مرحبا رمضان Marhaba Ramadan

Rate this post

مرحبا رمضان Marhaba Ramadan 

تحریر: وقار احمد  سروری قادری

رمضان المبارک ہجری سال کا نوواں(۹) مہینہ ہے۔ اس ماہ میں مومنین پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عبادات کا ثواب ستر (70) گنا سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتاہے اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں جس کی بدولت یہ ماہ انتہائی مقدس اور معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ چھوٹے بڑے سب اس مہینے کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ ہجری سال کی ابتدا ہوتے ہی عیسوی کیلنڈر کے مطابق رمضان المبارک کی آمد کے تخمینے شروع کر دیے جاتے ہیں۔ بے شک یہ ماہ ِ مبارک مومنین کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم تحفہ ہے البتہ ہم پر اس نعمت کا رضائے الٰہی کے مطابق حق ادا کرنے اورشکر بجا لانے کے کچھ تقاضے بھی لاگو ہوتے ہیں ۔

استقبالِ رمضان

بلاشبہ رمضان المبارک مومنین پر اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت اور مہربانی ہے۔ یوں کہیے کہ اس ماہِ مقدس کی بدولت اللہ پاک مومنین کو بخشش کے پروانے عطا کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ نفل عبادات کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ اِسی طرح صدقہ، خیرات اور عطیات کا اجر و ثواب بھی کئی گنا کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس ماہ کی آمد سے قبل خوشی کا اظہار اور اس کے استقبال کی بھرپور تیاری کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے صحت و تندرستی کی دعا، عبادت و ریاضت کی توفیق عطا کرنے کی دعا، وسائل میں فراوانی کی دعا اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے لیے سخاوت کی دعا کرنی چاہئے تاکہ اس مہینے میں ہم اپنے ربّ کو راضی کرنے کا کوئی ذریعہ بھی ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْرٌ لَّہٗ    (سورۃ البقرہ۔184)
ترجمہ: پھر جو کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ) نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔

رمضان المبارک کی انفرادیت

رمضان المبارک کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پورے سال میں صرف رمضان المبارک میں ہی مومنین پر روزے فرض کیے ہیں۔ البتہ رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں میں نفلی روزے رکھنے پر کوئی ممانعت نہیں لیکن فرض صرف رمضان میں ہی کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورۃ البقرہ۔183)
ترجمہ:اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

مذکورہ بالاآیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ روزوں کے ذریعے مومنین کو متقی یعنی تقویٰ والا بنانا چاہتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے:
تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے یعنی تقویٰ والا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک مرتبہ تقویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے انگلی سے دل کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔ ‘‘

سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
تقویٰ اصل میں قلب (باطن) کے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا نام ہے۔ جس قدر کسی کا قلب اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا وہ اُسی قدر متقی ہوگا یعنی تقویٰ قربِ الٰہی کا نام ہے۔ (حقیقتِ روزہ)

رمضان المبارک میں عبادات

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس ’’حقیقتِ روزہ ‘‘میں فرماتے ہیں:
رمضان المبارک کے مہینے میں عبادت کا ذوق بڑھ جاتا ہے۔ رجوع اِ لی اللہ کی کیفیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ذکرِ اللہ (ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات)، تلاوتِ قرآنِ مجید، نوافل اور قیام میں دل لگتا ہے۔ صدقہ و خیرات کا رجحان فروغ پاتا ہے۔ (حقیقتِ روزہ)

رمضان اور صدقہ و خیرات 

شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔

انفاقِ واجبہ: یہ فرض ہے اور اصطلاحِ شریعت میں اسے ’’زکوٰۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔ صوفیا اور فقرا اسے زکوٰۃِشریعت یا زکوٰۃِشرعی کہتے ہیں۔ عشر بھی اس میں شامل ہے۔

انفاقِ نافلہ: ان میں وہ تمام صدقات اور خیرات شامل ہیں جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ فقرا اسے زکوٰۃِحقیقی یا زکوٰۃِحقیقت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جو چیز رضائے الٰہی کے لیے فی سبیل اللہ دی جائے صدقہ یا خیرات کہلاتی ہے۔

جہاں رمضان المبارک میں دیگر عبادات کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے وہیں اس ماہِ مقدس میں صدقہ و خیرات کی بہت فضیلت ہے۔ قرآن و حدیث میں اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے مال خرچ کرنے کا حکم باربار آیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِکُمْ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآئَ وَجْہِ اللّٰہِ  وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ  (سورۃ البقرۃ ۔ 272)
ترجمہ: اور تم جو اچھی چیزخرچ کرو تو وہ تمہارے لئے ہی فائدہ مند ہے اورتم اللہ کی خوشنودی چاہنے کیلئے ہی خرچ کرو اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پوراپورا دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمْ وَ لَہُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ  (سورۃ الحدید۔18)
ترجمہ: بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دیایہ ان کے لئے کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لیے بہت بڑاعزت والا اجر ہے۔

وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ  (سورۃ الانفال۔60)
ترجمہ: اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورابدلہ دیا جائے گااور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔

احادیث کر روشنی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے احکامات

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کثرت سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے متعلق بیان فرمایا ہے اور اس کی فضیلت بیان کی ہے۔  ذیل میں چند ایک احادیث درج کی جارہی ہیں جن میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
صدقہ مال کو کم نہیں ہونے دیتا (خواہ آمدنی بڑھ جائے یا برکت بڑھ جائے یا ثواب بڑھتا رہے)۔ (مسلم)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’خیرات کرنے میں جلدی کیا کرو۔‘‘
حضرت ابو سعیدرضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اپنی حیات میں ایک درہم خرچ کرنا مرتے وقت سو دِرہم خیرات کرنے سے افضل ہے۔ (ابو داؤد)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔ (ترمذی)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو اس لیے کہ بلا صدقہ کو نہیں پھاند سکتی۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو بے شک مصیبتیں صدقہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں (یعنی صدقہ بلاؤں سے انسان کے لئے ڈھال ہے)۔

 حدیث شریف میں ہے کہ اپنے تفکرات اور غموں کو صدقہ سے دور کیا کرو اس سے اللہ تعالیٰ تم سے ضرر پہنچانے والی چیزوں کو بھی دور کرے گا اور دشمن پر تمہاری مدد بھی کرے گا۔ (کنز العمال)

مندرجہ بالا احادیث اور آیاتِ قرآنی سے اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کی اہمیت و فضیلت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ ایسی بے شمار احادیث جید صحابہ کرام ؓ سے مروی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کا ذکر کیا گیا ہے لیکن مضمون کی طوالت کے باعث محض چند ایک پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا اہم سبب ہے تاہم یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ صدقہ و خیرات کن لوگوں کو دی جائے۔ آخر کون لوگ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ اللہ کے نام پر دیا جانے والا مال و دولت اُن کو دیا جائے ۔ آئیے قرآن و حدیث کی رُو سے اس اہم سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

صدقات کن کو دیے جائیں؟

زکوٰۃِ شرعی اور زکوٰۃِ حقیقی کے مصارف ایک ہی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ اور خیرات کن لوگوں پر خرچ کرنا ہے اس کا اعلان بھی قرآنِ پاک میں کر دیا گیا ہے:
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔  (سورۃالتوبہ۔ 60)
ترجمہ: بے شک صدقات تو فقرا، مساکین اور عاملین (زکوٰۃ اکھٹا کرنے والے)، قلوب کی تالیف، گردنیں چھڑانے، قرض داروں کے قرض ادا کرنے میں، اللہ کی راہ اور مسافروں کے لیے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فرض کئے گئے ہیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

مذکورہ بالاآیت کے مطابق صدقات کے اوّلین اور سب سے زیادہ مستحق فقرا ہیں۔ فقرا فقیر کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ولیٔ کامل ہے جو فنا فی اللہ ہو چکا ہو جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 273 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
لِلْفُقَرَآئِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ چ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ ج تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ  بِہٖ عَلِیْمٌ۔
ترجمہ:صدقات تو ان فقرا کے لیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں وقف کر دی ہے اور زمین میں چل پھر کر کسبِ معاش نہیں کرتے۔ تم نادان ہو جو انہیں صورت دیکھ کر پہچان نہیں سکتے (یعنی تمہارے پاس نورِ بصیرت نہیں ہے جس سے انہیں پہچان سکو) کہ وہ خوشحال ہیں۔ لوگوں سے لپٹ کر اور گڑگڑا کر سوال نہیں کرتے دراصل صدقہ و خیرات کے مستحق یہی لوگ ہیں اور اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقیر اللہ تعالیٰ کا ایک راز ہوتا ہے جس کے دل میں محبتِ الٰہی سمائی رہتی ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)
فقیرِ کامل اسے کہتے ہیں جو اللہ کی نظر میں منظور ہو کر ہر لمحہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہے۔ (کلید التوحید کلاں)
انہی کے بارے میں سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا قول ہے کہ فقیر وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ فقیر وہ ہے جو کہے کہ ’ہو جا‘ تو ہو جائے۔ (الرسالۃ الغوثیہ)

عطیات، زکوٰۃ، صدقات اور تحریک دعوتِ فقر

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے سلسلہ سروری قادری کے امام، مجددِ دین اور امامِ زمانہ سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے 23 اکتوبر 2009ء کو تحریک دعوتِ فقر کا قیام عمل میں لا کر اس تاریک دور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی ورثہ فقر کی نعمت عام کی ہے۔

تحریک دعوتِ فقر کا اصول ہے کہ اس میں عام لوگوں سے چندہ وصول نہیں کیا جاتا۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہے وہ خود بخود ہی اور نام نمود سے بے نیاز ہو کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اب عوام الناس سے عطیات اور زکوٰۃ کے حصول کے لیے درخواست کی جا رہی ہے اور آپ کو ہماری امداد دل کے مطمئن ہونے کے بعد کرنی ہے کیونکہ دل کے اطمینان کے بعد کیا جانے والا کام ہی اعلیٰ مراتب کا حامل ہوتا ہے۔ یہ یاد رکھیے کہ تحریک دعوتِ فقر کے کسی شعبہ میں اعانت یا مدد کرنا ’’صدقہ جاریہ‘‘ ہے یعنی آپ کسی بھی شعبہ میں جب اعانت یا امداد کریں گے تو آپ کو اس وقت تک اس کا ثواب ملتا رہے گا جب تک وہ چیز اس فانی دنیا میں موجود رہے گی۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:

تعمیر مسجد و خانقاہ:

تحریک دعوتِ فقرکے تمام شعبہ جات کے دفاتر، مریدین اور عقیدتمندوں کی ظاہری و باطنی تربیت و رہائش کے لیے ایک وسیع و عریض خانقاہ اور مسجدکا قیام از حد ضروری تھا۔ اس کارِ خیر کے لیے سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے صوبہ پنچاب کے کئی علاقوں میں زمین دیکھی جہاں آئندہ نسلوں کے لیے مرکزِ فقر قائم کیا جا سکے۔ بالآخر لاہور کے مضافات میں براستہ رنگیل پورشریف سندراڈا ملتان روڈ میں زمین کا انتخاب کیا گیا اور ایک عظیم الشان خانقاہ سلطان العاشقین اور مسجدِ زہراؓکا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ خانقاہ و مسجد کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فِیْ بُیُوْتٍ أَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ (سورۃ النور۔36)
ترجمہ:یہ وہ گھر ہیں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اسمِ اللہ کا ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ ان میں (اللہ والے) صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ 

اس آیتِ مبارکہ میں ـــ’’یہ وہ گھر ‘‘ سے مراد مسجد اور خانقاہ ہیں۔خانقاہ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مرشد کامل اکمل اپنی نگاہ ،صحبت اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے ذریعے طالبانِ مولیٰ کے نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں اور ان کی ارواح کو حیاتِ جاوداں عطا کرتے ہیں۔تاریخِ اسلام کی پہلی خانقاہ اصحابِ صفہ کاوہ مبارک چبوترہ ہے جہاں صحابہ کرامؓ قیام پذیر رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبتِ پاک میں تزکیۂ نفس اور قربِ الٰہی کی دولت حاصل کرتے رہے۔

 اس وسیع و عریض خانقاہ میں عورتوںاور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ پورشن قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریک دعوتِ فقر کے دیگر شعبہ جات مثلاً نشرو اشاعت، شعبہ ڈیجیٹل پروڈکشن، آئی ٹی (I.T)ڈیپارٹمنٹ کے لیے علیحدہ علیحدہ دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ اس وسیع و عریض خانقاہ میں خانقاہ نشینوں کی رہائش گاہیں، جدید طرز کی لائبریری، ڈسپنسری، اسلامی ریسرچ سینٹر اور محافل کے لیے خواتین اور مرد طالبانِ مولیٰ کے لیے دو علیحدہ علیحدہ بڑے ہال، لنگر خانہ اور دیگر شہروں سے تشریف لانے والے مہمانوں کے لیے رہائشی کمرے بنائے گئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر خانقاہ سے ملحقہ ایک خوبصورت اور وسیع مسجدِ زہراؓ قائم کی گئی ہے جس میں خانقاہ نشین اور مقام لوگ عبادت ادا کر تے ہیں۔

اس مسجد و خانقاہ میں بہت سے تعمیراتی کام جاری و ساری ہیں جن میں مسجد کے صحن میں سنگِ مرمر بچھانا، دیواروں کی تعمیر اور تزین و آرائش، خانقاہ کی چاردیواری جیسے کام شامل ہیں۔مسجد و خانقاہ کی تعمیر میں آپ کا مالی تعاون آپ کے لیے تاقیامت اجرو ثواب کا باعث بنا رہے گا۔ انشاء اللہ۔

اسمِ اللہ ذات:

سلسلہ سروری قادری میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس بیعت کے بعد ذکر و تصور اسم اللہ  ذات عطا فرماتے ہیں اور روحانی ترقی اور بلندی کے لیے اسم محمد عطا کیا جاتا ہے۔ یہ اسمِ  اللہ ذات اور اسم محمد کثیر رقم سے تیار ہوتا ہے۔ صرف اس کے فریم اور شیشہ کی تیاری پر چار سو (400) روپے خرچ آتا ہے۔ اس کی تیاری میں مدد کرنا بھی صدقہ جاریہ اورعبادت ہے یعنی جو آدمی اسمِ  اللہ  ذات لے جائے گا وہ جب تک اس کا ذکر و تصور کرتا رہے گا اس کا ثواب آپ کو ملتا رہے گا اور جب تک وہ اسمِ اللہ  ذات اس دنیا میں موجود رہے گا اس کا ثواب آپ کو پہنچتا رہے گا۔ اس کے علاوہ بغیر بیعت کے جو چھپا ہوا (Printed) اسمِ اللہ ذات عطا کیا جاتا ہے اس پر کم و بیش 300/-روپے لاگت آتی ہے۔

دینی اور روحانی کتب کی اشاعت:

سلطان الفقر پبلیکیشنز دعوت و تبلیغ اور تعلیماتِ فقر کو عام کرنے کے لیے اب تک تقریباً 100 سے زائد کتب شائع کر چکا ہے جن کی قیمت لاگت سے بھی کم رکھی گئی ہے۔ ان کتب کی اشاعت میں مدد بھی صدقہ جاریہ ہے کیونکہ جب تک یہ کتب موجود رہیں گی اور ان کا مطالعہ ہوتا رہے گا اس کا ثواب آپ کو پہنچتا رہے گا۔ اس کے علاوہ ادارہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی کتب اردو اور انگلش زبان میں بھی شائع کر چکا ہے جس کی قیمت اس کی لاگت کے برابر رکھی گئی ہے تا کہ علمِ معرفت عوام الناس تک پہنچ سکے۔ ان کی اشاعت میں تعاون بھی صدقہ جاریہ ہے۔ ان کے علاوہ بہت سے کتب مالی کمی کی وجہ سے ابھی چھپ نہیں سکیں اور ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

ماہنامہ سلطان الفقر کی اشاعت:

فقر اور دینِ حق کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے اگست 2006ء سے ماہنامہ سلطان الفقر کا اجرا کیا گیا ہے جس کی قیمت اور سالانہ چندہ لاگت سے بھی کم رکھا گیا ہے۔ یہ ’’جہاد بالقلم‘‘ ہے کیونکہ قلم کے ذریعے دینِ حق کو عام کیا جا رہا ہے۔ اس کی اعانت اور امداد بھی صدقہ جاریہ ہے۔اس رسالہ کی کثیر تعداد مختلف سکولز، کالجز، یونیورسٹیز، ریسرچ سینٹرز اور غریب و مفلس لوگوں کو اعزازی طور پر بھیجی جاتی ہے۔ اس میں بھی آپ کا تعاون صدقہ جاریہ ہے۔

لنگر اور خانقاہ کے اخراجات:

خانقاہ سلطان العاشقین چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے اور اس میں لنگر بھی ہر وقت جاری رہتا ہے۔ خانقاہ سلطان العاشقین میں ہر وقت کثیر تعداد میں طالبانِ مولیٰ مقیم رہتے ہیں جو ہمہ وقت دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کے لیے مصروفِ عمل ہیں اور ملک بھر سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ مرکزی دفتر اور خانقاہ شریف میں لنگر ہر لمحہ جاری رہتا ہے اور ہر اتوار کو ملک بھر سے آنے والے مہمانوں کے لیے خصوصی لنگر تیار کیا جاتا ہے۔ محافلِ میلادِ مصطفیؐ، عرس پاک اور دیگر سالانہ تقریبات پر بھی وسیع اخراجات ہوتے ہیں۔ان محافل کے انعقاد کے لیے اخراجات میں امداد بھی بہت بڑا ثواب ہے۔

شعبہ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ :

دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں تک دعوتِ اسم اللہ ذات پہنچانے کے لیے اس شعبہ نے درج ویب سائٹس تیار کی ہیں:

www.tehreekdawatefaqr.com
www.sultan-bahoo.com
www.sultan-bahoo.pk
www.sultan-ul-ashiqeen.com
www.sultan-ul-ashiqeen.pk
www.sultan-ul-faqr-publications.com
www.mahnama-sultan-ul-faqr-lahore.com

سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشن

تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشن کے تحت مختلف ویڈیو ٹی وی چینلز بنائے گئے ہیں جو مختلف حمد و نعت، عارفانہ کلام اور منقبتوں اور روحانی محافل جیسا کہ محافلِ میلادِ مصطفیؐ، عرس حضرت سخی سلطان باھوؒ، عرس سیدنا غوث الاعظمؓ، محفل ذکرِحسینؓ، عید ملن تقریبات اور دیگر محافل کی ویڈیوز کے ذریعے فقر کی تعلیمات کو دنیا بھر میں عام کر رہا ہے۔وہ ویڈیو چینلز درج ذیل ہیں:

http://sultan-bahoo.tv
http://sultanulfaqr.tv
http://sultan-ul-ashiqeen.tv
www.sultan-ul-faqr-digital-productions.com

ان ویب سائٹس اور ویڈیو چینلز کی ہمہ وقت نگرانی اور ان کو اَپ ڈیٹ رکھنے کے لیے ادارہ کو وسیع اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس شعبہ میں آپ کا مالی تعاون دینِ اسلام کو دنیا بھر میں عام کرنے میں مددگار ہوگا۔

سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ

تحریک دعوتِ فقر کا سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ اہم ترین شعبہ ہے جو دنیا بھر میں صوفیا کرام خاص طور پر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی تعلیماتِ فقر اور اسمِ اللہ ذات و اسمِ محمد کے فیض کو دنیا بھر میں عام کیا جائے۔ سوشل میڈیا کے تمام فورمز پر تحریک دعوتِ فقر کے اکاونٹس ہیں جیسا کہ فیس بک، انسٹاگرام، لنکڈ ان، پن ٹرسٹ، تھریڈز، ایکس، بلو سکائی وغیرہ۔ سوشل میڈیا کو چلانے کے لیے بھی خطیر رقم درکار ہوتی ہے۔ اس کارِ خیر میں بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لیا جا سکتا ہے۔

دین کی تبلیغ کے لیے داعی:

تحریک دعوتِ فقر میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مستقل طور پر اپنے آپ کو اللہ کے دین کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ہر لمحہ ہر آن دینِ حق کی تبلیغ اور دعوت میں مصروفِ کار ہیں اور وہ زمین پر چل پھر کر رزق تلاش نہیں کرتے نہ وہ کسی سے کچھ مانگتے ہیں۔ ان کی امداد بھی صدقہ جاریہ ہے۔

دین کے لیے زندگی وقف کرنے والے:

تحریک دعوتِ فقر میں کثیر تعداد میں ایسے لوگ شامل ہیں جنہوں نے دین کی تبلیغ کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے اور ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے، ہر لمحہ دین کی خدمت کے لیے حاضر رہتے ہیں ان کی ضروریات کے لیے بھی ہر ماہ کثیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی امداد کرتا ہے ان کی امداد کے لیے بھی آپ حصہ ڈال سکتے ہیں۔

حاصلِ کلام:

رمضان المبارک میں آپ زکوٰۃ، عطیات، صدقات اور فطرانہ جس کو آپ کا دل چاہے دیں یہ آپ کی مرضی، منشا اور آپ کے دل مطمئن ہونے پر منحصر ہے لیکن اگر آپ اس کو تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ جات میں لگانا چاہیں تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ ان کو اپنے پسندیدہ شعبہ میں لگوائیں یا ادارہ کی مرضی پر چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ اجرِعظیم عطا فرمائے گا۔ یاد رکھیں قطرہ قطرہ مل کر سمندر بنتا ہے۔

اپنی زکوٰۃ، عطیات اور صدقات منی آرڈر کے ذریعے سلطان الفقر پبلیکیشنز کے نام مرکزی دفتر کے پتہ پر بھجوائیں۔

خانقاہ میں رمضان المبارک کے ماہ میں اتوار کے دن آپ براہِ راست عطیات ، صدقات اور زکوٰۃ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں پیش کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ فقرا کی خدمت کرنے اور راہِ حق میں مال خرچ کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے تاکہ اللہ کا قرب پایا جا سکے۔ (آمین)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں