Alif-mahnama-sultanulfaqr-magazine

alif | الف

الف(Alif)

سیدّہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہراؓ (Syeda Fatimah bint Muhammad pbuh)۔یومِ وصال 3 رمضان المبارک

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کے اصحابِ کبار رضی اللہ عنہم امتِ محمدیہ میں سب سے محترم و کامل ہستیاں ہیں۔ ان کے عشقِ رسول اور محبتِ الٰہیہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ ان اصحابِ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین   میں سے اس ہستی کا انتخاب کرنا، جو اپنے عشق(Ishq) و ایمان اور ماسویٰ اللہ سے لاتعلقی میں کامل ترین اور فقر کی وارث بننے کے لائق ہو، آسان نہ تھا لیکن ہمارے پیارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کی جگر گوشہ، ان کے جسم و روح کا حصہ، سیدّۃ النسا خاتونِ جنت جناب فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا (Syeda Fatimah bint Muhammad pbuh) کی اپنی ذات کی اللہ تعالیٰ کو مکمل خود سپردگی، دنیا سے لاتعلقی، عشقِ رسولؐ اور ان کی کامل اتباع نے آپ رضی اللہ عنہا کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam)  کی نظر میں بجا طور پر فقر کی پہلی وارث اور سلطان بنا دیا۔ اگرچہ فقر کے تمام وارثین اور سلاطین کو یہ درجہ ازل سے ہی حاصل ہوتا ہے لیکن دنیا میں آکر اس تک رسائی حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ذاتِ حق تعالیٰ اور عشقِ رسولؐ میں خود کو فنا کر دینا موت و حیات اور فنا و بقا کے انتہائی کٹھن مراحل ہیں،نفس و دنیا و شیطان کسی انسان کو بہکانے اور ورغلانے سے باز نہیں آتے۔ قدم قدم پر ہر لمحہ زندگی ان سے مقابلہ جاری رہتا ہے۔ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا (Syeda Fatimah bint Mohammad pbuh) نے ایک عورت ہو کر، جسے عموماً کمزور سمجھا جاتا ہے، نفس و شیطان کی اس جنگ کو بفضلِ الٰہی اور اپنے عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Ishq-e-Mohammad pbuh)  کی قوت سے جیتا اور فنا و بقا کے تمام مراحل کو رازداری اور خاموشی سے عبور کیا۔ بظاہر دنیا کی تمام ذمہ داریاں نبھائیں‘ بیٹی، بیوی، ماں، بہو ہونے کے تمام فرائض سے بخوبی عہدہ برآ ہوئیں۔ ہر رشتے کے تقاضوں کو بہترین طریقے سے پورا کیا لیکن باطن میں اپنا تعلق صرف اور صرف اپنے اللہ سے جوڑے رکھا۔

نہ صرف یہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (Syeda Fatimah bint Mohammad pbuh) کی زندگی کا ہر لمحہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کی مکمل اتباع اور عشق میں گزرا بلکہ باطنی اعمال و قلبی احوال میں بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (Syeda Fatimah bint Muhammad pbuh) سب سے اعلیٰ مقام تک پہنچ گئیں۔ باطنی اعمال میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) سے شدید ترین محبت، طلب اور اس محبت کی تڑپ میں ہر لمحہ جلتے رہنا اور فنا ہوتے رہنا شامل ہے، جس کے نتیجے میں اللہ اپنے قرب اور اپنے ساتھ بقا سے اپنے طالب کو نوازتا جاتا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (Syeda Fatimah bint Mohammad pbuh) اسی باطنی عمل میں سب پر سبقت لے گئیں اور چونکہ یہ طالب و مطلوب کی خلوت اور رازداری کی بات ہے اس لیے نہ اس کا چرچا عام ہوا نہ ہی کتابوں میں لکھا گیا، صرف اللہ اور اس کا محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam)ہی آپ رضی اللہ عنہا کی اس قلبی حقیقت سے آگاہ تھے۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے اپنی لاڈلی صاحبزادی (Syeda Fatimah bint Mohammad pbuh) کے اس مقام کو احادیثِ مبارکہ میں آپ رضی اللہ عنہا سے خصوصی محبت کے اظہار کے ذریعے واضح کیا اور اس نعمتِ فقر کی بدولت، جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam)  کو’’انا انت و انت انا ‘‘کا مقام عطا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam)  نے اُسی نعمتِ فقر کے باعث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا ’’فاطمہؓ مجھ سے ہے‘‘ اور فرمایا:
فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ (متفق علیہ)

بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu)۔ یومِ شہادت 21 رمضان المبارک

رفیق پیغمبر، امام المتقین، مشکل کشا، شیرِ خدا امام عارفین حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu) کا مبارک قلب نورِ الٰہی کی ایسی روشن و پاکیزہ جلوہ گاہ تھا جس پر کبھی بھی کفر و شرک و معصیت کی گرد نہ پڑی تھی۔ آپ کی پیدائش کے فوراً بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے آپ کو گود مبارک میں لے کر اپنا پاک لعاب دہن آپ کے منہ میں ڈال کر کفر و معصیت کی تمام راہیں بند کر دیں اور آپ کے بلند ترین مقامِ فقر و پایہ علم کی بنیاد ڈالی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی قلبِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے خصوصی نسبت و انسیت کی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam)نے انہیں کبھی خود سے دور نہ رہنے دیا اور آپ بچپن میں ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سایہ عاطفت میں آگئے۔ ایسے معصوم پاکیزہ قلب کو نورِ محمدی کی شعاعیں جلا بخشتیں اور حسب ِ استعداد علم الٰہی سے بھی مستفید کرتیں جس کا ظاہر نتیجہ یہ نکلا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کے دین اسلام کو آپ پر پیش کرتے ہی آپ نے فوراً حق کو بلا پس و پیش اور بغیر کسی بڑے کے مشورے کے ازخود قبول کر لیا۔ 

آغاز سے ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu) کی فطرت میں اوصاف و کمالاتِ نبویؐ گوندھ دیئے گئے اور وقت گزرنے پر یہ اوصاف ایسی جامع اور باکمال صورت میں ظاہر ہوئے کہ آپ کی مبارک ذات میں پرتو نبوت واضح نظر آنے لگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کو اپنے قلب سے منعکس ہو کر قلبِ علی کرم اللہ وجہہ میں نظر آنے والا یہ نورِ الٰہی کا جلوہ اتنا خوبصورت لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’علیؓ کے چہرہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔‘‘ 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu) کے کمالات و اوصاف کا شمار کرنا طاقتِ تحریر سے بعید ہے۔ آپ کی ذاتِ گراں قدر میں ایسے اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں جنہیں آبِ زر سے بھی لکھا جائے تو تحریر کا حق ادا نہ ہو پائے۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) نے فرمایا ’’میں علم (فقر) کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ۔‘‘ یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رہنمائی کے بغیر کوئی علمِ معرفت کے شہر میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ہر طالبِ مولیٰ کے لیے راہِ فقر و ہدایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu) کی توجہ سے ہی کھلتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu) تمام سلاسل کے امام ہیں اور تمام سلاسل بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu) سے ہی گزر کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) تک پہنچتے ہیں۔ جس مرشد کامل اکمل کا سلسلہ بیعت در بیعت اور کڑی در کڑی حضرت علی کرم اللہ وجہہ  (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu)کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) تک پہنچتا ہے اسے فقر کی اصطلاح میں شیخِ اتصال کہتے ہیں۔ اس لیے جو طالب ایسے شیخ کامل اکمل کے دستِ مبارک پر تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح کے لیے بیعت کرتا ہے اس کا روحانی تعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ (Bab-e-Faqr Hazrat Ali Karam Allah Wajhu) اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) سے قائم ہو جاتا ہے اس لیے ایسے کامل اکمل مرشد کی اتباع انہی کی اتباع ہے۔

alif | الف” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں