ذکر ِ الٰہی Zikr E Ilahi

ذکر ِ الٰہی (Zikr-E-Ilahi)

تحریر: محترمہ نورین سروری قادری ۔ سیالکوٹ

ذکر (zikr) عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی یاد کرنا، بات کرنا، کسی شے کو بار بار ذہن میں لانا، کسی چیز کو دہرانا اور دل و زبان سے یاد کرنا ہیں۔ اصطلاح میں ذکر (Dhikr)  سے مراد زبان یا دل سے مختلف انداز میں محبوبِ حقیقی یعنی اللہ پاک کو یاد کرنا اوراس کی تعریف و توصیف بیان کرنا ہے۔

امام راغب اصفہانی (م506 ھ) نے ذکرِ الٰہی کے درج ذیل معانی بیان کئے ہیں:
۱۔وحی ربانی
۲۔یاد دہانی
۳۔قصہ بیان کرنا
 ۴۔نصیحت
۵۔نام پکارنا
 ۶۔تذکرہ

شاہ محمد ذوقیؒ اپنی تصنیف سرِّ دلبراں میں ذکرِ الٰہی کے بارے میں فرماتے ہیں:
ذکر  (Dhikr)سے مراد اللہ کی یاد ہے۔ یادِ الٰہی میں جمیع غیر اللہ کو دل سے فراموش کر کے حضورِ قلب کے ساتھ قرب و معیتِ حق تعالیٰ کا انکشاف حاصل کرنے کی کوشش کو ذکر (Zikr) کہتے ہیں۔ چنانچہ ہر وہ چیز جس کے توسل سے یادِ حق ہو خواہ اسم ہو یا رسم، فعل ہو یا جسم، کلمہ ہو یا نماز یا تلاوتِ قرآن یا درود شریف یا ادعیہ یا کیفیات یا کوئی اور چیز جس سے مطلوب کی یاد ہو اور طالب و مطلوب میں رابطہ پیدا ہو یا بڑھے، اصطلاحِ تصوف میں ذکر (Zikr) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ (سرِ دلبراں)

ذکر ِ الٰہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے محبوبِ حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔

مادیت پرستی کے اس دور میں ہمارے احوالِ زندگی مجموعی طور پر بگاڑ کا شکار ہیں۔ ہماری ارواح بیمار اور قلوب زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ اللہ پاک سے ہمارا تعلق معدوم ہو چکا ہے۔ ہمارے باطن حرص و ہوس، بغض و عناد، کینہ و حسد، فخر ومباہات، عیش و عشرت اور سہل پسندی، خود غرضی و مفاد پرستی اور انا پرستی سے آلودہ ہو چکے ہیں۔ ہماری بیمار روحوں کو صحت یاب کرنے، قلب کو آئینے کی مانند شفاف بنانے، قلب و باطن کو منور کرنے اور محبوبِ حقیقی کی معرفت وپہچان اور مالکِ حقیقی سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو بحال کرنے کے لیے ذکر ِالٰہی کی بے حد ضرورت ہے۔

قرآنِ پاک میں ذکرِ الٰہی اور ذاکرین کا بیان

پس تم میرا ذکر (Dhikr) کرو، میں تمہارا ذکر (Dhikr) کروں گااور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو۔ (سورۃ البقرہ۔152)
جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر(Zikr)سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ کے ذکر (Zikr) سے ہی قلوب کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ (سورۃ الرعد۔28)
بے شک وہی بامراد ہوا جو (نفس کی آفتوں اور گناہ کی آلودگیوں سے) پاک ہو گیا اور وہ اپنے ربّ کے نام کا ذکر (Dhikr)کرتا رہا اور (کثرت و پابندی سے) نماز پڑھتا رہا۔ (سورۃ الاعلیٰ15،14)
(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر (Dhikr) کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انہیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے ربّ ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ (سورۃ الانفال۔2)
اپنے ربّ کا ذکر(Zikr)(اس قدر محویت سے) کرو کہ تم (خود کو بھی) بھول جاؤ۔ (سورۃ الکہف۔24)
اور کثرت سے اسمِ اللہ (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) کا ذکر (Zikr) کیا کرو تاکہ فلاح پا جاؤ۔ (سورۃ الجمعہ۔10)
کثرت سے اسمِ اللہ (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) کا ذکر (Zikr) کرنیوالے مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑی مغفرت اور اجرِعظیم تیار کر رکھا ہے۔ (سورۃ الاحزاب۔35)

ذکر ِالٰہی کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

حضرت ابو موسیٰؑ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر (Zikr) کیا جائے اور جس میں اللہ کا ذکر (Zikr) نہ کیا جائے زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (مسلم 779)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے اس گمان کے مطابق ہوتا ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے۔ اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر (Dhikr) کرتا ہے۔ اگر وہ دل میں میرا ذکر(Dhikr) (ذکرِ سرّی) کرے تو میں دل میں اس کا ذکر (Zikr) کرتا ہوں اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر (ذکر ِجہری) کرے تو میں ان کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر (Zikr) کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔ (مسلم 2675)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں اہلِ ذکر  (Dhikr)کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں جب وہ کہیں ذکر کرنے والوں کو پالیتے ہیں تو دوسرے فرشتوں کو پکارتے ہیں کہ ادھر اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ۔‘‘ (بخاری6408)

حضرت ابو ہریرہؓ اورابو سعیدؓ دونوں حضور نبی اکرمؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہؐ (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا جب بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے بیٹھتے ہیں انہیں فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں اور رحمت انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ اپنی جماعت میں کرتا ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ 3791)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل 11697)

 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam)  نے فرمایا ’’تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی دعا اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتا؛ کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر  (Dhikr) کرنے والا، مظلوم اور عادل حکمران۔ (بیہقی،شعب الایمان419 :1 ،رقم588 )

حضرت مکحولؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’بیشک اللہ کا ذکر شفا ہے اور لوگوں کا ذکر(Zikr) بیماری۔‘‘ (بیہقی، شعب الایمان،459 :1 رقم 717)

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’جس نے کثرت سے اللہ کا ذکر (Zikr) کیا وہ نفاق سے پاک ہو گیا۔‘‘ (طبرانی،المعجم الاوسط، 86 :7 ،رقم6931 )

حضرت ابودرداؓ فرماتے ہیں ’’ہر چیز کو چمکانے والی کوئی شے ہوتی ہے اور دلوں کو چمکانے والی شے اللہ کا ذکر (Zikr) ہے۔ (بیہقی، شعب الایمان 396:1،رقم522 )

حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:

 دل کر صیقل شیشے وانگوں باھو، دور تھیون کل پردے ھوُ

دل دو چیزوں سے زنگ آلود ہوتا ہے غفلت اور گناہ سے اور دو ہی چیزوں سے صاف، روشن اور چمکدار ہوتا ہے استغفار اور ذکرِ الٰہی سے۔ جس قدر وقت ذکرِ الٰہی سے غفلت و سستی میں گزرتا ہے اسی قدر دل پر زنگ کے تودے جم جاتے ہیں اور دل کا آئینہ زنگ آلود اور سیاہ ہو جاتا ہے۔ جس سے باطل حق کی صورت اور حق باطل کی صورت نظر آتا ہے کیونکہ دل کی سیاہی سے حقائق اصلی صورت میں نظر نہیں آتے۔ دل اس قدر سیاہ ہو جاتا ہے کہ اس میں نہ تو قبولِ حق کی صلاحیت رہتی ہے نہ انکارِ باطل کی قابلیت۔ اس وجہ سے نہ وہ حق کو قبول کرتا ہے اور نہ باطل کو برا مانتا ہے اور یہ دل پر سب سے بڑی آفت ہے۔ اس کی وجہ غفلت اور اتباعِ خواہشات ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا:
سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس ذکر ِاللہ کے بغیر نکلے وہ مردہ ہے۔

اس حدیث مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:

جودَم غافل سو دَم کافر، سانوں مرشد ایہہ فرمایا ھوُ

انسان کا ایک ایک سانس اللہ پاک کی یاد میں صرف ہونا چاہیے اس کاایک لمحہ بھی غفلت کی نذر نہ ہو ورنہ کفر لازم آئے گا۔ 

ایک تابعی حضرت سفیان بن عینیہؓ فرماتے ہیں:
جب لوگ اکٹھے ہو کر اللہ کا ذکر (Dhikr) کرتے ہیں تو شیطان اور دنیا ان سے الگ ہو جاتے ہیں۔ شیطان دنیا سے کہتا ہے تو نے دیکھا یہ کیا کرتے ہیں؟ تو دنیا کہتی ہے کر لینے دے، جب فارغ ہوں گے تو انہیں پکڑ کر تیری طرف لاؤں گی۔ (حسنِ اعمال)

ذکرِ الٰہی کی اہمیت

تمام جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادتِ الٰہی ہے اور عبادات کا مقصد یادِ الٰہی ہے۔ کوئی عبادت اور کوئی نیکی اللہ پاک کے ذکر سے خالی نہیں۔ نماز ایک فرض عبادت ہے جس کا مقصد اللہ پاک کے ذکر (Dhikr) کو ہمہ وقت جاری رکھنا ہے۔ مقررہ وقت تک نفسانی خواہشات سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے جس کا مقصد دل کو تمام آلائشوں سے پاک کر کے ذکر ِالٰہی کی طرف مائل کرنا ہے۔ اسی طرح حج کے لیے خانہ کعبہ اور دوسرے مقاماتِ مقدسہ پر حاضر ہونا یادِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ قرآنِ کریم پڑھنا افضل عبادت ہے کیونکہ یہ کلام پاک اللہ کے ذکر(Zikr) سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی تلاوت اللہ پاک کی یاد کو تازہ کرتی ہے۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’انسان کو جس چیز سے محبت ہوتی ہے وہ اس کا ذکر (Dhikr) بڑی کثرت سے کرتا ہے۔‘‘ (کنزالعمال)

بندہ تو اللہ پاک کا ذکر (Dhikr) کرتے ہوئے مختلف کلمات کے ذریعے اس کی عظمت و رفعت، حسن و جمال اور جبروت و جلال کو بیان کرتا ہے مگر اللہ اس بندے کاذکر  (Dhikr)  کیسے کرتا ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ بندے کا ذکر کرتا ہے تو اس ذکر (Zikr) کو زمین پر اتار دیتا ہے اور اسے لوگوں  کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ لوگ اس بندۂ خدا سے محبت کرنے لگتے ہیں حتیٰ کہ وہ مرجعِ خلائق بن جاتا ہے۔ فقرا کاملین و اولیا اللہ جو عمر بھر اللہ پاک کے ذکر و فکر میں مشغول رہے، ایک پل کے لیے اللہ پاک کی یاد سے غافل نہیں رہے اللہ پاک نے ان کا ذکر اہلِ زمین میں یوں پھیلا دیا کہ ان کے وصال کے سینکڑوں سال بعد بھی ان کا چرچا ہے جیسا کہ سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ، حضرت سخی سلطان باھوؒ، حضرت داتا گنج بخشؒ۔ ان کے وصال کے بعد آج بھی ان کا ذکر (Zikr) اللہ پاک نے مخلوق میں جاری فرما دیا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:

نام فقیر تنہاں دا باھوؒ، قبر جنہاں دی جیوے ھوُ

یعنی اللہ پاک کا ذکر کرنے والوں کے ذکر (Zikr)کو یوں دوام ملتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کا ذکر لوگوں کے دلوں میں سرایت کر جاتا ہے کہ ان کے مزارات پر ہر وقت لوگوں کا جھرمٹ رہتا ہے جو ان کے واسطے سے بارگاہِ ایزدی میں دستِ دعا دراز رکھتے ہیں۔

ذکر کی اقسام

ذکر (Zikr) کی دوبنیادی اقسام ہیں:
۱۔ذکرِ لسانی:بلند آواز یا زبان سے اللہ پاک کی حمد وثنا بیان کرنا ذکر (Zikr) لسانی یاذکر ِجہری کہلاتا ہے۔
نیکی کی تلقین کرنا،جائز، حلال اور پاکیزہ کاموں کا حکم دینا،زہد و ورع، تقویٰ و طہارت کی بات کرنا وغیرہ یہ سب امور ذکرِالٰہی میں شامل ہیں اور یہی ذکر (Zikr) ’’ذکر ِلسانی‘‘کہلاتا ہے۔

۲۔ ذکرِ قلبی (خفی): قلبی ذکر (Zikr) سے مراد وہ ذکر ہے جو پوشیدہ ہو یعنی دل سے اللہ پاک کو یاد کرنا۔
 دل ہی دل میں اللہ پاک کے نام کا تصور کرنا ذکر قلبی کہلاتا ہے۔ اس ذکر (Zikr) میں منہ اور زبان دونوں حرکت نہیں کرتے البتہ ہر سانس کے ساتھ اللہ کا ذکر(Zikr) ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی ذکر (Zikr) کے بارے میں قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے، بیٹھے اور کروٹوں کے بَل لیٹے ذکرِاللہ کرو۔ (سورۃ النسا۔103)

کروٹوں کے بل لیٹے ذکر (Zikr) کرنے سے مراد سوتے ہوئے ذکر ِاللہ کرنا ہے اور سوتے ہوئے ذکرِخفی ہی ممکن ہے کیونکہ ذکرِلسانی تو زبان سے کیا جاتا ہے۔ ذکرِقلبی (خفی) کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور اپنے ربّ کو اپنے دل (ذکر خفی) میں یاد کیا کرو۔ (سورۃ الاعراف۔205)
صحیح ابنِ حبان میں روایت ہے:
بہترین ذکر  (Zikr)(ذکرِ)خفی ہے۔ (صحیح ابنِ حبان 809)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’جب قیامت کا دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ان کے حساب کے لئے جمع فرمائے گا اور اعمال لکھنے والے فرشتے جو کچھ انہوں نے لکھا ہو گا پیش کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو کوئی چیز اس کے اعمال سے رہ تو نہیں گئی؟ فرشتے جواب دیں گے: اے ہمارے ربّ! ہم نے کوئی چیز جو ہمارے علم میں آئی، نہیں چھوڑی اور ہم نے اسے محفوظ کرلیا اور لکھ لیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس شخص کو فرمائے گا کہ میرے علم میں تیرا خفیہ عمل ہے جسے تو نہیں جانتا اور میں تجھے اس کی خبر دوں گا اور وہ عمل ذکرِ خفی ہے۔ (مجمع الزوائد 16796 )

ذکر (Zikr) قلبی (خفی) وہ طریقہ ہے جس سے ہر لمحہ اللہ پاک کو یاد کیا جا سکتا ہے کیونکہ اگر زبان سے اللہ پاک کو یاد کیا جائے تو ہر وقت ذکر کرنا ممکن ہی نہیں۔کیونکہ زبان اور بھی بہت سے کاموں مثلاً بولنے اور کھانے پینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ذبانی ذکر سے درجات اور ثواب تو حاصل ہوتا ہے لیکن قلب کے قفل کو کھولنے کے لیے ذکر پاس انفاس (سانسوں سے اسمِ ھوُ کا ذکر)ہے جسے سلطان الاذکار کہا جاتا ہے جو عارفین کا ذکر ہے۔ یہی وہ ذکر ہے جو انسان کو اللہ پاک کی پہچان کرواتا ہے کیونکہ اللہ پاک نے یہ کائنات اپنی پہچان کے لیے ہی تخلیق فرمائی ہے۔ پس انسان کا مقصد ِ حیات معرفتِ حق تعالیٰ ہے۔ذکرِخفی ہی معرفتِ حق تعالیٰ کا ذریعہ اور دیدارِ الٰہی کا وسیلہ ہے جو مرشد کامل اکمل عطا فرماتا ہے۔جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)  پنجابی بیت میں فرماتے ہیں: 

الف اللہ چنبے دی بوٹی، میرے من وچ مرشد لائی ھوُ

 میرے دل میں ذکرِ اللہ کو جاری کر دینے والی ذات میرے مرشد کی ہی ہے جس سے مجھے قربِ الٰہی کی مہک حاصل ہوئی۔

علامہ اسماعیل حقیؒ فرماتے ہیں: 
ذکر  (Zikr) کی شرائط میں یہ بھی ہے کہ ذکر کرنے والا اہلِ ذکر (اللہ والے) سے ذکر کی اجازت حاصل کرے۔ (ذکرِقلبی)
کیونکہ اللہ والوں کے ساتھ رہنا ان جیسا بنا دیتا ہے اور ان جیسا بننا اللہ سے ملا دیتا ہے۔

اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا
یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل ہیں جو بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکار ھوُ اور تصور اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) عطا فرما کر انسان کو ظاہری وباطنی آلائشوں سے پاک فرما دیتے ہیں اور ذکر ِالٰہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان تعلق استوار کر دیتے ہیں جس سے معرفت و قربِ حق تعالیٰ نصیب ہوتی ہے اور انسان اپنے مقصد ِحیات کو پالیتا ہے۔

استفادہ کتب:
۱۔ابیاتِ باھوُ کامل؛ تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman)
۲۔سرِ دلبراں؛ از شاہ سیدّ محمد ذوقیؒ
۳۔حسن اعمال؛ تصنیف ڈاکٹر طاہر القادری
۴۔ذکرِ الٰہی اور ذاکرین کے فضائل؛ ایضاً
۵۔فضیلت و آداب ذکر الٰہی؛ ایضاً
۶۔ذکر قلبی؛ تصنیف محمد صدیق طاہری

 
  

31 تبصرے “ذکر ِ الٰہی Zikr E Ilahi

  1. ماشااللہ بہت ہی خوبصورت آرٹیکل ہے اللہ پاک ہمیں ہمیشہ اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ۔

  2. ذکر ِ الٰہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے محبوبِ حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔

  3. اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا
    یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

  4. الف اللہ چنبے دی بوٹی، میرے من وچ مرشد لائی ھوُ
    میرے دل میں ذکرِ اللہ کو جاری کر دینے والی ذات میرے مرشد کی ہی ہے جس سے مجھے قربِ الٰہی کی مہک حاصل ہوئی۔

  5. ارشاد باری تعالٰی ہے
    بے شک تمہارے دلوں کو ذکر اللہ کے بغیر تو سکون حاصل نہیں ہو سکتا

  6. پس تم میرا ذکر (Dhikr) کرو، میں تمہارا ذکر (Dhikr) کروں گااور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو۔ (سورۃ البقرہ۔152)

  7. ذکر ِ الٰہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے محبوبِ حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔

  8. ذکر ِ الٰہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے محبوبِ حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔

  9. حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگیں۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل 11697)

  10. اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا
    یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں