Thaveel-e-Qbila

تحویل قبلہ اور آزما ئشِ عاشقاں– Tahweel-e-Qibla aur Azmaish-e-Ashiqana

تحویل قبلہ اور آزما ئشِ عاشقاں

تحریر: مولانا محمد اسلم اعوان سروری قادری

تحویلِ قبلہ کا حکم اور اسکی اہمیت

تحویلِ قبلہ کا حکم رجب یا شعبان سن2ہجری میں نازل ہوا۔ نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت بشر بن براؓ کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے اور وہاں نماز کا وقت ہوگیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام لوگوں کو نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے۔دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہوا اور اسی وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کی اقتدا میں تمام لوگ کعبے کی طرف پھر گئے۔ اسکے بعد مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں اسکی منادی کر دی گئی۔ بیت المقدس مدینے کے شمال میں ہے جبکہ کعبہ جنوب میں‘ اس لئے قبلہ تبدیل کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑاہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنا پڑی ہوں گی چنانچہ بعض روایات میں یہ تفصیل مذکور بھی ہے سورۃ البقرہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا ص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط (البقرہ۔144)
ترجمہ: پس ضرور بالضرور ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں ۔پس ابھی اپنا رُخ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجیے۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحویلِ قبلہ کا حکم آنے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے منتظر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ محسوس فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دور ختم ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ بیت المقدس کی مرکزیت بھی ختم ہوچکی لہٰذا اب اصل مرکز مرکزِ ابراہیمی (بیت اللہ) کی طرف رخ کرنے کا وقت آگیا۔
مکہ مکرمہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور کعبہ بھی آپ کے سامنے ہوتا تھا جیسا کہ امام احمد ؒ نے ابنِ عباسؓ سے نقل کیا ہے لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو دونوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنا ناممکن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم 16 یا 17 مہینے بیت اللہ کی طرف پشت کر کے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ (ابنِ کثیر)
مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دو ضرورتیں ایک ساتھ پیش آگئی تھیں۔ ملتِ ابراہیمی کی تاسیس و تجدید کے لحاظ سے کعبہ کی طرف رخ کرنے کی ضرورت تھی لیکن مشکل یہ بھی پیش آرہی تھی کہ بیت اللہ جو اصل مقصود ہے اسے امتیاز اور اختصاص حاصل نہیں ہو رہا تھا کیونکہ مشرکین اور کفارِ مکہ بھی کعبہ ہی کو اپنا قبلہ سمجھتے تھے اس بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مقامِ ابراہیم کے سا منے آجاتے لیکن جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو دونوں کی طرف رُخ کرنا ممکن نہ تھا ۔
مدینہ میں دو گروہ آباد تھے مشرکین‘ جن کا قبلہ کعبہ شریف تھا اور اہلِ کتاب جن کا قبلہ بیت المقدس تھا۔ شرک کے مقابلے میں یہودیت اور نصرانیت دونوں کو ترجیح تھی اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تقریباً سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی ۔مزید یہ کہ مکہ میں اکثر و بیشتر اسلام لانے والے لوگ مشرکینِ مکہ میں سے تھے اس لئے فی الحقیقت ان کاا س بات میں بڑا کڑا امتحان تھا کہ وہ اسلام لانے کے بعد کس قدر امیرِ الٰہی اور اتباعِ سنتِ رسول کا فراخ دلانہ مظاہرہ کرتے ہیں اپنا آبائی قبلہ بیت اللہ چھوڑ کر بیت المقدس کو اپنا قبلہ بناتے ہیں یا پھر اسی آبائی قبلہ پر اڑے رہتے ہیں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 143 میں اللہ تعالیٰ نے اسی آزمائش کی طرف اشارہ کیا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْل َ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ ط وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ ط وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ بِاالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رّحِیْمٌ (سورۃ البقرہ ۔143 )
ترجمہ: اور جس قبلے پر آپ (بیت المقدس) تھے اسکو ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے اور کون اُلٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور یہ بات (تحویلِ قبلہ) لوگوں کو گراں معلوم ہوئی مگر ان کو نہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہارے ایمان ضائع کر دے۔ بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت ہی شفقت فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
ہجرت کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو صورت حال اب بالکل ہی بدل چکی تھی مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی آزاد اسلامی ریاست معرضِ وجود میں آچکی تھی اب بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھنا گویا یہود و نصاری کی قیادت و سیادت کو قبول کر لینے کے مترادف تھا۔ اسکے علاوہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ محسوس فرما لیا تھا کہ اب یہودی کسی قیمت پر اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ مسلمان قبلہ کے معاملہ میں ہماری موافقت کرتے ہیں اور دین کے معاملہ میں مخالفت کرتے ہیں یہ عجیب قسم کا تضاد ہے جو ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہود کی یہ باتیں سن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام چاہتے تھے کہ ہمارا قبلہ کعبہ ہی ہو اس لئے بار بار بارگاہِ الٰہی میں التجا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا:
’’میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہودیوں کے قبلہ سے پھیر دے ،کسی اور طرف میرا رخ کر دے‘‘۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ میں بھی آپ کی طرح اللہ کا ایک بندہ ہوں یہ بات میرے بس سے باہر ہے میں تو صرف حکم کا پابندہوں لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے اور اسی سے ہی درخواست کیجئے۔ پس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بار بار آسمان کی طرف نگاہ فرماتے اس امید کے ساتھ کہ جبرائیل علیہ السلام اللہ کی بارگاہ سے کب وحی لے کر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کی طرف سے اس بارے میں کیا حکم لاتے ہیں۔
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
قَدْ نَرٰیْ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃَ تَرْضٰھَا ص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِِط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْاوُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ ط وَمَا اللّٰہُ بِغٰفِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَo 
ترجمہ: )اے حبیب!)ہم بار بار آپ کے رخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں،سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں ،پس آپؐ اپنارخ ابھی مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیے اور (اے مسلمانو!)تم جہاں کہیں بھی ہو پس اپنے چہرے اسی کی طرف پھیر لو اور وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے ضرور جانتے ہیں کہ یہ (تحویلِ قبلہ کا حکم )ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دے رہے ہیں۔
نماز کے دوران قبلہ کے تبدیل ہونے پر کیفیت کیا تھی‘اس میں دو روایتیں ہیں:
پہلی روایت یہ ہے کہ امام اور مقتدی یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب اپنی جگہ سے نصف دائری شکل میں گھوم گئے اور امام کعبہ کی جانب سے مسجد کے آخری حصہ میں پہنچ گئے سب سے پہلے امام پھر مرد مقتدی اور پھر عورتیں۔ (احادیث میں جو لفظ ہیں کہ گھوم گئے) اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ امام صفوں کو چیر کر آگے نکلے ہوں بلکہ یہ ممکن ہے کہ صرف گھومے ہوں نصف دائرہ کی شکل میں۔
علامہ حافظ ابنِ حجر ؒ لکھتے ہیں تحویلِ قبلہ کی جو کیفیت حضرت ثویلہ بنت اسلمؓ نے بیان کی ہے وہ ابنِ ابی حاتم میں موجود ہے۔ انہوں نے اسکی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین مردوں کی جگہ آگئیں اور مرد خواتین کی جگہ آگئے اسطرح ہم نے باقی دورکعتیں بیت اللہ کی جانب منہ کر کے ادا کیں۔ حافظ ابنِ حجر کہتے ہیں کہ اس منظر کی تصویر کشی اس انداز سے کرنی ہے کہ امام کے آگے والے حصے سے مقتدی پچھلے حصے میں چلے جائیں کیونکہ قبلہ رخ ہونے پر بیت المقدس کی جانب پیٹھ ہوتی ہے اور اگر امام اپنی جگہ پر کھڑا کھڑا ہی گھوم جائے تو اس کے پیچھے کوئی جگہ ہی نہیں بچتی چنانچہ جب امام نے جگہ تبدیل کی تو مردوں نے بھی گھوم کر اپنی جگہ تبدیل کی اور اسطرح عورتوں نے بھی ان سارے مراحل میں دورانِ نماز زیادہ حرکت کی۔ آیا یہ حرکت (یعنی عملِ کثیر)جائز ہے یا نہیں‘ علامہ ابنِ حجر کہتے ہیں اس بارے میں احتما ل ہے کہ یہ نماز میں زیادہ حرکت کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہو کیونکہ یہ یقینی ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات اور حرکت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مصلحت کی بنا پر بہت زیادہ حرکت کو معاف کر دیا گیا ہو یا پھر تحویلِ قبلہ کیلئے یہ بات خاص ہو یا ممکن ہے کہ دورانِ نماز مسلسل قدم نہیں اٹھائے گئے بلکہ وقفے وقفے سے قدم اٹھائے گئے ہوں واللہ اعلم۔ (فتح الباری 5061/۔507(مزید تفصیل کیلئے تفسیر ابن کثیر کا مطالعہ فرمائیں۔جلد اوّل)
دوسری روایت یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صفوں کو چیر کر پیچھے تشریف لائے اور مرد اپنی جگہ گھوم کر آگے ہوئے اور عورتیں ایک جانب سے اگلے حصے سے پچھلے حصے کے طرف آگئیں۔ (تفسیر المیزان)

کعبہ المکرمہ یعنی بیت اللہ کو قبلہ بنانے کی وجوہات واسباب

اوّل :کعبہ حضور نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جدِ امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کا قبلہ تھا۔
دوم: نیز اہلِ عرب کو اسلام کی طرف مائل کرنے کا ایک مؤثرذریعہ تھا ۔
سوم :اسکے علاوہ ایک اور بڑی وجہ یہ تھی کہ قرآنِ مجید فرقانِ حمیدسے پہلے کتابوں میں یہ لکھا تھا کہ نبی آخرالزماں کا قبلہ کعبہ شریف ہوگا اور اگر تم (یعنی اُمتِ مسلمہ) کعبہ کی طرف منہ یا رخ کر کے نماز نہیں پڑھو گے تو وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یہ وہ نبی نہیں جس کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی ہے اور مشرک کہیں گے کہ دعویٰ تو کرتے ہیں ملتِ ابراہیمی ہونے کا لیکن ان کے قبلہ کو قبلہ نہیں سمجھتے جو کہ انکے ہاتھوں کا تعمیر کردہ ہے۔
چہارم: کعبہ کا قبلہ متعین کیا جانا خود بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اسطرح ملتِ اسلامیہ کو ایک مخصوص مرکز عطا فرما دیا گیا جو انکی عبادات اور توجہات کا مرجمع ہو تاکہ رنگ ، نسل ، زبان ، قومیت اور وطن کے سب اختلافات کو بھلا کر سب ایک متحد قوم بن جائیں اور دیکھنے والے یہ یقین کر لیں یہ ایک قوم ہے ان سب کا مرکز توجہات ایک ہے ان کا مقصدِ حیات ایک ہے۔
علاوہ ازیں کئی وجوہات تھیں جن کونگاہِ نبوت دیکھ رہی تھی جن کے باعث حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دلی تمنا تھی کہ کعبہ کو قبلہ بنایا جائے اور اسی لئے چشمِ امید درِ رحمت کی طرف بار بار اٹھتی رہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشنودی کی خاطر آیت کریمہ میں اعلان فرما دیا کہ اے محبوب! جو قبلہ تمہیں پسند وہی ہمیں پسندہے اور آپؐ کی خوشی کیلئے ہم کعبہ کو قبلہ مقرر فرماتے ہیں۔ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ماضی کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا بلکہ مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تیرے رخِ انور کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا(قدنرٰی) ایسی چیز نہیں کہ جسے قصہ ماضی بنا کر بیان کیا جائے بلکہ چشمِ قدرت اس منظر روح پرورکا اب بھی یونہی مشاہدہ فرما رہی ہے۔ فرمایا ہم دیکھ رہے ہیں تیرا بار بار آسمان کی طرف اپنے رُخِ جہاں افروز کا اٹھانا کیا شانِ محبوبیت ہے سبحان اللہ۔ (تفسیر ضیاء القران)
تحویلِ قبلہ کے بعد یہود اور منافقین نے اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی اور سادہ لوح مسلمانوں کو طرح طرح کے مکروفریب کے ذریعے اسلام سے برگشتہ کرنا اپنا مشغلہ بنا لیا۔ قرآن پاک نے انکے سب شور کا ایک ہی جواب دیا کہ اس میں اعتراض کی کیا بات ہے مسلمانوں سے پہلے جتنی امتیں گزری ہیں سب کیلئے ایک سمت عبادت کرنے کیلئے مقرر کر دی گئی اگر پیغمبر اسلام نے اپنے ربّ کے حکم کے مطابق کعبہ کو اپنی امت کیلئے قبلہ مقرر فرما دیا تو اس میں کیا انوکھی بات ہے کہ تم یوں سیخ پا ہو گئے بلکہ تمہاری اپنی کتابوں میں اسکی گواہی موجود ہے۔ صحابہ کرامؓ نے اتباعِ رسول کا حق ادا کر دیا حضور تو کعبہ کا بھی کعبہ ہیں۔ حضرت بلالؓ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دینے لگے تو پوچھا رخ کدھر کروں تو حضور نے فرمایا کہ ہمارے چہرے کی طرف۔ (ضیاء القران)
پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں اسلام کی حقیقت گردن جھکا دینا ہے۔ اولیا کرام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دیا اور چون چرا اور اسکو یوں کر ،اور یوں نہ کر ، کو بھلا دیا۔ (الفتح الربانی۔ملفوظات غوثیہ)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ ایسے طالبان کیلئے فرماتے ہیں :
مرشد مینوں حج مکے دا، رحمت دا دروازہ ھو
کراں طواف دوالے قبلے، نت ہووے حج تازہ ھو
ایک اور جگہ آپ فرما تے ہیں:
جس دینہہ دا میں در تینڈے تے، سجدہ صحی ونج کیتا ھو
اس دینہہ دا سر فدا اتھائیں، میں بیا دربار نہ لیتا ھو
علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے:
کہتا ہے زمانے سے یہ درویش جوان مرد
جاتا ہے جدھر بندۂ حق تو بھی اُدھر جا!
مولانا رومؒ فرماتے ہیں ہزار کتاب کے اوراق کو آگ میں جلادے اور دل کا رخ دلبر کی جانب کردے۔
میرے مرشد کریم سلطان العاشقین فرماتے ہیں ’’طالبِ مولیٰ کو سورج مکھی کی طرح ہونا چاہئے جس طرح سورج مکھی کا رخ ہمیشہ سورج کی طرف ہوتا ہے اسطرح طالبِ مولیٰ کا رخ ہمیشہ مرشد کی طرف ہوتا ہے ۔ (از کتاب: سلطان العاشقین)
پس ثابت ہو ا کہ تحویلِ کعبہ کا مقصود اگر قبلہ تبدیل کرناتھا تو یہ بھی جانچنا تھا کہ کون اپنے مرشد کریم یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اقتدا میں اپنا رخ تبدیل کرتا ہے اور کون نہیں۔صادق عاشقوں کا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رخ کے ساتھ ہی اپنا رخ بھی بدل لینا ثابت کرتا ہے کہ اصل مرکز اور قبلہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ یوں صادق و عاشق طالبانِ مولیٰ اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوئے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی ایسا عاشقِ رسول بنائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں