امیر الکونین–ameer-ul-kaunain

امیر الکونین

تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ

قسط نمبر 04
مترجم احسن علی سروری قادری

فقیر عارف باللہ نفس پر حکمران ہوتا ہے۔ وہ روشن ضمیر اور فنا فی اللہ فقیر اور صاحبِ کیمیا نظر ہوتا ہے۔ اس کا باطن پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہتا ہے۔ وہ علمِ اللہ ظاہر و باطن اور تفسیر کا باتاثیر عالم ہوتا ہے جسکی توفیق اسے اسمِ ذات کے تصور سے حاصل ہوتی ہے۔ اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہونے والی حضوری اسے تصرف، توجہ، تفکر اور تحقیق عطا کرتی ہے جس کے بعد دونوں جہان اس کے ایک ہاتھ کی مٹھی میں دانۂ اسپند کے برابر نظر آتے ہیں۔ اس کا وجود زندہ ہو جاتا ہے اور وہ دونوں جہان کا نظارہ ناخن کی پشت پر دیکھتا ہے۔ اسے پڑھنے لکھنے اور تین انگلیوں میں قلم پکڑنے کی کیا ضرورت۔ جو کوئی تصور اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہونے والی توفیق، تصرف اور اس کی تحقیق کا منکر ہو وہ کاذب اور زندیق ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ عارف باللہ لاھوت لامکان میں اللہ کے قرب اور اس کے ساتھ بقا کی بدولت بے حجاب اللہ کا دیدار کرتا ہے۔ ایسے عارف باللہ کو نفل نماز پڑھنے اور استخارہ کرنے کی کیا ضرورت۔ وہ عارف ولی اللہ عالم باللہ جو معرفتِ توحید اور وصالِ حق میں غرق ہو اسے فال نکال کر لوگوں کے حالات بتانے کی کیا حاجت۔ کل و جز کے تمام علوم اس کو حاصل ہوتے ہیں۔ اور جو کچھ لوحِ محفوظ پر تحریر ہوتا ہے وہ عارف باللہ پر روشن، واضح، معلوم اور مکشوف ہو جاتا ہے۔ جو بولتا ہے وہ جانتا نہیں اور جو نہیں بولتا وہ جانتا ہے۔ مالک الملکی فقیر اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ (جہاں فقر مکمل ہوتا ہے وہی اللہ ہے) کے مقام کا حامل‘ امن پسند ہوتا ہے یعنی ہر مشکل کی چابی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس سے وہ تمام عالم کے معاملات حل کرتا ہے۔ تصرفِ ازل کی غنایت سے ازل کی ہر خواہش سے پاکی حاصل کر لیتا ہے۔ اسی طرح عقبیٰ ، دنیا اور ابد کے تصرف کی غنایت سے ان سے پاکی حاصل کر لیتا ہے۔ بیت
ہر تصرف در عمل آوردہ ایم
ہر تصرف ترک کردہ بردہ ایم
ترجمہ: ہم ہر تصرف کو عمل میں لائے اور پھر اس سے غنایت حاصل کر کے اسے ترک کر دیا۔
اس راہِ فقر کا تعلق گفتگو سے نہیں ہے بلکہ خود اپنی آنکھوں سے احوال کا مشاہدہ کرنے سے ہے۔ جو فقیر فقر میں مکمل ہو چکا ہو اس کے لیے ذکر، فکر، مراقبہ اور مقام حرام ہیں۔ قطعہ
مردہ دل عالم بود بے معرفت
زندہ دل عالم بود عیسیٰؑ صفت
مردہ دل زندہ کند بایک نظر
موسیؑ ٰ را تعلیم شد علم از خضر ؑ
ترجمہ: مردہ دل عالم بے معرفت ہوتا ہے اور زندہ دل عالم عیسیٰ ؑ کی صفات کا حامل ہوتا ہے جو ایک ہی نظر سے مردہ دل کو زندہ کر دیتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام نے یہی علم سکھایا تھا۔
پس معلوم ہوا کہ کُل (ہر شے سے) لایحتاج ہوتا ہے جبکہ جز کُل کا محتاج ہوتا ہے۔ پس فقیر کل ہے اور دیگر ہر مراتب و طبقات کے اولیا جیسا کہ غوث و قطب‘ جز ہیں۔ پس جب دیگر اولیا فقیر محی الدین جو کہ کُل کی کلید ہے‘ کا ساتھ اختیار کرتے ہیں تو وہ عارف قادری بن جاتے ہیں جو وحدت کے مقام پر فائز اور تقلید کی تکلیف سے آزاد ہوتے ہیں۔ قادری اسے کہتے ہیں جو اپنے طالب کو تمام مراتب ایک نظر سے طے کرا کر ہر مرتبہ کی انتہا تک پہنچا دے۔ قادری توفیقِ الٰہی کا نام ہے اور اس کا باطن قربِ الٰہی میں ہونے کے باعث کامل ہوتا ہے جس کی تحقیق کی جا سکتی ہے۔ جو کوئی قادری فقیر کے سامنے سر اٹھاتا ہے معلوم ہوا کہ وہ منافقین میں سے ہے۔ قادری فقیر کا دشمن تین حکمتوں سے خالی نہیں ہوتا یا وہ ناقص ہوتا ہے یا اللہ سے دور ہوتا ہے یا معرفتِ الٰہی سے اندھا اور محروم ہوتا ہے۔ قادری فقیر حوصلہ مند ہوتا ہے۔ اللہ کے نام کے ذکر کی بدولت اس کا قلب زندہ اور نفس فنا ہوتا ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ قادری فقیر لازوال اختیار کا حامل ہوتا ہے خواہ زبان سے اقرار کرے یا نہ کرے۔ بیت:
باھُو نحس را سعد گرداند
نظر ناظر را بود روح الامر
ترجمہ: باھُوؒ نظر سے نحس کو سعد بنا دیتا ہے کیونکہ اس کی نظر اللہ کا دیدار کرنے کی بدولت روح الامر ہوتی ہے۔
یہ فقیر کے ابتدائی مراتب ہیں۔ اے عارف و عالم و علما باللہ، اے عاقل اہلِ حضور ولی اللہ اور صاحبِ شعور ظلِ اللہ! ہر ایک کو یہ جاننا چاہیے کہ علمِ توریت، علمِ انجیل، علمِ زبور، علمِ قرآن اور اسمِ اعظم، علمِ کیمیا اور چاروں کتابوں میں بیان کردہ علم، علمِ احادیثِ نبوی و قدسی، علمِ صحیفہ، علمِ خواب و الہام، تمام انبیا کا علم، علمِ ظاہر و باطن، حکمتِ الٰہی، حضرت آدم ؑ صفی اللہ سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک اٹھارہ ہزار عالم کی تمام مخلوقات جنہیں کن فیکون کہہ کر تخلیق کیا گیا‘ کا علم، لوحِ محفوظ پر لکھی تمام تفصیلات، عرشِ اکبر اور کرسیٔ اعظم کا علم، علمِ ازل، علمِ ابد، علمِ دنیا، علمِ عقبیٰ اور ربّ العالمین کے دیدار سے مشرف کرنے والا علم اور توحیدِ الٰہی اور اس کے اسرار کا علم سب اسمِ اللہ ذات کی شرح اور اسمِ اللہ ذات کی طے میں ہیں۔ کوئی بھی چیز اسمِ اللہ ذات کی طے سے دور اور باہر نہیں۔ جاننا چاہیے کہ جو بھی فقر کی راہ پر قدم رکھے تو سب سے پہلے علمِ ظاہر و باطن سے خود کو آزمائے کیونکہ جاہل جب راہِ فقر پر قدم رکھتا ہے تو وہ پاگل اور پریشان ہو کر رجعت کھا جاتا ہے اور اس کا قلب ضبط ہو جانے کے باعث وہ دیوانہ ہو جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
وَمَنْ تَزَھَدَ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَھُوَ جِنَّ فِیْ اٰخِرِ عُمْرِہٖ اَوْ مَاتَ کَافِرًا
ترجمہ: اور جو بغیر علم زہد اختیار کرتا ہے وہ آخری عمر میں شیطان یا کافر ہو کر مرتا ہے۔
لیکن علم دو قسم کے ہیں علمِ ظاہر و علمِ باطن۔ علما ظاہری علم حاصل کرنے کے بعد عالم اللسان بنتے ہیں جبکہ علمِ باطن علمِ قلب ہے جو کوئی مکمل معرفتِ توحیدِ الٰہی حاصل کر کے علمِ باطن حاصل کرتا ہے اسے علمِ ظاہر پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مطلب یہ کہ علمِ ظاہر دلیل اور راہِ راست (صراطِ مستقیم) کے متعلق جاننے اور نگہبانی کے لیے ہے جبکہ راہِ طریقت پر رفیق علمِ باطن ہی ہے جو توفیقِ الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ جس طرح علمِ ظاہر (کی ایک حیثیت) ہے اسی طرح علمِ باطن (کی اپنی منفرد حیثیت) ہے۔ علمِ ظاہر نمک کی مثل اور علمِ باطن کھانے کی مثل ہے جس میں نمک گم ہو جاتا ہے۔ علمِ ظاہر چراغ کی مثل اور علمِ باطن آفتاب کی مثل ہے۔ علمِ ظاہر دودھ کی مثل اور علمِ باطن مکھن اور گھی کی مثل ہے۔ علمِ ظاہر جسم کی مثل اور علمِ باطن روح کی مثل ہے۔ علمِ ظاہر کھیتی کی مثل اور علمِ باطن غلے کی مثل ہے۔ علمِ ظاہر محنت کا متقاضی ہے جس میں مطالعہ کے لیے تیس سال کا وقت درکار ہے۔ جس کے بعد وہ عالم فاضل بن کر تمام علم ظاہر حاصل کرتا ہے۔ اگر مرشد کامل ہو تو اسمِ اللہ ذات کی حضوری سے علمِ باطن عطا کر کے ایک لمحہ میں وصال عطا کر دیتا ہے۔ علمِ باطن لازوال ہے کیونکہ علمِ باطن جب عالمِ ظاہر پر غالب آتا ہے تو اس کے سینہ سے ایک ہی نظر میں علمِ ظاہر کو ایسے صاف کر دیتا ہے کہ عالمِ ظاہر کو حروفِ تہجی بھی یاد نہیں رہتے۔
علمِ ظاہر چودہ علوم پر مشتمل ہے جو منطق اور معانی سے متعلق ہیں اور زبانی طور پر پڑھے جاتے ہیں اور علمِ باطن ستر کروڑ تیس لاکھ پچاس ہزار پانچ سو اکتیس علوم پر مشتمل ہے جن میں سے ہزاراں ہزار علم ذکر فکر سے متعلق ہیں۔ ان ہزاروں علومِ باطن کو تحریر کرنے کے لیے دفاتر درکار ہیں کیونکہ یہ علوم بے شمار ہیں۔ علمِ باطن کا استاد ایک ہی بار میں کل و جز کے بے شمار علوم کا سبق دیتا ہے جس سے طالب روشن ضمیر ہو جاتا ہے اور لاھوت لامکان میں پہنچ کر صاحبِ عیاں عارف بن جاتا ہے۔ طالب کے لیے یہ ابتدائی سبق ہے جو وہ نفس پر غالب اور دونوں جہان کا نظارہ ناخن کی پشت پر دیکھنے والے عالم فقیر سے حاصل کرتا ہے۔ ایسا عالم فقیر صاحبِ نظر ہوتا ہے جس کے پاس معرفتِ توحید اور تفسیر کا مکمل باتاثیر علم ہوتا ہے۔
مطلب یہ کہ طالبِ علم دو قسم کے ہیں۔ اوّل مردک دوم غازی۔ مردک کون ہے اور مرد غازی کسے کہتے ہیں؟ مردک وہ ہے جو دن رات اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی نفس و شیطان کے ساتھ جنگ کرتا ہے اور مرد غازی وہ ہے جو تصور اسمِ اللہ ذات کی تلوار سے اغیار کا سر گردن سے اڑا دیتا ہے ان لڑائیوں سے اسے بے خوف ہونا چاہیے یعنی استقامت بہتر ہے کرامت و مقامت سے۔ ان کو عالم علما باللہ عارف ولی اللہ کہتے ہیں کیونکہ ان کا اصل علم اللہ سے وصال کے بعد حاصل ہوتا ہے جس سے انہیں بقا حاصل ہوتی ہے اور یہ بقا لقا کے بغیر ممکن نہیں۔جو عالم معرفتِ الٰہی، بقا، لقا اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت کی طلب نہیں کرتا وہ عالم کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ مردار دنیا کا طالب اور بے حیا وبے وفا ہے اور جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ جو عارف اپنی نظر سے طالبوں کو علم عطا کر دے اور توجہ سے حضوری میں پہنچا دے اس عارف کو علمِ ظاہر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بیت:
علم بہر از معرفت وحدت لقا
ہر کہ خواند بہر دنیا بے حیا
ترجمہ: علم معرفتِ وحدت اور لقا کی خاطر حاصل کرنا چاہیے۔ جو کوئی اسے دنیا کی خاطر حاصل کرتا ہے وہ بے حیا ہے۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا(المائدہ۔44)
ترجمہ: اور میری آیات کو معمولی قیمت پر مت بیچو۔
علم نصیحت اور اللہ کے اسرار کی معرفت کے لیے ہوتا ہے۔ بیت:
ہر کہ خواند الف عالم شد تمام
در قید او عالم شود ہم خاص و عام
ترجمہ: جو الف (اسم اللہ ذات) پڑھتا ہے وہ مکمل عالم ہو جاتا ہے اور اس کے تصرف میں ساری دنیا اور اس کی ہر خاص و عام مخلوق ہوتی ہے۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (الحجر۔29)
ترجمہ: اور میں نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی۔
جب روحِ اعظم حضرت آدم علیہ السلام کے وجودِ معظم میں داخل ہوئی تو اس نے ’’یا اللہ‘‘ کہا اور اللہ کا نام یعنی اسمِ اللہ ذات کہنے سے بندے اور ربّ کے درمیان قیامت تک کوئی حجاب باقی نہ رہا۔ اسمِ اللہ ذات کی انتہا اور کنہ تک ابھی تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔ پس دعوت پڑھنے کا عامل وہ ہے جو اسمِ اللہ ذات کو اس کی کنہ سے مقامِ کن فیکون پر پہنچ کر ترتیب سے پڑھے تو ماضی، حال اور مستقبل کی کسی شے کی حقیقت اس سے پوشیدہ نہ رہے گی۔ تمام انبیا، اصفیا، مرسلین، غوث و قطب اولیا نے اسم اللہ ذات کی برکعت سے مرتبہ و عزت پائی اور اسمِ اللہ ذات کو تحقیق کے طریق سے توفیقِ الٰہی کے لیے اپنا وسیلہ، پیشوا اور رفیق بنایا۔ اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے انہیں تصور حاصل ہوا، اسم اللہ ذات کی کنہ سے انہیں (ہر شے پر) تصرف حاصل ہوا، اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے ہی وہ صاحبِ توجہ و صاحبِ نظر ہوئے۔ اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے ہی وہ صاحبِ تفکر ہوئے۔ اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے انہیں مشاہدہ حاصل ہوا۔ اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے تجلیۂ نور حاصل ہوا۔ اسم اللہ ذات کی کنہ سے انہیں قربِ الٰہی حاصل ہوا۔ اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے حضورِ حق میں غرق نصیب ہوا۔ اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے فنا و بقا کے مراتب حاصل ہوئے اور اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے جمعیت، جمالِ الٰہی اور معرفت و وصال کے مراتب حاصل ہوئے۔ اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے انہیں محبت، طلب اور توفیقِ الٰہی اور احوال کی تحقیق کے مراتب حاصل ہوئے اور اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے انہیں شوق، شفقت اور قلبِ سلیم حاصل ہوا اور اسمِ اللہ ذات کی کنہ سے انہیں روحِ رحمت اور اللہ کا راز حاصل ہوا اور وہ مقامِ کن فیکون پر پہنچے۔
سات روز مشقِ مرقومِ وجودیہ کرنے سے اللہ حکیم کے سات حکم اور حکمت حاصل ہوتے ہیں جس کے بعد سر سے قدم تک جسم و روح کے ساتوں اندام اس طرح پختہ اور پاک ہوتے ہیں کہ تاقیامت ساری عمر چلہ کشی، خلوت، مجاہدہ اور ریاضت کی ضرورت نہیں رہتی۔ بیت:
ہر علم را در اسم اللہ بہ خوان
اسم اللہ بہ تو ماند جاودان
ترجمہ: ہر علم اسمِ اللہ ذات میں ہے لہٰذا تو اسم اللہ ذات پڑھ۔ اسم اللہ ذات ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گا۔
آنچہ خوانی غیر اللہ لاسویٰ
آن علم باو برد کبر و ہوا
ترجمہ: اللہ کے علم کے علاوہ جو علم تو پڑھتا ہے وہ تجھ میں تکبر اور خواہشاتِ نفس پیدا کرتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ مرشد کے ہاتھ پر بیعت ہوتے وقت اور اس سے علم، ذکر فکر کی تلقین لیتے ہوئے صاحبِ علم اور صاحبِ ذکر کے دل میں جو خطرات، وہمات، دلیل، وہم و خیال ہوں گے آخرت میں بھی وہی اس کا نصیب ہوں گے۔ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے فرمایا:
 اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
ترجمہ: بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
اَلنِّھَایَۃُ ھُوَ الرَّجُوْعُ اِلَی الْبِدَایَۃِ
ترجمہ: انتہا ابتدا کی طرف لوٹ جانے کا نام ہے۔
جو انتہا پر پہنچ چکا ہو وہ ابتدائی مرتبہ پر پہنچنے کی طلب میں ہے اور جو ابھی ابتدا پر ہے وہ مرتبہ انتہا پر پہنچنے کا خواہشمند ہے لیکن جو ابتدائی و انتہائی دونوں مراتب طے کر لیتا ہے اسے مرتبۂ جمعیت حاصل ہو جاتا ہے اور مرتبۂ جمعیت اللہ کے ساتھ مشغول ہونے میں ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ جو عالم تمام علم حاصل کر چکا ہو اور جو ذاکر ذکرِ اسم اللہ ذات کے تمام مراتب طے کر چکا ہو تو وہ علم عالم کو اور ذکرِ اسم اللہ ذات ذاکر کو باطن میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں لے جاتا ہے تب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی زبانِ مبارک سے فرماتے ہیں ’’اے عالم! جو علم چاہتا ہے مانگ لے تاکہ میں تجھے وہ عطا کروں۔‘‘ اگر عالم اس وقت علم سے معرفتِ الٰہی طلب کرے گا تو ہرگز خطا نہ کرے گا اور بے خطا عالم باللہ عارف ولی اللہ ہو جائے گا۔ اسی طرح ذاکر کو بھی حضور علیہ الصلوٰ ۃوالسلام فرماتے ہیں اور اسے قربِ الٰہی عطا فرماتے ہیں۔ اگر اس وقت علما دنیا اور عز و جاہ طلب کر لیں تو عز و جاہ دنیاوی بادشاہ کے قرب کی صورت میں حاصل ہو جاتا ہے لیکن نفس تباہ حال ہو جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں:
طَلْبُ الْخَیْرِ طَلْبُ اللّٰہِ وَ ذِکْرُ الْخَیْرِ ذِکْرُ اللّٰہِ  
ترجمہ: بہترین طلب اللہ کی طلب اور بہترین ذکر اللہ کا ذکر ہے۔
طالب تصور اسمِ اللہ ذات سے دونوں (ذکرِ اللہ اور ذاتِ الٰہی) طلب کرتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلدُّنْیَا قَوْسٌ وَّحَوَادِثُھَا سِھَامٌ فَفِرُّوْا اِلَی اللّٰہِ حَتّٰی نِجَاتُ النَّاسِ ۔
ترجمہ: دنیا ایک کمان ہے اور اس کے حادثات تیر ہیں۔ اللہ کی طرف بڑھو تاکہ نجات پا جاؤ۔
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں