غرور و تکبر–Guroor aur Takabbur

غرور و تکبر

تحریر: فائزہ سعید سروری قادری۔ سوئٹزر لینڈ

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسلامی تعلیمات کا ایک اہم باب اخلاقیات ہے جس میں کردار کے اچھے اور بُرے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ برے اخلاق میں سب سے خطرناک تکبر ہے جو کہ اللہ کے غیظ و غضب کا باعث بنتا ہے۔
تکبر کی حقیقت کیا ہے؟ جب انسان کوا پنے کسی خاص وصف یا کمال کا پتا چلتا ہے تو اسکے دل میں اس کے متعلق ایک خوشنما احساس پیدا ہوتا ہے جو کہ ایک فطری عمل ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں لیکن جب یہی خیال اس قدر بڑھ جائے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بر تر اور اعلیٰ تصور کرنا شروع کر دے تو اسکو غرور کہتے ہیں۔اور جب وہ اپنے اعمال اور گفتگو کے ذریعے اس کا اظہار کر بیٹھے تو اسکو تکبر کہتے ہیں چنانچہ کبر ایک باطنی حالت کا نام ہے اور اسکے نتیجے میں جو ظاہری عمل صادر ہوتے ہیں اسکا نام تکبرہے۔
شرعی لحاظ سے دوسروں کو حقیر سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو برتر اور اعلیٰ تصور کرنا تکبر ہے حالانکہ مخلوق ہونے کے لحاظ سے سب یکساں اور مساوی ہیں۔ یہ شیطانی صفت ہے کیونکہ شیطان نے تکبر ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اسی بنا پر وہ لعین اور مردود ہوا۔ لہٰذا متکبر شخص اسی طرح دین اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو جاتا ہے اور لوگوں کی لعنت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔
قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْھِمْ اُجُوْرَھُمْ وَ یَزِیْدُھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ج  وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوْا وَاسْتَکْبَرُوْا فَیُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا لا وَّلَا یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا۔ ( سورہ النساء۔173 )
ترجمہ: ’’ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انہیں وہ پورے پورے اجر عطا فرمائے گا بلکہ اپنے فضل سے کچھ زیادہ ہی عطا کرے گا مگر جنہوں نے عار محسوس کی اور تکبر کیا تو وہ انہیں دردناک عذاب دے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا کوئی دوست اور مددگار نہ پائیں گے۔‘‘
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے متکبر کی سخت مذمت کی ہے:
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ ( مومن۔ 60)
ترجمہ: اور تمہارے ربّ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا۔ بے شک جولوگ میری بندگی سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ ط فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ ط وَلَبِئْسَ الْمِھَادُ۔ (سورۃ البقر ہ۔206 )
ترجمہ:اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے ڈرو تو تکبر اسکو گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے سو اس کے لیے جہنم ہی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

قِیْلَ ادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ  فِیْھَا ج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ (سورۃ زمر۔72 )
ترجمہ:فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہو گے۔پس سرکشوں کا بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
حدیثِ قدسی ہے ’’ کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہمد ہے ان دونوں کے بارے میں جو مجھ سے نزاع کرے گا میں اسکو توڑ دوں گا۔‘‘
احادیثِ نبوی میں بھی تکبر کی مذمت کی گئی ہے:
1۔ جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اس پر ایک شخص نے پوچھا کہ آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس بھی اچھا ہو، جوتے بھی عمدہ ہوں (کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’ اللہ تعالیٰ خود جمیل ہے اسے جمال و نفاست پسند ہے (یہ کبر نہیں ہے) کبر تو یہ ہے کہ اتراہٹ کے مارے حق ہی کا انکار کر دے اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے لگے۔‘‘ (مسلم)
2 ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے’’لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے باپ دادا کے نام پر تکبر کرنا چھوڑ دیں ورنہ خدا ان کو نجاست کے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل کر دے گا۔‘‘ (بوداؤد۔ ترمذی)
3 ۔ حضرت عبد اللہؓ کا بیان ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایا ’’جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اور جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔ (ابنِ ماجہ)
4 ۔ حضرت سلمہؓ بن اکوع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ آدمی برابر اپنے نفس کی خواہش کے ساتھ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے متکبرین میں لکھ لیا جاتا ہے اور پھر ان کے انجام تک پہنچ جاتا ہے۔(ترمذی)
5۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے’’قیامت کے روز خدا کچھ لوگوں کو چیونٹیوں کی شکل میں اُٹھائے گا۔ لوگ انہیں اپنے قدموں تلے روندیں گے۔ پوچھا جائے گا یہ چیونٹیوں کی شکل میں کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تکبر کرتے تھے۔‘‘ (ترمذی)
اگر فقرا کاملین کی تعلیمات کو پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے بھی تکبر کو ناپسند کیا ہے اور عجز و انکسار کو پسند کیا ہے بلکہ تکبر کو معرفتِ الٰہی کے راستے کی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* اے اپنے اعمال پر غرور کرنے والے! تم کس قدر جاہل ہو اگر اللہ کی توفیق نہ ہوتی تو تم نہ نماز پڑھ سکتے نہ روزہ رکھ سکتے اور نہ صبر کر سکتے تھے۔ تمہارے لیے تو شکر کا مقام ہے نہ کہ غرور اور تکبر۔ اکثر لوگ اپنی عبادتوں اور اعمال پر مغرور اور مخلوق سے اپنی تعریف کے طالب ہوتے ہیں اور دنیا اور اہلِ دنیا کی طرف راغب اور متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی وجہ ان کی اپنے نفس اور خواہشات کے ساتھ وابستگی ہے۔ (الفتح الربانی۔مجلس 44 )
* تو اپنے اعمال اور احوال پر تکبر کرنے سے بچتا رہ کیونکہ یہ اپنے صاحب کو سرکشی میں ڈالنے والا اور اس کو اللہ تعالیٰ کی نظر سے گرا دینے والا ہے۔ (الفتح الربانی۔ مجلس51 )
* تجھ پر افسوس تو نے دنیا کی محبت اور غرور دونوں کو جمع کر لیا ہے یہ دونوں ایسی خصلتیں ہیں کہ اگر تو ان خصلتوں سے توبہ نہ کرے تو کبھی بھی فلاح نہیں پا سکتا۔ (الفتح الربانی۔مجلس 56)
* ریا، نفاق اور تکبر شیطان کے تیر ہیں جس سے وہ انسانی دل پر تیرا ندازی کرتا ہے۔ (الفتح الربانی۔مجلس 27 )
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* شہوت سے کیا گیا گناہ معاف ہو سکتا ہے مگر تکبر کی وجہ سے کئے گئے گناہ کی معافی نہیں۔ آدم علیہ السلام کا گناہ شہوت کی وجہ سے تھا جبکہ ابلیس کا گناہ تکبر کی وجہ سے تھا۔ (اسرار قادری)
* متکبر انسان شیطان کا مونس و مصاحب ہے۔ (محک الفقر )
آپؒ پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:
پڑھیا علم تے ودھی مغروری، عقل بھی گیا تلوہاں ھو
ُبھلا راہ ہدایت والا، نفع نہ کیتا دوہاں ھو
سر دتیاں جے سِرّ ہتھ آوے، سودا ہار نہ توہاں ھو
وڑیں بازار محبت والے باھوؒ ، کوئی راہبرلے کے سوہاں ھو
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اس بیت میں ان علما کا ذکر فرما رہے ہیں جن میں علم حاصل کرنے کے بعدغرور وتکبر اور اکڑ پید ا ہو جاتی ہے۔ آپؒ ان کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ علمِ ظاہری کے حصول کے بعد تو غرور ، تکبر اور خود پسندی میں مبتلا ہوگیا ہے جس سے تیری عقل نے بھی تیرا ساتھ چھوڑ دیا ہے بجائے اس کے کہ علم حاصل کرنے کے بعدتیری عقل میں اضافہ ہوتا اور تو صراطِ مستقیم کو پہچان لیتا لیکن تو تکبر اور انسانیت کی وجہ سے ابلیس کی طرح اپنی عقل بھی گنوا بیٹھا ہے علم اور عقل دونوں میں سے کسی نے تجھے فائدہ نہیں دیا اور اسی تکبر کی وجہ سے تو ’’ہدایت کی راہ (صراطِ مستقیم)‘‘ سے گمراہ ہوچکا ہے اگر سر دینے سے سرِّ الٰہی ہاتھ آجائے تو اس سودے سے گریز نہیں کرنا چاہیے لیکن عشق کے بازار میں مرشد کامل کی راہبری میں ہی داخل ہونا چاہیے کیونکہ وہ اس راہ کا واقف ہوتا ہے اور راہبر کے بغیر منزل نہیں ملتی۔ (شمس الفقرا۔ تکبر فخرو غرور)
اے نادان عالم!تو اپنے علم پر مغرور ہو رہا ہے حالانکہ تیرے علم نے تجھے قربِ معبود سے دور کردیا ہے اگرچہ تو ہر روز ’’کشاف وہدایہ‘‘ کا مطالعہ کرتا ہے لیکن جب تک تو خاصانِ خدا (اولیا کرام) کی خدمت میں نہیں پہنچے گا کچھ بھی نہیں جان سکے گا۔ (محک الفقر کلاں)
* عجب(خودپسندی) اور غرور سے کی گئی عبادت بری ہے اس سے عذرِ گناہ بہتر ہے۔ (عین الفقر)
* تکبر اور فخروغرور ورثۂ شیطان، فرعون اور قارون ہے۔ عاجزی ورثۂ انبیا اور اولیا ہے۔(عین الفقر)
میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی کتاب شمس الفقرا میں غروروتکبر کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:
* ’’عجز و انکساری راہِ فقر میں طالبِ مولیٰ کا ہتھیار ہے اس کے مقابلہ میں شیطان کا ہتھیار تکبر اور فخر و غرور ہے جس سے وہ طالبِ مولیٰ کو گمراہ کرتا ہے۔
* کبر اور عظمت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کبریائی اسی کے لیے زیبا ہے ۔حدیثِ قدسی ہے ’’کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہمد ہے ان دونوں کے بارے میں جو کوئی مجھ سے نزاع کرے گا تو میں اسے توڑ دوں گا‘‘۔ تکبر اور اپنے آپ کو بڑا جاننا ایک نہایت ہی مذموم خصلت ہے اور در حقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں سب سے بڑا ہے اسکی ذات ہر لحاظ سے مکمل اور جامع ہے اس لیے اس کے برابر نہ کوئی ہے اور نہ ہو سکتا ہے اس لیے کبریائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیب دیتی ہے کیونکہ اس کی بارگاہ میں اس کی مرضی اور رضا کے بغیر کسی کا کوئی درجہ اور حیثیت نہیں پروردگار ہر لحاظ سے کبیر ہے تو پھر انسان کا تکبر کرنا بے معنی ہے۔
* راہِ فقر میں طالبِ مولیٰ کے لیے اپنے آپ کو تکبر سے بچانا لازم ہے کیونکہ تکبر ختم ہوگا تو عاجزی و انکساری پیدا ہوگی اور یہ فقر کی بنیاد ہے عاجزی راہِ فقر میں آنے والی مشکلات و خطرات میں قلعہ بندی کا کام دیتی ہے۔ طالبِ مولیٰ پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اندر سے تکبر و انانیت کے تمام قلعوں کا خاتمہ کر کے عاجز بنے۔تکبر کا ارتکاب سب سے پہلے شیطان مردود سے ظاہر ہوا ۔ قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے:
ترجمہ: اور بے شک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس ان سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا۔ (استفسار) فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تونے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ (وہ) بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے بنایا۔ فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھے حق نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل تو ہے ذلت والوں میں۔
اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ تکبر کی ابتدا کیسے ہوتی ہے یا یہ کہ انسان کے اندر کن باتوں کی وجہ سے تکبرآتا ہے۔ اکثر لوگ اپنی عبادات کی وجہ سے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں۔
میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’عارفین اور فقرا کے نزدیک عبادت پر فخر کرنا ‘مغرور ہونا یا تکبر کرنا بہت بڑی بے وقوفی اور بھول ہے کیونکہ عبادات تو اللہ تعالیٰ نے قبول کرنی ہے خواہ وہ کرے یا رد کردے۔‘‘
حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں ’’ظاہری عبادات سے نفس موٹا ہو کر تکبر، انانیت اور ریا کاری اختیار کرتا ہے۔ (عین الفقر)
شیخ مطرف ؒ نے فرمایا ہے ’’اگر میں ساری رات سوتا رہوں اور صبح کو ہراساں و پریشان اٹھوں تو یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ساری رات نماز پڑھوں اور صبح کو اس عبادت پر غرور کروں۔
اکثر لوگ اپنے حسب و نسب پر بھی غرور و تکبر کر بیٹھتے ہیں حالانکہ اسلام میں تو کسی کو بھی رنگ و نسل کی بنا پر کوئی برتری حاصل نہیں اور حدیث پاک میں بھی اسکی مذمت ملتی ہے۔
اسی طرح لوگ اپنے حسن، علم ، عقل، اولاد اور رتبہ پر غرور کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن اگر وہ غو روتفکر کریں تو ان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ اس میں ان کا کوئی کمال نہیں یہ تو سب ’’عطا ئے الٰہی ‘‘ ہے وہ جسے چاہے نواز دے اور جس سے چاہے واپس لے لے ۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ذکر ہے
* قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکِ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط بِےَدِکَ الْخِےْرُ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِےْرٌ۔ (سورۃ آلِ عمران۔ 26)
ترجمہ: (اے حبیب) یوں عرض کیجئے اللہ! ملک کے مالک! تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ ساری بھلائی تیرے ہی دست قدرت میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اگر انسان صرف اس ایک آیت پر غور کرے تو اسکو یہ بات اچھی طرح سمجھ آجائے کہ اسکا غرور و تکبر اسکو کوئی نفع نہیں دے گا بلکہ اللہ ربّ العزت کی ناراضگی کا باعث بنے گا۔ کیونکہ جس نے عطا کیا ہے وہ واپس بھی لے سکتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ تکبر بہت سے گناہوں کی جڑ ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ تکبر انسان کو خود پسندی کی ایسی عادت میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اسکو اپنے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا اسکے لیے بہترین وجود اس کا وجود، بہترین فیصلہ اسکا فیصلہ، بہترین عمل اسکا عمل بن جاتا ہے۔ میں خوبصورت،میں عقلمند، اس میں صرف اور صرف ’مَیں‘ ہی رہ جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ اللہ کے اصولوں اور فیصلوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتا ہے اور خود اپنے آپ کو ہی مختارِ کل بنا لیتا ہے وہ اللہ کو تو مانتا ہے لیکن اسکا تکبر اسکو اپنی بات منوانے پر مجبور کر دیتا ہے اور وہ ہر کام اپنی مرضی سے کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس طرح وہ خود کو اپنے ربّ کا شریک بنا بیٹھتا ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اسی بنا پر متکبر کو قرآن میں کافر کہا گیا ہے اگر ہم ابلیس کے آدم کو سجدہ نہ کرنے والے واقعہ پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ابلیس کے غرور نے اس کو اللہ کا نافرمان بنا دیااور نافرمانی اور حکم عدولی طالبِ مولیٰ کا شیوہ نہیں۔
تکبرہی کے باعث ابلیس اللہ کے آگے دعویٰ کر بیٹھا کہ آنے والے لوگوں کو اللہ کے راستے پر نہیں چلنے دے گا اور دعویٰ کرنا تو اللہ کو سخت ناپسند ہے۔

دعویٰ کی دو اقسام ہیں:
1 ۔ دعویٰ حق:
یعنی دعویٰ کرنا کہ میرا ربّ اپنی ذات و صفات میں وحدہٗ لاشریک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آخری اور سچے نبی ہیں دعویٰ کرنا کہ راہِ فقر اللہ کی طرف جانے کا بہترین راستہ ہے دعویٰ کرنا کہ میرے مرشد پاک کامل اکمل مرشد ہیں اور انہی کے ذریعے سے معرفتِ الٰہی حاصل ہوگی ۔ تو دعویٰ حق غرور کے زمرے میں نہیں آتا۔
2 ۔اپنی ذات پر دعویٰ کرنا
دعویٰ کی یہ قسم اللہ کو سخت ناپسند ہے کیونکہ اس میں سراسر غرور وتکبر چھپا ہے انسان اپنی صلاحیتوں کی بنا پر سب کچھ کر گزرنے کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے اور وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ صلاحیتیں بھی عطائے الٰہی ہیں اور وہ جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔ مرشد کامل اکمل بذاتِ خود توفیقِ الٰہی ہے اور ان کے بغیر تو کسی کو کوئی کمال حاصل نہیں ہوسکتا۔
ایک مرید اپنے مرشد کا بہت خدمت گزار تھا مرشد پاک نے بھی خوش ہوکر اسکو یہ صلاحیت عطا کر دی کہ وہ کوئی بھی کام کہے اور کوئی مرید کر پاتا یا نہیں وہ مریدِ خاص اپنے مرشد کی مہربانی سے بہت اچھے طریقے سے انجام دے دیتا آہستہ آہستہ اس کے دل میں یہ غرور پیدا ہوگیا کہ اسکے جیسا اور کوئی مرید نہیں اور اس میں تمام کاموں کو کرنے کی صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ اس بات کو بھول گیا کہ یہ سب تو عطائے مرشد ہے۔ مرشد اپنے اس مرید کے دل کے حال کو بہت اچھی طرح جانتا تھا ۔ ایک مرتبہ مرشد نے اپنے تمام مریدوں کو باری باری ایک شخص کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا سب کے سب نا کام لوٹ آئے۔ آخر میں مرشد نے اپنے مرید خاص کو بھیجا۔ اس مرید کے دل میں غرور تھا کہ جو کام سب سے نہیں ہوا وہ میں تو کر ہی لوں گا جس جگہ مرشد نے اسے بھیجا تھا وہاں اس کو کوئی نہ ملا اور اس کی تلاش ناکام رہی۔ آخر تھک ہار کر ایک جگہ پریشان سا بیٹھ گیا کہ اچانک مرشد کی مہربانی سے اس پر یہ بات کھلی کہ سارا قصور تو نیت کا ہے پہلے نیت صاف تھی تو مرشد کی مہربانی سے کام پورا ہو جاتا تھا لیکن اب یہ غرور تھا کہ میں تو کا م پورا کر ہی لوں گا۔ یہ بات کھلتے ہی اس نے دلی طور پر معافی مانگی۔ اپنی نیت درست کی اور اسی جگہ پہنچا جہاں مرشد پاک نے حکم دیا تھا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہاں خود اس کے مرشد تشریف فرما تھے۔
تو اس بات کو مان لینا چاہیے کہ ہم کوئی بھی کام کوئی بھی ڈیوٹی مرشد کی توفیق کے بغیر نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ ہم غرور و تکبر سے چھٹکارا بھی نہیں پاسکتے اور نہ عاجزی مرشد کے بغیر آتی ہے جب تک مرشد پاک تزکیہ نفس نہیں کرتا اس وقت تک عاجزی محض ایک لفظ ہی ہوتا ہے اکثر لوگ ظاہری طور پر عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر اپنی اسی عاجزی پر متکبر ہوتے ہیں جس کا انہیں احساس تک نہیں ہوتا لیکن مرشدِ کامل اکمل کے تزکیہ نفس کرنے کے بعد باطنی تکبر ختم ہو جاتا ہے اور عاجزی لفظ سے وصف میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ عاجزی تکبر کا الٹ ہے اور عاجزی کے بغیر معرفتِ الٰہی کا حصول نا ممکن ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں ’’وصالِ الٰہی عاجزی اور انکساری سے حاصل ہوتا ہے ۔ الٰہی! تیرا ہر راز ہر صاحبِ راز (مرشد کامل) کے سینے میں جلوہ گر ہے تیری رحمت کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ جو تیری بارگاہ میں عاجزی سے آتا ہے وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ اے طالب! خود پرستی (تکبر) چھوڑ کر (عاجزی و انکساری اختیار کر) غرقِ نور ہوجا تاکہ تجھے ایسی حضور ی نصیب ہو کہ وصل کی حاجت نہ رہے۔ (کلید التوحید کلاں)
میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
’’عاجزی و انکساری راہِ فقر میں بہت بڑا ہتھیار ہے جو طالب کو شیطانی حملو ں سے محفوظ رکھتا ہے۔‘‘
لیکن طالبِ مولیٰ کے اندر اگر مرشد کی مہربانی سے عاجزی آبھی جائے تو اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہے کہ غرور و تکبر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا بلکہ خوف بڑھ جانا چاہے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ عاجزی ہی ہمارا تکبر بن جائے اور ہم اپنی عاجزی کو ہی سب سے بہتر سمجھ کر غرور میں مبتلا ہو جائیں ۔ حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے ہیں ’’عاجزی کے تکبر سے بچو کیونکہ یہ نفس کا فریب ہے اور انسان سمجھنے لگتا ہے کہ اس دنیا میں مجھ سے زیادہ عاجز کوئی نہیں ہے۔‘‘بلکہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایسا سانپ ہے جو کہ وقتی طور پر سو گیا ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ پھن اُٹھا سکتا ہے جیسے کہ مرشد کی مہربانی سے وقتاً فوقتاً عطائیں ہوتی رہتی ہیں کبھی مریدین کو کسی خاص ڈیوٹی کے لیے چن لیا جاتا ہے کبھی کسی امتحان یا آزمائش میں مرشد کی مہربانی سے کامیابی عطا ہوتی ہے اور کبھی آزمائش کے طور پر کوئی کرامت سرزد ہوجاتی ہے۔ اس وقت تکبر کا سانپ پھر سے ڈس سکتا ہے ۔ ہمیں ہر وقت محاسبہ نفس کرتے رہنا چاہیے اور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سب مرشد کا کرم ہے اور مرشد پاک کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ اور مرشد کی بارگاہ میں آنے سے پہلے کے حالات کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پہلے ہم کیا تھے اور ان کی مہربانی سے کیا ہوگئے ہیں اور یہ کہ جس نے ہمیں دیا ہے وہ واپس بھی لے سکتا ہے اور جس کو ہم اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں اسکو ہمارے سے بہتر بنا سکتا ہے۔
باجھوں عشقِ شیخ نہ ہووے دور
خودی، تکبر، مان، غرور
ترجمہ: جب تک تجھے اپنے شیخ (پیرومرشد) سے عشق نہیں ہوجاتا تیرے اندر خودی، تکبر،مان، غرور ختم نہیں ہوسکتا۔
عشقِ مرشد کے بغیر کسی کے اندر سے غرور و تکبر جیسی بیماریاں ختم نہیں ہوسکتیں۔ عشق ہوتے ہی انسان اپنے مرشد کے مقام، مرتبے، اوصاف اور اسکے کامل وجود کو پہچان لیتا ہے جیسے ہی وہ اپنے آپ کو کم تر سمجھنا شروع کرتا ہے مرشد اس کو نہ صرف غرور و تکبر بلکہ تمام خصائلِ ِ رذیلہ سے پاک کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور جیسے جیسے انسان پاک ہوتا جاتا ہے اسمِ اللہ ذات اس میں قرار پکڑتا جاتا ہے اور آخر کار مرشد اسے معرفتِ الٰہی تک پہنچا دیتا ہے۔ پس سمجھ لینا چاہیے کہ فقر میں ہر مقام و مرتبے کی بنیاد عشقِ مرشد ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہر طرح کے غرور و تکبر سے بچائے اور ہمارے اندر عاجزی و انکساری پیدا فرمائے تاکہ ہم اللہ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کر سکیں۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں