Alif

الف-عشق۔۔معرفتِ الٰہی کے لیے لازم -Alif

عشق۔۔معرفتِ الٰہی کے لیے لازم

فقرا کاملین نے عشق کو دیدارِ حق کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ عشقِ حقیقی ہی بارگاہِ ربّ العالمین میں باریابی دلاتا ہے۔ عشق ہی انسان کو ’’شہ رگ‘‘ کی روحانی راہ پر گامزن کرکے آگے لے جانے والا ہے یہی اس راہ سے شناسا کراتا ہے۔ یہی روح کے اندر وصالِ محبوب کی تڑپ کا شعلہ بھڑکاتا ہے۔ یہی اسے دن رات بے چین وبے قرار رکھتا ہے۔ آتشِ ہجر تیز کرتا ہے اور یہی ’’دیدارِ حق‘‘ کا ذریعہ بنتا ہے۔
ز جناب سرورکائنات  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  عشاق کے متعلق فرماتے ہیں:

ترجمہ:’’اگر عاشقوں کو جنت اس کے جمال کے بغیرنصیب ہوتو سخت بدقسمتی ہے اور اگر مشتاقوں کو اس کے وصال سمیت دوزخ بھی نصیب ہو تو بھی نہایت ہی خوش قسمتی ہے‘‘۔ (اسرار قادری)
عشق والوں سے معاملہ بھی جدا ہوتا ہے۔ علمائے محض سے اور طرح بات ہوتی ہے اور عشاق کے ساتھ دوسرے طریقے سے گفتگو کی جاتی ہے عشق مشاہدہ کا وارث ہے اور حقیقت کی تہہ یا اس کی کنہ تک کی خبر رکھتا ہے مگر علم کی نظر سطح تک رہتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو قدس سرہُ العزیزنے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے ’’واضح رہے کہ عشق کی یہ راہ مذہب وملت اور کتابوں میں لکھی ہوئی نہیں اس سے مراد ربّ الارباب ہے۔ چنانچہ جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج سے مشرف ہوکر واپس تشریف لائے تو پہلے عاشقوں نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  سے پوچھا کہ یارسول ﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے اﷲ کو دیکھا؟ فرمایا: مَنْ رَانِیْ فَقَدْ رَایَ الْحَق (جس نے مجھے دیکھا‘ اس نے گویا اﷲ تعالیٰ ہی کو دیکھا)۔ بعد ازاں علما نے پوچھا کہ یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  نے خدا کو دیکھا؟ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کے حق میں وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ  (سورۃ النجم3۔ ترجمہ:اورنبی اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے)وارد ہے‘ فرمایا:تَفَکَّرُوْا فِیْ اٰیٰتِہٖ وَلَا تَفَکَّرُوْا فِیْ ذَاتِہٖ  (اس کی آیات میں تفکر کرو۔ لیکن اس کی ذات کی بابت نہیں)۔ (محبت الاسرار)

مومن کا سرمایہ حیات ایمان ہے لیکن عاشق کی یہ ادنیٰ منزل ہے۔ عاشق کی اصل منزل ’’وصالِ حق‘‘ ہے جو صرف عشقِ حقیقی سے حاصل ہوتی ہے۔ عشق کی تپش جب انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو ہجروفراق کی صورت اختیار کر لیتی ہے محبوب کے لیے طلب اور تڑپ میں متواتر اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ہجر کی یہ آگ عاشق کو دن رات بے چین اور بے قرار رکھتی ہے۔
 حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’عشق ایک لطیفہ ہے جو غیب سے دل میں پیدا ہوتا ہے او رمعشوق کے سوا کسی چیز سے قرار نہیں پکڑتا۔ (محکم الفقرا)
عشق کا کھیل ایسا ہی نرالا ہے جسے اﷲ کے عشق میں بے چین وبے قرار‘ صادق دل طالب‘ عقل اور خرد کی حدود سے نکل کراپنی زندگی اور مال ومتاع داؤ پر لگاکر کھیلتے ہیں۔اگر جذبے صادق ہوں تو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور دیدارِ حق نصیب ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ یہ عشق ہی ہے جو دیدارِ حق تعالیٰ کا راستہ وا کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے عقل کے ہزار ہا ہزار قافلے سنگ سار ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ کو نہ پاسکے ۔ فقرا نے عشق ہی کے راستہ سے دیدارِ حق تعالیٰ کی نعمت حاصل کی۔
(اقتباس از ’’شمس الفقرا‘‘ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں