذات کی حقیقت اور فقر کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے اگست 2006 میں ماہنامہ سلطان الفقرلاہور کی بنیاد رکھی جو اللہ کے فضل و کرم سے اب تک جاری وساری ہے اور علمِ فقرکو عام کر رہا ہے۔ یہ ماہنامہ ، تحریک دعوتِ فقرکی ویب سائٹ
www.mahnama-sultan-ul-faqr-lahore.com پر بھی موجودہے جسے دنیا بھر سے طالبانِ مولیٰ آسانی سے فری پڑھ اور ڈاؤن لوڈ(Download) کر سکتے ہیں۔قارئین کی سہولت کے لیے ہر تازہ شمارہ کے ساتھ ساتھ گزشتہ شمارہ جات کا مجموعہ بھی اس ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے۔

ملٹی میڈیا اینڈ ڈیزائن ڈویلپمنٹ

تمام مشائخ سروری قادری کے بارے میں تفصیلی معلومات ا ور ان کی تعلیماتِ فقر کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی زیرِ نگرانی ملٹی میڈیا اینڈ ڈیزائن ڈویلپمنٹ کا شعبہ قائم کیاگیاہے۔یہ شعبہ دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق طالبانِ مولیٰ کے لیے آسانیاں فراہم کر رہا ہے۔طالبانِ مولیٰ دنیا کے کسی بھی حصے میں نہ صرف کتب و رسائل کا مطالعہ کر سکتے ہیں بلکہ اس شعبے کے ذریعے دنیا بھر سے آن لائن بیعت کے ذریعے آپ مدظلہ الاقدس سے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی نعمت حاصل کرکے قربِ الٰہی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ الحمدللہ! یہ شعبہ ملٹی میڈیا ایند ڈیزائن ڈویلپمنٹ ہی کی کاوش ہے کہ دنیا بھر سے کئی غیرمسلم آپ مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کر کے اپنی آخرت سنوار رہے ہیں۔ اس شعبے کی زیرِ نگرانی مندرجہ ذیل ویب سائٹس کام کر رہی ہیں:

www.sultanulfaqr.com
www.tehreekdawatefaqr.com
www.sultan-bahoo.com
www.sultan-ul-arifeen.com
sultan-bahoo.net
sultan-ul-arifeen.net
sultanulfaqr.net     

faqr.net
sultan-ul-ashiqeen.net
tehreekdawatefaqr.net
sultan-ul-faqr-publications.net

مزید برآں اس شعبہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں، آپ مدظلہ الاقدس کی تعلیماتِ فقراور آپ مدظلہ الاقدس کی تحریر کردہ کتب (جوکہ فیض کا خزینہ ہیں) کو عقیدت مند طالبانِ مولیٰ تک پہنچانے کے لیے www.sultan-ul-ashiqeen.com ویب سائٹ بھی تیار کی ہے۔ اہلِ عقیدت و محبت حضرات اس ویب سائٹ سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔بلاشبہ آن لائن بیعت آپ مدظلہ الاقدس کے اس اعلیٰ روحانی فیض کے لامحدود ہونے کا ثبوت ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کا طالب دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو آپ مدظلہ الاقدس کے اعلیٰ روحانی تصرف کی بدولت فیض یاب ضرور ہوتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کی روحانی قوت زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔

سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور کی ضرورت کو مدّنظر رکھتے ہوئے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز کے شعبہ کی بنیاد رکھی جو کہ سلطان الفقرملٹی میڈیا اینڈ ڈیزائن ڈویلپمنٹ کا ذیلی شعبہ ہے۔ یہ شعبہ آڈیوز اور ویڈیوزکے ذریعے درج ذیل ویب سائٹس کے توسط سے فقر کی تعلیمات کو دنیا میں عام کر رہا ہے:

sultanulfaqr.tv 

sultan-bahoo.tv
sultan-ul-ashiqeen.tv
www.sultan-ul-faqr-digital-productions.com

ان ویب سائٹس پر حمد و نعت، میلادِ مصطفیؐ، کلام مشائخ سروری قادری، ابیاتِ باھوؒ کی آڈیو ویڈیو، سلطان الفقر ششم ؒ کی پُر نورویڈیوز، مشا ئخ سروری قادری کے عرس اور دیگر روحانی محافل کی ویڈیوز دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے پاکستان بھر میں تبلیغی دوروں کی ویڈیوز بھی دستیاب ہیں۔ فقر و تصوف کے مختلف موضوعات پر بیانات و تقاریر کی ویڈیوز بھی طالبانِ مولیٰ کے استفادہ کے لیے مندرجہ بالا ویڈیو چینلز، یوٹیوب، ڈیلی موشن کے ان چینلز پر
sultanulashiqeenofficialtv
Sultanulfaqrofficial
sultanbahooofficialtv
اور فیس بک پر موجود ہیں۔

دعوتِ فقر اور الیکڑانک میڈیا

مشائخ سروری قادری کا ایک خاص طرۂ امتیاز ہوتا ہے کہ وہ اپنے اپنے دور میں فقر کی امانت کو نہ صرف احسن طریقے سے سنبھالتے ہیں بلکہ اسے اور بھی نکھار کر بعد میں آنے والے وارث کے حوالے کر دیتے ہیں۔ سلطان الفقر ہستیوں میں جنہوں نے فقر کو جدید دور کے مطابق نکھارا ان میں امام حضرت خواجہ حسن بصریؓ، حضرت جنید بغدادیؓ، سلطان الفقر سوم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانیؓ، سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ ، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی ؒ اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے اسمائے گرامی سرِفہرست ہیں۔ فقر کا وہ خزینہ جو پہلے دورمیں سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا تھایا قلمی مسودات کی صورت میں موجود تھا اب وہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی مہربانی اور کوششوں سے کتب کی محدود دنیا سے نکل کر الیکٹرانک کتب (e-books)، الیکٹرانک میگزین (e-magazine)، آج کے دور کی مشہور ویب سائٹس مثلاً وکی پیڈیا وغیرہ پر مضامین کی صورت میں، سماجی رابطے کے ذرائع مثلاً فیس بک (Facebook)، انسٹا گرام (Instagram) اور گوگل پلس وغیرہ پر لاتعداد پیجز (pages) اور بلاگز (blogs)کی صورت میں دنیا بھر کے طالبانِ مولیٰ کو فیضِ فقر سے سیراب کر رہا ہے۔
مزید یہ کہ ابھی تک آپ مدظلہ الاقدس کی زیرِ نگرانی فیس بک پر سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ) کی شائع کردہ کتب، فقر کی تعلیمات، سروری قادری مشائخ کی حیات و تعلیمات اور القابات اور دیگر موضوعات پر کم و بیش سو پیجز (pages) کام کر رہے ہیں۔
مختصر یہ کہ آپ مدظلہ الاقد س اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل انسانِ کامل ہیں۔ پیغامِ الٰہی (فقر) کو اس دور میں جس طرح آپ مدظلہ الاقدس نے دنیا بھر میں پھیلایا ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔

جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

حقیقت تو یہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کی شان، مقام اور اقدامات برائے دعوتِ فقر کو الفاظ کے سہارے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ فقر کے فروغ کے لیے مندرجہ بالا ظاہری اقدامات ہیں جبکہ ایک طالبِ دنیا کو محض اپنی نگاہِ کامل کی تاثیر سے طالبِ مولیٰ بنا دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ سب میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے لا محدود روحانی و باطنی مقام و مرتبہ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس پُر فتن دور میں آپ مدظلہ الاقدس معرفت و قربِ الٰہی کے حصول کے لیے لوگوں کی اسمِ اللہ ذات اوراپنی روحانی و نورانی صحبت سے راہنمائی فرما رہے ہیں اور جو خوش بخت آپ مدظلہ الاقدس کی حقیقت کو جان لیتا ہے وہ حق کو بھی پا لیتا ہے۔

مٹا دیا میرے ساقی نے عالمِ من و تُو
پِلا کے مجھ کو مَے لاَ اِلَہَ اِلَّا ھُو

اللہ ہم سب کو ادراکِ قلبی سے آپ مدظلہ الاقدس کی پہچان نصیب فرمائے۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں