سچائی کا نورSachai Ka Noor

Rate this post

سچائی کا نورSachai Ka Noor

تحریر: فقیہہ صابر سروری قادری

انسانی زندگی دراصل روشنی اور تاریکی کے درمیان ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ ہر انسان دن میں کئی مرتبہ ایسے فیصلوں سے گزرتا ہے جو یا تو اس کے دل کو روشن کر دیتے ہیں یا اسے اندھیروں کے قریب لے جاتے ہیں۔ انہی فیصلوں میں سب سے بنیادی اور سب سے اہم فیصلہ سچ یا جھوٹ بولنے کا ہوتا ہے۔تاریخِ انسانی کی ہر تہذیب نے سچائی کو سب سے بلند اور جھوٹ کو سب سے تباہ کن عمل قرار دیا ہے کیونکہ سچائی وہ نور ہے جو انسان کے باطن میں پاکیزگی اور اخلاقی مضبوطی پیدا کرتا ہے۔ یہ دلوں کو جوڑتی، کردار کو سنوارتی اور زندگی کو امن اور وقار بخشتی ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ ایک ایسی خاموش تاریکی ہے جو بظاہر چھوٹی لگتی ہے مگر اندر ہی اندر انسان کے اخلاق اور روحانی شعور کو کھا جاتی ہے۔ جھوٹ صرف ایک لفظ نہیں رہتا بلکہ آہستہ آہستہ انسان کے کردار، فیصلوں، تعلقات اورپوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یوں یہ اخلاقی پستی کی پہلی سیڑھی بن کر انسان کو زوال کی دہلیز تک لے جاتا ہے۔

قرآنِ مجید نے سچائی کو اہلِ ایمان کی صفت اور جھوٹ کو منافقت کی علامت بتایا، اور یہ تقسیم بتاتی ہے کہ یہ معاملہ معمولی نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کی اصل بنیاد سے جڑا ہوا ہے۔ اس اعتبار سے سچائی اور جھوٹ کا انتخاب صرف زبان کا فیصلہ نہیں بلکہ روحانی سمت کا تعین ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرتِ سلیمہ عطا کی ہے جس کا میلان سچائی، پاکیزگی اور نور کی طرف ہے۔ قرآنِ مجید واضح اعلان کرتا ہے:
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا  یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ    (سورۃ البقرۃ۔ 257)
ترجمہ:اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔ 

سچائی اسی نور کا پہلا دروازہ ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو دل کو اللہ کے قریب کرتی ہے، نفس کو پاکیزگی بخشتی ہے اور انسان کے ہر عمل میں صداقت و ایمان کی خوشبو بھر دیتی ہے۔ اس لیے قرآن نے اہلِ ایمان کی بنیادی پہچان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ    (سورۃ توبہ۔ 119)
ترجمہ:اہلِ صدق (سچے لوگوں کی معیت )میں شامل رہو۔

جب دل سچائی کے نور میں ڈوب جاتا ہے تو زندگی میں برکت، کردار میں مضبوطی اور رشتوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ سچ نہ صرف نیکی کا راستہ ہے بلکہ خاتم النبییٖن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پسندیدہ عمل بھی ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی تعلیمات میں جن اخلاقِ حسنہ پر بہت زور دیا اور جن کو لازمۂ ایمان و اسلام قرار دیا ہے، ان میں سچائی اور امانت داری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! جنتی عمل کیا ہے؟ نبی کریم ؐنے فرمایا ’’سچ بولنا۔ جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب نیکی کرتا ہے تو ایمان لاتا ہے اور جب ایمان لے آیا تو جنت میں داخل ہوجائے گا۔‘‘ (مسند احمد 6641)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ ‘‘ (صحیح بخاری6094)

اس کے برعکس جھوٹ ایک ایسا اندھیرا ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے دل پر چھا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ ایک معمولی لفظ لگتا ہے مگر رفتہ رفتہ اخلاقی زوال کی پہلی سیڑھی بن کر انسان کو روحانی اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ قرآن جھوٹ کو سختی سے رَد کرتے ہوئے فرماتا ہے:
فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ لا فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًاج  وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌم لا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ (سورۃ البقرہ۔ 10)
ترجمہ:ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔  

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ (سورۃ المومن۔ 28)
ترجمہ:بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا سراسر جھوٹا ہو۔  

مندرجہ بالا آیات سے اللہ پاک کی جھوٹے بندے سے ناراضی کا پتہ چلتا ہے کیونکہ جس سے مالکِ کائنات ناراض ہو اسے ہدیت نہی ملتی، وہ گمراہ رہتا ہے اور گمراہ کا ٹھکانا دوزخ ہے۔

جیسا کہ حدیثِ پاک ہے:
ایک شخص نے پوچھا یا رسولؐ اللہ! جہنمی عمل کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ جھوٹ بولنا۔ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے توگناہ کرتا ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو کفر کرتا ہے اور جب کفر کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہوجائے گا۔‘‘  (مسند احمد 6641)

 ایک اور حدیثِ مبارکہ میں رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا:
بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف۔ اور ایک شخص مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری6094)

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تواس کی بد بو کی وجہ سے فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی 1972)

حضرت معاویہ بہزیؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے’’اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کے سامنے انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں کہتاہے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔ (مسند احمد۔20270)

 مطلب یہ ہے کہ سچ بولنا بذاتِ خود نیک عبادت ہے، اور اس کی یہ خاصیت بھی ہے کہ وہ آدمی کو زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بھی نیک کردار اور صالح بنا کر جنت کا مستحق بنا دیتی ہے اور ہمیشہ سچ بولنے والا آدمی مقامِ صدیقیت تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جھوٹ بولنا بذاتِ خود بھی ایک خبیث خصلت ہے، اور اس کی یہ خاصیت بھی ہے کہ وہ آدمی کے اندر فسق و فجور کا میلان پیدا کر کے اس کی پوری زندگی کو بدکاری کی زندگی بنا کر دوزخ تک پہنچا دیتی ہے، نیز جھوٹ کی عادت ڈال لینے والا آدمی کذاب کے درجے تک پہنچ کر پورا لعنتی بن جاتا ہے۔

صدق (سچائی) اور جھوٹ (کذب) باہم متضاد شے ہیں۔ صدق کو ایمان والوں کی جبکہ جھوٹ کو منافقین کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ جھوٹ کی عادت ضمیر کو مٹا دیتی ہے اور انسان کو منافقت کی طرف لے جاتی ہے۔ منافقین کے بارے میں اللہ کا اعلان ہے:
اِذَا جَآئَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ م وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ ط وَ اللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ    (سورۃ المنافقون۔1)
ترجمہ:(اے حبیبِ مکرّم!) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقینا آپ اُس کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا منافق لوگ جھوٹے ہیں۔  

سچائی اور جھوٹ کا یہ اختلاف صرف زبان کا فرق نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور انسانی قدروں کا تعین کرنے والا معیار ہے۔جو راستہ انسان اختیار کرتا ہے وہی اس کی زندگی کا رُخ طے کر دیتا ہے۔

صدق و سچائی کا کامل نمونہ
(سیرتِ خاتم النبیینؐ)

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا لقب صادق و امین ہے اور دنیا نے آج تک آپؐ سے بڑھ کر صداقت و سچائی کی کوئی مثال نہیں دیکھی ۔ بلاشبہ آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر ایک پہلو صدق و حق گوئی سے معمور و معطر ہے جس کا اعتراف آپؐ کے دشمنوں نے بھی کیا جو آنکھ بندکرکے آپ ؐکی صداقت و دیانت پر یقین رکھتے تھے ۔آپ ؐ کی حیاتِ مبارکہ سچائی کے ایسے کئی عظیم واقعات سے مزین ہے جن کا احاطہ فقط ایک تحریر میں نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ نور بخش توکلیؒ اپنی تصنیف سیرتِ رسولِؐ عربی میں رقم طراز ہیں :
اپنے تو در کنار بیگانے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت کے قائل تھے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام ابھی ایمان نہ لائے تھے کہ حضور کو دیکھتے ہی پکار اُٹھے:
وَجْہُہُ لَیْسَ بِوَجْہِ کَذَّابٍ 
ترجمہ: ان کا چہرہ دروغ گو(جھوٹا) کا چہرہ نہیں۔

مزید لکھتے ہیں کہ:
صلحِ حدیبیہ کی مدت میں ہرقلِ روم نے ابوسفیان (جواب تک ایمان نہ لائے تھے) سے آنحضرتؐ کی نسبت پوچھا:
’’کیا دعویٰ نبوت سے پہلے تمہیں ان پر جھوٹ بولنے کا گمان ہوا ہے؟‘‘ ابوسفیان نے جواب دیا کہ نہیں۔

ایک اور روایت بیان کرتے ہیں :
جب آپ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو اعلانِ دعوت کا حکم ہوا تو آپؐ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش کو پکارا۔جب وہ جمع ہو گئے تو آپؐ نے ان سے پوچھا: بتاؤ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ وادیٔ مکہ سے ایک سواروں کا لشکر تم پر تاخت و تاراج (تباہ و برباد) کرنا چاہتا ہے تو کیا تمہیں یقین آجائے گا؟وہ بولے ہاں، کیونکہ ہم نے آپ کو سچ ہی بولتے دیکھا ہے۔‘‘

حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
ابوجہل نے حضور نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے کہا’’اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ! ہم جانتے ہیں کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور ہم تمہیں جھٹلاتے بھی نہیں ہیں ہم تو اس (پیغام) کو جھٹلاتے ہیں جوتم لیکر آئے ہو۔‘‘

 تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ (سورۃ الانعام۔33)
ترجمہ:(اے حبیبؐ!) بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (بات) یقینا آپ کو رنجیدہ کررہی ہے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں، پس یہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ظالم لوگ اللہ کی آیتوں سے ہی انکار کررہے ہیں۔  

مذکورہ بالا روایات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں جھوٹ کی کس قدر سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور صدق و سچائی کی اہمیت اور اسے عملی زندگی میں لاگو کرنے کیلئے اصرار کیا گیا ہے۔ صدق و سچائی کی یہی تلقین (جو سیرتِ النبیؐ سے نصیب ہوتی ہے) ہمیں اکابرینِ امت اورسلف صالحین کی تعلیمات اور ان کی عملی زندگیوں میں بھی بدرجہ اتم دیکھنے کو ملتی ہے بلکہ صوفیا کرام کے نزدیک صدق دائمی فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔

صاحبِ روح البیان نے مسئلہ صوفیانہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
 بعض اہلِ معرفت فرماتے ہیں کہ جو دائمی فرض ادا نہیں کرتا اس کا وقتی فرض بھی قبول نہیں ہوتا۔ ان سے عرض کیا گیا کہ دائمی فرض کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا ’’صدق‘‘

مفتی احمد یا رخان نعیمی لکھتے ہیں:
 جھوٹ کئی قسم کا ہوتا ہے:
۱۔قول میں جھوٹ،وہ اس طرح کہ خلافِ واقع خبر دے۔
۲۔فعل میں جھوٹ، وہ اس طرح کے عمل قول کے خلاف ہو یعنی کہے کچھ اور کرے کچھ۔
۳۔عقیدے میں جھوٹ،وہ اس طرح کے غلط عقائد اختیار کرے مثلاً خالق تو ایک ہے لیکن کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ خالق تو چند ہیں تو یہ عقیدے کا جھوٹ ہوا۔ہر جھوٹ برا ہے لیکن عقیدے کا جھوٹ سب سے برا ہے۔

 اسی طرح امام ابو حامد محمد الغزالیؒ ’’احیاء العلوم‘‘ میں صدق کی اقسام، معانی اور مراتب پربحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
لفظ صدق کا اطلاق چھ معانی پر ہوتا ہے:قول میں صداقت، نیت میں صداقت، ارادے میں صداقت، عزم میں صداقت، عزم پورا کرنے میں صداقت، عمل میں صداقت اور دین کے تمام مقامات کی تحقیق میں صداقت۔جوشخص ان چھ معانی میں صدق کے ساتھ متصف ہو وہ صدیق ہے اس لیے کہ لفظ صدیق صدق سے مبالغے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر صادقین کے بہت سے درجات ہیں، جس شخص کو کسی خاص چیز میں صدق حاصل ہوگاوہ اس خاص چیز کے اعتبار سے صادق کہلائے گا جس میں اس کا صدق پایا جائے گا۔

حضرت حسنؓ فرماتے ہیں:
جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کا جھوٹ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
راہِ فقر پر گامزن طالبِ مولیٰ کا اللہ تعالیٰ سے پہلاوعدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا خواہ اس کے لیے کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے اور تکالیف برداشت کرنی پڑیں کیونکہ سچائی(حق)کے راستہ پر چلنا اگرچہ مشکل ہے لیکن کامیابی صرف سچائی کو ہی حاصل ہوتی ہے۔
جھوٹ کودنیا میں کبھی بھی عروج اور کامیابی نہیں ملی۔آخر کار کامیابی سچ کے حصہ میں آتی ہے۔
راہِ فقر پر صرف صدیق اور سچے طالبوں کوکامیابی حاصل ہوتی ہے۔
جھوٹا تو ولی اللہ بن ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور حق ہی کو پسند کرتا ہے۔

اللہ کے بندے بیہودہ باتوں اور بے مقصد کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بولنے میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے۔جس کی زبان درست ہو اُس کے تمام اعمال اصلاح یافتہ ہوجائیں گے اور جس کی زبان میں خرابی ہو اُس کے تمام اعمال میں خرابی ظاہر ہوگی۔ جو شخص اپنی زبان کو کھلی چھٹی دے دیتاہے تو اُسے ہلاکت کے کنارے پر لے جاتا ہے۔ 

حضرت معاذ بن جبلؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
آدمی زبان کی بے باکیوں کی وجہ سے اوندھے منہ یانتھنوں کے بل جہنم میں گرائے جائیں گے۔  (جامع ترمذی 2616)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
بنی اسرائیل میں تین شخص تھے؛ایک کوڑھی،ایک نابینااور ایک گنجا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں بندوں کا امتحان لینا چاہا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے پاس ایک فرشتہ بھیجا، فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ اُس کوڑھی نے جواب دیا کہ اچھا رنگ اور اچھی جلد، کیونکہ (کوڑھی ہونے کی وجہ سے) مجھ سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو (اللہ کے حکم سے) اس کی بیماری جاتی رہی اور اس کا رنگ بھی خوبصورت ہوگیا اور جلد بھی اچھی ہوگئی۔ فرشتے نے پوچھا،کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ اونٹ، چنانچہ اسے حاملہ اونٹنی عطا کی گئی اور کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا۔ 

پھر فرشہ گنجے کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ عمدہ بال تاکہ میرا موجودہ عیب ختم ہوجائے، کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے مجھے پسند نہیں کرتے۔ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا او راس کا عیب (اللہ کے حکم سے) جاتا رہا اور اس کے عمدہ بال آگئے۔فرشتے نے پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ گائے۔ فرشتے نے اسے حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا۔

 پھر فرشتہ تیسرے شخص اندھے کے پاس گیا اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اندھے شخص نے کہا:اللہ تعالیٰ مجھے بصارت دے دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی واپس کردی۔ فرشتے نے پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کروگے؟ اس نے کہا کہ بکریاں۔ فرشتے نے اسے حاملہ بکری دے دی۔ تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے (اور کچھ عرصہ میں اتنی برکت ہوئی کہ) کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی، گنجے کے گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی۔ 

دوبارہ فرشتہ اپنی اُسی شکل وصورت میں کوڑھی کے یہاں گیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین آدمی ہوں، سفر کا تمام سامان واسباب ختم ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے مقصد برآری کی توقع نہیں، لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھی جلد اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے سفر کی ضروریات پوری کرسکوں۔ اس نے فرشتے سے کہا کہ حقوق اور بہت سے ہیں(تمہارے لئے گنجائش نہیں)۔ فرشتے نے کہا:غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے نفرت کیا کرتے تھے۔ ایک فقیر کی دعا وکوشش سے تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں۔اس نے کہا کہ یہ ساری دولت تو نسل در نسل چلی آرہی ہے۔فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔

 پھر فرشتہ اپنی اُسی شکل وصورت میں گنجے کے پاس گیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی۔ اس گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے جواب دیا تھا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔

 اس کے بعد فرشتہ اپنی اُسی شکل وصورت میں اندھے کے پاس گیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین آدمی ہوں، سفر کے تمام اسباب و وسائل ختم ہوچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے مقصد برآری کی توقع نہیں لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں بینائی دی،ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کرسکوں۔ اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر ومفلس تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دار بنایا، تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو۔ بخدا،جب تم نے اللہ کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے لو، میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا۔ فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو، یہ تو صرف امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔ (صحیح بخاری 3464)

کوڑھی اور گنجے نے جھوٹ بولا جس سے وہ دونوں جہان میں ناکام ہوئے، لیکن اندھا سچ بولنے کی وجہ سے دونوں جہان میں کامیاب و کامران ہوا۔ اس لئے ہمیں جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ جھوٹ کے نتائج سخت مہلک اور خطرناک ہیں۔ 

مولانا رومیؒ نے جھوٹوں کی اقتدا کو صبح کاذب سے تشبیہ دی ہے:

صبح کاذب خلق را رہبر مباد
کہ دہد بس کاروانہا را مباد

ترجمہ: صبح کاذب (جھوٹی صبح) کسی (مخلوق) کی رہبر نہ ہو، اس لیے کہ اس نے بہت سے قافلے برباد کیے ہیں۔

بہر صورت ایسا کلام کیا جائے جس سے صداقت و سچائی کی خوشبو آئے۔ اللہ ربّ العزت ہمیں جھوٹ جیسی خصلتِ بد سے بچنے اور صداقت و حق گوئی کو اپنا دائمی شعار بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبالؒ(بالِ جبریل)میں فرماتے ہیں:

آئینِ جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی

جواں مردوں کا شیوا یہ ہے کہ سچی بات کہیں اور کسی سے نہ ڈریں۔ وہ اللہ کے شیرہیں،ان کے لیے لومڑی کے طورطریقے زیبا نہیں جو مکروفریب کاری میں رسوائے عام ہے۔

میرے مرشد پاک سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف ’’شمس الفقرا‘‘ میں رقم طراز ہیں:
جھوٹ اُمّ الخبائث ہے کیونکہ اس سے نفاق، جھگڑا، فساد، نفرت، بغض، کینہ اور منافرت پھیلتی ہے۔
جھوٹ کی بیماری پہلے باطن میں جنم لیتی ہے اور پھر زبان یا عمل اس کا اظہار کرتے ہیں۔
جھوٹ بولنے سے اللہ کی رحمت سے دوری ہوتی ہے اورجھوٹا اللہ تعالیٰ کی لعنت کا شکار ہوجاتا ہے اور بالآخر گمراہ ہو جاتاہے۔
جھوٹ بولنے والے کی روزی سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔
جھوٹ غم و فکر پیداکرتاہے۔
جھوٹ دل کو سیاہ کرتا ہے۔
جھوٹ سے گھرمیں برکت ختم ہوجاتی ہے۔
جھوٹ سے غفلت پیدا ہوتی ہے۔

جھوٹ، سچائی کی ضد ہے۔ سچائی کے نور تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زندگی کے چھوٹے بڑے ہر معاملے میں سچائی کو دائمی شعار بنایا جائے تاہم اس عمل کی ضد جھوٹ کی تباہ کاریوںسے بھی بخوبی واقفیت حاصل کی جائے تاکہ جانے انجانے میں بھی ہم اس ملعون فعل کے مرتکب نہ ہوں کیونکہ جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔سچائی کو رحمن جبکہ جھوٹ کو شیطان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنے پنچابی ابیات میں دو بیت اِسی موضوع سے شروع کیے:

  ایہہ تن ربّ سچے دا حجرا، وِچ پا فقیرا جھاتی ھوُ
  ایہہ تن ربّ سچے دا حجرا، دِل کھڑیا باغ بہاراں ھوُ

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ثابت قدمی اور استقامت سے سچ بولنے اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کے جھوٹ سے بچائے۔آمین

استفادہ کتب:
۱۔شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۲۔ابیاتِ باھوؒ کامل: تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۳۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین
سیرتِ رسولِ ؐعربی: علامہ نور بخش توکلی ؒ
رسالہ:صدق و سچائی کی تاکید۔حافظ محمد شہباز عزیز 

اپنا تبصرہ بھیجیں