مرشد سے حسن ِظن | Murshid sy Husn-e-Zan

مرشد سے حسنِ ظن (Murshid sy Husn-e-Zan)

تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

مرشد (Murshid) سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) راہِ ہدایت اور نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ لاتعداد گمراہوں کے پیچ و خم میں چھپا ایک رستۂ نجات ہے، اسی کو ڈھونڈنے کی تگ و دو طالبِ صادق کو باطن کے دروازے پر لے جاتی ہے۔ اس دروازے کے اردگرد ہزاروں خوبصورت دروازے ہیں جو سب گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، صرف ایک دروازہ حسنِ ظن (Husn-e-Zan) کا ہے جس کی پہچان صرف عاشق کو ہوتی ہے کیونکہ اس دروازے سے معشوق کی خوشبو آتی ہے جسے صرف عاشق ہی سونگھ سکتا ہے۔ اس دروازے سے گزرنے میں جو مشکل ہے اسے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) پنجابی بیت میں یوں فرماتے ہیں:

عالم فاضل لنگھن نہ دیندے، جو لنگھدا سو چوری ھوُ
پٹ پٹ اٹاں وٹے مارن، درد منداں دے کھوری ھوُ

حسنِ ظن (Husn-e-Zan) عشق کے راستے کی روشنی ہے۔ روشنی سے محرومی منزل سے محرومی کا پیش خیمہ ہے۔
حق ہے کہ راہِ فقر کی مسافت توفیقِ مرشد کی مرہونِ منت ہے جبکہ توفیقِ مرشد کی بنیاد مرشد (Murshid) سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) پرہے کہ جس قدر حسنِ ظن (Husn-e-Zan) کی بہتات ہو گی توفیقِ مرشد اسی قدر زیادہ ہو گی۔

مرشد  (Murshid)سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) ایک عظیم معمہ ہے جو صرف عاشق کی پہنچ میں ہے، جوحل کر پائے وہی انعام یافتہ ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا۔ (سورۃ الفاتحہ)

حسنِ ظن (Husn-e-Zan) معمۂ عظیم کیسے ہے؟

اس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کو پڑھنا پڑے گا جو کہ قرآن میں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 پس دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے (تو خضر علیہ السلام نے) اس (کشتی) میں شگاف کر دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے اسے اس لئے (شگاف کر کے) پھاڑ ڈالا ہے کہ آپ کشتی والوں کو غرق کردیں، بیشک آپ نے بڑی عجیب بات کی۔ (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: آپ میری بھول پر میری گرفت نہ کریں اور میرے (اس) معاملہ میں مجھے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیں۔ پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہے۔ (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حد ِ عذر کو پہنچ گئے ہیں۔ پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب دونوں ایک بستی والوں کے پاس آپہنچے، دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان دونوں کی میزبانی کرنے سے انکار کر دیا، پھر دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی تو (خضر علیہ السلام نے) اسے سیدھا کر دیا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس (تعمیر) پر مزدوری لے لیتے۔ (خضرعلیہ السلام نے) کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا وقت) ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ وہ جو کشتی تھی وہ چند غریب لوگوں کی تھی جو  دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے، پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ (کھڑا) تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی (مالکوں سے بلامعاوضہ) چھین رہا تھا۔ اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور) ان دونوں کو (بڑا ہو کر) سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔ پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا ربّ انہیں (ایسا) بدل عطا فرمائے جو پاکیزگی میں (بھی) اس (لڑکے) سے بہتر ہو اور شفقت و رحم دلی میں (بھی والدین سے) قریب تر ہو۔ اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا، سو آپ کے ربّ نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے ربّ کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں، اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔ (سورۃ الکہف 71-82)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) اس واقعہ کی بابت فرماتے ہیں:
 ایک عمل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک گناہ تھا جبکہ وہی عمل حضرت خضر علیہ السلام کے مطابق عین ثواب تھا۔ (عین العارفین)
پس ثابت ہوا کہ حسنِ ظن (Husn-e-Zan) معمہ ہے کہ ایک ہی چیز ایک کے لیے ٹھیک ہے جبکہ دوسرا اسی چیز اور وہم و گمان کو غلط خیال کرتا ہے۔
پوری عمر مرشد  (Murshid)کے در پر گزارنے کے باوجود لوگ اکتسابِ فیض سے محروم رہتے ہیں۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو مرشد کامل کے ہر عمل اور اس کی ہر بات کو عقل کے ترازو میں تولتے ہیں جبکہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کا فرمانِ عالیشان ہے:
’’اس راستے میں عقل لنگڑی ہے۔‘‘

مریدکے قلب کی مثال مریض کی ہے۔ سخت بیمار مریض کو اگر دوا نہ دی جائے، ساتھ ہی ساتھ اس کا کھانا پینا بھی ساقط کر دیا جائے تو وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ بالکل اسی طرح اگر ایک مرید کے دل میں مرشد کے متعلق حسنِ ظن (Husn-e-Zan) نہ رہے تواس کی قلب کی موت واقع ہو جاتی ہے، وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردوں میں شامل ہے۔ گمراہی ہی ہے کہ گمراہ انسان کو گمراہی کا پتہ نہیں چلتا کہ اللہ نورِ بصیرت سے ہی محروم کر دیتا ہے۔ جہاں نور نہ ہو وہاں ظلمت ہوتی ہے۔ حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں :
 مشاغلِ دنیوی کی وجہ سے انسان کو دل کی موت کا احساس نہیں ہوتا۔ البتہ جب مرجائے گا تب احساس اور غم ہو گا۔ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کے فرمان کا یہی مطلب ہے ’’لوگ سو رہے ہیں جب مر جائیں گے تو بیدار ہوں گے۔‘‘ (مرشد الامین)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:

موسیٰؑ ہم چون موئی بیند گناہ
خضرؑ باطنی احوال بودند حق نگاہ

ترجمہ: موسیٰ کی نظر بال کی مثل گناہ پر تھی جبکہ خضر ؑکی نگاہ باطنی احوال اور حق پر تھی۔ (امیر الکونین)

حسنِ ظن نہ رکھنے کی سزا

جو مرید اور طالب مرشد (Murshid) سے حسنِ ظن نہیں رکھ پاتے ان کا سارا سفر تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ بیان فرماتے ہیں:
حضرت جنید بغدادیؒ کے ایک مرید نے یہ سمجھا کہ اسے مقامِ معرفت حاصل ہو گیا ہے۔ یہی سوچ مرشد (Murshid) سے بد اعتقادی کی وجہ بن گئی۔ وہ سمجھنے لگا کہ اب وہ اس مقام پر ہے کہ اسے مرشد کی ضرورت نہیں رہی۔ بنا بریں وہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ سے منہ موڑ کر چلا گیا۔ اسی بداعتقادی میں اسے یہ سوچ آئی کہ اپنے مرشد (Murshid) کو آزماؤں کہ وہ میرے گمان اور خیالات سے آگاہ ہیں یا نہیں۔ چنانچہ اس نے حضرت جنید بغدادیؒ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ایک سوال پوچھا۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’کیسا جواب چاہتا ہے، لفظوں میں یا معنوں میں۔‘‘ بولا دونوں طرح۔ آپؒ نے فرمایا:
’’لفظوں کا جواب یہ ہے کہ اگر مجھے آزمانے سے پہلے خود کو آزما لیتا تو تجھے مجھے آزمانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کر دیا۔ ‘‘اسی وقت مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا اور وہ آپ کے قدموں میں گِر گیا۔ (کشف المحجوب)
اس واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ اگر مرشد سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) نہ رکھا جائے تو جلد یا بدیر باطن کا سفر معدوم ہو جاتا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) فرماتے ہیں:
اگر طالب مرشد کامل کی بات یا عمل پر اعتراض کرتا رہے تو آخرکار مرشد کامل اس کو اپنے سے دور کر دیتا ہے۔

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:
فقرا کے متعلق اچھا ظن نہ رکھنا ایمان کو ضائع کر دیتا ہے۔
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید نے آپؒ سے سوال پوچھا۔ پھر آپؒ کے جواب پر اعتراض کیا تو حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا ’’اگر مجھ پر یقین نہیں ہے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ۔‘‘

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:
بے ادب طالب سے کتا بہتر ہے۔ (فضل اللقا)
بے اد ب طالب سے ایک دن کا آشنا کتا بہتر ہے۔ (عقلِ بیدار)

قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اعتراض کی وجہ سے ان کا حضرت خضر علیہ السلام سے علم حاصل نہ کر پانا ایک جہت ہے جبکہ دوسری جہت یہ ہے کہ اعتراضات نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام سے جدا کر دیا۔ پس ثابت ہوا اعتراضات (جو کہ حسنِ ظن (Husn-e-Zan) نہ رکھنے کا نتیجہ میں) جدائی اور دوری کا سبب ہیں۔ اگر مرید مرشد (Murshid) پر اعتراض و تنقید کرے تو جدائی لازم قرار پاتی ہے۔

اسی ضمن میں مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
حضرت خضر علیہ السلام کے کام پر صبر کر تاکہ خضر علیہ السلام یہ نہ فرما دیں کہ جا اب جدائی ہے۔
یہ بات حق ہے کہ جو طالب مرشد (Murshid) سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) نہیں رکھتے مرشد مختلف طریقوں سے اشارہ و کنایہ سے انہیں سمجھاتا ہے۔ اگر سمجھ جائیں تو ان کو عطا کرتا ہے اور اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو ان کا نور چھین لیتا ہے اور وہ ظلمت کے کنویں میں گر جاتے ہیں۔

حسنِ ظن (Husn-e-Zan) کی جزا

مجمع الفیوضات میں درج ہے کہ ایک دہمن نامی ملاح تھا۔ وہ کسی کام کی غرض سے شہر گیا، وہاں پر کسی مسجد میں دورانِ وعظ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے بارے میں تقریر سنی۔ اس نے بہت غور سے وہ باتیں سنیں۔ چنانچہ ایک دن وہ ملاح مچھلی کے شکار کیلئے جارہا تھا، راستے میں ایک اونٹ دیکھا جو درختوں کے پتے کھا رہا تھا، ملاح نے پہلے کبھی اونٹ نہیں دیکھا تھا، اسے دیکھ کر فورا گھر واپس آیا اور بیوی کو کہا کہ میں نے آج اپنے خدا کو دیکھا ہے کہ بھوک کی وجہ سے درختوں کے پتے کھارہا ہے اس لیے تم روٹی کے ساتھ مچھلی کا شوربہ تیار کرو تاکہ اپنے خدا کو کھلائیں۔ چنانچہ جلدی جلدی کھانا تیار کرکے روانہ ہوا۔ جب اونٹ کے قریب جا کر اسے کھلانے کا ارادہ کیا تو اونٹ نے دوڑ لگا دی۔ بیچارہ ملاح اس کے پیچھے دوڑتا ہوا منتیں کررہا تھا مگر جیسے ہی قریب جاتا اونٹ ویسے ہی تیز دوڑنے لگتا۔ ملاح بیچارہ مایوسی کے ساتھ دل میں کہنے لگا کہ پتہ نہیں کیوں ربّ تعالیٰ میرا کھانا قبول نہیں فرما رہا۔ اسی کیفیت میں اس کا پاؤں پھسلا اور نیچے گرنے پر حجاب ختم ہوگیا اور ذاتِ الٰہی کے ساتھ واصل ہوگیا۔ 

ایک جاہ و حشمت والا بادشاہ تھا، اس کے دل میں طلب تھی کہ اگر کوئی اہلِ اللہ مل جائے تو اس سے راہِ الٰہی پوچھ کر اسی کی طرف مائل ہوجاؤں۔ اس کے ساتھ ساتھ اُسے یہ بھی یقین تھا کہ اہلِ اللہ شہر اور گاؤں کی بجائے جنگلات اور بیابان جگہوں میں رہتے ہیں۔ ایک دن وہ بادشاہ گھوڑے پر سوار اہلِ اللہ کی تلاش میں نکلا یہاں تک کہ ایک خوفناک جنگل میں پہنچ گیا۔ وہاں پر اس نے دیکھا کہ ایک شخص تنہا مراقبے میں بیٹھا ہے۔ بادشاہ نے سوچا کہ یہ ضرور کوئی اہلِ اللہ ہے جبکہ حقیقت میں وہ ایک مشہور چور تھا جو چوری شدہ سامان کے ساتھ جنگل سے گزر رہا تھا۔ اس نے سمجھا کہ شاید یہ گھڑسوار سامان کا مالک ہے اور میرا پیچھا کررہا ہے اس لیے چوری شدہ سامان ایک طرف رکھ کر مراقبے میں بیٹھ گیا۔ مگر بادشاہ نے جب گھوڑا آہستہ کیا اور اس کے قریب آنے لگا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مالک نہیں ہے، اگر سامان کا وارث ہوتا تو اچانک حملہ کرتا چنانچہ بادشاہ قریب آکر اترا اور گھوڑے کو باندھنے کے بعد ادب کے ساتھ دوزانو ہو کر چور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت! مجھے راہِ الٰہی کی تلقین فرمائیں۔ چور نے کہا کہ پہلے اپنے ہتھیار اور زِرہ وغیرہ اتارو۔ بادشاہ نے حکم کے مطابق اتار دیئے۔ چور نے بادشاہ کے گرد لکیر کھینچی اور کہا کہ اس سے باہر نہ نکلنا، میں تین دن کے بعد آکر تمہیں راہِ الٰہی کا درس دوں گا۔ بادشاہ حکم پر محکم یقین کیسا تھ دائرے میں بیٹھ گیا۔ چورنے بادشاہ کے کپڑے پہنے، ہتھیار اٹھائے اور گھوڑے پر سوار ہوکر چلا گیا۔ بادشاہ صادق ارادے کے ساتھ بیٹھا رہا۔ جب تین دن گزر گئے تو بادشاہ کی سچی طلب کی خاطر اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ فلاں جنگل میں ہمارا ایک طالب بیٹھا ہے جس کے ساتھ چور نے چالبازی کی ہے کہ اسے دائرے میں بٹھا دیا ہے، تم جاکر اسے تلقین کرو۔ حکم کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام بادشاہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ بادشاہ نے ان کو غور سے دیکھا اور کہا کہ تم میرے رہبر نہیں ہو۔ میرا رہبر خود آکر مجھے تلقین کرے گا، مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ شخص ایک چور تھا جس نے دھوکہ دہی کے ساتھ تم سے ہتھیار اور کپڑے لے لیے ہیں۔ میں خضر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری سچی طلب دیکھ کر مجھے تمہاری تربیت کیلئے بھیجا ہے۔ مگر بادشاہ ہرگز نہ مانا اور کہا کہ بیشک میرا رہبر چور ہے مگر اتنا مقام ومرتبہ تو رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے طفیل تمہیں میرے پاس بھیجا ہے، چاہے اچھا ہے یا برا، مگر میرے لیے وہی رہبر ہے، مجھے تم سے کوئی غرض نہیں۔ چنانچہ حضرت خضر ؑنے بارگاہِ الٰہی کی طرف رجوع کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت! بادشاہ تو اپنے چور مرشد (Murshid) کے سوا کسی کی بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس پر بارگاہِ الٰہی سے حکم ملا کہ اے خضر! جاؤ، فلاں جگہ جہاں وہ چور کمر کے ساتھ رسہ باندھ کر محل میں چوری کرنے کی تیاری کررہا ہے، اسے ایک نظر کے ساتھ مردِ کامل اور صاحب ِارشاد بنا دو۔ وہ خود آکر بادشاہ کوتلقین کرے گا۔ حکم کی تعمیل میں حضرت خضر علیہ السلام وہاں پہنچے اور اسے کامل و اکمل بزرگ بنا دیا۔ اس نے وہاں سے آکر بادشاہ کی راہِ الٰہی پر چلنے کے لیے تربیت کی جس سے بادشاہ کو وصلِ الٰہی نصیب ہوگیا۔ 

ملاح نے اونٹ اور بادشاہ نے چور کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو پالیا اور اپنے حسنِ ظن کی وجہ سے مقصود کو پہنچ گئے، اسی طرح اگر طالب اپنے مرشد  (Murshid)سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) رکھے تو منزل دور نہیں۔

حسنِ ظن رکھنے کا طریقہ

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Hazrat Abu Mohammad Muhiyuddin syedna Sheikh Abdul Qadir Jilani  r.a) فرماتے ہیں:
مرید پر واجب ہے کہ ظاہر میں مرشد کی مخالفت نہ کرے اور باطن میں اس پر اعتراض نہ کرے۔
چونکہ عقل ہی عام طور پر تنقید و اعتراض کا باعث ہے اس لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں
(بالِ جبریل)

لابریز الباب الخامس فی ذکر التشایخ والارادہ الجزء الثانی میں درج ہے:
ایک مرتبہ ایک شخص ایک مرشد (Murshid) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: عالیجاہ! مجھے اپنی محبت میں قبول فرما لیں۔ مرشد (Murshid) نے اسے قبول فرماتے ہوئے اسے ایک کدال دی جس کے سرے پر ایک بیکار اور فالتو لوہا لگا ہوا تھا۔ دراصل اس مرشد نے مرید کی آزمائش کی کہ اگر یہ سچا ہوا تو یہ نہیں کہے گا کہ لوہا زائد ہے، اس کا کیا فائدہ؟ خواہ مخواہ وزن گلے میں کیوں ڈال دیا؟ لہٰذا سات سال تک وہ مرید اپنے مرشد (Murshid) کی خدمت کرتا رہا مگر کبھی بھی اس کے دل میں یہ خیال نہ آیا کہ یہ میرے مرشد (Murshid) نے کدال کے ساتھ فالتو لوہا لگا یا ہوا ہے۔
مرشد (Murshid) جو بھی دے وہ اس کی عنایت ہے اس میں دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔
حضرت سیدّنا عبدالعزیز بن دباغؒ کا قول ہے:
مرشد (Murshid) اپنے مرید سے صرف یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کا مرید ہر حالت میں اپنے شیخ کو صاحبِ کمال، صاحبِ توفیق، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ قرب سمجھے اور ساری زندگی اس عقیدے پر قائم رہے۔

حضرت سیدّنا احمد مبارک مالکی فرماتے ہیں:
اسرارِ الٰہی کو وہی برداشت کر سکتا ہے جو اپنے پیر کے علاوہ کسی پر یقین نہ کرے۔ 

دعا منگیا کرو سنگیو
کدی مرشد نہ رس جاوے
جنہاں دے پیر رُس جاندے
او جیوندے جی مرے رہندے

اے دوستو! دعا کیا کرو کہ آپ کا مرشد (Murshid) کبھی بھی آپ سے ناراض نہ ہو۔ کیونکہ جن کے مرشد (Murshid) ناراض ہو جاتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے کہ وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی زندہ نہیں ہوتے۔

حضرت سیدّنا امام شعرانیؒ فرماتے ہیں:
جب کسی کا مرشد ناراض ہو جائے اور اسے خطا بھی معلوم نہ ہو تب بھی لازم ہے کہ فوراً مرشد (Murshid) کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔

حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد (Murshid) پر اعتراض کرنے سے ڈرنا چاہیے کہ یہ مریدوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ مرشد (Murshid) کے تصرفات میں جو اسے صحیح معلوم نہ ہوتے ہوں تو اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کو یاد کرے کیونکہ حضرت خضر علیہ السلام سے وہ امور سرزد ہوئے تھے جن پر موسیٰ علیہ السلام کو سخت اعتراض تھا۔ جب حضرت خضر علیہ السلام نے انہیں وجہ بتائی تو ثابت ہو گیا کہ یہی درست ہیں۔ ایسے میں مرید کو حسنِ ظن (Husn-e-Zan) ہونا چاہیے کہ مرشد کا ہر عمل درست ہے۔ (عوارف المعارف)

جب کبھی ایسی حالت ہونے لگے کہ حسنِ ظن (Husn-e-Zan) میں کمی محسوس ہو تو فوراً خیال دوڑاؤ کہ کس کی رضا کے طالب ہو ۔ تمہیں اپنے مرشد کی وجہ سے جو مقام و مرتبہ ملا ہے وہ خود کتنا اعلیٰ و لازوال ہے، جو راز و نیاز اللہ نے تم پر مرشد (Murshid) کے وسیلے سے کھولے ہیں وہ کبھی عبادات سے حاصل نہ ہوئے تھے، مرشد کے پاس آنے سے پہلے حالت کیسی تھی اور اب کیسی ہے، مرشد کے انعامات و کرامات کو یاد کر، مرشد نے پیار دیا ہے اسے یاد کر، جن مشکلات سے مرشد نے نکالا ہے اسے سوچ، سوچو تو سہی مرشد (Murshid) کے بغیر زندگی کتنی بے فائدہ اور لایعنی تھی۔ یاد رکھو کہ مرشد (Murshid) کا جلال بھی جمال ہی کی کڑی ہے۔ عقل تو ہزاروں لاکھوں کو گمراہ کر چکی اس لیے دل کی سننی چاہیے۔ مرشد (Murshid) نے جو رحم و کرم کی برساتیں کی ہیں انہیں چشمِ تصور میں لاؤ مگر کسی صورت بھی مرشد سے حسن ِ ظن ختم کرنا تو دور کی بات ہے کم بھی نہیں ہونا چاہیے بلکہ راہِ فقر میں مرشد سے حسنِ ظن ایسا خزانہ ہے جتنا بھی ہو کم ہے۔

تفسیر روح البیان میں رقم ہے:
مرید کو جب شیخِ کامل کا دامن نصیب ہو تولازم ہے کہ ان کی صحبت میں رہنے کی اجازت نہایت ادب اور عجز و تواضع سے طلب کرے جب کہ دل میں شیخ کی تعظیم و تکریم ہو۔ اس وقت اپنے جلیل القدر مراتب و کمالات کو داخل نہ ہونے دے اور تصور تک دل سے ہٹا دے کہ میرے نوکر چاکر ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کا حال تھا کہ باوجود جلالت و شان اور کلیمِ خدا ہونے کے بعد حضرت خضر علیہ السلام کے سامنے طفلِ مکتب بن کر رہے تھے۔ مرید پر لازم ہے کہ وہ شیخ کے ہر امر و نواہی کے سامنے سر جھکا دے جیسے موسیٰ علیہ السلام کا حال تھا کہ جب حضرت خضر علیہ السلام کے حلقہ بگوش ہوئے تو انہیں اپنی نبوت یاد رہی نہ رسالت کا خیال رہا کہ میرے پاس جبرائیل جیسا مقدس فرشتہ آتا ہے، میں کلیم اللہ ہوں، میرے پر کتابِ الٰہی توریت نازل ہوئی ہے اور بنی اسرائیل میرے تابعدارہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ تمام کمالات بھول کر حضرت خضر علیہ السلام کی نیاز مندی اور خدمت گزاری میں کمربستہ ہو گئے۔ بلکہ اپنے تمام ارادوں کو حضرت خضر علیہ السلام کے ارادہ میں گم کر دیا۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہمارے مرشد بانی و سرپرستِ اعلیٰ تحریک دعوتِ فقر، امام سلسلہ سروری قادری، شبیہِ غوث الاعظم، سلطان الذاکرین، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) سے نہ صرف حسنِ ظن رکھنے بلکہ حسنِ ظن قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ آپ مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) رکھنا باعثِ رشد و ہدایت اور راہِ فقر کی زادِ راہ ہے۔

استفادہ کتب:
۱۔ تفسیر روح البیان؛ از شیخ اسماعیل حقی
۲۔عین العارفین ؛ تصنیف لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۳۔امیر الکونین؛ ایضاً
۴۔فضل اللقا؛ ایضاً
۵۔عقلِ بیدار؛ ایضاً
۶۔مرشد الامین؛ تصنیفِ لطیف ابوحامد امام غزالیؒ
۷۔کشف المحجوب؛ تصنیفِ لطیف حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ
۸۔عوارف المعارف؛ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ
۹۔لابریز الباب الخامس فی ذکر التشایخ والارادہ الجزء الثانی
۱۰۔کلیاتِ اقبالؒ

(Murshid sy Husn-e-Zan)

33 تبصرے “مرشد سے حسن ِظن | Murshid sy Husn-e-Zan

  1. تفسیر روح البیان میں ہے۔

    مرید کو جب شیخِ کامل کا دامن نصیب ہو تولازم ہے کہ ان کی صحبت میں رہنے کی اجازت نہایت ادب اور عجز و تواضع سے طلب کرے جب کہ دل میں شیخ کی تعظیم و تکریم ہو۔ اس وقت اپنے جلیل القدر مراتب و کمالات کو داخل نہ ہونے دے اور تصور تک دل سے ہٹا دے کہ میرے نوکر چاکر ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کا حال تھا کہ باوجود جلالت و شان اور کلیمِ خدا ہونے کے بعد حضرت خضر علیہ السلام کے سامنے طفلِ مکتب بن کر رہے تھے۔ مرید پر لازم ہے کہ وہ شیخ کے ہر امر و نواہی کے سامنے سر جھکا دے جیسے موسیٰ علیہ السلام کا حال تھا کہ جب حضرت خضر علیہ السلام کے حلقہ بگوش ہوئے تو انہیں اپنی نبوت یاد رہی نہ رسالت کا خیال رہا کہ میرے پاس جبرائیل جیسا مقدس فرشتہ آتا ہے، میں کلیم اللہ ہوں، میرے پر کتابِ الٰہی توریت نازل ہوئی ہے اور بنی اسرائیل میرے تابعدارہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ تمام کمالات بھول کر حضرت خضر علیہ السلام کی نیاز مندی اور خدمت گزاری میں کمربستہ ہو گئے۔ بلکہ اپنے تمام ارادوں کو حضرت خضر علیہ السلام کے ارادہ میں گم کر دیا۔

  2. دعا منگیا کرو سنگیو
    کدی مرشد نہ رس جاوے
    جنہاں دے پیر رُس جاندے
    او جیوندے جی مرے رہندے

  3. جو مرید اور طالب مرشد سے حسنِ ظن نہیں رکھ پاتے ان کا سارا سفر تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔

  4. حضرت سیدّنا عبدالعزیز بن دباغؒ کا قول ہے:
    مرشد (Murshid) اپنے مرید سے صرف یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کا مرید ہر حالت میں اپنے شیخ کو صاحبِ کمال، صاحبِ توفیق، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ قرب سمجھے اور ساری زندگی اس عقیدے پر قائم رہے۔

    حضرت سیدّنا احمد مبارک مالکی فرماتے ہیں:
    اسرارِ الٰہی کو وہی برداشت کر سکتا ہے جو اپنے پیر کے علاوہ کسی پر یقین نہ کرے۔

  5. حسنِ ظن عشق کے راستے کی روشنی ہے۔ روشنی سے محرومی منزل سے محرومی کا پیش خیمہ ہے۔

  6. اللہ ربّ العزت کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ ہمیں مرشِد کامل شبیہِ غوث الاعظمؓ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس عطا فرمایا

  7. اے اللہ! مرشد پاک سے حسنِ ظن رکھنے اور اس پر استقامت کی طاقت عطا فرما آمین

  8. اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہمارے مرشد بانی و سرپرستِ اعلیٰ تحریک دعوتِ فقر، امام سلسلہ سروری قادری، شبیہِ غوث الاعظم، سلطان الذاکرین، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) سے نہ صرف حسنِ ظن رکھنے بلکہ حسنِ ظن قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ آپ مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) سے حسنِ ظن (Husn-e-Zan) رکھنا باعثِ رشد و ہدایت اور راہِ فقر کی زادِ راہ ہے۔

  9. ماشااللہ انتہائی خوبصورت آرٹیکل ہے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے مرشد کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین 🤲❤🥰

اپنا تبصرہ بھیجیں