344

طالبانِ مولیٰ اور معراجِ مصطفیؐ–Taliban e Moula Meraj Mustafa

طالبانِ مولیٰ اور معراجِ مصطفیؐ

فائزہ گلزار سروری قادری۔ لاہور

تاریخِ عالم میں واقعہ معراج انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس نے فکرِ انسانی کو ایک نیا موڑ عطا کیا اور فکر و نظر کی رسائی کو وسعت عطا ہوئی۔ یہ ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جس پر ایمان اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سرشار مسلمان فخر کرتے ہیں کہ اس عظیم المرتبت محبوبِ خدا کی اُمت ہیں جنہیں ربِ کائنات نے حالتِ شعور میں زمین اور آسمانوں کی سیر کروائی۔ اس واقعہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے والے آج بھی شش و پنج میں گرفتار اس عظیم واقعہ کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش میں ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ معراج ایک معجزہ ہے اور معجزہ خلافِ فطرت ہوتا ہے جسے عقل سے پرکھنا بے عقلی کی نشانی ہے۔ عشق والوں اور عقل والوں میں یہی فرق ہے جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اللہ ربّ العزت نے اپنے پیارے محبوب سردار الانبیا خاتم المرسلین حضور رحمتہ اللعالمین کو تمام انبیا سے ممتاز کرنے کے لیے جسمانی معراج ایک ہی رات میں کرائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکہ مکرمہ، بیت المقدس، مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ کائنات کی سیر کی اور سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میں اس سے آگے ایک قدم بھی بڑھا تو میرے پَر جل جائیں گے۔ سدرۃ المنتہیٰ کے آگے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سفر مبارک آپ کی شانِ رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے عقل سمجھنے سے قاصرہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ ھُوَبِالْاُفُقِ الْا َعْلیٰoثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیo فَکَانَ قَا بَ قَوْسَیْنِ  اَوْاَدْنٰیo 
اس واقعہ پریقین کرنے اور اس کی تصدیق کرنے میں ابولہب اور ابوجہل کی عقل آڑے آگئی اور ان کے شک و شبہ نے ان کے دلوں کو آلودہ کر دیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے تصدیق کرکے عشق کی بازی جیت لی اور ’’صدیق‘‘ کے لقب سے ملقب ہوئے۔ بقول شاعر

ایہہ معراج سی راز محبتاں والا
نئیں سی کسے دی سمجھ وچ آون والا

واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعے ممکن ہوا۔ انبیا کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے۔ سورۃ القصص میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ’’فرما دیجیے! ذرا اتنا بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر روزِ قیامت تک ہمیشہ رات طاری فرما دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے۔ کیا تم (یہ باتیں) سنتے نہیں ہو۔ فرما دیجیے! ذرا یہ (بھی) بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے اوپر روزِقیامت تک ہمیشہ دن طاری فرما دے(تو) اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں رات لا دے کہ تم اس میں آرام کر سکو، کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔‘‘ (سورۃ القصص۔71-72 )
معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بلاشبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زندہ معجزہ ہے۔ یہ معجزہ براہِ راست اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظمت، رفعت اور حقیقت کسی بھی بشر کی سمجھ بوجھ، عقل و خرد اور فہم و فراست کی پرواز سے بلند ہے حتیٰ کہ کسی کے لیے اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔
واقعہ معراج تمام علما اور صوفیا نے اپنی اپنی محبت کے انداز سے بیان کیا ہے۔ کسی نے ظاہری حالاتِ معراج کو قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھا ہے اور کسی نے باطنی معنوں اور حقائقِ معراج کو بیان کیا ہے۔ غرض ہر کسی نے اپنے اپنے باطنی مقام کے مطابق معراج کو سمجھا اور بیان کیا ہے۔لیکن ساتھ ہی ہر ایک نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ اس واقعہ معراج میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری جسمانی سفر کے حقائق کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کافی ہیں نہ باطنی قرب و وصال کی حالت کو لفظوں کا جامہ پہنا کر مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ عاشق و معشوق کا وہ لا محدود وصال ہے جسے محدود شعور اور محدود قربِ الٰہی حاصل کرنے والے کبھی بیان کر ہی نہیں سکتے۔ ’’شجرۃ الکون‘‘ میں ہے:
’’آپ کی معراج کا راز، راز سے بھی راز میں ہے۔‘‘
معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جہاں عالمِ انسانیت کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے والا واقعہ ہے وہیں طالبانِ مولیٰ کے لیے اس میں بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں۔اس واقعہ میں طالبانِ مولیٰ کے لیے تکمیلِ باطن کی طرف رجوع کرنے کا پیغام ہے۔معراج’’عروج‘‘ سے ہے یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کمالات کے عروج کی حد۔ واقعہ معراج اس حقیقت پر مہر ثبت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کمالات کی حد وہاں تک ہے جہاں تک حد کی بھی آخری حد ختم ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ سے عشق کی اس انتہا پر تھے جہاں آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔ معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دراصل عاشقانِ الٰہی، جو قرب و وصالِ الٰہی کی انتہا کو پہنچنا چاہتے ہیں ،کے خون کو گرما دینے والا واقعہ ہے۔
اُمت پیروکار کو کہتے ہیں اور اصل پیروکار کہلوانے کے حقدار صرف وہی ہو سکتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ظاہری و باطنی مکمل اتباع کریں۔ سفرِ معراج کے دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس فرمانِ عالی شان ’’میرا شوق میری سواری، میری آرزو میرا زادِ راہ اور میری رات میری دلیل ہے۔ میں صرف انہی کے ذریعے ذاتِ کریم تک پہنچوں گا‘‘ سے یہ ثابت کر دیا کہ میری حقیقی پیروی کرنے والے اگر وصالِ حق چاہتے ہیں تو شوق کی سواری سے ہی ایسا ممکن ہے۔ جس قدر شوق، عشق اور جنوں زیادہ ہو گا اسی قدر قربِ حق کی طرف سفرتیزی سے طے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ زمان و مکان سے منزّہ و مبرّا ہے اس تک قدموں سے چل کر نہیں پہنچا جا سکتا جو ایسا سوچتے ہیں وہ خطا پر ہیں۔ عشقِ الٰہی، دیدارِ الٰہی اور وصالِ الٰہی اللہ تعالیٰ کی خاص عطائیں ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو پردوں میں پوشیدہ سمجھتے ہیں وہ اس عطاسے محروم رہتے ہیں۔
روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج اپنا سفر شروع ہی فرمایا تھا کہ دائیں طرف سے کچھ آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان آوازوں کی مطلق پرواہ نہ کی اور اپنا سفر جاری رکھا۔ ذراآگے بڑھے تو بائیں طرف سے آوازیں آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان آوازوں کی طرف بھی مائل نہ ہوئے اور آگے بڑھے تو ایک بوڑھے نے آوازیں دینا شروع کردیں پھر ایک عورت کی آوازیں آنے لگیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے عشق میں سرشار آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔تو جبرائیل ؑ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا کہ دائیں طرف سے آنے والی آوازیںیہودیت کے داعیوں کی تھیں اوربائیں طرف کی آوازیں عیسائیت کے داعیوں کی تھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی اپنی طرف مائل کرنا چاہتے تھے۔وہ بوڑھا شخص شیطان تھا اور عورت کے روپ میں دنیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بہکانے آئی تھی۔ اس سے عاشقینِ الٰہی پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کی جانب سفر آسان نہیں ہے یہاں طالب کو ہٹانے اور بہکانے کے لیے قدم قدم پر شیطان اپنے لاؤ لشکر سمیت موجود ہے اور جن کی طلب صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک ہوتی ہے وہ طالب لازماً کامیاب ہوتے ہیں۔
معراج کا واقعہ اعلانِ نبوت کے دس سال بعد پیش آیا۔ اس واقعہ سے قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بہت زیادہ مصائب کا سامناکرنا پڑا۔ تین سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شعبِ ابی طالب میں محصور رکھا گیا۔ حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہٗ اوراُم المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تبلیغ کے لیے طائف کا سفر کیا تو طائف والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب مصائب نے ہر طرف سے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکو گھیر لیا تو پھر وہ رات آئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو معراج کرائی گئی۔گویا اللہ تک پہنچنے کے لیے طالب کوسخت مشکلات سے صبر و استقامت سے گزرنا پڑتا ہے لیکن آخر اللہ سے وصل کی گھڑیاں نصیب ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ صرف مشکلات، مصائب اور آلام سے ہی پُر نہیں ہے بلکہ اس راستے میں مقامات و درجات، حور وقصورِ جنت بھی ہیں اور ربّ تعالیٰ تک صرف وہی طالب پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو نہ تو ہمت ہارتے ہیں اور نہ ہی ان کی نظر کسی اور طرف مشغول ہوتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
*’’جان لے کہ بعض بزرگ بارہ سال یا چالیس سال تک ریاضت کرتے کرتے لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرنے کے قابل ہو گئے ‘عرش پر پہنچ گئے اور پھر عرش سے بھی آگے ہزاراں ہزار مقامات کی طیرسیر کر گزرے‘مقاماتِ غوثیت و قطبیت پر فائز ہو گئے ‘ طالب مرید بنا لیے‘ صاحبِ عزّوجاہ ہو کر نام و ناموس کما گئے ‘ صاحبِ کشف و کرامات ہو کر جنونیات ومؤکلات کو اپنے زیرِ فرمان کر گئے اوراسی کو ہی معرفتِ الٰہی سمجھ بیٹھے۔ بعض بزرگ ذکرِ قلب میں مشغول ہوئے اور اس کے نتیجے میں صاحبِ الہام ہو گئے اور لوحِ ضمیرکا مطالعہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اسی کو ہی معر فتِ توحید کی انتہا سمجھ بیٹھے۔ بعض بزرگ ذکرِ روح میں مشغول ہوئے اور دماغِ سِرّ میں انوار و تجلیاتِ روح کے مشاہدہ میں غرق ہو گئے اور اسی کو معرفتِ توحید سمجھ بیٹھے۔ یہ تمام مراتبِ مخلوق ہیں جن کا تعلق درجات سے ہے اور اہلِ درجات اہلِ تقلید ہیں جو فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بعید اور معرفتِ توحیدِ الٰہی سے بہت دور ہیں۔ الغرض ان میں سے نہ کسی نے اللہ تعالیٰ کی ابتداکو دیکھا اور نہ کوئی اس کی انتہاکو پہنچا۔ سو معرفت کیا چیزہے؟ توحیدکسے کہتے ہیں اور مشاہدۂ قربِ حضوری کیا چیز ہے؟سن!سلک سلوک معرفتِ توحیدِ الٰہی اور مشاہدۂ قربِ حضوری یہ ہے کہ جب طالبِ اللہ اسمِ  اللہ ذات اور کلمہ طیبہلَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا تصورکرتا ہے تو اسمِ اللہ ذات اور کلمہ طیبہ کے ہر ایک حرف سے تجلیِ نور پیدا ہوتی ہے جو طالبِ مولیٰ کو لامکان میں مجلسِ محمدیصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچا دیتی ہے کہ لامکان ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدِ نظر رہتاہے جہاں دریائے وحدانیت میں گُوناں گُوں قسم کی موجیں وَحدَہٗ وَحدَہٗ کے نعرے بلند کرتی رہتی ہیں۔ جوشخص دریائے توحید کے کنارے پر پہنچ کر نورِ الٰہی کا مشاہدہ کرلیتا ہے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے اور جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پکڑ کراپنے دستِ مبارک سے دریائے وحدت میں غوطہ دے دیتے ہیں وہ غواصِ توحیدہو جاتا ہے اور مرتبہ فنا فی اللہ پر پہنچ جاتا ہے۔ دریائے توحید میں غوطہ کھانے سے بعض طالب تو سالک مجذوب بن جاتے ہیں اور بعض مجذوب سالک اہلِ توحیدِ ذات ہو جاتے ہیں۔ اہلِ درجات مراتبِ ذات سے محجوب رہتے ہیں۔ جوشخص لامکان میں پہنچ کر دریائے توحید کے نور کا مشاہدہ کر لیتا ہے ‘ اس کو بیان نہیں کر سکتاکہ لا مکان غیر مخلوق ہے اور اس کی مثال نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہاں نہ تو دنیا کی بوئے گندگی کا گزرہے اور نہ ہی ہوائے نفس کی گنجائش ہے۔وہاں تو ہر وقت استغراقِ بندگی ہے۔ لامکان میں شیطان کے داخلے کا امکان ہی نہیں۔ الغرض لامکان کے اندر فرمانِ الٰہی فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ  (البقرہ 115۔ ترجمہ: پس تو جدھر بھی دیکھے گا تجھے اللہ کا چہرہ ہی نظر آئے گا) کے مصداق توجدھربھی دیکھے گا تجھے نورِ توحید ہی نظر آئے گا۔ معرفتِ توحید اور قربِ حضوری کے یہ مراتب صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رفاقت اور شریعت و کلمہ طیبہلَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں۔توحید لامکان کی یہ راہ تحقیق کی راہ ہے‘ جو اس میں شک کرتا ہے وہ زندیق ہے۔ (شمس العارفین)
غرض ہر غیر ماسویٰ اللہ سے توجہ ہٹا کر ہی طالب مقامِ توحید میں داخل ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے اورطالب کے درمیان سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔ پھر طالب اور مطلوب، محب اور محبوب کے درمیان سے تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں اور طالب صفاتِ الٰہی سے متصف ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا بلکہ وہی کہتا ہے جو اللہ کہلوائے۔ وہی دیکھتا ہے جو اللہ دکھائے اور وہی کرتا ہے جو اللہ ربّ العزت کروائے۔ شبِ معراج حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے اٹھارہ ہزار عالم آراستہ و پیراستہ کر کے لائے گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی چیز کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا، نہ ملکوت میں مصروف ہوئے نہ جبروت میں مشغول ہوئے۔ عرش کی آہ وزاری اور گفتگو پر کان دھرے نہ دیگر حور و قصورِ جنت پر نگاہ کی اور نہ اپنے لیے کچھ مانگا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے طالبانِ مولیٰ پر یہ واضح فرمایاکہ یہ آدابِ طالبی کے خلاف ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اگر بارگاہِ ربّ العزت سے کچھ طلب کیا تو صرف اللہ کا دیدار، اسمِ اللہ ذات اور اُمت کی بھلائی۔ اسمِ اللہ ذات کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ’’عین الفقر‘‘ میں فرماتے ہیں:
* جو شخص اپنی جان کے بدلے اسمِ اللہ ذات خرید لیتا ہے وہ کھلی آنکھوں سے دیدارِ حق تعالیٰ کرتا ہے۔
* دیدارِ حق تعالیٰ کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ مردار ہے اس لیے عاشق ہمیشہ طالبِ دیدار ہوتا ہے۔
سلطان العارفینؒ ’’نور الہدیٰ کلاں‘‘ میں طالبانِ مولیٰ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* اسمِ اللہ ذات تیری راہبری کے لیے ہر دم تیرے ساتھ ہے۔ اس لیے لقائے حق کے علاوہ کسی اور چیز کی جستجو مت کر۔
* صاحبِ نظر دیدار کرتے ہیں لیکن جھوٹے اور مکار لوگوں کو کچھ نظر نہیں آتا۔
* اے طالب !بحث وتکرار چھوڑ اور دیدارِ الٰہی کا کامل مرتبہ حاصل کر۔
* اگر تیری طلب دیدارِ خداوندی ہے تو اے طالب! نفس کو چھوڑ دے اور ادھر آجا۔
* جو شخص اسمِ اللہ ذات کی طے جان لیتا ہے اس کی غذا دیدارِ کامل ہو جاتی ہے اور وہ دائمی طور پر دیدارِ الٰہی میں محو رہتا ہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کریم نے معراج کی رات دونوں جہان کے اٹھارہ ہزار عالم آراستہ و پیراستہ کیے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے پیش کر کے ادائے دلنوازی سے پوچھا ’’اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں نے دونوں جہان کے اٹھارہ ہزار عالم کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے تابع کر کے اس کا تماشاآپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے سامنے پیش کیا اور موجودات کی ہر چیز کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے سپرد کیا۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو اس میں سے کیا چیز پسند آئی؟ اور آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا چاہتے ہیں؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے خداوند !مجھے دونوں جہان میں اسمِ اللہ ذات اور تیری محبت پسند آئی اور تجھ سے میں تجھی کو چاہتا ہوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے محبوب(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اسمِ اللہ ذات اور میرا دیدار تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو پہلے ہی حاصل ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے مالکِ کائنات !میں یہ چیزیں اپنی اُمت کے لیے چاہتا ہوں۔‘‘ (عین الفقر)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری وصال مبارک کے بعددیدارِ الٰہی کی دولت صرف اور صرف مرشد کامل اکمل کی توجہ، مہربانی اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے ہی ممکن ہے۔ تخلیقِ انسانی کی ترتیب کے مطابق روحِ قدسی کی تخلیق عالمِ لاہوت میں ہوئی، فرشتوں کی عالمِ جبروت جس کی انتہاسدرۃ المنتہیٰ ہے ،میں ہوئی ۔اور نفسِ انسانی کی تخلیق عالمِ ناسوت میں ہوئی۔ عالم لاہوت تک طالب کی رسائی صرف اُسی مرشد کامل اکمل کے وسیلے سے ممکن ہے جو تکمیلِ ذات کے تمام مراحل طے کر کے روحِ قدسی تک پہنچ چکا ہو۔ جو مرشدخود عالمِ ناسوت کی قید میں ہیں وہ اپنے طالبوں کو آج اور کل کے وعدے کرکے یا تو ٹالتے رہتے ہیں یا اس راہ کا سرے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

مرشد باجھوں فقر کماوے، وِچ کفر دے بُڈے ھُو
شیخ مشائخ ہو بہندے حجرے، غوث قطب بن اُڈے ھُو
تسبیحاں نَپ بَہن مسیتی، جویں مُوش بہندا وَڑ کھُڈے ھُو
رات اندھاری مشکل پینڈا با ھُوؒ ، سَے سَے آون ٹھڈے ھُو

انسان مرشد کامل کی راہنما ئی کے بغیر نہ صرف وصالِ حق سے محروم رہتا ہے بلکہ بعض اوقات کفر میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوجاتا ہے کیونکہ جب اسے اپنی عقلی جدوجہد سے خدا کا وصال نصیب نہیں ہوتا تب وہ سمجھ لیتا ہے کہ اسکی ہستی ہی نہیں ہے۔ یوں وہ کفر کے اندھیر وں میں گم ہو جاتا ہے یا انا پرستی اور خود پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور رجوعاتِ خَلق کا شکار ہو کر زیادہ سے زیادہ کسی حجر ے میں پیر بن کر بیٹھ جا تا ہے اور غوث وقطب کہلانے لگتا ہے۔ کوئی تسبیح پکڑ کر مسجد یا حجرے میں یوں جا بیٹھتا ہے جس طرح کوئی چوہا بِل میں دبک کر بیٹھ جا تا ہے اس طرح اپنی عبادت وریاضت کا ڈھونگ رچاتا ہے ۔مر شدِ کامل کے بغیر لاعلمی کی تاریکی میں رہتے ہوئے اس دشوار گزار راستے میں ٹھوکر یں ہی ٹھوکریں ہیں۔
گزشتہ تمام ادوار میں سوائے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے دور کے، ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے ذریعے دیدارِ الٰہی کا یہ راستہ صرف چنے ہوئے خاص طالبانِ مولیٰ کے لیے مخصوص تھا اور عام مسلمانوں سے مخفی رکھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہی تھی کہ مسلمان حبِ دنیا، مادہ پرستی اور فرقہ پرستی میں اس قدر گم ہو گئے کہ کوئی اس راہ کا طالب رہ ہی نہیں گیا۔ جب حق کو تلاش کرنے والے ہی نہ رہے تو حق نے بھی خود کو چھپا لیا۔ اولیا اللہ باطنی نعمتیں چھپانے نہیں‘ بانٹنے کے لیے دنیا میں آتے ہیں لیکن کوئی طلبگار ہی نہ ہو تو کس کو دیں۔ اقبالؒ بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

جلوۂ طور تو موجود ہے کوئی موسیٰ ؑ ہی نہیں

البتہ روحانی سلاسل مخفی طور پر ہمیشہ جاری و ساری رہے ہیں اور صادق طالبانِ مولیٰ دیدارِ الٰہی کی پیاس بجھانے اور باطن کی آراستگی کے لیے ہمیشہ اولیا کرام کی بارگاہوں کا رخ کرتے رہے اور ان سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کا فقر و تصوف کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا کارنامہ(contribution ) ہے کہ آپؒ نے اسمِ اللہ ذات کے فیض کو خاص طالبانِ مولیٰ تک محدود رکھنے کی بجائے اسے عوام الناس پر کھول دیا ہے۔ اب ہر مسلمان کو کھلے عام اسمِ اعظم اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور کے ذریعے لقائے الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کی دعوت دی جا رہی ہے۔ اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

چھپایا حسن کو اپنے کلیم ؑ اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں

آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ترتیب اور طریقہ یہ رہا کہ آپ پہلے عام انسان کو اپنی توجہ سے طالب مولیٰ بناتے اور پھر قرب و دیدارِ الٰہی عطا فرماتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اسی ترتیب کو آپ کے محبوب اور آپؒ کے روحانی و حقیقی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس آگے بڑھا رہے ہیں اور طالبانِ مولیٰ کے لیے مزید آسانیاں پیدا کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس راہ کی طرف مائل ہوں اور اپنا مقصدِ حیات پاکر بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو سکیں۔ بے شک آپ مدظلہ الاقدس کا وجود مومنوں پر اللہ کا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ مدظلہ الاقدس کا دستِ شفقت ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے اور آپ کے زیرِ سایہ اللہ کی طرف معراج اور کامل دیدار کی نعمت عطا فرمائے۔ ( آمین)

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں