یہودیوں پر اللہ کا عذاب کیوں ؟
? Yahudiyon per Allah ka Azaab Kiun
تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری
تمام آسمانی ادیان کی بنیاد جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات سے ہے کیونکہ ان سے دو عظیم اُمتوں کا سلسلہ جاری ہوا، ایک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے بنی اسماعیل ( جن سے خاتم النبییٖٖن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے) اور دوسرے حضرت اسحاق علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل سے بنی اسرائیل۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کا لقب دیا۔ ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بعد ان کی نسل سے حضرت یوسفؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت عیسیٰؑ جیسے کئی عظیم پیغمبر پیدا ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی گئی جو بنی اسرائیل کے لیے بنیادی شریعت اور یہودیت کا ماخذ بنی۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے زمانے میں بے پناہ فضیلتوں سے نوازا، انہیں تورات جیسی آسمانی کتاب عطا کی اور یکے بعد دیگرے کثرت سے انبیا بھیجے، انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ اس فضیلت کا تقاضا تھا کہ وہ ہمیشہ توحید اور عدل پر قائم رہتے مگر تاریخ شاہد ہے کہ اس قوم نے اللہ کی نعمتوں کی مسلسل نا شکری کی، اپنے عہد و پیمان کو توڑا اور نبوت کے سلسلہ کو جھٹلایا، انبیا کو قتل کیا، اللہ کے احکامات ( جیسے تورات ) میں ردّو بدل کی۔ جس کا انجام ان پر عذابِ الٰہی، عداوت اورذلت کی صورت میں ظاہر ہوا۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر جو انعام واکرام نازل کیے ان کا بیان بھی موجود ہے ، اس قوم کی سرکشی کے متعلق بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ ان پر عذاب یا ذلت نازل ہونے کی بنیادی وجوہات تفصیلاً بیان کی گئی ہیں ۔
بنی اسرائیل اور ان کے آباؤ اجداد پر انعامات
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (سورۃ البقرۃ۔ 47)
ترجمہ:اے بنی اسرائیل! میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور یہ کہ میں نے تمہیں ( اس زمانے میں ) سب لوگوں پر فضیلت دی۔
وَ اِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَکُمْ ط وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 49)
ترجمہ:اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں قومِ فرعون سے نجات بخشی جو تمہیں انتہائی سخت عذاب دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے، اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی ( کڑی) آزمائش تھی۔
وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَ اَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۔(سورۃالبقرۃ ۔ 50)
ترجمہ: اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا سو ہم نے تمہیں (اس طرح ) نجات عطا کی اور (دوسری طرف) ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے قومِ فرعون کو غرق کر دیا۔
وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 53)
ترجمہ: اور جب ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ( معجزہ )عطا کیا تاکہ تم راہِ ہدایت پاؤ۔
یہودیوں کی سر کشی ’’بچھڑے کو خدا بنانا‘‘
وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔51)
ترجمہ: اور(وہ وقت یاد کرو ) جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) سے چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا پھر تم نے موسیٰ ( علیہ السلام کے چلہ اعتکاف میں جانے ) کے بعد بچھڑے کو ( اپنا) معبود بنا لیا اور تم واقعی بڑے ظالم تھے۔
بنی اسرائیل نے فرعون سے نجات پانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ یہ عمل توحید سے ان کی شدید سر کشی اور اللہ کے احسانات کی کھلی ناشکری کو ظاہر کرتا ہے ۔
کتاب اللہ میں ردّ و بدل
اللہ کی کتاب میں رد ّو بدل کرنا اور حقائق کو چھپانا یہ بات واضح کرتا تھا کہ بنی اسرائیل اللہ کے حکم کے تابع ہونے کے بجائے اپنی خواہشاتِ نفس کے تابع تھے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَ قَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ(سورۃالبقرۃ ۔ 75)
ترجمہ:( اے مسلمانوں!) کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ ( یہودی) تم پر یقین کر لیں گے جبکہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے (بھی) تھے کہ اللہ کا کلام (تورات) سنتے پھر اسے سمجھنے کے بعد (خود) بدل دیتے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے (کہ حقیقت کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں)۔
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْہِمْ ژ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط فَوَیْلٌ لَّہُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْہِمْ وَ وَیْلٌ لَّہُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ۔ 79)
ترجمہ:پس ایسے لوگوں کے لیے بڑی خرابی ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں ، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑے سے دام کما لیں، سو ان کے لیے اس (کتاب کی وجہ) سے ہلاکت ہے جو ان کے ہاتھوں نے تحریر کی اور اس (معاوضہ کی وجہ ) سے تباہی ہے جو وہ کمار ہے ہیں۔
کتاب اللہ کا علم نہ رکھنا
وَ مِنْہُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِیَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔78)
ترجمہ: اور ان (یہود) میں سے (بعض) ان پڑھ (بھی) ہیں جنہیں (سوائے سنی سنائی جھوٹی امیدوں کے) کتاب (کے معنی و مفہوم) کا کوئی علم ہی نہیں وہ (کتاب کو) صرف زبانی پڑھنا جانتے ہیں یہ لوگ محض وہم و گمان میں پڑے رہتے ہیں۔
یہودیوں کی عہد شکنی
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ قف وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ط ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْکُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔83)
ترجمہ: اور (یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا (کسی اور کی ) عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ(بھلائی کرنا) اور عام لوگوں سے (بھی نرمی اور خوش خلقی کے ساتھ) نیکی کی بات کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا، پھر تم میں سے چند لوگوں کے سوا سارے (اس عہد سے) روگرداں ہو گئے اور تم (حق سے) گریز ہی کرنے والے ہو۔
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ ط خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّ اذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ ج فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 64-63)
ترجمہ: اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تمہارے اوپر طور کو اٹھا کھڑا کیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رہو اور جو کچھ اس (کتاب تورات) میں (لکھا) ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ پھر اس (عہد اور تنبیہ) کے بعد بھی تم نے روگردانی کی، پس اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقینا تباہ ہو جاتے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کے عہد و پیمان یاد دلا رہا ہے کہ میری عبادت کر نا اور میرے نبی کی اطا عت کا وعدہ میں تم سے لے چکا ہوں لیکن ان لوگوں نے اتنے پختہ میثاق اتنے اعلیٰ عہد اور اس قدر زبردست وعدے کی بھی کچھ پرواہ نہ کی اور عہد شکنی کی۔ اب اگر اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی اور رحمت نہ ہوتی اگر وہ توبہ قبول نہ فرماتا اور انبیا کے سلسلہ کو برابر جاری نہ رکھتا تو یقینا تمہیں زبردست نقصان پہنچتا، اس وعدہ کو توڑنے کی بنا پر دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو جاتے۔ ( تفسیر ابن کثیر، صفحہ 166)
یہودیوں کا حکمِ الٰہی کی تعظیم نہ کرنا
وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَہُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِئِیْنَ۔ فَجَعَلْنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہَا وَ مَا خَلْفَہَا وَ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 65-66)
ترجمہ: اور ( اے یہود!) تم یقینا ان لوگوں سے خوب واقف ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن (کے احکام کے بارے میں) سرکشی کی تھی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔ پس ہم نے اس (واقعہ) کو اس زمانے اور اس کے بعد والے لوگوں کے لیے (باعثِ) عبرت اور پرہیزگاروں کے لیے (موجب) نصیحت بنا دیا۔
تفسیر ابنِ کثیر میں اس آیت کی تفصیل میں بیان ہوا ہے
یہ ایلہ بستی کے باشندے تھے ان پر ہفتہ کے دن کی تعظیم ضروری کی گئی تھی اس دن کا شکار منع کیا گیا تھا اور حکمِ باری تعالیٰ سے مچھلیاں اسی دن بکثرت آیا کرتی تھیں تو انہوں نے حیلہ کیا گڑھے کھود لیے، رسیاں اور کانٹے ڈال دئیے۔ ہفتہ والے دن مچھلیاں آگئیں یہاں پھنس گئیں اتوار کی رات کو جا کر پکڑ لیا۔ اس جرم پر اللہ نے ان کی شکلیں بدل دیں۔ ( صفحہ نمبر 167)
اللہ کے حکم کی اطاعت پر حیلہ و حجت سے کام لینا
سورۃالبقرۃ میں گائے کو ذبح کرنے کا قصہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں پیش آیا تھا۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا اور قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا ۔ ہر قبیلہ دوسرے پر الزام لگا رہا تھا، جس سے فتنہ و فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ جب معاملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ نے حکم دیا کہ وہ ایک گائے ذبح کریں اور اس کا ایک ٹکڑا مقتول کو ماریں جس سے وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ یہ حکم سن کر بنی اسرائیل نے بہانے بازی اور حیلہ و حجت سے کام لیا۔ حکم پر عمل کرنے کے بجائے، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار گائے کے بارے میں سوال کرنے لگے کہ وہ کیسی ہو، اس کا رنگ کیسا ہو، وہ کس قسم کی ہو۔ ان کی اس بے جا کھوج اور سوالات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حکم کی سختی میں اضافہ کر دیا۔ اگر وہ سوال کیے بغیر پہلے ہی کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے تو کافی تھا، مگر ان کے ان سوالوں نے ان کے لیے مشکل پیدا کر دی ۔ آخر کار تمام اوصاف والی گائے کی تلاش میں انہیں شدید محنت کرنا پڑی اور جب ملی تو انہیں بہت بھاری قیمت دے کر اس گائے کو خریدنا پڑا۔ اس گائے کو ذبح کیا گیا اور اس کا ٹکڑا مقتول کو مارا گیا ، جس نے اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتا دیا۔
اس واقعہ کا بنیادی مقصد بنی اسرائیل کی نافرمانی، ضد اور حکمِ الٰہی کو ٹالنے کی کوشش کرنا تھا اور یہ بتانا تھا کہ اللہ کے حکم پر بغیر چون و چرا کے فوراً عمل کر لینا چاہیے۔
اُمتِ محمدیؐ کے لیے سبق
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو اس واقعہ سے سبق سیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے :
اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَکُمْ کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ط وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ(سورۃ البقرۃ۔ 108 )
ترجمہ:( اے مسلمانوں !) کیا تم چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) سے اسی طرح سوالات کرو جیسے کہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیے گئے تھے ، تو جوکوئی ایمان کے بدلے کفر حاصل کرے پس وہ واقعتا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
پتھر دل قوم
قرآنِ کریم کی آیات میں بنی اسرائیل کے بد فطرت ہونے کے متعلق واضح بیان ہوا ہے کہ ان کے دل پتھر جیسے سخت ہیں بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت۔ پتھروں سے تو اللہ کے حکم سے پانی بھی نکل جاتا ہے اور وہ خوف سے گر بھی پڑتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے دل سخت تھے اور فطرت میں عیب تھا کہ وہ معجزات کو دیکھتے تو تھے مگر ان سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے مزید بہانے بازی اور نافرمانی کی طرف مائل ہو جاتے ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُ ط وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُ ط وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 74)
ترجمہ: پھر اس کے بعد (بھی) تمہارے دل سخت ہو گئے چنانچہ وہ (سختی میں) پتھروں جیسے (ہو گئے) ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت (ہو چکے ہیں ، اس لیے کہ) بیشک پتھروں میں (تو) بعض ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور یقینا ان میں سے بعض وہ (پتھر) بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی ابل پڑتا ہے اور بیشک ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، (افسوس! تمہارے دلوں میں اس قدر نرمی، خستگی اور شکستگی بھی نہیں رہی) اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں۔
انبیا کو قتل کرنا
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ چ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ط اَفَکُلَّمَا جَآئَکُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لَا تَہْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ ج فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ چ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔87)
ترجمہ:اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (تورات) عطا کی اور ان کے بعد ہم نے پے در پے (بہت سے) پیغمبر بھیجے، اور ہم نے مریم (علیہا السلام ) کے فرزند عیسیٰؑ بھیجے، اور ہم نے پاک روح کے ذریعہ ان کی تائید (اور مدد) کی، توکیا (ہوا) جب بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس وہ (احکام) لایا جنہیں تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تو تم (وہیں) اکڑ گئے اور بعضوں کو تم نے جھٹلایا اور بعضوں کو تم قتل کرنے لگے۔
حضرت محمدؐ کے آخری نبی ہونے سے انکار
وَ لَمَّا جَآئَہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ لا وَ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا صلے ج فَلَمَّا جَآئَہُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ چ فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 89)
ترجمہ:اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس کتاب (تورات) کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس موجود تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر زماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان پر اترنے والی کتاب قرآن کے وسیلے سے) کافروں پر فتح یابی (کی دعا) مانگتے تھے، سو جب ان کے پاس وہی نبی (حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے ساتھ) تشریف لے آیا جسے وہ (پہلے ہی سے) پہچانتے تھے تو اسی کے منکر ہو گئے، پس (ایسے دانستہ) انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے ۔
تفسیر ’’ تفہیم القرآن ‘‘میں اس آیت کے متعلق بیان ہوا ہے :
نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد سے پہلے یہودی بے چینی کے ساتھ اس نبی کے منتظر تھے جس کی بعثت کی پیش گوئیاں ان کے انبیا نے دی تھیں۔ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ جلدی سے وہ آئے تو کفار کا غلبہ مٹے اور پھر ہمارے عروج کا دور شروع ہو۔ مگر یہ عجیب ماجرا تھا کہ وہی یہودی، جو آنے والے نبی کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے تھے، اس کے آنے پر سب سے بڑھ کر اس کے مخالف بن گئے ۔
قرآنِ کریم میں یہودیوں کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عداوت کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَہُمْ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ج فَبَآئُوْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ط وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 90)
ترجمہ:انہوں نے اپنی جانوں کا کیا برا سودا کیا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر رہے ہیں، محض اس حسد میں کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (وحی) نازل فرماتا ہے، پس وہ غضب در غضب کے سزاوار ہوئے، اور کافروں کے لیے ذلت انگیز عذاب ہے۔
تفسیر ’’ تفہیم القرآن ‘‘ میں بیان ہوا ہے :
یہ (یہودی) لوگ چاہتے تھے کہ آنے والا نبی ان کی قوم میں پیدا ہو۔ مگر جب وہ ایک دوسری قوم میں پیدا ہو ا، جسے وہ اپنے مقابلہ میں ہیچ سمجھتے تھے تو وہ اس کے انکار پر آمادہ ہو گئے۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ان سے پوچھ کر نبی بھیجتا، جب ان سے نہ پوچھا اور اپنے فضل سے خود جسے چاہا، نوازدیا، تو وہ بگڑ بیٹھے۔
یہودیوں کی چال بازیاں
وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآئَہٗ ژ وَ ہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمْ ط قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآئَ اللّٰہِ مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔91)
ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے: اس کتاب پر ایمان لاؤ جسے اللہ نے (اب) نازل فرمایا ، (تو) کہتے ہیں: ہم صرف اس (کتاب) پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی، اور وہ اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ (قرآن بھی) حق ہے (اور) اس (کتاب) کی بھی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہے، آپ (ان سے) دریافت فرمائیں کہ پھر تم اس سے پہلے انبیا کو کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم (واقعی اپنی ہی کتاب پر) ایمان رکھتے ہو۔
جادو ٹونے کا استعمال
وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ ج وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ژ وَ مَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ ط وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ ط فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہٖ ط وَ مَا ہُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّہُمْ وَ لَا یَنْفَعُہُمْط وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰہُ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ ط قف وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَہُمْ ط لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔ (سورۃالبقرۃ ۔ 102)
ترجمہ: مزید برآں وہ (یہود) اس جھوٹ کی بھی پیروی کرتے تھے جسے شیاطین نے سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے حوالے سے گھڑ لیا تھا۔ حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) نے (کوئی) کفر نہیں کیا تھا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا تھا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور یہ (جادو کا علم) شہر بابل میں ہاروت اور ماروت (نامی) دو فرشتوں پر نہیں اتارا گیا تھا۔ اور نہ وہ دونوں کسی کو (پیشگی تنبیہ کے بغیر) کچھ سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش (کے لیے) ہیں، سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو۔ اس کے باوجود وہ (یہودی) ان دونوں سے ایسا (منتر) سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان پہنچا سکتے تھے مگر اللہ ہی کے حکم سے۔ اور یہ لوگ ان سے وہی چیزیں سیکھتے جو ان کے لیے ضرر رساں ہوتیں اور انہیں نفع نہ پہنچاتیں۔ اور انہیں (یہ بھی ) یقینا معلوم تھا کہ جو کوئی اس ( کفر یا جادو ٹونے) کا خریدار بنا تو اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (ہو گا)۔ اور وہ بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں (کی حقیقی بہتری یعنی اخروی فلاح) کو بیچ ڈالا۔ کاش!وہ اس (سودے کی حقیقت) کو جانتے۔
حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کر دیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکلوا کر لوگوں سے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے صلحا و علما نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جہال جادو کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا علم بتا کر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے، انبیا کی کتا بیں چھوڑ دیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر ملامت شروع کی۔سید عالم ؐ کے زمانہ تک اسی حال پر رہے اللہ تعالیٰ نے حضور ؐپر حضرت سلیمان علیہ السلام کی برأت میں یہ آیت نازل فرمائی ۔(کنز الایمان فی ترجمہ القرآن)
ذلت اور محتاجی کا مسلط کیا جانا
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس کے حکم کی نافرمانی کرنے والے، توحید و رسالت پر ایمان نہ رکھنے والے کافروں، مشرکوں یہاں تک کہ منافقوں کو جہنم کے درد ناک عذاب سے ڈرایا ہے۔ یہود (جو ایمان نہیں لائے) ایسی قوم ہے جن کے لیے نہ صرف جہنم کے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ ان کے متعلق یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ان پر دنیا میں بھی اللہ کا عذاب اور ذلت مسلط رہے گی۔ انہوںنے حق مل جانے اور نعمتوں اور مہربانیوں کے باوجود اللہ سے روگردانی کی، سب سے بڑا جرم انبیا کو قتل کیا جس کی بنا پر وہ قوم جس کو پہلے دیگر قوموں پر فضیلت دی گئی تھی، بعد میں بدترین قوم کہا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ مِنْم بَقْلِہَا وَ قِثَّآئِہَا وَ فُوْمِہَا وَ عَدَسِہَا وَ بَصَلِہَاط قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ہُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ ہُوَ خَیْرٌ ط اِہْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَکُمْ مَّا سَاَلْتُمْ ط وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الْمَسْکَنَۃُ ژ وَ بَآئُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (سورۃالبقرۃ ۔61)
ترجمہ: اور جب تم نے کہا: اے موسیٰؑ! ہم فقط ایک کھانے (یعنی من و سلویٰ) پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے تو آپ اپنے ربّ سے ( ہمارے حق میں) دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے زمین سے اگنے والی چیزوں میں سے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز پیدا کر دے، ( موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے) فرمایا : کیا تم اس چیز کو جو ادنیٰ ہے، بہتر چیز کے بدلے مانگتے ہو؟ ( اگر تماری یہی خواہش ہے تو ) کسی بھی شہر میں جا اترو یقینا (وہاں) تمارے لیے وہ کچھ (میسر) ہو گا جو تم مانگتے ہو، اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی، اور وہ اللہ کے غضب میں لوٹ گئے، یہ اس وجہ سے (ہوا) کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے اور انبیا کو ناحق قتل کرتے تھے، اور یہ اس وجہ سے بھی ہوا کہ وہ نافرمانی کیا کرتے اور ( ہمیشہ) حد سے بڑھ جاتے تھے۔
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ یَّسُوْمُہُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ ط اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ صلے ج وَ اِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ الاعراف۔ 167)
ترجمہ:اور(وہ وقت بھی یاد کریں) جب آپ کے ربّ نے (یہود کو یہ) حکم سنایا کہ (اللہ) ان پر روزِ قیامت تک (کسی نہ کسی) ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو انہیں بری تکلیفیں پہنچاتا رہے۔ بیشک آپ کا ربّ جلد سزا دینے والا ہے، اور بے شک وہ بڑا بخشنے والا مہربان (بھی) ہے۔
سورۃ الاعراف کی اگلی آیت 168 میں فرماتا ہے :
وَ قَطَّعْنٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًاج مِنْہُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ چ وَ بَلَوْنٰہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ۔ (سورۃالاعراف ۔ 168)
ترجمہ: اور ہم نے انہیں زمین میں گروہ در گروہ تقسیم (اور منتشر) کر دیا، ان میں سے بعض نیکوکار بھی ہیں اور ان (ہی) میں سے بعض اس کے سوا بدکاربھی اور ہم نے ان کی آزمائش انعامات اور مشکلات (دونوں طریقوں) سے کی تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کریں۔
دو مرتبہ آزمائش
ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے :
وَ قَضَیْنَا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔4)
ترجمہ:اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو قطعی طور پر بتا دیا تھا کہ تم زمین میں ضرور دو مرتبہ فساد کرو گے اور (اطاعتِ الٰہی سے) بڑی سرکشی برتو گے۔
فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ ط وَ کَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا۔ ( سورۃ بنی اسرائیل۔5)
ترجمہ: پھر جب ان دونوں میں سے پہلی مرتبہ کا وعدہ آپہنچا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے مسلط کر دئیے جو سخت جنگجو تھے پھر وہ (تمہاری) تلاش میں (تمہارے) گھروں تک جا گھسے، اور (یہ) وعدہ ضرور پورا ہونا ہی تھا۔
ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِمْ وَ اَمْدَدْنٰکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔ 6)
ترجمہ: پھر ہم نے ان کے اوپر غلبہ کو تمہارے حق میں پلٹا دیا اور ہم نے اموال و اولاد (کی کثرت) کے ذریعے تمہاری مدد فرمائی اور ہم نے تمہیں افرادی قوت میں (بھی) بڑھا دیا۔
اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ قف وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَہَاط فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓئٗا وُجُوْہَکُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔ 7)
ترجمہ: اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے (ہی) لیے بھلائی کرو گے، اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنی (ہی) جان کے لیے، پھر جب دوسرے وعدے کی گھڑی آئی (تو اور ظالموں کو تم پر مسلط کر دیا) تاکہ (مار مار کر) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ مسجدِ اقصیٰ میں (اس طرح) داخل ہوں جیسے اس میں (حملہ آور لوگ) پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس (مقام) پر غلبہ پائیں اسے تباہ و برباد کر ڈالیں۔
عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ج وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَام وَ جَعَلْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔8)
ترجمہ: امید ہے (اس کے بعد) تمہارا ربّ تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر وہی (سر کشی کا طرزِ عمل اختیار) کیا تو ہم بھی وہی (عذاب دوبارہ) کریں گے، اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے۔
بخت نصر کا بنی اسرائیل پر عذابِ الٰہی بن کر ٹوٹنا
جس وقت حضرت یرمیاہ ؑکی بعثت ہوئی بنی اسرائیل اس دور کی عظیم سپر پاور عراق کی آشوری سلطنت اور اس کے حکمران بخت نصر کے باج گزار تھے۔ اس دور میں بنی اسرائیل کا اخلاقی زوال اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔ ان میں شرک عام تھا۔ زنا معمولی بات تھی۔ اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ یہ لوگ بدترین ظلم و ستم کا معاملہ کرتے۔ سود خوری اور غلامی کی لعنتیں عام تھیں۔ ایک طرف اخلاقی پستی کایہ عالم تھا اور دوسری طرف سیاسی امنگیں عروج پر تھیں۔ ہر طرف بخت نصر کے خلاف نفرت کا طوفان اٹھایا جا رہا تھا۔ مذہب کے نام پر ظواہر کا زور تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ ان پر خدا کا غضب تھا مگر ان کو یہی بات بتانے کے بجائے قومی فخر اور حضرت سلیمانؑ و حضرت داؤد ؑکی عظمتِ رفتہ کے خواب دکھائے جا رہے تھے۔ ایسے میں حضرت یرمیاہؑ اٹھے اور انہوں نے پوری قوت کے ساتھ ایمان و اخلاق کی صدا بلند کی۔ انہوں نے اہلِ مذہب اور اہلِ سیاست کو ان کے رویے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ حضرت یرمیاہ ؑپر وحی آئی کہ اپنی قوم کی اصلاح کرو۔ انہیں سیاست سے نکال کر ہدایت کی طرف لاؤ، ایک بار سچی خدا پرستی پیدا ہو گئی تو سیاست میں تمہی غالب ہو گے۔جب آپ یہ پیغام لے کر اٹھے تو ہر طرف سے آپ کی مخالفت شروع ہو گئی۔ ان کی دعوت بالکل سادہ تھی بخت نصر سے ٹکرانے کی بجائے اپنے ایمان و اخلاق کی اصلاح کرو۔ لیکن اللہ کے اس نبی کو بنی اسرائیل نے بخت نصر کا ایجنٹ قرار دے کر بطور سزا پہلے کنویں میں الٹا لٹکا دیا اور پھر ایک پنجرہ میں باندھ دیا۔ بخت نصر کے خلاف بغاوت کر دی۔ جواب میں بخت نصر عذابِ الٰہی بن کر ٹوٹ پڑا۔ اس تباہی کا منظر کتاب ’’ اور جب زندگی دوبارہ شروع ہو گی‘‘ میں ان الفاظ میں لکھا ہے:
’’ یہ ایک عظیم تباہی کا منظر تھا۔ ہر طرف آگ بھڑک رہی تھی، شعلوں کا رقص جاری تھا۔ جلتے ہوئے مکانات اور املاک سے اٹھنے والے سیاہ بادل آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ فضا میں آہیں، چیخیں اور سسکیاں بلند ہو رہی تھیں۔ زمین بے گناہوں اور گناہگاروں کے خون سے رنگین تھیں۔ انسانوں کو بے دریغ مارا جا رہا تھا۔ گھروں کو لوٹا جا رہا تھا۔ خواتین کی ناموس گلی کوچوں میں پامال ہو رہی تھی۔ یروشلم کی گلیوں میں ہر طرف عراق کے طاقتور ترین حکمران بخت نصر کے فوجی دندناتے پھر رہے تھے۔ ان کے سامنے ایک ہی مقصد تھا بنی اسرائیل کے اس مقدس ترین شہر اور اس کے باسیوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیں۔ ‘‘( اور جب زند گی دوبارہ شروع ہو گی )
تفسیر قرطبی میں بنی اسرائیل پر دو دفعہ جو عذابِ الٰہی نازل ہوا اس کے متعلق درج ہے :
حضرت حذیفہ ؓ نے بیان فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہؐ بیت المقدس اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی عظیم، عالیشان اور قدر و مرتبہ کے اعتبار سے عظیم الشان ہے۔ تو رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’یہ ان اعلیٰ و ارفع اور بلند مرتبہ گھروں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے لیے سونے، چاندی، موتی، یاقوت اور زمرد سے بنایا۔‘‘ اور وہ اس طرح کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے جب اسے بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن مسخر کر دئیے (ان کے تابع بنا دئیے) پس وہ معادن (کانیں) سے سونا اور چاندی لے آتے تھے۔ حضرت حذیفہ ؓ نے بیان فرمایا : سو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ؐ یہ چیزیں بیت المقدس سے کیسے اٹھائی گئیں؟ تو رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’جب بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور انہوں نے انبیا علیہم السلام کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کر دیا اور وہ مجوسی (آتش پرست) تھا اور اس کی حکومت سات سو سال تک رہی۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ ط وَ کَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا۔ ( سورۃ بنی اسرائیل۔5)
ترجمہ:جب ان دونوں میں سے پہلی مرتبہ کا وعدہ آپہنچا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے مسلط کر دئیے جو سخت جنگ جو تھے پھر وہ ( تمہاری) تلاش میں ( تمہارے ) گھروں تک جا گھسے ، اور (یہ ) وعدہ ضرور پورا ہونا ہی تھا۔
پس وہ بیت المقدس میں داخل ہوئے اور مردوں کو قتل کر دیا اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا اور اموال اور وہ سب کچھ جو ان اصناف میں سے بیت المقدس میں تھا، سب جمع کر لیا اور اسے ایک لاکھ ستر ہزار سامان لادنے والی گاڑیوں پر لاد دیا یہاں تک کہ اسے بابل پہنچا دیا، پس وہ وہیں مقیم رہے۔ بنی اسرائیل سے خدمت لیتے رہے اور سو برس تک ذلت و رسوائی اور سزا و عذاب کے ساتھ ان پر حکومت کرتے رہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور فارس کا ایک بادشاہ ان کی طرف چل پڑا یہاں تک کہ وہ بابل کے علاقے میں داخل ہو گیا اور مجوسیوں کے ہاتھوں میں جو بنی اسرائیل کے لوگ باقی تھے، انہیں چھڑایا اور وہ زیورات جو بیت المقدس سے وہ لے آئے تھے ، وہ بھی ان سے لے لیے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اسی مقام پر واپس لوٹا دیا جس پر وہ پہلے تھے پس اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : اے بنی اسرائیل اگر تم پھر گناہوں اور نافرمانی کی طرف لوٹ گئے تو ہم بھی قید اور قتل و غارت کو تم پر لوٹا دیں گے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کایہ قول:
ا گر تم نے پھر وہی (سر کشی کا طرزِ عمل اختیار) کیا تو ہم بھی وہی (عذاب دوبارہ) کریں گے اور جب بنی اسرائیل بیت المقدس کی طرف لوٹ کر آئے تو دوبارہ گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب کرنے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر شاہِ روم کو مسلط کر دیا۔ ( تفسیر قرطبی ، جلد پنجم ، صفحہ نمبر 640)
یہود و نصاریٰ کو دوست نہ سمجھنا
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ مؔ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ط وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ ( سورۃالمائدہ ۔ 51)
ترجمہ: اے ایمان والوں! یہود اور نصاریٰ کو (اپنا قابلِ اعتماد ) دوست نہ بنائو۔ یہ آپس میں (تمہارے خلاف) ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص ان کو (اپنا قابلِ اعتماد ) دوست بنائے گا تو بے شک وہ انہی میں سے ہو (جائے) گا۔ یقینا اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔
حاصلِ کلام :
قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل کے قصے دراصل امتِ محمدی ؐ کے لیے عبرت اور نصیحت کا خزانہ ہیں۔ قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل کے واقعات سے امتِ محمدیؐ کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ وہ ان تمام نافرمانیوں اور اخلاقی کمزوریوں سے اجتناب کریں جن کی وجہ سے ان سے امامت کا منصب چھین لیا گیا اور ان پر ذلت و مسکنت مسلط کر دی گئی۔ بنی اسرائیل کی طرح احکامات میں حیلے بہانے، شک و شبہ کر کے اپنی راہیں خوددشوار نہ کر یں۔ یہ اللہ پاک کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں امتِ محمدیؐ ہونے کا شرف عطا کیا اور اس منصب کا تقاضا ہے کہ ہم ہمیشہ اطاعت، وحدت، شکر گزاری اور دین میں اخلاص کو اپنا شعار بنائیں تاکہ دنیا میں عزت اور آخرت میں فلاح پا سکیں۔ ازل سے اللہ پاک کا دستور رہا ہے کہ مومنین کو شیطان کے شر سے بچانے اور فلاح کا راستہ دکھانے کے لیے انبیا اور رُسل کے سلسلہ کا اہتمام فرمایا۔ نبی آخر زماں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد بنی نوع کی فلاح کا بیڑا اولیا اللہ نے اٹھایا جیسا کہ حدیثِ مبارکہ ہے:
شیخ (مرشد کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسے کہ ایک نبی اپنی امت میں ۔ ( شمس الفقرا)
موجودہ دور میں یہ فریضۂ حق مرشدکامل اکمل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نبھا رہے ہیں بلاشبہ آپ مدظلہ الاقدس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نائبِ خاص، امانتِ فقر کے وارث ہونے کی حیثیت سے اپنے مریدوں کی ظاہری و باطنی اصلاح فرما کر ان کو راہِ ہدایت سے منسلک فرما رہے ہیں اور وہ گناہ اور نافرمانیاں جو سابقہ اُمتوں نے کیں اور ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا ان سے مومنین کو محفوظ فرما رہے ہیں ۔آپ مدظلہ الاقدس اپنے تمام مریدین کو نصیحت فرماتے ہیں :
دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست کی نہیں بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے۔ ( فرمودات سلطان العاشقین)
استفاد ہ کتب :
۱۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین، ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
۲۔شمس الفقرا، تصنیف لطیف ، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۳۔تفسیر قرطبی ، مفسر : امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبیؒ ، مترجمین مولانا محمد ملک محمد بوستان ، مولانا سید محمد اقبال شاہ گیلانی
۴۔اورجب زندگی دوبارہ شروع ہو گی، مصنف ابو یحییٰ
۵۔تفسیر ابنِ کثیر، تالیف امام المفسرین حافظ عماد الدین، ترجمہ: امام العصر مولانا محمد جونا گڑھی
۶۔ تفہیم القرآن۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی
کنز الایمان فی ترجمہ القرآن ، حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ؒ