یومِ شہادت 28صفر المظفر ۔۔امیر المومنین سیّدنا حضر ت امام حسن مجتبیٰؓ Syedna Hazrat Imam Hasan

یومِ شہادت 28صفر المظفر ۔۔امیر المومنین سیّدنا حضر ت امام حسن مجتبیٰؓ

تحریر: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

آخری اور پنجم خلیفہ راشد امیر المومنین سیّدنا حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ خاتونِ جنت سیّدنا فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بڑے صاحبزادے اور فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے مناقب اس قدر ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔ جن کو حضو ر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے باغ کے دو پھول قرار دیا، وہ حسن رضی اللہ عنہٗ و حسین رضی اللہ عنہٗ ‘قربِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لحاظ سے کسی طور ایک دوسرے سے کم نہ تھے۔ دونوں کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی احادیثِ مبارکہ سے دونوں سے یکساں محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ دونوں کے نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تجویز کیے‘ دونوں کو وقتِ پیدائش اپنا لعابِ دہن چکھایا۔ خود دونوں کے عقیقے کئے‘ دونوں کی پیدائش پر یکساں مسرت کا اظہار کیا۔ دونوں ہی دوشِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوار رہے۔ دونوں کو گود مبارک میں لیا۔ دونوں کی پرورش اور تربیت پر ایک جتنی توجہ دی اور دونوں کے متعلق فرمایا ’’حسن (رضی اللہ عنہٗ) و حسین (رضی اللہ عنہٗ) مجھ سے ہیں‘‘ اور فرمایا ’’اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔‘‘ دونوں کو ہی جنت کے نوجوانوں کا سردار قرار دیا۔ شباہتِ ظاہری میں بھی دونوں حضرات آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مشابہ تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات کے مطابق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک جسم کے اوپر کے حصہ یعنی چہرہ و گردن میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ بالکل آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مشابہ تھے اور بقیہ حصے میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مشابہ تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیدار کے لیے بے چین ہوتے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو ساتھ ساتھ کھڑا کر کے دیکھ لیتے اور دونوں کے دیدار سے دیدارِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پالیتے۔ شباہتِ ظاہری کے گواہ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں تو شباہتِ باطنی و روحانی کی گواہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ حدیثِ مبارکہ ہے ’’حسن (رضی اللہ عنہٗ) و حسین (رضی اللہ عنہٗ) مجھ سے ہیں۔‘‘ یعنی دونوں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جسمانی و روحانی وارث ہیں۔ فقر کی وراثت میں سے جو حصہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کو ملا وہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو بھی ملا کیونکہ دونوں کو ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ’’خود سے‘‘ قرار دیا جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی قرار دیا۔ ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ مبارکہ میں ایک بھی ایسا واقعہ یا جملہ نہیں ملتا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دونوں شہزادوں میں سے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہو۔ جو عمل ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہ کیا اگر وہ اُمتی کریں گے تو خلافِ سنت اور خلافِ رضائے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہوگا۔
روایت میں ہے کہ ایک بار حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ و امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے تختی لکھی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ فیصلہ فرمائیں کہ ہم دونوں میں سے کس نے اچھا لکھا ہے۔ بڑے بڑے فیصلے کرنے والے باب العلم پریشان ہوگئے کہ اگر ایک کے خط کو اچھا کہتے ہیں تو دوسرے کی دل شکنی ہوتی ہے۔ فرمایا یہ فیصلہ تو میں نہ کر پاؤں گا۔ بہتر ہوگا تم اپنی والدہ کے پاس جاؤ۔ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم حضرت بی بی فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تاکہ فیصلہ ہو سکے کہ کس کی لکھائی اچھی ہے لیکن وہ بھی لاجواب ہوگئیں اور فرمایا اس کا فیصلہ تو تمہارے نانا حضور ہی بہتر فرماسکتے ہیں۔ دونوں شہزادے نانا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فیصلے کی درخواست کی۔ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام کائنات کا علم رکھنے کے باوجود اس سوال پر شش و پنج میں پڑگئے۔ کس طرح ایک کی تحریر کو دوسرے سے بہتر قرار دے کر اپنے ایک شہزادے کی دل شکنی کرتے۔ فرمایا اچھا میں اس سلسلے میں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کرتا ہوں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضرِ خدمت ہوئے۔ سلام عرض کرتے ہوئے کہا ’’آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کا فیصلہ تو میرے بس میں بھی نہیں البتہ اللہ ہی اس کا فیصلہ بہتر فرما سکتا ہے ۔ اللہ نے یہ ایک جنتی سیب بھیجا ہے۔ میں اوپر سے یہ سیب پھینکوں گا جس کی تختی پر گرے گا اس کی تحریر اچھی ہو گی۔‘‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اوپر سے وہ سیب پھینکا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ سیب دو ٹکڑے ہو کر آدھا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کی تختی پر گر گیا اور آدھا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی تختی پر۔ (نزہت المجالس)
یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی دونوں شہزادوں کے درجات برابر ہیں اور وہ بھی ایک کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیتا۔

ولادتِ باسعادت

سبطِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے گلشن کے پھول‘ زہرا رضی اللہ عنہا کے لعل حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ 1 رمضان المبارک کی شب مدینہ طیبہ میں پیدا ہوئے۔ یہ سال 3ھ تھا۔امام علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کی تاریخِ ولادت 15 رمضان3ھ تحریر فرمائی ہے اور اسی تاریخ پر اکثریت کا اتفاق ہے۔

اسمِ مبارک

آپ رضی اللہ عنہٗ کا اسم گرامی حسن رضی اللہ عنہٗ ‘ کنیت ’’ابومحمد‘‘ اور القاب ’’مجتبیٰ ‘‘ ’’تقی‘‘، ’’زکی‘‘ ، ’’سیّد‘‘ ، شبیہ الرّسول‘‘ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے پانچ ماہ خلافت کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں اس لیے آپ رضی اللہ عنہٗ کو خلیفہ خامس (پانچواں) بھی کہا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ پر خلافت ختم ہوگئی اس لیے آپ الخلفاء بالنص (خلافت کو ختم کرنے والے) بھی ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کی ولادت کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے دریافت کیا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اس فرزند کا نام کیا رکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا کہ ’حرب‘ رکھا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’نہیں یہ حسن ہے۔‘‘ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کچھ دیر خاموش رہے یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام ہے اور پیغام ہے کہ ان کا نام حسن رکھاجائے۔ پس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ رضی اللہ عنہٗ کا نام حسن رکھا۔
حسن ’حُسن‘ یا ’حسنیٰ‘ سے ہے جس کے معنی خوبصورتی جمال‘ خوبی‘ اچھائی اور بھلائی کے ہیں۔ اگر حسن کو ’’احسان‘‘ سے مشتق سمجھاجائے تو اس کے معنی بھلائی کے بھی ہیں اور آیتِ مبارکہ:
وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ ۔ (النساء۔ 125)
ترجمہ: اور اس شخص سے بہتر کون ہے جس نے اپنا سر اللہ کی رضا کے سامنے جھکا دیا اور وہ محسن ہے۔
کے مطابق احسان سے مراد قرب کی انتہا تک پہنچ کر دیدارِ الٰہی کرنا ہے۔ یوں ’حسن‘ سے مراد ’’اللہ کے انتہائی قریب پہنچنے والا ‘‘کے ہوئے۔ ظاہراً اور باطناً آپ رضی اللہ عنہٗ کا نامِ گرامی ’حسن‘ آپ رضی اللہ عنہٗ کی تمام جسمانی و روحانی خوبیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ جس طرح ظاہری شکل و صورت میں شبیہہِ رسول ہیں اور انتہائی خوبصورت ہیں، اسی طرح باطنی حسن و جمال میں بھی آپ رضی اللہ عنہٗ کو کمال حاصل ہے۔

لعابِ دہن و ادائے عقیقہ

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے نواسے کی ولادت پر اپنی بیٹی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے اسماء بنتِ عمیس (رضی اللہ عنہٗ) میرے فرزند کو لاؤ۔‘‘ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک زرد رنگ کے کپڑے میں ملبوس آپ رضی اللہ عنہٗ کو خدمت میں حاضر کیا۔ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہٗ کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر فرمائی اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے مبارک دہن میں اپنا لعابِ دہن ڈال کر گھٹی کی رسم ادا کی۔
ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود عقیقہ فرمایا اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے سرمبارک کے بال منڈوائے اور حکم دیا کہ ان بالوں کے ہم وزن چاندی خیرات کی جائے۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہٗ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عقیقہ کرتے وقت یہ دعا فرمائی ’’اے میرے اللہ اس کی ہڈی مولود کی ہڈی کے عوض ہے اور اس کا گوشت اس کے گوشت کے عوض ہے اور اس کا خون اس کے خون کے عوض ہے اور بال اس کے بعوض مولود کے بال ہیں۔ اے اللہ اس قربانئ عقیقہ کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اس کی آل کو بچانے والا بنا۔‘‘ (جامع ترمذی‘ تذکرۃ الہمام)

شباہتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

روایاتِ صحیحہ میں کثیر مقامات پر یہ تذکرہ موجود ہے کہ حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ کا حسن و جمال اپنے نانا جان حضور مصطفیصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مشابہ تھا۔ صحیح بخاری میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں:
’’پس ایک مرتبہ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نمازِ عصر پڑھ کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ کے ہمراہ نکلے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے دیکھا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗنے ان کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور فرمایا ’’میرے ماں باپ قربان اس بچے پر‘ یہ میرے آقا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بہت مشابہ ہیں۔ یہ علی رضی اللہ عنہٗ کے مشابہ نہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت علی المرتضیٰ بہت مسکرائے۔ (بخاری شریف)
کنز العمال میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے روایت موجود ہے ’’جو شخص کسی ایسے کو دیکھنا چاہے کہ جو گردن سے لے کر روئے مبارک تک سرورِ دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سب سے زیادہ مشابہ ہے وہ میرے حسن (رضی اللہ عنہٗ) کو دیکھ لے۔‘‘ (کنز العمال)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے زیادہ کوئی بھی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مشابہ نہ تھا۔

زمانۂ طفولیت

حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ چھ سال اور چار مہینے اپنے نانا حضور سرکارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سایۂ عاطفت میں رہے اور سات سال سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی طاہرہ ماں کی آغوش کے زیرِتربیت رہے اور تقریباً عرصہ 37 سال اپنے والد بزرگوار سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے فیوض و برکات سے مستفیض رہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی پاکیزہ ہستیوں کی آغوش میں پرورش پانے والے امامِ جلیل میں یقیناًوہی تاثیر ہوگی جو ان عظیم ہستیوں میں ہے۔
روایات میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے محبت و الفت کے بے شمار ثبوت موجود ہیں۔ حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’میں حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ کو اس وقت سے محبوب رکھتا ہوں جب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ریشِ انور میں انگلیاں ڈال رہے ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی زبانِ مبارک ان کے منہ میں دے کر فرماتے ہیں ’’اے اللہ میں اسے اپنا محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے اپنا محبوب رکھ۔‘‘ (نور الابصار)
دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے اللہ مجھے حسنؓ سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت فرما اور جو کوئی ان سے محبت کرے تو اس کے ساتھ محبت فرما۔‘‘
’’طبقات ابنِ سعد‘‘ میں صحیح سند کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابنِ زبیر رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں ’’میں نے دیکھا اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب حالتِ سجدہ میں تشریف لے جاتے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو جاتے۔ جب تک آپ رضی اللہ عنہٗ خود نہ اترتے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس وقت تک سجدہ میں ہی رہتے اور میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رکوع فرماتے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبارک پاؤں کے درمیان میں گھس جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رکوع سے اٹھ کر سجدہ میں نہ جاتے جب تک وہ دوسری جانب سے نکل نہ جاتے۔‘‘
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’میں نے دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے کندھے مبارک پر اپنے نواسے امام حسن رضی اللہ عنہٗ کو بٹھائے ہوئے ہیں تو ایک شخص نے کہا ’’اے بیٹے تو کیسی اچھی سواری پر سوار ہے‘‘ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سن کر فرمایا ’’یہ سوار بھی تو کیا اچھا ہے۔‘‘
اسی لیے حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ کو راکبِ دوشِ نبوت کہا جاتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہٗ کا یہ لقب مشہور ہے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہٗ اکثر اپنے ناناجان کے مبارک کندھوں پر مدینہ طیبہ کی گلیوں میں سیر کرتے تھے۔

وہ حسنؓ مجتبیٰ سیّد الاسخیا
راکبِ دوشِ عزتؐ پہ لاکھوں سلام

اس محبت و الفت کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کی ظاہری و باطنی تربیت بھی فرماتے رہے۔ پہلے سے ہی پاکیزہ قلب نگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نورِ محمدی خوب خوب اخذ کرتا اور نورانی جِلا پاکر علم و معرفتِ الٰہی سے فیض یاب ہوتا رہتا۔ طبرانی اور معجم کبیر میں روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’میں نے اپنے بیٹے حسن (رضی اللہ عنہٗ) کو حلم عطا فرما دیا ہے۔‘‘ حلم اخلاقِ حسنہ میں سے ایک اعلیٰ ترین صفت ہے جس میں صبر‘ استقامت‘ برداشت‘ تحمل‘ حکمت و قناعت کی تمام اعلیٰ صفات شامل ہیں۔
زہد‘ تقویٰ‘ عشقِ الٰہی اور اللہ کے تمام تر پسندیدہ اوصاف ‘قرب و محبتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بدولت آپ رضی اللہ عنہٗ میں ظاہر ہوئے۔

خشیئتِ الٰہی

بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پروردہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ جب بارگاہِ ربوبیت میں نماز کے لیے تیاری فرماتے تو دورانِ وضو آپ رضی اللہ عنہٗ کے جسم کا ایک ایک عضو کانپنے لگتا تھا اور رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ سے آپ رضی اللہ عنہٗ کی اس حالت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’جو بھی ربّ العرش کے حضور کھڑا ہو اس پر یہ حق ہے کہ اس کا رنگ (اللہ کی عظمت کے سبب سے) زرد ہو جائے اور جوڑ جوڑ کانپنے لگے۔‘‘ حضرت امام جعفر صادقؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ جب نماز پڑھتے تو آپ رضی اللہ عنہٗ کا بدن لرزتا اور رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا۔
’’طبقات ابنِ سعد‘‘ میں ہے کہ جب بھی آپ رضی اللہ عنہٗ تلاوتِ قرآن کے دوران یا ایھا الذین امنوا  پڑھتے تو فرماتے لبیک اللّٰھم لبیک  ’’اے میرے اللہ میں حاضر ہوں‘ میں حاضر ہوں‘‘۔ کیفیت یہ تھی کہ ہر آیت کو نہایت غورو تدبر کے ساتھ پڑھتے۔ جب جنت و دوزخ کا تذکرہ پڑھتے تو تڑپتے تھے اور بعد موت کے احوال پڑھتے تو زارو قطار رونے لگتے۔
روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ ہمیشہ حج کے لیے پیدل مدینہ سے مکہ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ سواری کی اونٹنیاں ہمراہ ہوتیں لیکن آپ رضی اللہ عنہٗ اس پر سوار نہ ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ چلتے چلتے آپ رضی اللہ عنہٗ کے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا لیکن آپ رضی اللہ عنہٗ سواری پر سوار نہ ہوتے اور فرماتے ’’مجھے اپنے پروردگار سے شرم آتی ہے کہ اس سے ملاقات کو حاضر ہونے جاؤں اور سواری پر سوار ہو کر جاؤں۔‘‘ اکثر قافلے جو ساتھ ہوتے آپ رضی اللہ عنہٗ کی تعظیم میں سواری سے اتر جاتے لیکن آپ رضی اللہ عنہٗ ان سے فرماتے ’’تم ایسا نہ کرو تم میں کمزور بھی ہیں۔‘‘ وہ ہچکچاتے تو آپ رضی اللہ عنہٗ اصرار کر کے ان کا راستہ تبدیل کرا دیتے تاکہ آپ رضی اللہ عنہٗ کو پیدل چلتے دیکھ کر انہیں سواری پر سوار ہونے میں ہچکچاہٹ نہ ہو۔

پیکرِ حلم

علامہ الحفاظ سیوطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مروان آپ رضی اللہ عنہٗ کا بہت بڑا دشمن تھا اورآپ رضی اللہ عنہٗ کو مختلف اذیتیں دیا کرتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے لیے گستاخی کے کلمات بھی استعمال کرتا تھا لیکن آپ رضی اللہ عنہٗ نے ہمیشہ اس کے جواب میں خاموشی اختیار فرمائی۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗکا وصال ہوگیا تو مروان بہت زور زور سے رونے لگا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے پوچھا کل تک تو تُو اپنے ظلم و ستم سے ان کا کلیجہ خون کیا کرتا تھا آج روتا ہے۔ کہنے لگا’’ میں ان پر ظلم ڈھایا کرتا تھا جن کا حلم پہاڑ کے برابر تھا۔‘‘
ایک بار حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک غلام سالن کا برتن لے کر آیا۔ برتن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا اور سالن آپ رضی اللہ عنہٗ پر گر گیا۔ غلام یہ واقعہ دیکھ کر گھبرایا اور جھٹ یہ آیت پڑھی:
وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ ۔
ترجمہ: غصہ کو پی جانے والے
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’میں نے غصہ کو پی لیا۔‘‘ اس نے پھر آیت کا اگلا حصہ پڑھا
وَالْعَافِیِنَ عَنِ النَّاسِ ۔
ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے
آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا:
’’میں نے معاف کیا‘‘ اس نے آیت کا تیسرا حصہ پڑھا:
وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔
ترجمہ: احسان کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’جاؤ میں نے تمہیں آزاد کیا۔‘‘ (روح البیان)

مقامِ فقر

فقر میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا مقام اِذَا تَمَّ الْفَقْرُا فَھُوَاللّٰہُ  (جہاں فقر مکمل ہو تا ہے وہیں اللہ ہوتا ہے) ہے ۔ جیسا کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ  (فقر ) میں کمال امامین پاک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو نصیب ہوا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خاتونِ جنت حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔(محک الفقر کلاں)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کوفقر میں نظرِ کامل اور تصوف کی باریکیوں کو بیان کرنے میں پورا حصہ حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنی وصیت میں فرمایا:
علیکم بحفظ السرا یرفان اللّٰہ مطلع عَلَی الضمائر 
ترجمہ: باطن کے اسرار کی حفاظت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ حقائقِ معرفت اور طریقت کے ایسے بلند درجے پر فائز تھے کہ سلطان الفقر دوم حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ جیسے بلند پایہ عارف باللہ بھی دقیق مسائل کے حل کے لیے آپ رضی اللہ عنہٗ سے رجوع کرتے تھے۔ ایک خط میں حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رضی اللہ عنہٗ سے پوچھا ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرزند! تقدیر کے بارے میں ہماری حیرت اور استطاعت کے بارے میں ہمارے اختلاف میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ کی رائے کس بات پر قائم ہے کیونکہ آپ نسل در نسل انبیاء کرام کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے آپ کو تعلیم دی گئی ہے اور آپ لوگ اللہ کی طرف سے لوگوں پر گواہ ہیں۔‘‘
حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ نے اس خط کے جواب میں لکھا ’’اس مسئلہ کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ جو شخص اس بات پر ایمان نہیں رکھتا کہ ہر نیک اور بُرے کام کی تقدیر اللہ کی جانب سے ہے وہ گمراہ ہے۔ نہ تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت جبراً کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی نافرمانی کسی مجبوری کے تحت کی جاتی ہے اور نہ ہی وہ اپنی مملکت میں اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے۔ تاہم وہ اُن تمام چیزوں کا مالک ہے جن کا اس نے اپنے بندوں کو اختیار دیا ہے اور ان سب چیزوں پر اس کی قدرت ہے جن پر اُس نے اپنے بندوں کو قادر بنایا ہے۔ لہٰذا اگر وہ اطاعت کا ارادہ کریں تو وہ ان کو روکتا یا فرمانبرداری کرنے سے ہٹاتا نہیں اور اگر وہ نافرمانی کا ارتکاب کریں اور پھر وہ اُن پر احسان فرمانا چاہے تو اُن کے اور معصیت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اگرایسا نہ کرے تو اس نے ان کو معصیت پر نہ تو مجبور کیا ہے اور نہ ہی نافرمانی کا ارتکاب ان پر جبراً لازم کیا ہے۔ اس نے تو ان پر یہ سب کچھ بتا کر اپنی حجت قائم کر دی ہے کہ انہیں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قوت بخش دی گئی ہے اور ان کے لیے اس امر کے اختیار کرنے کی، جس کی اُس نے انہیں دعوت دی ہے اور اس کام کے ترک کرنے کی جس سے انہیں منع کیا ہے آسانی پیدا کر دی تھی اور اللہ تعالیٰ کی ہی حجت غالب ہے۔‘‘ (کشف المحجوب)
فقر و تصوف میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلیفہ اوّل ہیں۔
مخدوم شاہ محمد صابری چشتی رام پوریؒ ’’تواریخ آئینہ تصوف‘‘ کے صفحہ 10(بارِ سوم) میں تحریر فرماتے ہیں:
یکم محرم الحرام بروز سوموار 11ھ ؁ کو تہجد کے وقت سیّدہ کائنات نے عرض کیا! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا میں روزِ قیامت کو تنہا اٹھوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا! ’’تم سے تعلیم طریقت خواتین کے لیے جاری ہو گی جس قدر خواتینِ اُمت تمہارے سلسلہ میں داخل ہوں گی وہ روزِ محشر تمہارے گروہ سے اٹھائی جائیں گی اور یہ مرتبہ ازل سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مخصوص فرمایا ہے اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ بحکمِ الٰہی تمہیں صاحبِ مجاز کیا جائے گا حصولِ اجازت کے بعد تم امام حسنؓ کو صاحبِ مجاز کر دینا۔
اس ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک ماہ بعد دو صفر 11ھ ؁ کو جمعرات کے دن عصر کے وقت سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک اونی ردائے مبارک سبز رنگ کی جو شاہِ یمن نے تحفہ میں دی تھی اپنے بدن سے مس فرما کر سیّدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے سر ڈال دی اور فرمایا! ’’سیّدہ مبارک ہو آج اللہ تعالیٰ نے تم کو صاحبِ مجاز فرمایا ہے‘‘ اور اس کے بعد سیّدہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کو خلیفہ اکبر مقرر فرمایا۔۲؂
اس طرح سیّدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی روحانی وراثت حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ کے ذریعے امت کو منتقل ہوئی۔

فہم و فراست

ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے دورِ خلافت میں آپ رضی اللہ عنہٗ کے سامنے ایک مقدمہ پیش کیا گیا جس میں ایک ہی قتل کا اعتراف دو ملزمان کر رہے تھے۔ ایک قاتل کو لوگ پکڑ کر لائے تھے اور دوسرا خود پیش ہوا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پہلے ملزم سے اس کے اعتراف کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ جن حالات میں میری گرفتاری ہوئی میرے پاس اعترافِ جرم کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ اگر میں انکار کرتا تو کوئی یقین نہ کرتا۔ واقعہ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں قصاب ہوں میں نے جائے وقوعہ کے قریب ایک بکرے کو ذبح کیا۔ گوشت کاٹ رہا تھا کہ مجھے رفع حاجت کی غرض سے کچھ دور جانا پڑا۔ ابھی میں فارغ ہوا ہی تھا کہ میری نظر پاس پڑی ہوئی ایک لاش پر پڑی۔ اسی دوران وہاں کچھ اور لوگ بھی جمع ہوگئے۔ میرے خون آلود ہاتھ اور میری چھری دیکھ کر وہ سمجھے کہ میں ہی قاتل ہوں کیونکہ میرے سوا وہاں اور کوئی موجود نہ تھا۔ اگر میں انکار کرتا تو کوئی میری بات کا یقین نہ کرتا لہٰذا مجھے مجبوراً اعتراف کرنا پڑا۔ جب اعترافِ جرم کرنے والے دوسرے شخص سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ میں ایک اعرابی ہوں‘ مفلس ہوں مال کی طمع میں اس شخص کو قتل کیا۔ مال ابھی نکال نہ پایا تھا کہ لوگوں کے آنے کی آہٹ سنی۔ میں چھپ گیا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اس بے گناہ شخص کو میرے کیے ہوئے قتل کی بنا پر گرفتار کر کے لے جارہے ہیں۔ مجھے سخت رنج ہوا اس لیے میں نے خود کو پیش کر دیا۔
تمام واقعہ سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے پوچھا کہ آپ (رضی اللہ عنہٗ)کی اس مقدمے کے متعلق کیا رائے ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’اے امیر المومنین (رضی اللہ عنہٗ) اگر اس شخص نے ایک کو ہلاک کیا ہے تو ایک شخص کی جان بھی بچائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:
وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَانَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ۔
ترجمہ: جس نے ایک شخص کی جان کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان کو بچا لیا۔‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ کی اس فہم و فراست پر بہت خوشی ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہٗ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ کے مشورہ کے مطابق اس اعرابی کو معاف کر دیا اور مقتول کا خون بہا بیت المال سے ادا کرنے کا حکم دیا۔

سخاوت

روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ کے دربارِ اقدس سے کبھی کوئی خالی نہ گیا اور ہر وقت سخاوت کا دروازہ کھلا رہتا۔ حضرت علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کشف المحجوب میں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی آپ رضی اللہ عنہٗ کے در پر آیا اور گالیاں بکنے لگا۔ پیکرِ حلم نے سب کچھ برداشت کرتے ہوئے کہا اے اعرابی! کیا تجھے بھوک لگی ہے یا پیاس یا کوئی اور مصیبت تجھے لاحق ہے۔ مجھے بتاتا کہ میں تیری مدد کروں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے غلام کو حکم دیا کہ درہموں کی ایک تھیلی اس اعرابی کو لاکر دے دو اور اعرابی سے فرمایا کہ معاف کرنا گھر میں اس وقت صرف یہی کچھ موجود تھا، اور کچھ موجود ہوتا تو میں تمہیں دینے سے دریغ نہ کرتا۔ جب اس اعرابی نے آپ رضی اللہ عنہٗ کی بات سنی تو بے اختیار پکار اُٹھا ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہٗ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صاحبزادے ہیں اور میں تو آپ رضی اللہ عنہٗ کے حلم اور بردباری کا تجربہ کرنے آیا تھا۔‘‘ حقیقت شناس اولیا و مشائخ کی یہی صفت ہوتی ہے کہ لوگوں کی مدح اور مذمت ان کے نزدیک برابر ہوتی ہے۔ (کشف المحجوب)
ابو الحامد امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہٗ کی خدمت میں حاضر ہو کر تنگدستی کی شکایت کی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اسے پچاس ہزار اشرفیاں دیں۔ وہ اشرفیاں اس سے اٹھائی نہ گئیں تو اس نے مزدور کو بلوایا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے مزدور کی اجرت بھی خود ادا کی۔
کسی نے سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے سوال کیا کہ حضور آپ کبھی سائل کو خالی نہیں لوٹاتے خواہ آپ رضی اللہ عنہٗ خود فاقہ سے ہوں۔ فرمایا ’’میں خود بارگاہِ الٰہی کا فقیر ہوں اس لیے مجھے شرم آتی ہے کہ میں خود گدا ہو کر کسی حاجت مند کو اپنے ہاں سے محروم لوٹاؤں۔‘‘ (ابنِ عساکر)

شجاعت

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عہدِ خلافت میں حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ نے بہت سے کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔ جنگِ جمل کی فتح آپ رضی اللہ عنہٗ کی تیغ زنی کی مرہونِ منت تھی۔ جنگِ صفین میں بھی آپ رضی اللہ عنہٗ کی شمشیرِ آبدار نے خوب جوہر دکھائے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ ان لوگوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی بلوائیوں سے حفاظت کی غرض سے ان کے گھر کا کئی دن تک پہرہ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ اپنی پیٹھ پر لاد کر اناج اور پانی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کے گھر تک پہنچاتے رہے۔

خلافت

جب امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہٗ ابنِ ملجم کی زہر آلود تلوار سے زخمی ہوگئے تو لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ سے بسترِ رحلت پر پوچھا کہ کیا آپ کے بعد ہم حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟ آپ رضی اللہ عنہٗ نے جواب دیا ’’میں نہ تم کو اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی روکتا ہوں۔ تم لوگ اس کو زیادہ سمجھ سکتے ہو۔‘‘
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہٗ نے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے افضل الناس فرزند کو بھی اپنے بعد خلیفہ نامزد نہ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی میں خلیفہ کے انتخاب کا معاملہ عام مسلمانوں کی رائے پر چھوڑ دیا۔ عوام کے لیے نواسۂ رسول سے بڑھ کر اور کون عزیز ہو سکتا تھا۔ آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہٗ کی دیگر خصوصیات اور اوصاف بھی آپ رضی اللہ عنہٗ کو امیرالمومنین کے عہدے کے لیے موزوں قرار دیتے تھے۔ چنانچہ سب نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کے دستِ مبارک پر بیعت کر لی۔ مسندِ خلافت پر متمکن ہوتے ہی خطبہ ارشاد فرمایا ’’لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص بچھڑا ہے کہ نہ اگلے اس سے بڑھ سکے اور نہ پچھلے اس کو پاسکیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جنگوں میں ان کو اپنا عَلم مرحمت فرما کر بھیجا کرتے تھے۔ وہ کسی جنگ میں ناکام نہیں لوٹا۔ میکائیل علیہ السلام اور جبرائیل علیہ السلام دائیں بائیں اس کے جلو میں ہوتے تھے۔‘‘
اسی دوران اہلِ شام نے امیر معاویہؓکو خلیفہ تسلیم کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ ان دونوں گروہوں میں جب تصادم کی صورتحال پیدا ہونے لگی تو امیر معاویہؓ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کے پاس پیغام بھیجا ’’صلح جنگ سے بہتر ہے اور مناسب یہی ہے کہ آپ (رضی اللہ عنہٗ) مجھے خلیفہ تسلیم کرلیں اور میرے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔‘‘
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ خلافت کے چنداں خواہشمند نہ تھے۔ منصبِ خلافت آپ رضی اللہ عنہٗ کے لیے باعثِ عزت نہ تھا بلکہ آپ رضی اللہ عنہٗ خود خلافت کے لیے عزت کا سبب تھے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنی مسند نشینی کے پانچ ماہ دس دن بعد ربیع الاول 41 ھ میں خلافت سے دست برداری اختیار کر لی۔ اس طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دو پیشگوئیاں پوری ہوگئیں۔ ایک یہ کہ میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی۔ ربیع الاول 11ھ سے ربیع الاول 41 ھ تک۔ اگر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کے عرصہ خلافت کو نہ گنا جائے تو یہ مدت ساڑھے انتیس سال بنتی ہے یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیش گوئی کے مطابق حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ مسلمانوں کے برحق خلیفہ تھے۔ دوسری پیشگوئی یہ پوری ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کو پیار کرتے ہوئے فرمایا ’’میرا یہ بیٹا سیّد ہے اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں اختلاف ختم ہو جائے گا۔‘‘ (بخاری)
چنانچہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ ان شرائط پر امیر معاویہؓ کے حق میں دستبردار ہوگئے:
.1 کسی عراقی کو محض پرانی دشمنی کی بنا پر گرفتار نہ کیا جائے اور بلا استثناء سب کو امان دی جائے۔
.2 حضرت علی رضی اللہ عنہٗ پر طعن و تشنیع نہ کی جائے گی۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کے امیر معاویہؓ کے حق میں دست بردار ہونے کی پہلی وجہ تو یہی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہٗ مسلمانوں میں تصادم نہ چاہتے تھے‘ دوسرے یہ کہ اگر آپ رضی اللہ عنہٗ خلافت نہ چھوڑتے تو آلِ رسول کے توسط سے ہی خلافت میں وراثت کی رسم چل پڑتی۔ تیسرے یہ کہ امیرمعاویہؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں شمار ہوتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی بزرگی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحابیت کا شرف حاصل ہونے کی بنا پر آپ رضی اللہ عنہٗ کی مخالفت کی بظاہر کوئی وجہ نہ تھی۔
مصالحت کے بعد امیر معاویہؓ کے کوفہ آنے سے قبل آپ رضی اللہ عنہٗ نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! ہم تمہارے امراء اور مہمان ہیں ہم تمہارے نبی کے اہلِ بیتؓ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے پلیدی دور فرما دی ہے اور انہیں پاک صاف فرمادیا ہے۔‘‘
یہ کلمات آپ رضی اللہ عنہٗ نے بار بار دہرائے یہاں تک کہ ہر شخص رونے لگا۔ جب امیر معاویہؓ کوفہ تشریف لائے تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ سے عرض کی کہ ہمارے درمیان جو کچھ طے پایا ہے اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیجیے تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے فی البدیہہ خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا:
’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوّل کے ساتھ تمہیں ہدایت دی اور ہمارے آخر کے ذریعے تمہارے خون معاف فرمائے۔ بہت ہی دانا ہے وہ شخص جس کے دِل میں خوفِ خدا ہے اور بدکار بہت ہی عاجز ہے۔ یہ معاملہ جس میں میرا اور امیر معاویہؓ کا اختلاف تھا اس میں یا تو وہ مجھ سے زیادہ حق دار ہیں یا میں۔اللہ تعالیٰ کی رضا اور امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اصلاح اور تمہارے خونوں کی حفاظت کے لیے میں اپنے حق سے دستبردار ہو گیا ہوں‘‘۔ پھر امیرمعاویہؓکی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ تمہارے لیے آزمائش ہے اور ایک وقت تک کا فائدہ ہے۔‘‘
صوفیائے عظام نے فرمایا ہے کہ جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ رضائے الٰہی کے لیے ظاہری خلافت سے دستبردار ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہٗ اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے اہلِ بیتؓ کو اس کے عوض خلافتِ باطنیہ عطا فرمادی۔
اور اس کے ساتھ ہی خلافتِ ظاہرہ (حکومت) اور خلافتِ باطنیہ علیحدہ علیحدہ ہو گئیں اور آج تک دوبارہ یکجانہ ہو سکیں۔
امرِ خلافت سے دستبردار ہونے کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ یہاںآپؓ احیائے دین کی سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے۔ امیرمعاویہؓ نے آپ رضی اللہ عنہٗ کا سالانہ وظیفہ ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ درہم مقرر کیا جس کا بیشتر حصہ راہِ خدا میں خرچ ہوجاتا اور آپ رضی اللہ عنہٗ قناعت و فقر کی زندگی میں خوش رہتے۔
آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بات ’’میرا یہ بیٹا مسلمانوں کے دو گروہوں میں اختلاف ختم کرے گا‘‘ کا آپ رضی اللہ عنہٗ کو اس قدر پاس تھا کہ جب آپ رضی اللہ عنہٗ کو زہر دیا گیا‘ جس سے آپ رضی اللہ عنہٗ کی شہادت واقع ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنے قاتل کا نام بھی کسی پر ظاہر نہ کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے قتل کے قصاص میں پھر سے مسلمانوں کے درمیان تصادم ہو جائے۔ جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے زہر دینے والے فرد کا نام پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے پوچھا ’’نام جان کر کیا کرو گے‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’قصاص لوں گا‘‘ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ’’میرا گمان صحیح ہے تو اللہ خود بدلہ لے گا اور اگر غلط ہے تو میں کسی کا ناکردہ گناہ میں پکڑا جانا روا نہیں سمجھتا۔‘‘ لہٰذا آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنے قاتل کا نام تک نہ بتایا۔ لوگ مختلف قیاس آرائیاں کرتے رہے۔ کبھی آپ رضی اللہ عنہٗ کی بیوی جعدہ بنتِ اشعث کو موردِ الزام ٹھہراتے، کبھی کہتے کہ امیر معاویہؓ کے ایما پر ایسا ہوا۔ واللہ علم بالصواب۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ نے قاتل کا نام لینے سے گریز کیا تو یقیناًاس میں کچھ حکمت پوشیدہ ہوگی۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کی شہادت 49ھ میں ہوئی۔ مہینے کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کتب میں ربیع الاوّل اور بعض میں صفر لکھا ہے۔لیکن ’’صفر‘‘ پر زیادہ موؤخ متفق ہیں۔ تاریخ کے بارے میں بھی7صفر یا 28صفر میں اختلاف ہے۔ لیکن زیادہ تر روایات 28 صفر کے بارے میں ہیں۔ تہذیب التہذیب میں مرقوم ہے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کے انتقالِ پُر ملال پر مدینہ میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ گلیوں میں سناٹا چھا گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ مسجدِ نبوی میں فریاد و فغاں کرتے تھے اور پکا ر پکار کر کہتے تھے ’’لوگو! آج خوب رو لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے محبوب دنیا سے اٹھ گئے۔‘‘
آپ رضی اللہ عنہٗ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کی اولاد میں پانچ بیٹیاں اور بارہ بیٹے روایت کیے جاتے ہیں جن میں سے چار بیٹوں حضرت سیّدنا ابوبکر بن حسن رضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت سیّدنا عمر بن حسن رضی اللہ عنہٗ‘ حضرت سیّدنا عبداللہ بن حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت سیّدنا قاسم بن حسن رضی اللہ عنہٗ نے سانحہ کربلا میں جامِ شہادت نوش کیا۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے انتہائی غلط طور پر کثرتِ ازواج منسوب کی جاتی ہے اور بدطینت دشمنانِ اہلِ بیت نے کبھی آپ رضی اللہ عنہٗ سے 70 کبھی 100 ازواج منسوب کی ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل ناممکن بات ہے۔ اوّل تو اتنی ازواج کی موجودگی میں اولاد کی تعداد صرف 17 ہونا ممکن نہیں۔ دوسرے اتنی ازواج کے لیے کثرت سے طلاق جیسا مکروہ فعل بار بار دہرانے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک وقت میں چار سے زائد ازواج جائز نہیں۔ آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسے افعال کو منسوب کرنے کا خیال بھی مکروہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ روایات اس پروپیگنڈہ کا حصہ ہے جو اموی دور میں اہلِ بیت کے بارے میں گھڑی گئیں۔ یہ وہ پاکیزہ ہستی ہیں جنہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے باغ کے پھول اور جنت کے نوجوانوں کے سردار قرار دیا ہے۔ اگر ہم ان جیسے اعمال کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو کم از کم ان کے متعلق بدگمانیاں دلوں میں پال کر دلوں کو مزید غلاظت میں مبتلا تو نہ کریں۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے محبوبین کی صرف محبت و عقیدت ہی قلوب کو تقویت بخشتی ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا باعث ہوتی ہے۔
دل میں ہے مجھ بے عمل کے داغِ عشقِ اہلِ بیتؓ
ڈھونڈتا پھرتا ہے ظلِ دامنِ حیدرؓ مجھے
(یہ مضمون سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصنیف ’’خلفائے راشدین‘‘ سے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں