سلطان العاشقین کی کتب کا جائزہ–Sultan ul Ashiqeen ki Kutub ka Jaiza

سلطان العاشقین کی کتب کا جائزہ

تحریر: فائزہ گلزار سروری قادری۔ لاہور

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے وحی کے ذریعے جب گفتگو کا آغاز کیا تو پہلے الفاظ یہ تھے ’’پڑھ اپنے ربّ کے نام سے جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا۔‘‘ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اُمّی تھے اور پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے گفتگو کا آغاز ہی پڑھنے کی تلقین کے ساتھ کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وّآلہٖ وسلم کی اُمت کے کامل اولیا کی بھی یہی صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں علم کے امتیازی وصف سے نوازتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم و بیش تمام اولیا کرام نے یا تو مواعظ کے ذریعے یا کتب کے ذریعے علم کو عوام الناس تک پہنچایا۔علم دو طرح کا ہوتا ہے:
1۔ظاہری علم 2۔ باطنی علم
ظاہری علم علمائے ظاہر کو حاصل ہوتا ہے جس کے ذریعے علمِ شریعت کو نافذ کیا جاتا ہے۔ باطنی علم کے ذریعے نگاہ کی تاثیر سے روحانی پاکیزگی عطا کی جاتی ہے۔ بہت کم ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں دونوں علم یکجا ہوجائیں۔ شاعر نے بہت ہی خوبصورت انداز میں اس کی تصویر کشی کی ہے:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ دونوں علوم جس ہستی میں جمع ہوجائیں وہ ہستی اپنے وقت کی امام اور عبداللہ ہوتی ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور باطنی علوم کا لامحدود خزانہ عطا فرمایا ہے جس کا مشاہدہ آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہونے والا ہر مخلص طالب مرید کرتا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ایک علمی، ادبی اور روحانی شخصیت ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی تخلیقی قابلیتوں کا اظہار آپ مدظلہ الاقدس کے زمانۂ طالبِ علمی سے ہی ہوگیا تھا جب آپ نے بچوں کے رسائل اور اخبارات میں مضمون نویسی کا آغاز فرمایا۔
آپ مدظلہ الاقدس نے فقر و معرفت پر تئیس سے زائد کتب تحریر فرمائی ہیں۔ یہ کتب معرفت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہیں جن میں غوطہ زن ہو کر قاری علم و حکمت اور معرفت کے موتی پاتا ہے۔ قاری خواہ کسی بھی عمر یا معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو آپ مدظلہ الاقدس کی تحریر میں محو ہوتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے کہ یہ تحریر خصوصاً اسی کے لیے ہے۔ ان کتب میں قرآن و حدیث اور تمام روحانی سلاسل کے مستند اولیا کے حوالہ جات بکثرت موجود ہیں جن کی موجودگی ان کتب کو اور بھی خوبصورت بناتی ہے۔
صوفیا کرام ؒ کی تعلیمات کا یہ خاصہ ہے کہ وہ معاشرے کی برائیوں کو بے باک انداز میں بیان کرتے ہیں اور مثبت لائحہ عمل دے کر اسے پاکیزہ بناتے ہیں اور آپ مدظلہ الاقدس کی کتب میں یہ صوفی رنگ بہت نمایاں ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی کتب سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اور حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کی ظاہری تفسیراور باطنی تاثیر ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس جب کسی موضوع کو قلم سے صفحہ قرطاس پر اتارتے ہیں تو ہر سوچ اور فکر کے لوگوں کا نقطۂ نظربیان کر کے اس مدلّل انداز میں غلط نظریات کی تصحیح فرماتے ہیں کہ قاری کی سوچ و فکر کو ایک نیا رُخ عطا ہوتا ہے اور حق کے طالب کے لیے حق پر عمل کرنا اوربھی آسان ہوجاتا ہے۔ ولیِ کامل کی تحریر ہونے کی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کی تصانیف میں ایک نور موجود ہے جس سے قاری کی روح پر گہرے روحانی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ اخلاقی اور نفسانی برائیوں کے خلاف اپنے اندر ایک خاص قوت محسوس کرتا ہے۔ اس وقت آپ مدظلہ الاقدس کی درج ذیل کتب مطالعہ کے لیے موجود ہیں:

1۔ شمس الفقرا

’’شمس الفقرا‘‘ تصوف اورسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تمام کتب کا انسائیکلوپیڈیا اورتعلیمات کا نچوڑ ہے۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ عارف کامل ہیں، آپؒ کی تصانیف کو سمجھنے کے لیے عارف ہونا ضروری ہے۔ سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کا مطالعہ کرنے والے اس بات سے اتفاق کریں گے آپؒ کا اندازِ بیان ذرا مختلف ہے۔ ہر تحریر الگ، منفرد اور جداگانہ ہے۔ مختلف موضوعات پر مختلف کتب میں تحریریں موجود ہیں لہٰذا ایک موضوع کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تقریباً تمام تصانیف کا مطالعہ ضروری ہے جو قارئین کے لیے خاصا مشکل ہے۔ شمس الفقرا سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی عظیم کاوش اور متلاشیانِ حق کے لیے ایک تحفہ ہے جس میں آپ نے سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کو مختلف کتب سے عنوانات کے تحت جمع فرمایا ہے۔ اس تصنیف کی منفرد خوبی یہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس نے فقر و تصوف کے ہر موضوع پر قرآن و حدیث سے حوالہ جات اور سیّدنا غو ث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اور دیگر مستند اولیا کرام کے فرمودات بھی شامل فرمائے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلی بارعلامہ اقبالؒ کے کلام کو شامل فرما کر اس حقیقت کوعوام الناس پر واضح فرمایا ہے کہ علامہ اقبالؒ ایک عارف کامل ہیں۔ کتاب کا بارِ اوّل دسمبر 2012ء میں اور بارِ دوم جون 2016ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب کے منتخب حصوں کا انگریزی ترجمہ ”Sultan Bahoo- The Life and Teachings” کے نام سے مارچ 2014ء میں شائع ہوا۔ مکمل کتاب کا ترجمہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔

2۔ مجتبیٰ آخر زمانی

سلطان الفقر پنجم حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانتِ فقرکن کن واسطوں سے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ تک پہنچی،یہ کتاب اُن تمام ہستیوں کی حیات و تعلیمات پر پہلی جامع اور مستند تحقیق ہے۔یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اوّل سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی کامل سوانح حیات ہے۔ اس باب میں سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ طیبہ کے اُن گوشوں اور پہلوؤں سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے جو ابھی تک پردۂ اخفا میں تھے۔ باب دوم سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، باب سوم سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ ‘ باب چہارم شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ ، باب پنجم سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ اور باب ششم سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی کامل سوانح حیات پر مشتمل ہیں۔ ان مشائخ کرام کی سوانح حیات اور شجرہ نسب قارئین کے لیے پہلی مرتبہ اس کتاب میں پیش کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ان مشائخ کے عارفانہ کلام، فرمودات اور کرامات بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔ کتاب ہٰذا کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے سات سال تحقیق فرمائی۔ یہ مشائخ سلسلہ سروری قادری پر ایک ایسی کامل مکمل کتاب ہے جس کے پائے کی کوئی اور کتاب فی زمانہ موجود نہیں۔بارِ اوّل جنوری 2013ء میں شائع ہوا۔ بارِ دوم تکمیل کے مراحل میں ہے۔ کتاب کا مکمل انگریزی ترجمہ ”The Spiritual Guides of Sarwari Qadri Order” کے نام سے دسمبر 2015 میں شائع ہوا جس میں ایک اضافی باب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے متعلق شامل کیا گیا۔

3۔ حقیقتِ محمدیہ

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ طیبہ پر اب تک سینکڑوں کتب تحریر کی گئی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جسے سیرت نگاروں نے بیان نہ کیا ہولیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باطنی حقیقت جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’میں اللہ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوقات میرے نور سے ہیں‘ کے متعلق کوئی تصنیف فی زمانہ موجود نہیں تھی۔ ’’حقیقتِ محمدیہ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باطنی حقیقت پر آسان اور عام فہم زبان میں لکھی گئی پہلی مستند تصنیف ہے۔ جب تک حقیقتِ محمدیہ سے آگاہی حاصل نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان اور اللہ کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقام سے صحیح طور پر آشنا نہیں ہوا جا سکتا۔ بارِ اوّل جنوری 2013ء میں اور بارِ دوم نومبر 2016 ء میں شائع ہوا۔
”The Mohammadan Reality” کے نام سے اس تصنیف کا انگریزی ترجمہ بھی نومبر 2016 ء میں شائع کیا گیا۔ ترجمہ کے فرائض محترمہ یاسمین خورشید ملک سروری قادری نے انجام دئیے۔

4۔ حقیقتِ عید میلاد النبیؐ

اس کتاب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت کی خوشی منانے کی عظمت اور حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اور مستند حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے کہ عید میلاد النبی کوئی نئی روایت نہیں ہے بلکہ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کا شعار ہے۔البتہ دورِ حاضر میں کچھ ایسی بدعات اور رسومات کو اس مقدس دن کے ساتھ منسوب کر دیا گیا ہے جو کسی صورت دینِ اسلام کا طرزِ عمل نہیں۔ اس کتاب میں بہت وضاحت سے ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو اس بابرکت ماہ میں رحمت اوراللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہیں۔ کتاب کا بارِ اوّل جنوری 2013ء میں شائع ہوا۔

5۔ خلفائے راشدین


سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے پانچوں خلفائے راشدین کی حیاتِ مبارکہ، اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاں ان کے مرتبہ اور شان، اسلام کے لیے ان کی جدوجہد اور کاوشوں پر ایک مفصّل اور جامع کتاب تصنیف فرمائی ہے جو ان تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ انتہائی خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ خصوصاً خلیفہ پنجم حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ کے متعلق ایسی جامع تحریر اب سے پہلے نہیں لکھی گئی۔ طالبانِ حق کے لیے ایک نایاب کتاب ہے تا کہ وہ اس سے راہنمائی حاصل کر کے ان عظیم ہستیوں کے راستہ پر چل سکیں۔اس کتاب کا بارِ اوّل جنوری 2013ء میں شائع ہوا۔

6۔ فضائل اہلِ بیتؓ اور صحابہ کرامؓ (قرآن و حدیث کی روشنی میں)

اہلِ بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کے عشق سے معطر یہ تصنیف طالبانِ حق اور متلاشیانِ صراطِ مستقیم کے دلوں کو بغض اور فتنہ و فساد سے پاک کر کے ان پاکیزہ ہستیوں کی اصل معرفت عطا کرتی ہے۔ اس کتاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ان ہستیوں کے فضائل اس قدر تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں کہ ان کے اصل مقام کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہیں رہا۔ ان پاکیزہ اور بلند مراتب ہستیوں کی اصل معرفت کے بغیرمومن کا راہِ معرفت اور وصالِ حق تعالیٰ کا سفر ممکن نہیں ہے۔ کتاب کا بارِ اوّل جنوری 2013ء میں شائع ہوا۔

7۔ سیّد الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت

اس کتاب میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اور آپؓ کے اہلِ بیت اطہارؓ کی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میدانِ کربلا میں اہلِ بیتؓ پر ہونے والے مظالم، یزید کے سیاہ کارنامے اور موجودہ دور کے یزیدی نظریات پر بحث کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔بارِ اوّل نومبر 2013ء میں اور بارِ دوم اگست 2016ء میں شائع ہوا۔
”Imam Hussain and Yazid” کے نام سے کتاب کا انگریزی ترجمہ جنوری 2016 ء میں شائع کیا گیا۔ محترمہ یاسمین خورشید ملک سروری قادری نے اس کتاب کے ترجمہ کا فریضہ انجام دیا۔

8۔ حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ

یہ کتاب سیّدناغوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی حیاتِ مبارکہ پر لکھی گئی اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف آپؓ کے مرتبہ سلطان الفقر پر روشنی ڈالی گئی ہے بلکہ آپؓ کی کرامات اور دینِ اسلام کے لیے آپؓ کی کاوشوں اور تکمیلِ باطن کے لیے آپؓ کی طویل ریاضت و مجاہدے کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں آپؓ کی تعلیمات کو فقر کے مختلف موضوعات کے تحت بھی جمع کیا گیا ہے۔راہِ فقر کے راہی کے لیے یہ کتاب ایک انمول تحفہ ہے۔ بارِ اوّل جنوری 2013ء میں شائع ہوا اور بارِ دوم اشاعت کے مراحل میں ہے۔

9۔ سلطان باھوؒ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمتہ اللہ علیہ کی مکمل سوانح حیات، تعلیمات اور کرامات پر مبنی منفرد اُردوکتاب ہے جسے عرق ریز تحقیق کے بعد تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں حضرت سلطان باھُوؒ کے مرشد سیّد عبدالرحمن جیلانی دہلویؒ پر بھی ایک مفصّل تحقیق تحریر کی گئی ہے۔ حضرت سلطان باھُوؒ سے عقیدت و محبت رکھنے والے طالبانِ مولیٰ کے لیے یہ کتاب عظیم تحفہ ہے۔ اس کتاب کا بارِ اوّل مارچ 2016ء میں شائع ہوا جس کے ساتھ ہی اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ”Sultan Bahoo” کے نام سے شائع کیا گیا۔ ترجمہ کے فرائض محترمہ عنبرین مغیث سروری قادری صاحبہ نے انجام دئیے ہیں۔

10۔سوانحِ حیات سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانتِ فقر کے وارث اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد سلسلہ سروری قادری کے شیخ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ پر اوّلین تصنیف ہے۔ اس کتاب میں سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کی حصولِ فقر کے لیے طویل ریاضت اور حضرت سخی سلطان باھُوؒ سے امانتِ فقر کے حصول کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی اولاد مبارک سے منسوب غلط روایات کی بھی نشاندہی اور تصحیح کی گئی ہے۔ آپؒ کی کرامات بھی اس کتاب کی زینت ہیں۔ کتاب کا بارِ اوّل اگست 2012ء میں شائع ہوا۔اس کا انگریزی ترجمہ اکتوبر 2017ء میں The Life History of Sultan-ul-Tarikeen Hazrat Sakhi Sultan Syed Mohammad Abdullah Shah Madni Jilaniکے نام سے شائع کیا گیا۔ ترجمہ کے فرائض محترمہ فاطمہ نور سروری قادری صاحبہ نے انجام دئیے۔

11۔ سلطان الفقر (ششم) حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ حیات و تعلیمات

کتابِ ہذا سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی حیات و تعلیمات، کرامات، مقام و مرتبہ، سلسلہ فقر، عادات و اطوار، نشست و برخاست، محافل، نعمت فقر کی تعلیم و ترویج اور فیض اسم اللہ ذات کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تبلیغی و اشاعتی کاوشیں، معمولات و مشاغل، ازواج و اولاد، خلفا ئے اکبر و اصغر اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے کئے گئے فیصلوں و اقدامات میں چھپی حکمتوں جیسے موضوعات کا مکمل اور جامع احاطہ کرتی ہے۔
بارِ اوّل ستمبر 2016ء میں شائع ہوا جس کے ساتھ ہی کتاب کا انگریزی ترجمہ ”Sultan-ul-Faqr Vl Sultan Mohammad Asghar Ali- Life and Teachings” کے نام سے شائع کیا گیا۔ ترجمہ کے فرائض محترمہ یاسمین خورشید ملک سروری قادری صاحبہ نے انجام دئیے۔

12۔ کلام مشائخ سروری قادری

اس کتاب میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سے لے کر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ تک مشائخ سروری قادری کے عارفانہ کلام کو بہت تحقیق سے جمع کیا گیا ہے۔ کتاب کے اختتام پر تمام کلام میں موجود مشکل الفاظ کے معانی تحریر کیے گئے ہیں۔ اس طرح فقرا کاملین کے ان کلاموں کو سمجھنا اور عمل کرکے راہِ حق پر آگے بڑھنا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ کتاب کا بارِ اوّل دسمبر 2014ء میں شائع ہوا۔


13۔ ابیاتِ باھُوؒ کامل


ابیاتِ باھُوؒ کامل سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے پنجابی ابیات کی آسان شرح ہے۔ اس کتاب میں وہ تمام ابیات شامل ہیں جن پر تمام محققین کا اتفاق ہے۔ عصرِ حاضر میں ثنا خواں حضرات نے اپنی اپنی آسانی کے تحت بہت سے ابیات کو اپنے ہی رنگ میں ڈھال لیا تھا جس سے ابیات میں بہت حد تک بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔یہاں تک کہ بعض دنیا پرست شعرا نے اس مشہورِ زمانہ کلام کی شہرت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے اشعار کو ابیاتِ باھُوؒ کی طرز پر لکھ ڈالاجو سادہ لوح عوام کے لیے سراسر گمراہی کا سبب ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف تحقیق سے ابیاتِ باھُو ؒ کو درست کیا گیا ہے بلکہ جو ابیات غلط طور پر آپؒ سے منسوب کر دیئے گئے ان کا رد بھی کیا گیا۔ ابیات کے مشکل الفاظ کے معانی بھی دیئے گئے ہیں۔ اس کتاب میں آپ مدظلہ الاقدس نے حضرت سلطان باھُوؒ کی مختصر مگر جامع سوانح حیات کے ساتھ آپؒ کی نثری کتب سے مکمل تعلیمات کو بھی مختلف موضوعات اور عنوانات کے تحت بیان فرمایا ہے تاکہ ابیات کو تعلیماتِ باھوؒ کی روشنی میں سمجھنے میں آسانی ہو۔ ہر موضوع کے اختتام پر اس موضوع سے متعلقہ ابیاتِ باھُوؒ کے مصروں کو بھی ترتیب سے درج کیا گیا ہے۔بارِ اوّل دسمبر2015ء میں شائع ہوا۔ اور بارِ دوم اپریل 2018ء میں شائع ہوا۔

14۔ فقرِ اقبال

اقبالیات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے کلامِ اقبالؒ کے اصل معنوی و روحانی پہلوکو اجاگر کیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے نہایت عرق ریزی سے اقبالؒ کے اردو اور فارسی کلام کو مختلف موضوعات کے تحت اکٹھا کیا اور اس کے معنی و شرح کے ذریعے اقبالؒ کے کلام کی اصل روح کو قارئین تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ زیرِ نظر کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اقبالؒ ایک مسلمان کو مومن اور طالبِ مولیٰ کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے ’’فقر‘‘ کی راہ اپنا کر دیدارِ الٰہی کی منزل تک پہنچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔’’فقرِ اقبال‘‘ نہ صرف اقبالؒ کے شائقین کے لیے ایک نادر و نایاب تحفہ ہے جو انہیں کلامِ اقبالؒ کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ طالبانِ مولیٰ اور راہِ فقر کے سالکین کے لیے بھی ہر مقام و منزل پر رہنما ثابت ہوگی۔ بارِ اوّل مارچ 2014ء میں اور بارِ دوم نومبر 2016 ء میں شائع ہوا۔

15۔رسالہ روحی شریف

’’رسالہ روحی شریف‘‘ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی مشہورِ زمانہ فارسی تصنیف ہے اور سلسلہ سروری قادری میں وظیفہ کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اس کتاب کا اُردو ترجمہ کیا اور شرح طلب اصطلاحات کی وضاحت فرمائی ہے۔ چونکہ فارسی زبان اب پاکستان میں تقریباً ختم ہو چکی ہے، طالبانِ مولیٰ کی اہم روحانی ضرورت کے پیشِ نظراس اہم کتاب کاترجمہ و اشاعت گراں قدر کارنامہ ہے۔کتاب کا بارِ اوّل اگست 2012ء میں اور بارِ دوم مئی2018ء میں شائع ہوا۔راہِ فقر میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی اس کتاب کی اہمیت کے پیشِ نظر 2015ء میں کتاب کا انگریزی ترجمہ اور شرح بھی شائع کی گئی۔ ترجمہ و شرح کے فرائض محترمہ عنبرین مغیث سروری قادری صاحبہ نے انجام دئیے۔

16۔ مرشد کامل اکمل

یہ کتاب ابتدائی طور پر ایک رسالہ کی صورت میں ان طالبانِ حق کے لیے ترتیب دی گئی جو مرشد کامل اکمل کی تلاش میں ہیں۔ جون 2016ء میں یہ رسالہ اضافہ اور ترمیم کے ساتھ پہلی بار کتابی صورت میں آئی ایس بی این کے ساتھ بارِ اوّل کے طور پر شائع ہوا۔ اس سے پہلے اس کتاب کے پانچ ایڈیشن رسالہ کی صورت میں شائع ہو چکے تھے۔ اس کتاب میں آپ مدظلہ الاقدس نے مرشد کامل اکمل کی ضرورت و اہمیت کو قرآن و حدیث، امامینِ شریعت، محدثین اور اولیا کاملین کی تعلیمات کی روشنی میں جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں وسیلہ اور بیعت کی شرعی حیثیت، مرشد کامل اکمل کا اندازِ تربیت، تلاشِ مرشد، مرشد کامل اکمل سے حاصل ہونے والے مطالب اور مرشد ناقص کی حیلہ سازیوں، مکاریوں اور دھوکہ دہی کی مختلف صورتوں کو بھی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ”The Perfect Spiritual Guide” کے نام سے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ اکتوبر 2016ء میں شائع کیا گیا۔ ترجمہ کا فریضہ صاحبزادی منیزہ نجیب سروری قادری صاحبہ نے انجام دیا۔

17۔ حقیقت اسمِ اللہ ذات

ابتدائی طور پر اس کتاب کے بھی آٹھ ایڈیشن بطور رسالہ شائع ہوئے جن میں اسمِ اللہ ذات کی حقیقت کو آسان اور عام فہم انداز میں نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ۔ جون 2016ء میں یہ رسالہ اضافہ اور ترمیم کے ساتھ پہلی بار مجلد کتاب کی صورت میں آئی ایس بی این کے ساتھ بارِ اوّل کے طور پر شائع ہوا۔ اس کتاب میں اسمِ اللہ ذات کے فضائل، ثمرات، تجلیات اور اثرات کو قرآن و حدیث سے مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور فقر و تصوف کی تاریخ میں اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال تک پہنچنے والے صحابہ کرام اور اولیا کاملین کے مستند فرمودات کو درج فرما کر اسمِ اللہ ذات کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔اس کتاب کا خلوصِ نیت سے مطالعہ طالبِ حق پر علمِ باطن اور معرفتِ الٰہی کی راہوں کو کھول دیتا ہے اور قرب و وصالِ الٰہی کی منزل اس کے لیے آسان اور قابلِ فہم ہوجاتی ہے۔ نومبر 2016ء میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ”The Divine Reality of Ism-e-Allah Zaat” کے نام سے شائع کیا جا چکا ہے۔ ترجمہ کا فریضہ صاحبزادی منیزہ نجیب سروری قادری صاحبہ نے انجام دیا۔

18۔ حقیقتِ نماز

یہ کتاب نماز کی فرضیت کے مقصد اور اسکی حقیقت پر نہایت جامع تحریر ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’حضورِ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی‘‘۔ اس کتاب میں حضورِ قلب حاصل کرنے کے طریقے پر قرآن و حدیث اور فقرا و عارفین کے اقوال کے روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ کتاب کا بارِ اوّل نومبر2013 ء میں اور بارِ دوم اگست 2016 ء میں شائع ہوا۔اس کتاب کا انگریزی ترجمہThe Spiritual Reality of Prayer (Salat)” کے نام سے اگست 2016ء میں شائع ہوا۔ ترجمہ کا فریضہ ڈاکٹر سحر وڑائچ سروری قادری صاحبہ نے انجام دیا۔

19۔ حقیقتِ روزہ


اس کتاب میں روزہ کی فرضیت کے مقصد اور اس کی باطنی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ حقیقی و دائمی روزہ کیا ہے اور یہ کیسے رکھا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث اور فقرا کے اقوال و فرمودات کی روشنی میں لکھی گئی یہ کتاب بہت ہی جامع اور بہترین تحریر ہے۔ اس کتاب کا بارِاوّل مئی 2015 میں شائع ہوا۔ کتاب کا انگریزی ترجمہ ”The Spiritual Reality of Saum (Fast)” کے نام سے نومبر 2016 ء میں شائع ہوا۔ ترجمہ کا فریضہ ڈاکٹر محمد حامد جمیل سروری قادری نے انجام دیا۔

20۔ حقیقتِ حج

اس کتاب میں حج کی فرضیت کے مقصد کو شریعت اور طریقت دونوں پہلوؤں سے بیان کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ حج کی شرائط اور اس کے ظاہری ارکان کی ادائیگی کے پیچھے چھپے باطنی حقائق اس کتاب میں نہایت جامع انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کا بارِ اوّل مئی 2015 میں شائع ہوا۔ نومبر 2016 میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ”The Spiritual Reality of Hajj” کے نام سے شائع کیا گیا۔ ترجمہ کا فریضہ محترمہ صوفیہ سلطان سروری قادری نے انجام دیا۔

21۔ حقیقتِ زکوٰۃ

اس کتاب میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے فضائل اور صدقہ و زکوٰۃ کی حقیقت، صدقات کی اقسام اور مصارفِ زکوٰۃ جامع انداز میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب کا بارِ اوّل دسمبر 2015 میں شائع ہوا۔ اس کتاب کا انگلش ترجمہ ”The Spiritual Reality of Zakat” کے نام سے جنوری 2016ء میں شائع کیا گیا۔ ترجمہ کا فریضہ محترمہ نین تارا سروری قادری نے انجام دیا۔

22۔ نفس کے ناسور

نفس کیا ہے ؟ نفس کی بیماریاں کیا ہیں؟ نفس کی بیماریوں اور ان کے علاج کو اس کتاب میں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اوریہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان بیماریوں کا علاج مرشد کامل اکمل کی صحبت اور اسم j ذات ہے۔ اس کتاب میں محاسبہ نفس کی دعوت دی گئی ہے اور تزکیہ نفس کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ مئی 2015 میں بارِ اوّل شائع ہوا اور ”Purification of Innerself in Sufism” کے نام سے انگریزی ترجمہ نومبر 2016 ء میں شائع کیا گیا۔ ترجمہ کا فریضہ کیپٹن محمد عبداللہ اقبال سروری قادری نے انجام دیا۔

23۔ تزکیۂ نفس کا نبویؐ طریق

تزکیہ نفس کے بغیر اللہ تک رسائی ممکن نہیں اور نہ ہی نفسانی خواہشات اور شیطانی خطرات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ شیطان نفس کو ہی ہتھیار بنا کر طالبِ مولیٰ کو راہِ حق سے گمراہ کرتا ہے اس لیے سب سے پہلے تزکیہ نفس کی ضرورت ہے۔
اس کتاب میں تزکیہ نفس کی ضرورت و اہمیت اوراس کے حصول کے لیے فقراکا اختیار کردہ نبویؐ طریق بیان کیا گیا ہے۔ مئی 2015 میں اس کتاب کا بارِ اوّل شائع کیا گیا اور کتاب کا انگریزی ترجمہ ”The Prophetic Way of Purgation of Inner Self” کے نام سے مارچ 2017 میں شائع ہو چکا ہے۔ ترجمہ محترمہ ضحی فاطمہ سروری قادری نے انجام دیا۔
مندرجہ بالا کتب کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس کی زیرِ نگرانی سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی بہت سی شہرہ آفاق کتب کا اردو اور انگریزی ترجمہ سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ) کے تحت شائع ہو چکا ہے جن میں
سلطان الوھم
عین الفقر
امیر الکونین
گنج الاسرار
کلید التوحید (کلاں)
کشف الاسرار
محکم الفقرا
قربِ دیدار
شمس العارفین
جیسی نادر کتب شامل ہیں۔ بہت سی کتب کے انگریزی /اردو تراجم تکمیل کے مراحل میں ہیں جو جلد ہی قارئین کی باطنی تعلیم و ترقی کے لیے دستیاب ہوں گے۔اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعا ہے کہ مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی عمر ‘ صحت اور باطنی درجات میں بے پناہ برکت اور ترقی فرمائے تاکہ آپ مدظلہ الاقدس فقر کے اس مشن کو بہترین طریقے سے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکیں اور ہمیں بطور طالب اپنے مرشد پاک کی تمام تر کاوشوں میں اپنی جان اور مال سے بھرپور تعاون کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں