ڈیجیٹل دور میں تزکیۂ نفس Digital Daur Mein Tazkiya-e-Nafs

2.5/5 - (2 votes)

ڈیجیٹل دور میں تزکیۂ نفس Digital Daur Mein Tazkiya-e-Nafs

تحریر: محترمہ امامہ رشید سروری قادری

انسانی تاریخ میں ہر دور اپنے ساتھ نئے فتنے اور چیلنجز لے کر آیا ہے لیکن اکیسویں صدی کا یہ ’’ڈیجیٹل دور‘‘ اپنی نوعیت میں منفرد اور پیچیدہ ترین ہے۔ آج انسان بظاہر تو پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے، مگر اپنی روح اور اپنے خالق سے کٹ چکا ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے اس سیلاب نے جہاں انسانی زندگی کو سہل بنایا ہے وہاں انسانی قلب و نظر پر ایسے پردے ڈال دیے ہیں جنہیں چاک کرنا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ سکرین کے پیچھے چھپی ہوئی شہوات، حسد، ریاکاری اور وقت کا ضیاع وہ خاموش قاتل ہیں جو انسان کے تزکیہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس دور میں تزکیۂ نفس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ اب گناہ صرف ہاتھ کی ایک جنبش (Scroll) کی دوری پر ہے۔ جبکہ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد معرفتِ الٰہی ہے اور اس معرفت کا واحد راستہ ’’تزکیۂ نفس‘‘ ہے۔ تزکیہ کے لغوی معنی پاک کرنے اور پروان چڑھانے کے ہیں۔ اصطلاحِ تصوف میں نفس کو برائیوں، رذائل اور غیر اللہ کی محبت سے پاک کر کے اسے اللہ کی اطاعت کے لیے تیار کرنا تزکیہ کہلاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآنِ کریم میں انسانی کامیابی کا دارومدار تزکیۂ نفس پر رکھا ہے۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا۔لا ص وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا۔ (سورۃ الشمس ۔ 9-10)
ترجمہ: بیشک وہ کامیاب ہوگیا جس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا۔ اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) چھپا دیا۔

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ (سورۃ الاعلیٰ ۔ 14)
ترجمہ: بیشک وہی بامراد ہوا جو (نفس کی آلودگیوں سے) پاک ہو گیا۔

نفسِ امارہ کو روکنے کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی۔لا فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ِھیَ الْمَاْوٰی۔ (سورۃ النازعات ۔ 41-40)
ترجمہ: اور جو اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے نفس کو خواہشات سے روکا، تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک ’’تزکیہ‘‘ ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلّمُِہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِّیْہِمْ ط  اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔  (سورۃ البقرہ ۔129)
ترجمہ:اے ہمارے ربّ! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔

حدیثِ مبارکہ ہے:
خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔(صحیح بخاری ۔ 52)
مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ (جامع ترمذی ۔2459)
ڈیجیٹل دور میں یہ جہاد سکرین پر نظر آنے والے فتنوں، نام و نمود کی خواہش اور لایعنی بحثوں سے اپنے قلب کو محفوظ رکھنا ہے۔
اسی طرح بہت سے اولیااللہ نے بھی اپنی اپنی حیات میں انسان کو جہاد اور تزکیہ کی دعوت دی تا کہ وہ اللہ کے روبرو کامیاب ہو سکے۔ 

 حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں:
نفس کو پہچاننا معرفتِ حق کی کنجی ہے۔ جو اپنے نفس کا تزکیہ نہیں کرتا وہ کبھی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ آپ کے نزدیک نفس ایک ایسا کتا ہے جسے ریاضت کی زنجیر سے باندھنا ضروری ہے۔

امام غزالیؒ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ دل ایک آئینے کی مانند ہے اور گناہ اس پر دھوئیں یا زنگ کی طرح ہیں۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
نفسِ امارہ کو قتل کرنا تلوار سے ممکن نہیں، اسے صرف ’’اسمِ اللہ ذات‘‘ کی تجلی سے مارا جا سکتا ہے۔
آپؒ کے نزدیک نفس ایک ایسا فرعون ہے جو صرف اللہ کے نور کے سامنے جھکتا ہے۔

تزکیۂ نفس کے سبق آموز واقعات 

ایک مرتبہ حضرت عمرؓ بن خطاب بازار میں سے گزر رہے تھے۔ آپؓ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے آپ سے کہہ رہا تھا:
اے عمرؓ! تو امیرالمومنین بن گیا ہے لیکن اگر تواللہ سے نہ ڈرا تو وہ تجھے سخت پکڑے گا!
یہ دراصل خود حضرت عمررضی اللہ عنہٗ ہی تھے جو اپنے نفس کا محاسبہ کر رہے تھے۔
 پھر آپؓ نے فرمایا:اپنا حساب خود لو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔ (احیاء العلوم )
تزکیۂ نفس کا اصل راستہ یہی ہے کہ انسان خود اپنا احتساب کرے اور اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔

حضرت جنید بغدادیؒ اپنے مریدوں کی تربیت فرما رہے تھے۔ ایک دن آپؒ نے اپنے ایک مرید کو دودھ (یا تیل) سے بھرا ہوا پیالہ دیا اور فرمایا’’اس پیالے کو لے کر شہر کا چکر لگاؤ، مگر شرط یہ ہے کہ اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ گرے۔‘‘

 اس کے ساتھ ایک شخص کو مقرر کر دیا جو تلوار لے کر پیچھے چلتا تھا تاکہ اگر اس کا دھیان ہٹا اور دودھ گرا تو اسے سزا دی جائے۔

جب وہ واپس آیا تو حضرت جنیدؒ نے پوچھا:
راستے میں کیا دیکھا؟
اس نے جواب دیا:
ہمیں کچھ یاد نہیں، ہم تو صرف اس پیالے کو بچانے میں لگے رہے۔

آپؒ نے فرمایا:
بس یہی تزکیۂ نفس ہے ۔ جب انسان کا دل اللہ کی طرف ایسا متوجہ ہو جائے کہ دنیا کی کوئی چیز اسے غافل نہ کر سکے۔(الرسالہ القشیریہ)

تزکیۂ نفس یہ ہے کہ انسان اپنی توجہ کو اس قدر سنبھال لے کہ دنیا کی رنگینیوں میں رہتے ہوئے بھی اس کا دل اللہ سے غافل نہ ہو۔
جس طرح صحابہ کرامؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت سے تزکیہ پایا، عصر ِحاضر میں سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے تزکیۂ نفس کے قدیم فلسفے کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر پیش کیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی نگاہ ِکامل اور پاکیزہ صحبت سے زنگ آلود قلوب کا تزکیہ فرماتے ہیں جس سے انسان کا نفس پاک اور قلب زندہ ہو جاتاہے اور وہ حقیقی معنوں میں اللہ کی بندگی کرتا ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس کی مختلف تصانیف ’تزکیہ نفس کا نبوی ؐطریق‘، ’شمس الفقرا‘،’حقیقتِ نماز‘، ’حقیقتِ روزہ‘، ’حقیقتِ زکوٰۃ‘ اور ’حقیقتِ حج‘ ایسی مشعلِ راہ ہے جو بھٹکی ہوئی انسانیت کو دوبارہ صراطِ مستقیم اور بندگیٔ حقیقی کی طرف بلاتی ہے۔
اس کے علاوہ جہاں آج کے پرفتن دور میں انسان کے پاس طویل چلہ کشی اور سخت ریاضتوں کا وقت نہیں، وہاں اسمِ اللہ ذات کا ذکر اور تصور نفس کو پاک کرنے کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ اور آپ مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کا بنیادی جزو بھی ’’اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس‘‘ ہے۔ آپ نے اسمِ اللہ ذات کا ذکر اور تصور عام کر دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ آپ مدظلہ الاقدس ’ذکرِیاھو‘ کی تلقین فرماتے ہیں جو براہِ راست روح کی غذا ہے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ڈیجیٹل میڈیا کو ہی تزکیہ کے لیے استعمال کرنے کا درس دیا۔ آپ نے تحریک دعوتِ فقر کے پلیٹ فارم سے ڈیجیٹل و سوشل میڈیا کو تبلیغِ دین اور اصلاحِ نفس کا ذریعہ بنایا۔ آپ مرید کو مختلف ڈیوٹیوں میں مصروف کر دیتے ہیں جیسے کہ ویب ڈیزائننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، ویڈیو میکنگ اینڈ ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ۔ یہ ڈیوٹی دراصل مرید کے نفس کی قربانی ہے۔ جب مرید اپنا وقت اور صلاحیت اللہ کے لیے وقف کرتا ہے تو اس کا تزکیہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔درحقیقت یہ ڈیوٹی نہ صرف تزکیہ کا کام کرتی ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ طالب ایک دنیاوی ہنر سیکھ جاتا ہے جسے دورِ حاضر کی ضرورت کے تحت حلال آمدن کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ 

ڈیجیٹل دور جہاں ایک آزمائش ہے، وہیں یہ اللہ کے قرب کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اگر ہم اپنے نفس کی باگ ڈور شریعت اور طریقت کے تابع کر دیں۔ تزکیۂ نفس کوئی منزل نہیں بلکہ ایک سفر ہے جو موت تک جاری رہتا ہے۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
جس طرح انسان کے اندر خیر اور شر موجود ہے اسی طرح اس کی ایجاد میں بھی خیر اور شر موجود ہے۔ اس ایجاد کے شر کو چھوڑ دینا چاہئے اور خیر کو اپنا لینا چاہئے۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین )

 ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے غلام بننے کے بجائے اسے اپنے روحانی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہم دنیا میں رہ کر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بھی اپنے دل کو اللہ کی یاد سے کیسے منور رکھ سکتے ہیں۔

استفادہ کتب:
۱۔شمس الفقرا:تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۲۔ تزکیہ نفس کا نبویؐ طریق : ایضاً
۳۔ تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین : ترتیب و تدوین مسز عنبرین مغیث سروری قادری صاحبہ
۴۔کشف المحجوب: تصنیفِ لطیف حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ
احیاء العلوم: تصنیفِ لطیف حضرت امام غزالیؒ

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں