حقیقت ِ انسانی اور تحلیلی ارتقا | Haqeeqat-e-Insan aur Tehleeli Irtiqa

حقیقت ِ انسانی اور تحلیلی ارتقا  (Haqeeqat-e-Insan aur Tehleeli Irtiqa)

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری ۔لاہور

حضرت شاہ سیدّ محمد ذوقیؒ اپنی تصنیف سرِّ دلبراں میں فرماتے ہیں:
کائنات میں ہر چیز ایک دوسرے میں تحلیل (Tahlil) ہوتے ہوئے بالآخر انسان میں تحلیل (Tahlil) ہو کر قابلیتِ معرفت پیدا کرتی ہے جو ایجادِ عالم کی غایت ہے۔ حدتِ آفتاب سے بخارات سمندر میں بلند ہوتے ہیں۔ طبقۂ زمہریر میں پہنچ کر ابر بنتے ہیں۔ متقاطر ہوتے ہیں تو باران بنتے ہیں۔ زمین پر آکر نمی بنتے ہیں۔ خاک سے مل کر گِل بن جاتے ہیں۔ زمین سے صورتِ ترکیبی پاکر نبات کا نام اختیار کر کے برآمد ہوتے ہیں۔ جانور کی غذا بن کر حیوان ہو جاتے ہیں۔ انسان کی غذا بن کر نطفہ بنتے ہیں۔ پھر علقہ پھر مضغہ۔ حتیٰ کہ رحمِ مادر میں صورتِ انسانی اختیار کر تے ہیں۔ پھر متولد ہوتے ہیں اور انسانِ کامل الحقیقت ہو جاتے ہیں۔ جب مدتِ عمرِ صوری ختم ہو تی ہے تو مبدا اصل کی طرف رجوع ہو کر پاکی پاکی میں مل جاتی ہے اور خاک خاک میں۔ جس طرح سے ایک قطرہ سے یہ کچھ ہو گیا اسی طرح جملہ عالم دریائے وحدتِ حقیقی کے ایک قطرہ سے ظہور میں آیا۔ باوجود ایک قطرہ سے ظہور میں آنے کے اجزائے موجودات کا ہر جز قطرہ ہے بحر ِتوحید میں اور ہر قطرہ سمندر ہے معرفتِ کردگار کا۔ (سرِّ دلبراں)

جہاں بات حقیقت کی کی جاتی ہے وہاں ایک آفاق کی حقیقت ہے ایک نفس کی، ایک ظاہر کی حقیقت ہے ایک باطن کی، ایک جسم کی حقیقت ہے اور ایک روح کی۔ جس بھی حقیقت کی بات کی جائے سب کی ابتدا ایک نقطہ، قطرہ یا مادہ سے ہے یعنی ان تمام حقیقتوں میں جو قابلِ مشترک بات ہے وہ تحلیلی (Tahlili) ارتقا کا عمل ہے جو کہ وحدت سے کثرت کی طرف رواں ہوتا ہے ۔ 
 انسان کے احسنِ تقویم کی شان کے ساتھ مضغۂ خلق پر جلوہ گر ہونے سے پہلے اس کی زندگی ایک ارتقائی دور سے گزری ہے اور یہ دور اس کے کیمیائی ارتقا  (chemical evolution) کا دور ہے۔ اور انسان کی پیدائش کا یہ دور بھی وحدت سے کثرت یعنیunity  سے multiplicity  کے تحلیلی ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے اوّلین جوہر کو غیر نامی مادے ’’تراب‘‘ inorganic matterسے تخلیق کیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ  (سورۃ المومن ۔67)
ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہاری (کیمیائی حیات کی ابتدائی) پیدائش مٹی سے کی۔ 

 اس کے بعد انسانی خمیر کو مختلف مراحل سے گزارا گیا بعد ازاں ایک مرحلہ دوسرے میں تحلیل (Tahlil) ہوتا گیا ہے اور انسانی وجود تیار کیا گیا جس میں پھر اللہ ربّ العزت نے اپنی روح پھونک کر انسان کو اشرف المخلوقات کے درجہ سے سر فراز فرمایا۔ 
 انسان کے حیاتیاتی ارتقا کے سلسلے میں دوسری اہم چیز نطفۂ امشاج ہے جس کا تعلق fertilization کے نظام سے ہے۔ قرآنِ حکیم میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
اَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی ۔ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً (سورۃ القیامہ 37-38)
ترجمہ: کیا وہ (اپنی ابتدا میں) محض منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (عورت کے رحم میں) ٹپکا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ (رحم میں جال کی طرح جما ہوا) ایک معلق وجود بن گیا۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے:
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ  اَمْشَاجٍ  (سورۃ الدھر ۔2)
ترجمہ: بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفے (mingled fluid) سے پیدا کیا۔
انسانی تخلیق کا نفسِ واحدہ (zygote) سے وجود میں آنا اسی نقطہ کی دلیل ہے ۔ اس کی وضاحت میں ارشادِ ایزدی ہے:
’’اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہاری تخلیق ایک جان (single life cell) سے کی، پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا، پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔ ‘‘  (سورۃ النسا ء ۔1)
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے :
’’ اس (ربّ) نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی میں سے اس جیسا جوڑ نکالا۔‘‘  (سورۃ الزمر۔6)
اگر اب روح کی حقیقت اور تخلیقِ کائنات کے ارتقا کی بات کی جائے تو یہ بھی وحدت سے کثرت کی طرف سفر کی بہترین مثال ہے۔
سائنسی ریسرچ اور قرآنِ کریم کی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات پتا چلتی ہے کہ کائنات کا آغاز ایک صفر درجہ جسامت کی اکائیت سے ایک زور دار دھماکہ کے بعد ہوا اور کائنات وحدت سے کثرت کی جانب پھیلتی گئی۔ ار شادِ باری تعالیٰ ہے:
جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی (singularity) کی شکل میں جڑے ہوئے تھے۔ (سورۃ الانبیا ۔30)
 آپ عرض کیجیے کہ میں (ایک) دھماکہ سے انتہائی تیزی کے ساتھ (کائنات کو) وجود میں لانے والے ربّ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے۔ (سورۃ الفلق1-2)
سائنس نے اس عظیم دھماکہ کو Big Bang کے نام سے موسوم کیا ہے اور اس عظیم دھماکہ کے بعد کائنات وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی یعنی پھیلتی چلی گئی۔
عالم ِ امر میں روح کی حقیقت اور کس طرح روح نورِ الٰہی سے ظاہر ہوئی اور مختلف عالم میں تنزل کرتی ہوئی وجودِ انسان میں پیوست ہوئی ان مراتب کو صوفیا کرام نزول کہتے ہیں۔ جس میں سب سے پہلا تعین’ عالمِ وحدت (یاھوت)‘ ہے۔ اس کے متعلق حضرت سخی سلطان باھوؒ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:
جان لے کہ جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشہ تنہائی سے نکل کر کثرت میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلی سے رونق بخشی اس کے حسنِ بے مثال اور شمعٔ جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدی اختیار کی۔ (رسالہ روحی شریف)
اس کے بعد تنزلاتِ ستہ میں تعین دوم عالم ِواحدیت (لاھوت) ہے، تعینِ سوم عالمِ ارواح (جبروت) ہے، چہارم تعین عالمِ مثال (ملکوت) ہے، پانچواں تعین عالمِ اجسام (ناسوت) ہے اور ساتواں مرتبہ اور تعین ششم مرتبہ انسان ہے۔ دوسرے الفاظ میں وحدت سے کثرت کے اس سفر کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ حق تعالیٰ نے نورِ محمدی سے روحِ قدسی، روحِ قدسی سے روحِ سلطانی، روحِ سلطانی سے روحِ روحانی اور روحِ روحانی سے روحِ جسمانی کی صورت میں انسان یعنی بشر میں ظہور فرمایا۔ یعنی انسان ہی کل موجوداتِ عالم کی اصل غایتِ حقیقی اور روحِ رواں ہے۔ حقیقتِ انسانی کے پسِ منظر میں تحلیلی (Tahlili) ارتقا سے مراد ہر شے کا ایک دوسرے میں تحلیل (Tahlil) ہو کر انسانی وجود کے ڈھانچے میں ڈھلنا ہے اور اس عمل میں سب سے زیادہ قابل ِمعرفت نکتہ یہ ہے کہ اس ارتقا کا عمل دائرے کی مانند ہے او ر یہ کامل، مکمل اور اُتم اسی صورت میں ہوتا ہے جب تمام کڑیاں ایک وجود میں آکر باہم یکجا ہو جاتی ہیں اور ارتقا کا جو عمل جہاں سے شروع ہوا تھا اس کی ابتدا اور انتہا ایک ہو جاتی ہے اور وہ ایک ’’وجود‘‘ جو اصل غایتِ حقیقی ہے اسے ’’حقیقتِ محمدیہ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) اپنی تصنیف ’’شمس الفقرا‘‘ میں فرماتے ہیں:
وہ انسان جس میں ظہور کامل مکمل اور اُتمّ ہوا وہ انسانِ کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کی ذات پاک ہے اور ان تمام مراتب کے مظہرِ اُتم خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) ہیں۔ (شمس الفقرا)

حضرت ابو سعید مبارک مخزومیؒ اس مرتبہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
ساتواں مرتبہ ان تمام مراتبِ مذکورہ جسمانیہ، نورانیہ، روحانیہ، وحدت واحدیت کا مرتبہ جامعیت ہے وہ آخری تجلی اور آخری لباس ہے اور اس کا نام انسان ہے۔  (شمس الفقرا)

اب تک کے مضمون کا لب ِلباب یہ ہے کہ ظاہری حقیقت کی بات کی جائے یا باطنی، آفاق کی بات کی جائے یا انفس سب میں یہ مشاہدہ دیکھا گیا ہے کہ ہر حقیقت ایک تحلیلی ارتقا کے عمل سے وجود میں آئی اور ان کا یہ سفر وحدت سے کثرت یعنیunityسے multiplicity  کی طرف نشاندہی کرتا ہے ۔

اس مضمون کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ارتقا کا یہ عمل ’’تحلیلی‘‘ ہے جس کی انتہا  یعنی تکمیل ’’انسان‘‘ پر ہوتی ہے اور پھر یہ عمل دوبارہ اپنی ابتدا کی جانب بڑھ جاتا ہے یعنی یہ سفر دائرے کی مانند ہے اور اس سفر کا مرکز ’’انسان‘‘ ہے۔ تحلیل کا مطلب ہے ایک چیز کا دوسرے میں حل ہو نا اور ارتقا کا یہ عمل انسان میں آکر مکمل طور پر تحلیل (Tahlil) ہوتا ہے اور پھر دوبارہ وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عمل کس طرح تحلیلی ہے اس کو سمجھنے کے لیے دوبارہ آبی بخارات کی مثال کو لیا جاسکتا ہے جس کو مضمون کے آغاز میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک اور مثال کے ذریعہ اس عمل کو سمجھا جا سکتا ہے وہ ہے the process of decomposition or decay in human ۔ انسان جب مر جاتا ہے اور منوں مٹی تلے دفنا دیا جاتا ہے تب اس کے جسم سے کچھ گیسیں خارج ہوتی ہیں جس سے اس کا جسم گلنے سڑنے اور پھولنے لگتا ہے مٹی سے بنا جسم مٹی میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کا جسم نباتات اور دوسری زمینی حشرات کی خوارک کی صورت میں کام آتا ہے پھر یہ زمینی حشرات دوسرے جانور کی خوارک بنتے ہیں اور ان میں سے حلال جانور  دوبارہ انسان کی خوراک بن جاتے ہیں۔ یعنی دائرے کی طرح یہ سفر رواں دواں رہتا ہے۔ 

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جب تحلیلی ارتقا کا سفر انسان کے وجود میں آکر کامل ہو جاتا ہے تو پھر’’ حقیقتِ انسانی ‘‘سے کیا مراد ہے ؟ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) فرماتے ہیں :
آدمی سب ہیں مگر انسان خاص ہے۔ انسان وہ ہے جس کے اندر اللہ پاک کی ذات ظاہر ہو جائے ۔ (سلطان العاشقین)
اصل میں حقیقتِ انسانی یہی ہے کہ ’’ھو‘‘ کے راز سے آشنا ہوا جائے۔ جو شخص اس کی ابدی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے وہ ’’حقیقت انسانی ‘‘ سے بھی واقف ہو جاتا ہے۔
 خاتم النبیین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کا حقیقتِ انسانی کے متعلق فرمان ہے:
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی جان ہے اگر تم رسی سے ڈول باندھ کر سب سے نیچے کی زمین تک ڈالو تو وہ ڈول اللہ پر اترے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت پڑھی ھُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْبَاطِنُ ج وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ علِیْمٌ (ھوُ اوّل آخر ظاہر باطن ہے اور ھوُ ہر شے کا علم رکھتا ہے)۔ اس حدیث مبارکہ کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ 

یعنی وحدت سے کثرت کے سفر میں وحدت سے بھی مراد ’’ھو‘‘ ہے اور کثرت سے مراد بھی ’’ھو‘‘ ہی ہے۔ ہمہ اوست در مغز و پوست میں مغز و پوست دونوں سے مراد ’ھو‘‘ ہی ہے، تحلیلی ارتقا کے سفر میں حقیقتِ انسانی یا انسانِ کامل سے مراد بھی ’’ھو‘‘ ہی ہے ۔ ابتدا بھی ھو ہی ہے اور انتہا بھی ھوُ ہے ۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) فرماتے ہیں:
انسان کا اصل مقام یہ ہے کہ اللہ اس کا طالب ہے جیسا کہ الرسالۃ الغوثیہ میں اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Hazrat Abu Muhammad Muhiyuddin syedna Sheikh Abdul Qadir Jilani r.a) سے فرمایا ’’انسان میرا راز ہے۔‘‘

 حضرت شاہ محمد ذوقیؒ فرماتے ہیں:
جس طرح سے ایک قطرہ سے یہ کچھ ہو گیا اسی طرح جملہ عالم دریائے وحدتِ حقیقی کے ایک قطرہ سے ظہور میں آیا۔ باوجود ایک قطرہ سے ظہور میں آنے کے اجزائے موجودات کا ہر جز قطرہ ہے بحرِ توحید میں اور ہر قطرہ سمندر ہے معرفتِ کردگار کا۔ (سرِ دلبراں)

اگر وحدت سے کثرت کے سفر کا آغاز ایک قطرہ (نورِ الٰہی)سے ہوا تو عالمِ کثرت میں حقیقتِ انسانی یہ ہے کبھی قطرہ سمندر میں ہے اور کبھی سمندر قطرہ میں۔ یعنی جس ہستی میں حقیقتِ انسانی روشن ہو جاتی ہے اس میں وحدت اور کثرت کا ملاپ باہم یکجا ہو جاتا ہے جیسے سمندر قطرہ میں ہو یا قطرہ سمندر میں۔ حقیقتِ انسانی کے اصل علمبردار وہی بندگانِ خاص ہیں جو مرتبۂ انسانِ کامل سے مشرف ہوتے ہیں اور جنہیں خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) اپنا باطنی خلیفہ اور نائب مقر ر فرماتے ہیں۔ جن کے متعلق حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں ’’اور کبھی قطرہ سمندر میں اور کبھی سمندر قطرہ میں‘ ‘ اور اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے فیض کی چادر ان پر ہے۔ پس انہیں ابدی زندگی حاصل ہے۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)

مزید برآں حقیقتِ انسانِ کامل کے متعلق آپؒ فرماتے ہیں :
اگر انہیں خدا کہا جائے تو بجا ہے اور اگر بندہ سمجھا جائے تو بھی روا ہے۔ (رسالہ روحی شریف)

 فقر اور تصوف کی اصطلاح میں’ ’حقیقتِ انسانی‘‘ ایک انتہائی پیچیدہ مضمون ہے اگر اس مضمون کو تمام تعلیماتِ فقر کا نچوڑ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ قارئین سے التماس ہے اس مضمون کے اصل رمز و حقیقت سے روشناس ہونے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس  (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) کی تصنیف مبارکہ’’شمس الفقرا‘‘ کے باب ’’توحید‘‘  کامطالعہ ضرورکریں۔  

حاصلِ کلام:

انسان بظاہر ایک چھوٹا وجود معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایک بہت بڑا جہان ہے۔ جو کچھ ہم ظاہر میں دیکھتے ہیں وہ باطن کے عالم کی جھلک ہے۔ اصل اور عین حقیقت ’’باطن ‘‘ ہے جو باطن کی حقیقت کو جان لیتا ہے وہ حقیقت ِ انسانی سے بھی روشناس ہو جاتا ہے اور ظاہر و باطن، انفس و آفاق، دنیا و ما فیہا کے ہر ارتقائی عمل، ابتدا و انتہا، وحدت و کثرت کی حقیقت سے بھی واقف ہو جاتا ہے ۔ اللہ ہم سب کو حقیقتِ انسانی سے روشناس ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

استفادہ کتب :
۱۔مرآۃ العارفین؛ تصنیف لطیف سیدّ الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ
۲۔الرسالۃ الغوثیہ؛ تصنیفِ لطیف سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Hazrat Abu Muhammad Muhiyuddin syedna Sheikh Abdul Qadir Jilani r.a) 
۳۔رسالہ روحی شریف ؛ تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ (Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)
۴۔شمس الفقرا ؛ تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman)
۵۔سلطان العاشقین؛ ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
۶۔ سرِ دلبراں؛ تصنیف ِلطیف حضرت شاہ محمد ذوقیؒ
۷۔ اسلام اور جدید سائنس؛ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری

 
 

33 تبصرے “حقیقت ِ انسانی اور تحلیلی ارتقا | Haqeeqat-e-Insan aur Tehleeli Irtiqa

  1. اگر انہیں خدا کہا جائے تو بجا ہے اور اگر بندہ سمجھا جائے تو بھی روا ہے۔ (رسالہ روحی شریف)

  2. حقیقتِ انسانی یہی ہے کہ ’’ھو‘‘ کے راز سے آشنا ہوا جائے۔ جو شخص اس کی ابدی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے وہ ’’حقیقت انسانی ‘‘ سے بھی واقف ہو جاتا ہے۔

  3. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) فرماتے ہیں :
    آدمی سب ہیں مگر انسان خاص ہے۔ انسان وہ ہے جس کے اندر اللہ پاک کی ذات ظاہر ہو جائے ۔ (سلطان العاشقین)

  4. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) فرماتے ہیں:
    انسان کا اصل مقام یہ ہے کہ اللہ اس کا طالب ہے جیسا کہ الرسالۃ الغوثیہ میں اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظمؓ (Hazrat Abu Muhammad Muhiyuddin syedna Sheikh Abdul Qadir Jilani r.a) سے فرمایا ’’انسان میرا راز ہے۔‘‘

  5. اصل میں حقیقتِ انسانی یہی ہے کہ ’’ھو‘‘ کے راز سے آشنا ہوا جائے۔ جو شخص اس کی ابدی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے وہ ’’حقیقت انسانی ‘‘ سے بھی واقف ہو جاتا ہے۔

  6. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) اپنی تصنیف ’’شمس الفقرا‘‘ میں فرماتے ہیں:
    وہ انسان جس میں ظہور کامل مکمل اور اُتمّ ہوا وہ انسانِ کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کی ذات پاک ہے اور ان تمام مراتب کے مظہرِ اُتم خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) ہیں۔ (شمس الفقرا)

  7. انسان بظاہر ایک چھوٹا وجود معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایک بہت بڑا جہان ہے۔ جو کچھ ہم ظاہر میں دیکھتے ہیں وہ باطن کے عالم کی جھلک ہے۔ اصل اور عین حقیقت ’’باطن ‘‘ ہے جو باطن کی حقیقت کو جان لیتا ہے وہ حقیقت ِ انسانی سے بھی روشناس ہو جاتا ہے
    So true

  8. باطن کی حقیقت کو جان لیتا ہے وہ حقیقت ِ انسانی سے بھی روشناس ہو جاتا ہے

  9. انسان بظاہر ایک چھوٹا وجود معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایک بہت بڑا جہان ہے۔ جو کچھ ہم ظاہر میں دیکھتے ہیں وہ باطن کے عالم کی جھلک ہے۔

  10. بہت خوبصورت اور آسان فہم انداز میں ایک دقیق نکتے کو بیان کیا گیا ماشاءاللہ

  11. اللہ ہم سب کو حقیقتِ انسانی سے روشناس ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  12. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) اپنی تصنیف ’’شمس الفقرا‘‘ میں فرماتے ہیں:
    وہ انسان جس میں ظہور کامل مکمل اور اُتمّ ہوا وہ انسانِ کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) کی ذات پاک ہے اور ان تمام مراتب کے مظہرِ اُتم خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad sallallahu alayhi wa alehi wa sallam) ہیں۔ (شمس الفقرا)

اپنا تبصرہ بھیجیں