صنم کدہ Sanam Kada


4.5/5 - (110 votes)

صنم کدہ (Sanam Kada)

تحریر: مسز انیلا یاسین سروری قادری ۔لاہور

کیا انسان یہی خیال کرتا ہے کہ وہ صرف گوشت پوست کا بنا ہوا ہے اور اس کا اس دنیا میں آنے کا مقصد صرف اسی گوشت پوست کے بنے ہوئے وجود کی پرورش کرنا ہے اور آخر میں اسے منوں مٹی تلے دفن ہو جانا ہے؟ یاد رکھیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔یہ وجود تو اصل کا لباس ہے۔ اصل کیا ہے؟ اصل روح ہے ۔ روح کیا ہے ؟ روح نورِ الٰہی ہے جو وجود میں پھونکی گئی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
پھر جب میں اس کی (ظاہری ) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لاچکوں اور اس پیکربشری(کے باطن)میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر پڑنا۔ (سورۃ الحجر۔29)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا، پھر اس نے ان پر (اپنے) نور کو القاکیا۔ (کشف المحجوب)

جسم تو روح کا لباس ہے جو اسے معرفتِ الٰہی کے سفرمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے اور روح کو احکامِ الٰہی کی تکمیل پر کاربند رکھتا ہے اور یہی اس کا مقصد ہے ۔ حدیثِ قدسی ہے:
میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا۔میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے مَیں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ (شمس الفقرا)

پس وجودِ انسانی کا اس دنیا میں آنے کا مقصداللہ پاک کی معرفت و قرب حاصل کرنا ہے نہ کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ آلائشوں، خواہشاتِ نفس کی تکمیل اور احکامِ الٰہی سے انکار کی روش اختیار کرکے روح کو آلودہ کر لے۔ یہی آلائشیں اور خواہشاتِ نفس روح پر حجاب کی دھول جما دیتی ہیں ۔ نتیجتاًانسانی وجود مکمل طور پر ایک صنم کدہ بن جاتاہے۔ اس کی خواہشات اس کی معبود بن جاتی ہیں جن کی وہ پرستش کرتا ہے ۔ ایسے نافرمان لوگوں کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ٹھہرا دیا ہے۔  (سورۃ جاثیہ ۔ 23 )

 صنم کدہ کے معنی مندر، صنم خانہ، بت خانہ یا بت کدہ کے ہیں۔ درحقیقت انسان نے ظاہر پرستی کو اپناتے ہوئے اپنے وجود کو ایسا صنم کدہ بنا دیاہے جو وحدانیت کے سفر پر گامزن ہونے کی بجائے دنیاوی آسائشوں اور نفس پرستی میں گِر کر لاتعداد صنم اپنے وجود میں سجائے ان کی پرستش کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کیا آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشاتِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ (سورۃفرقان۔43 )

عام طور پر یہ نظریہ پختہ ہے کہ پتھر، مٹی کے بنے ہوئے بتوں یا مورتیوں کی پوجا کرنے والے کو صنم پرست کہتے ہیں۔ حقیقت میں اللہ کے سوا کسی سے اُمید لگانا، اللہ ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مرشد سے پہلے کسی چیز، تعلق یا خواہش کو اوّلین رکھنا۔ اللہ ، رسول کریمؐ اور مرشد کے سواکسی اور پر بھروسہ کرنا اور اسے اپنی کامیابی و ناکامی کا ضامن سمجھنا، اپنے قلب میں دنیا رکھنا ہی صنم یا بت ہیں۔ جو کہ انسانی وجود کے صنم کدہ میں سجے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
جو اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بناتے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے جو جالے کا گھر (یعنی کمزور ترین) بناتی ہے۔ (سورۃالعنکبوت۔41)

ان کے علاوہ بھی انسان کے متعدد صنم ہیں جو اس نے اپنے  صنم کدہ  میں سجائے ہوئے ہیں اورا ن کی پرستش کرتا ہے جیساکہ عزت وشان و شوکت کے حصول کا صنم، اعلیٰ حسب نسب کا صنم، والدین، اولاد، بیوی اور عزیز رشتہ دار کی شدید محبت کاصنم، ذات، قبیلہ اور قوم پرستی کی محبت کا صنم وغیرہ ۔ ان میں سب سے زیادہ اہم اور خطرناک صنم انسان کا اپنی ذات کی پرستش کرنا ہے جو کہ’’ نفس پرستی یا خود پسندی ‘‘ کہلاتا ہے ۔ نفس پرستی تکبر، کینہ، بغض،حسد، لالچ ،نفرت، جاہ و حشمت اور ظاہر پرستی کا مرکب ہوتی ہے۔ ارشاد رباّنی ہے:
توتم اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔  (سورۃالنجم۔32)

حضرت سیدّنا زید بن اسلمؒ فرماتے ہیں :
اپنے آپ کو نیکوکار قرارنہ دو یعنی یہ نہ کہوکہ میں نیک ہوں کیونکہ یہ تو عجب یعنی خود پسندی ہے۔ (احیاء العلوم، جلد سوم) 

یاد رکھیں نفس ہی تمام خواہشات (خیر و شر)کی آماجگاہ ہے جو نفس خیر(قرب و دیدارِ الٰہی ) کی طرف بڑھتا ہے وہی کامیاب ہے اور جو شر کی جانب سفر کرتا ہے تو دنیا و شیطان ایسے نفس کے رفیق بن جاتے ہیں بے شک یہ بدترین رفیق ہیں۔ ایسے صنم کدہ نفس کے متعلق قرآن پاک میں حکمِ الٰہی ہے :
سو تم بتوں کی پلیدی سے بچا کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کیا کرو۔ (سورۃ حج۔30)

سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:
تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں،وہ بخل جس کا آدمی مطیع ہو، وہ خواہشِ نفس جس کی اتباع کی جائے اور خود پسندی۔ (بزار، طبرانی، بیہقی)

میرے ہادی میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگنا نفس پرستی ہے اور یہ بھی بت پرستی کی ہی قسم ہے۔ (سلطان العاشقین)

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ ’’کشف المحجوب ‘‘میں تحریرفرماتے ہیں:
آدمی خود اپنے وجود کی وجہ سے غفلت کی تاریکی میں ڈوب گیا اور اپنے وجود کے تاریک پردے کی وجہ سے خود عیب میں مبتلا ہو گیا، اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمائی ہے ’’بے شک انسان ظالم اور جاہل ہے۔‘‘(سورۃاحزاب۔72)۔(کشف المحجوب)

خود پسند و نفس پرست انسان نہایت ظالم اور بدترین جاہل ہوتا ہے ۔ ایسے انسان کی نظر میں اپنی ذات کے علاوہ کسی کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہوتا ۔ اس روحانی بیماری میں مبتلا انسان حق کو بھی تکبر و انانیت کی وجہ سے ماننے سے انکار کر دیتا ہے ۔ دنیاوی مرتبہ و لالچ میں نہ تو وہ توحید برحق کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی جمالِ احدیت کو دیکھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایسا شخص بارگارہِ حق تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے محروم دنیا و آخرت میں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوکر رہ جاتا ہے ۔جس نے بھی حق کا انکار کیا اِسی خود پسندی کی وجہ سے کیا ۔ شیطان بھی خود پسندی کی وجہ سے متکبر بنا جب اس نے کہا’’میں اس سے بہتر ہوں۔‘‘ (سورۃالاعراف۔12)

اسی خودپسندی کی وجہ سے جب عمر بن ہشام نے رسالت مآبؐ کا انکار کیا تووہ ابو الحکم سے ابوجہل بن گیا اور اللہ پاک نے اسے قیامت تک آنے والے تمام منکرینِ حق جہلاء کا باپ بنا دیا۔ ایسے صنم پرست لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) انہیں چھوڑ دیجیے وہ کھاتے پیتے رہیں اور عیش کرتے رہیں اور (ان کی) جھوٹی امیدیں انہیں (آخرت سے) غافل رکھیں پھر وہ عنقریب (اپناانجام) جان لیں گے۔ (سورۃالحجر۔3)

اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ (سورۃالبقرۃ۔7)

مزید فرمایا:
بے شک اللہ کے نزدیک جانداروں میں سب سے بدتر وہی بہرے، گونگے ہیں جو (نہ حق سنتے ہیں، نہ حق کہتے ہیں اور حق کو حق) سمجھتے بھی نہیں ہیں۔(سورۃالانفال۔ 22)

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے لوگوں نے پوچھا کہ آدمی بدکار کس وقت ہوتا ہے ؟ فرمایا’’جب اپنے آپ کو نیکوکار تصور کرے۔‘‘ (نفس کے ناسور)

مجددِ دین ، آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
 عجب (خود پسندی) نفس کی ایک ایسی بیماری ہے جو سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ عجب کا مطلب اپنے آپ پر اتنا فریفتہ ہوناہے کہ اسے اپنے سواہر چیز پست و حقیر نظر آئے اور اپنے آپ کو ہی سب سے اعلیٰ تصور کرے۔ عجب سے نفس میں خود نمائی کا جذبہ بڑھتا ہے جو بعد میں تکبر بن جاتا ہے۔ (نفس کے ناسور)

خود پرستی ایک ایسا بدترین ناسور ہے جو انسان کو متکبر بنا کر درجہ اشرف المخلوقات سے درجۂ شیطان پر مقرر کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گاجو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں۔ (سورۃالانفال۔146 )

خود پرستی میں باطن اس حد تک سرکش ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ پاک کی ذاتِ مقدس جو کہ عزت و عظمت اور کبریائی کے لائق ہے، سے بھی تکبر شروع کردیتا ہے۔ حضرت امام غزالیؒ اپنی تصنیف ’’احیاء العلوم ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
اللہ پر تکبر کرنا ، تکبر کی بد ترین قسم ہے اور اس کی تحریک خود پسندی، جہالت اور سرکشی سے ہوئی، جیسا کہ نمرود نے کیا تھا۔ اس نے اپنے دل میں یہ عزم کر رکھا تھا کہ میں آسمان کے پروردگار سے لڑوں گا۔بہت سے جاہلوں سے اس طرح کی سرکشی کے واقعات منقول ہیں، بلکہ ربوبیت کے تمام دعویداروں کی سرکشی کا یہی عالم ہے جیسے فرعون اس نے بھی (خود پسندی میں) تکبر کی وجہ سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا پروردگار ہوں۔ (احیاء العلوم، جلد سوم)

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ پر وحی نازل فرمائی ’’میں صرف اس شخص کی نماز قبول کرتا ہوں جو میری عظمت کے آگے سرنگوں رہتا ہے اور میرے بندوں پر بڑائی اختیار نہیں کرتا، اپنے دل میں میرا خوف رکھتا ہے اور اپنا دن میری یاد میں گزارتا ہے اور میری خاطر نفسانی خواہشات سے اجتناب کرتا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم، جلد سوم)

یاد رکھیں !تکبر کی متعدد علامات ہیں مثلاً اپنے علم پر تکبر کرنا، اپنے حسن وجمال پر تکبر کرنا، اپنے حسب و نسب پر تکبر کرنا اور عصبیت پرستی اختیار کرتے ہوئے حق بات سے انکار کرنا وغیرہ۔زیادہ سے زیادہ مال و دولت ، عزت اور شان و شوکت کے حصول کی طلب اور اعلیٰ حسب و نسب کہلوانے کی طلب بھی انسانی صنم کدہ میں جاگزین ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کہیں ) تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں ، اور جو شخص ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔(سورۃمنافقون۔9)
اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اللہ ہر متکبر،اترانے والے کو ناپسند فرماتا ہے۔ (سورۃلقمان۔18)

فرمانِ نبویؐ ہے ’’جیسے پانی سبزہ اُگاتا ہے ،اسی طرح مال اور عزت کی محبت انسان کے دل میں نفاق پیدا کرتی ہے۔‘‘ (مکاشفۃ القلوب)

حضورکریمؐ کا فرمان ہے:
دو خطرناک بھیڑیئے بکروں کے احاطہ میں گھس کر اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا کسی مسلمان کے دین میں مال، عزت اور وجاہت کی تمنا نقصان کرتی ہے۔ (مکاشفۃ القلوب)

جس قلب کا معبود مال و دولت ، عزت اور شان و شوکت بن جائے  اس کے ہر عمل کی ادائیگی کا مقصد اپنے مال کی نمود و نمائش کرنا، عزت و شان و شوکت کمانا ہی ہوتا ہے ۔ اس کا ہر عمل اخلاص سے عاری ہوتا ہے۔جاہ و مرتبہ کے خواہش مند لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔ خود نمائی کا طلب گار جہاں بھی ہو وہیں فتنے کا باعث بنتاہے۔ مال و دولت اور جاہ و حشمت کا مطلوب ذلیل و خوار اورحق سے اندھا رہتا ہے ۔ حضرت خواجہ حسن بصریؓ فرماتے ہیں:
اللہ کی قسم جو مال و زر کو عزیز رکھے گااسے اللہ عزوجل ذلیل و خوار کرے گا۔ (کیمیائے سعادت) 

حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
جو شخص اس فانی مال و جاہ پر رشک کرتا ہے وہ خود برباد ہوا اور ہر چیز کو برباد کر رہا ہے۔اس کے دنیاوی مال و جاہ کی حیثیت خدا کے ہاں مچھر کے پرَ کے برابر نہیں ۔ (مکاشفۃ القلوب)

مال و دولت کی محبت اور جاہ و حشمت کی طلب کا صنم بھی شیطانی دروازہ ہوتا ہے۔جب انسانی قلب دنیاوی آسائشوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو شیطان اپنی پوری قوت سے اس پر وسوسوں کی بھرمار کر دیتا ہے۔ یعنی مال و دولت کی محبت اور جاہ و حشمت کو خوب زیبا کر کے دکھاتا ہے نتیجتاًیہ طلب انسان کے وجود و قلب میں اس قدر سرایت کر جاتی ہے کہ پھر انسان ایک خواہش سے دوسری خواہش کی طرف لپکتا جاتاہے۔ انہی خواہشات کا حصول اس کا معبود بن جاتاہے جنہیں وہ اپنے صنم کدہ میں ایسے سجاکر رکھتا ہے کہ اگر یہ اسے کفر کے راستوں پر چلنے پر بھی مجبور کر دے تو پھربھی اسے کوئی ملال نہیں ہوتا، حتیٰ کہ موت آجاتی ہے۔

حسب و نسب اور قوم و قبیلہ کی محبت انسانی فطرت میں موجود ہوتی ہے۔ یہ محبت صرف اسی وقت تباہی کا باعث بنتی ہے جب یہ انسانی قلب میں اپنی جڑیں اس قدر مضبوط کر لے کہ وہ اپنے حسب و نسب اور قوم و قبیلہ کو افضل و برتر سمجھتے ہوئے حدود اللہ کی بھی پرواہ نہ کرے اورخود کو اعلیٰ نسب سمجھتے ہوئے باقی مخلوق کوکمتر سمجھے اور شیخی و گھمنڈ کرتے ہوئے اخلاص کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے۔ ایسے لوگوں کے احوال کو میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس یوں بیان فرماتے ہیں:
نفس کے اندر نسب ایک ایسی چھپی رَگ (بیماری) ہے کہ اس سے اعلیٰ نسب والے خالی نہیں ہوتے خواہ وہ نیک بخت اور عقلمند ہی کیوں نہ ہوں۔ حالتِ اعتدال میں تو اسے ظاہر نہیں کرتے لیکن غصہ اور غضب کے غلبے کے وقت ان کا نورِ عقل تاریک ہوجاتا ہے اور ان سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے۔ (نفس کے ناسور)

 اپنے حسب و نسب پر تکبر کرنے والوں کے متعلق ارشادِباری تعالیٰ ہے :
انسان ہلاک ہو ،وہ کس قدر ناشکراہے۔ اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا،اسے فقط ایک نطفہ سے پیدا کیا،پھر ساتھ ہی اس کا (خواص و جنس کے لحاظ سے) تعین فرما دیا۔ (سورۃ العبس۔17-19)

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے ’’لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے باپ دادا کے نام پر تکبر (فخر) کرنا چھوڑ دیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کونجاست کے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل کر دے گا۔‘‘ (ابوداؤد۔ ترمذی)

حضورنبی اکرمؐ نے فرمایا:
چار باتیں میری اُمت میں زمانہ جاہلیت کی ہیں (۱)حسب ونسب پر فخر کرنا (۲)دوسروں کے نسب پر طعن کرنا (۳)بارش کو تاروں کی طرف منسوب کرنا (۴)میت پر نوحہ کرنا (مسند احمد بن حنبلؒ)
 حسب و نسب اور قوم و قبیلہ پرست کے متعلق بعض صوفیا کرامؒ نے فرمایا’’جوحسب و نسب پر تکبر کرتا ہے وہ اپنے نفس کی پستی کا ثبوت دیتا ہے اور جو تواضع کرتا ہے وہ اپنی طبیعت کے شریف ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ‘‘ (عوارف المعارف)

ایک مقولہ مشہور ہے “Human is a social animal.” انسان ایک معاشرتی حیوان ہے یعنی انسان کواپنے والدین، اولاد، بیوی، عزیز رشتہ دار اور دوست جنہیں وہ پسند کرتاہے ان کے ساتھ وقت گزارنا اسے اچھا لگتا ہے اور اس کے قلب میں ان تعلقات کی محبت ہونا ایک فطرتی عمل ہے۔ اللہ پاک نے ان تعلقات کو بہترین اور اس کی رضا کے مطابق نبھانے کے لیے حقوق و فرائض مقرر فرمائے ہیں تاکہ معاشرتی نظام احسن طریقے سے چلتا رہے۔ اس نظام میں حقیقی بگاڑ اور خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حدود اللہ سے تجاوز کیا جائے۔ یاد رکھیں اگر ہر عمل کی ادائیگی کا مقصد قرب و دیدارِ الٰہی ہوگا توہی وہ عمل مقبولِ بارگاہِ حق ہوگااور اگرہر عمل کی ادائیگی کا مقصددنیا کمانا اور اپنی ذاتی غرض ہو گا تو یہ بھی نفس پرستی کا صنم (بت) ہوگا جو ذلت و رسوائی کا موجب بنے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
بیشک تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر و ثواب ہے۔(سورۃالتغابن ۔ 15)

حدیثِ نبویؐ ہے: ’’انسان کے تین دوست ہیں، ایک اس کی موت تک ساتھ رہتا ہے، دوسرا قبر تک اور تیسراقیامت تک ساتھ رہے گا۔ موت تک کا ساتھی اس کا مال ہے، قبر تک ساتھ دینے والا اس کا خاندان ہے اور قیامت تک ساتھ دینے والے اس کے اعمال ہیں۔ ‘‘ (مکاشفۃ القلوب)

ایک مرتبہ ایک شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے عرض کی کہ اے امیر المومنین! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے ارشاد فرمایا ’’تم بیوی بچوں میں مشغول ہونے کو اپنا سب سے بڑا مشغلہ نہ بنا لینا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تمہارے بیوی بچے اللہ تعالیٰ کے دوست ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو کبھی ضائع نہیں کرتااور اگر وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن ہوں گے تو تمہارا اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے کیا واسطہ اور تمہارا ان کے بارے میں افسوس کا شکار ہونا یا ان میں مشغول ہونا کسی بھی طرح درست نہیں ہوگا۔‘‘ (کشف المحجوب) 

حضرت داؤ دؑ کے واقعات میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے داؤد! جس نے مجھے طلب کیا اس نے پا لیا، جس نے غیر کی چاہت کی وہ محروم رہا۔‘‘ (مکاشفۃ القلوب)

الغرض اللہ تعالیٰ سے بڑھ کرکسی رشتہ و تعلق کو ماننا، اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا ، دنیاوی رشتہ و تعلق نبھانے کے لیے احکامِ الٰہی کی نافرمانی کرنا اللہ ،رسولؐ اور مرشد کی محبت اور عزت و عظمت سے زیادہ قلب میں باقی تعلقات کوترجیح دینا، یہ تمام عوامل ایمان کی کمزوری اور تباہی کا باعث ہیں۔ حدیثِ نبویؐ ہے:
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتاجب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب اور عزیز نہ ہوجاؤں۔ (بخاری)  

میرے ہادی آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
جب بندہ اللہ سے محبت کرتاہے تو اللہ کی ساری مخلوق اس بندے سے محبت کرتی ہے اور اگر بندہ اللہ کو چھوڑ کر مخلوق سے محبت کرے تو مخلوق اس سے دھوکہ کرتی ہے، پھر مخلوق سے گلہ کیسا۔ (سلطان العاشقین)

مختصریہ کہ مندرجہ بالا خصائل و عادات جس قلب و وجود میں شدید حد تک موجود ہوں گے وہی قلب و وجود حقیقت میں’’ صنم کدہ ‘‘ ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ اس ’’ صنم کدہ ‘‘ کا مرکز کیاہے ؟ اور اس کا علاج کیسے ممکن ہے؟ صنم کدہ کا مرکز نفس ہے۔ 

نفس کیا چیز ہے اور اس کی فطرت کیا ہے؟ اس کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنی تصنیف ’’عین الفقر‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں ’’نفس سانپ کی طرح ہے اور اس کی خصلت کفار جیسی ہے۔ ‘‘

روایت میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی طرف وحی بھیجی ’’اے داود اپنے نفس کو دشمن سمجھو اور اس کی عداوت کی صورت میں مجھ سے محبت کرو کیونکہ میری محبت اس سے دشمنی میں ہے۔‘‘ (کشف المحجوب) 

شیخ ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں ’’سب سے شدید ترین حجاب نفس اور اس کی تدبیر کی طرف متوجہ ہونا ہے۔‘‘ (کشف المحجوب) 

انبیا اور خاص چنے ہوئے مقربین کے سوا کوئی بھی بشر نفس کی چالوں سے محفوظ نہیں۔ صحابہ کرامؓ اور فقرا کاملین جو کہ ازل سے ہی محبوبِ الٰہی اور پاکیزہ نفوس ہیں ، وہ بھی اپنے نفس سے کبھی غافل نہ رہتے اور ہر دم قربِ الٰہی میں اپنے نفس کو سخت جانی و مالی مجاہدات اور ریاضتوں میں مصروف رکھتے تھے۔ موجودہ انسان کی ظاہری و باطنی پست حالی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ دین کو عقل کے ترازو میں تولتا ہے اور عقل کا دائرہ محدود ہوتا ہے جو جلد ہی نفس،دنیا اور شیطان کی گرفت میں آجاتاہے۔اپنی محدودعقل ہی کی بنا پر موجودہ ظاہر پرست انسان قرآن پاک میں سے صرف اتنا ہی سمجھ سکا کہ اس الہامی کتاب میں صرف جنت کے حصول کی دعوت ہے جس کے لیے صرف فرض عبادات اور حقوق و فرائض کی ادائیگی ہی کافی ہے۔ انبیاکرام علیہم السلام کے واقعات کو پچھلے لوگوں کے قصے سمجھ کر غور و فکر کی کوشش ہی نہیں کرتااور ہٹ دھرمی کی بنا پر عقل کو پس ِپشت ڈالتے ہوئے اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
(اس طرح) اللہ ایک ہی بات کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے صرف انہی کو گمراہی میں ڈالتا ہے جو (پہلے ہی)نافرمان ہیں۔ (سورۃالبقرۃ۔ 26)  

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ کے پاکیزہ نفوس کی آزمائش کے لیے بحکمِ الٰہی اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑنے کے لیے ہجرت،مال و دولت کی محبت چھوڑنے کے لیے راہِ خدامیں مال خرچ کرنے اور راہِ الٰہی میں جانوں کو عزیز تر نہ رکھنے کے لیے جہاد کا حکم دیا۔ 

یاد رکھیں بزرگانِ دین اور فقرائے کاملین کی حیاتِ طیبہ اور تعلیمات درحقیقت قرآن و حدیث اور شریعت کے عین مطابق ہوتی ہیں۔ بعد از ختمِ نبوتؐ  صنم کدہ کے حصار سے نکلنے کے لیے ان بزرگانِ دین، فقراکاملین کی صحبت و اطاعت ہر امتی پر لازم ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے ایمان والو! پیروی کرو اللہ کی اور پیروی کرو اللہ کے رسول کی اور اس کی جو تم میں ’’اولی الامر‘‘ (اہلِ حق) ہو۔ (سورۃالنسا۔59)

 حدیثِ نبویؐ ہے:
جوشخص اس حالت میں مراکہ اس کی گردن میں امامِ وقت (مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ) کی بیعت نہیں وہ جہالت کی موت مرا۔ (مسلم۔ 4793)

المختصر یہ کہ کوئی انسان بھی(سوائے منتخب شدہ بندوں کے) صنم کدہ کے حصار سے محفوظ نہیں اور یہی انسان کی آزمائش ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے،اور (اے حبیبؐ)آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔‘‘(سورۃ البقرۃ۔155)

 صنم کدہ کے حصار کی غلامی سے نجات کے لیے مرشد کامل اکمل جو کہ قرآن کی تفسیر سے آشنا،حدیث کاعملی سرچشمہ ،صاحبِ منبع نور ِجمالِ آئینۂ رحمن ہوتا ہے، کی اطاعت از حد ضروری ہے کیونکہ صرف مرشد کامل اکمل ہی معرفتِ الٰہی کے راستوں کا ناخدا ہوتا ہے۔ 

بیت باھوؒ:

باجھ فقیراں کسے نہ ماریا باھوؒ، ایہہ ظالم چور اندر دا ھوُ  

مفہوم:یاد رکھ’’نفس ‘‘ جسم کے اندر چھپا ہوا ایک ایسا چور ہے جس کو مرشد کامل اکمل کی نگاہ ہی مار سکتی ہے۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

دورِ حاضر میں امتِ محمدیہ کو معرفتِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرنے والے ناخدا، مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ،منبع تجلیاتِ نورِ رحمن، محبوب و نائبِ رسولؐ،سرچشمۂ ہدایت و برکت،نورِ ھوُ،آفتابِ فقر،سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی اعلیٰ و ارفع ذاتِ اقدس ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس بحکمِ خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معرفت و ہدایت کا علمَ بلند کیے متلاشیانِ حق کے قلوب کو صنم کدہ سے پاک کرکے نورِ معرفتِ الٰہی سے منور فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اس شان کے ولیٔ کامل ہیں کہ جو آپ کی بارگاہ میں خلوصِ نیت اورعاجزی سے ہدایت کے حصول کی غرض سے حاضر ہوتا ہے وہ کبھی خالی نہیں لوٹتا۔ تمام امتِ محمدیہ کو دنیاوی و اخروی کامیابی،ایمان کی سلامتی اور معرفتِ الٰہی کے حصول کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی دعوتِ عام ہے۔  

(انسانِ کامل ، مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی حیاتِ طیبہ ،سلسلہ تصوف ،مقامِ ولایت اور تعلیمات و کرامات کو تفصیلی جاننے کے لیے کتاب ’’سلطان العاشقین‘‘ کا مطالعہ کریں۔)

استفادہ کتب:
سلطان العاشقین:  ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
نفس کے ناسور:  تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
احیاء العلوم جلد سوم:  تصنیفِ لطیف امام غزالیؒ
مکاشفتہ القلوب:  ایضاً
کیمیائے سعادت:  ایضاً
عوارف المعارف:  تصنیفِ لطیف شیخ شہاب الدین سہروردیؒ
کشف المحجوب:  تصنیفِ لطیف علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخشؒ

 
 

نوٹ: اس مضمون کو  آڈیو کی صورت میں سننے کے لیے  ماہنامہ سلطان الفقر میگزین کے یوٹیوب (YouTube)    چینل کو وزٹ فرمائیں۔ 

یوٹیوب چینل  لنک

مضمون لنک :     Sanam Kada | Topic in Urdu/Hindi | صنم کدہ | Mahnama Sultan-ul-Faqr Lahore | Audio Podcast

 

36 تبصرے “صنم کدہ Sanam Kada

  1. سب سے زیادہ اہم اور خطرناک صنم انسان کا اپنی ذات کی پرستش کرنا ہے جو کہ’’ نفس پرستی یا خود پسندی ‘‘ کہلاتا ہے ۔

  2. حضورکریمؐ کا فرمان ہے:
    دو خطرناک بھیڑیئے بکروں کے احاطہ میں گھس کر اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا کسی مسلمان کے دین میں مال، عزت اور وجاہت کی تمنا نقصان کرتی ہے۔ (مکاشفۃ القلوب)

  3. سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:
    تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں،وہ بخل جس کا آدمی مطیع ہو، وہ خواہشِ نفس جس کی اتباع کی جائے اور خود پسندی۔ (بزار، طبرانی، بیہقی)

    میرے ہادی میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگنا نفس پرستی ہے اور یہ بھی بت پرستی کی ہی قسم ہے۔ (سلطان العاشقین)

  4. کیا انسان یہی خیال کرتا ہے کہ وہ صرف گوشت پوست کا بنا ہوا ہے اور اس کا اس دنیا میں آنے کا مقصد صرف اسی گوشت پوست کے بنے ہوئے وجود کی پرورش کرنا ہے اور آخر میں اسے منوں مٹی تلے دفن ہو جانا ہے؟ یاد رکھیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔یہ وجود تو اصل کا لباس ہے۔ اصل کیا ہے؟ اصل روح ہے ۔ روح کیا ہے ؟ روح نورِ الٰہی ہے جو وجود میں پھونکی گئی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    پھر جب میں اس کی (ظاہری ) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لاچکوں اور اس پیکربشری(کے باطن)میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر پڑنا۔ (سورۃ الحجر۔29).

  5. بعد از ختمِ نبوتؐ صنم کدہ کے حصار سے نکلنے کے لیےبزرگانِ دین، فقراکاملین کی صحبت و اطاعت ہر امتی پر لازم ہے۔

  6. انسان کے متعدد صنم ہیں جو اس نے اپنے صنم کدہ میں سجائے ہوئے ہیں اورا ن کی پرستش کرتا ہے جیساکہ عزت وشان و شوکت کے حصول کا صنم، اعلیٰ حسب نسب کا صنم، والدین، اولاد، بیوی اور عزیز رشتہ دار کی شدید محبت کاصنم، ذات، قبیلہ اور قوم پرستی کی محبت کا صنم وغیرہ ۔ ان میں سب سے زیادہ اہم اور خطرناک صنم انسان کا اپنی ذات کی پرستش کرنا ہے جو کہ’’ نفس پرستی یا خود پسندی ‘‘ کہلاتا ہے ۔ نفس پرستی تکبر، کینہ، بغض،حسد، لالچ ،نفرت، جاہ و حشمت اور ظاہر پرستی کا مرکب ہوتی ہے۔ ارشاد رباّنی ہے:
    توتم اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔ (سورۃالنجم۔32)

  7. اللہ پاک ہم پر اپنا فضل و کرم فرمائے اور راہِ حق پر استقامت عطا فرمائے آمین ۔

  8. جسم تو روح کا لباس ہے جو اسے معرفتِ الٰہی کے سفرمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے اور روح کو احکامِ الٰہی کی تکمیل پر کاربند رکھتا ہے اور یہی اس کا مقصد ہے ۔

    1. حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
      جو شخص اس فانی مال و جاہ پر رشک کرتا ہے وہ خود برباد ہوا اور ہر چیز کو برباد کر رہا ہے۔اس کے دنیاوی مال و جاہ کی حیثیت خدا کے ہاں مچھر کے پرَ کے برابر نہیں ۔ (مکاشفۃ القلوب)

  9. یاد رکھ’’نفس ‘‘ جسم کے اندر چھپا ہوا ایک ایسا چور ہے جس کو مرشد کامل اکمل کی نگاہ ہی مار سکتی ہے۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

  10. بزرگانِ دین اور فقرائے کاملین کی حیاتِ طیبہ اور تعلیمات درحقیقت قرآن و حدیث اور شریعت کے عین مطابق ہوتی ہیں۔ بعد از ختمِ نبوتؐ صنم کدہ کے حصار سے نکلنے کے لیے ان بزرگانِ دین، فقراکاملین کی صحبت و اطاعت ہر امتی پر لازم ہے۔

  11. دورِ حاضر میں امتِ محمدیہ کو معرفتِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرنے والے ناخدا، مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ،منبع تجلیاتِ نورِ رحمن، محبوب و نائبِ رسولؐ،سرچشمۂ ہدایت و برکت،نورِ ھوُ،آفتابِ فقر،سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی اعلیٰ و ارفع ذاتِ اقدس ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس بحکمِ خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معرفت و ہدایت کا علمَ بلند کیے متلاشیانِ حق کے قلوب کو صنم کدہ سے پاک کرکے نورِ معرفتِ الٰہی سے منور فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اس شان کے ولیٔ کامل ہیں کہ جو آپ کی بارگاہ میں خلوصِ نیت اورعاجزی سے ہدایت کے حصول کی غرض سے حاضر ہوتا ہے وہ کبھی خالی نہیں لوٹتا۔ تمام امتِ محمدیہ کو دنیاوی و اخروی کامیابی،ایمان کی سلامتی اور معرفتِ الٰہی کے حصول کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی دعوتِ عام ہے۔

  12. کیا آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشاتِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ (سورۃفرقان۔43

  13. کیا انسان یہی خیال کرتا ہے کہ وہ صرف گوشت پوست کا بنا ہوا ہے اور اس کا اس دنیا میں آنے کا مقصد صرف اسی گوشت پوست کے بنے ہوئے وجود کی پرورش کرنا ہے اور آخر میں اسے منوں مٹی تلے دفن ہو جانا ہے؟ یاد رکھیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔یہ وجود تو اصل کا لباس ہے۔ اصل کیا ہے؟ اصل روح ہے ۔ روح کیا ہے ؟ روح نورِ الٰہی ہے جو وجود میں پھونکی گئی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    پھر جب میں اس کی (ظاہری ) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لاچکوں اور اس پیکربشری(کے باطن)میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر پڑنا۔ (سورۃ الحجر۔29).

  14. بےشک
    نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگنا نفس پرستی ہے

  15. ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    اے ایمان والو! پیروی کرو اللہ کی اور پیروی کرو اللہ کے رسول کی اور اس کی جو تم میں ’’اولی الامر‘‘ (اہلِ حق) ہو۔ (سورۃالنسا۔59)

  16. مفہوم:یاد رکھ’’نفس ‘‘ جسم کے اندر چھپا ہوا ایک ایسا چور ہے جس کو مرشد کامل اکمل کی نگاہ ہی مار سکتی ہے۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

  17. میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا۔میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے مَیں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ (شمس الفقرا)

  18. ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    بیشک تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر و ثواب ہے۔(سورۃالتغابن ۔ 15)

  19. جسم تو روح کا لباس ہے جو اسے معرفتِ الٰہی کے سفرمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے اور روح کو احکامِ الٰہی کی تکمیل پر کاربند رکھتا ہے اور یہی اس کا مقصد ہے

  20. مجددِ دین ، آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    عجب (خود پسندی) نفس کی ایک ایسی بیماری ہے جو سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ عجب کا مطلب اپنے آپ پر اتنا فریفتہ ہوناہے کہ اسے اپنے سواہر چیز پست و حقیر نظر آئے اور اپنے آپ کو ہی سب سے اعلیٰ تصور کرے۔ عجب سے نفس میں خود نمائی کا جذبہ بڑھتا ہے جو بعد میں تکبر بن جاتا ہے۔ (نفس کے ناسور)

  21. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
    اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا، پھر اس نے ان پر (اپنے) نور کو القاکیا۔ (کشف المحجوب)

  22. میرے ہادی آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
    جب بندہ اللہ سے محبت کرتاہے تو اللہ کی ساری مخلوق اس بندے سے محبت کرتی ہے اور اگر بندہ اللہ کو چھوڑ کر مخلوق سے محبت کرے تو مخلوق اس سے دھوکہ کرتی ہے، پھر مخلوق سے گلہ کیسا۔ (سلطان العاشقین)

  23. فرمانِ نبویؐ ہے ’’جیسے پانی سبزہ اُگاتا ہے ،اسی طرح مال اور عزت کی محبت انسان کے دل میں نفاق پیدا کرتی ہے۔‘‘ (مکاشفۃ القلوب)

  24. اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    جو اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بناتے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے جو جالے کا گھر (یعنی کمزور ترین) بناتی ہے۔ (سورۃالعنکبوت۔41)

  25. حضرت سیدّنا زید بن اسلمؒ فرماتے ہیں :
    اپنے آپ کو نیکوکار قرارنہ دو یعنی یہ نہ کہوکہ میں نیک ہوں کیونکہ یہ تو عجب یعنی خود پسندی ہے۔ (احیاء العلوم، جلد سوم)

  26. نفس کیا چیز ہے اور اس کی فطرت کیا ہے؟ اس کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنی تصنیف ’’عین الفقر‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں ’’نفس سانپ کی طرح ہے اور اس کی خصلت کفار جیسی ہے۔ ‘‘

  27. حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے ’’لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے باپ دادا کے نام پر تکبر (فخر) کرنا چھوڑ دیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کونجاست کے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل کر دے گا۔‘‘ (ابوداؤد۔ ترمذی)

  28. خود پرستی ایک ایسا بدترین ناسور ہے جو انسان کو متکبر بنا کر درجہ اشرف المخلوقات سے درجۂ شیطان پر مقرر کر دیتا ہے۔

  29. حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
    جو شخص اس فانی مال و جاہ پر رشک کرتا ہے وہ خود برباد ہوا اور ہر چیز کو برباد کر رہا ہے۔اس کے دنیاوی مال و جاہ کی حیثیت خدا کے ہاں مچھر کے پرَ کے برابر نہیں ۔ (مکاشفۃ القلوب)

اپنا تبصرہ بھیجیں