کلمہ طیب کی حقیقت–Kalma Tayyab ki Haqeeqat

کلمہ طیب کی حقیقت

تحریر: مریم گلزار سروری قادری ۔لاہور

اسلام کا دار و مدار کلمہ طیب پر ایمان پر ہے۔ یہ درحقیقت ربّ عالم کے سامنے اس کی عبودیت و غلامی کا اقرار نامہ ہے جس کے ذریعہ ایک مسلمان غیر مسلم سے ممتاز ہو جاتا ہے، کلمہ طیبہ کو افضل الذکر بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت جابرؓ نے بروایت ترمذی اور ابنِ ماجہ ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یوں بیان کیا ہے:
 قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفْضَلَ الذِّکْرِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’سب سے افضل ذکر لَآ اِلٰہَ     اِلَّا اللّٰہ ہے۔‘‘
کلمہ طیب یہ دونوں جہانوں میں سے سب سے بڑی دولت و نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ پاکیزہ کلمہ دینِ اسلام کا محور ہے، اس کا نام کلمہ طیب بھی اسی لئے ہے کہ یہ نام سب کچھ پاک کر دیتا ہے۔ اس کے نور سے تمام کفر و شرک کے پردے ہٹ گئے اور دورِ جہالت کی تاریکی سے عالمِ انسانیت کو نجات مل گئی۔ ان پردوں کے اُٹھ جانے سے ہی بندہ اپنی تخلیق کے مقصد سے آگاہ ہوتا گیا اور اپنے ربّ کو جانتا اور پہچانتا گیا۔ ایک مسلمان کے لیے ایمان کے حصول کی بنیاد کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ہے کیونکہ اسی کلمہ کی برکت و فضیلت سے اس کے آلودہ نفس کا تزکیہ ہوتا ہے، نفس کے حجاب زائل ہوتے ہیں اور انوارِ الٰہی سے اس کا قلب منور ہو جاتا ہے۔ عرفانِ ذات کا حصول بھی کلمہ طیب کی حقیقت تک پہنچنے یعنی تصدیقِ قلب سے ممکن ہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صحابہ کرامؓ میں مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) لوگ آئے (جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے) انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کی ’’ہم بھی مومن ہیں اس لیے ہم پر بھی عنایت فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دوسرے مومنین پر فرما رہے ہیں۔‘‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جواب بھی نہ دینے پائے تھے کہ وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: یہ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم ایمان والے ہیں (یعنی مومن ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرما دیں کہ تم ایمان والے نہیں ہو (یعنی تم نے ابھی اقرار باللسان کیا ہے اور زبانی کلمہ پڑھا ہے) بلکہ یہ کہو کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں، ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا (یعنی تم ابھی تصدیق بالقلب کے مرتبہ پر نہیں پہنچے)۔ (سورۃ الحجرات۔14 )
اس آیت اور واقعہ سے یہ بات واضح ہے کہ صرف زبانی کلمہ پڑھنا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ کلمہ کی حقیقت جان کر دل سے اسے پڑھنے والا ہی حقیقی کلمہ گو ہے۔ زبانی کلمہ پڑھنے والوں کے متعلق حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ہے کہ
قَائِلُون لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کثیر والمخلصون قلیل.
ترجمہ: ’’(رسمی اور رواجی طور پر ) کلمہ طیب پڑھنے والے تو کثیرہیں مگراخلاص سے کلمہ طیب پڑھنے والے بہت قلیل ہیں۔‘‘
کلمہ طیب مومنین پر اللہ کا بہت عظیم اور خاص انعام ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اللہ نے ہمیں اس نعمت کے ذریعے اپنی اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان سے آگاہ فرمایا۔ مگرا فسوس کی بات یہ ہے کہ کم لوگ ہی کلمہ کی حقیقت سے آشنا ہیں کیونکہ سب اپنے نفس اور دنیا کی خواہشات کو ہی اپنابت اور معبود بنائے ہوئے ہیں اور اپنے حقیقی الٰہ کو بھولے بیٹھے ہیں۔ کلمہ کی حقیقت کو جاننے کے لئے سب سے پہلے طالب کا صادق ہونا ضروری ہے یعنی اپنی طلبِ حق میں سچا ہو اور پھر مرشد کامل کی تلاش بہت ضروری ہے۔ کیونکہ کلمہ طیب  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے معنی بہت وسیع ہیں جن کی حقیقت کو جاننا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔کلمہ طیب کی حقیقت کو اللہ کے نیک اور چنے ہوئے بندے (مرشد کامل) ہی جانتے ہیں اور وہی سچے طالبوں کی اس حقیقت تک پہنچنے میں مدد کرتے ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کلمہ طیب کے متعلق فرماتے ہیں:
* دونوں جہان علم کی قید میں ہیں اور علم کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  کی قید میں ہے اور کلمہ طیب اسمِ  اللہ ذات کی قید میں ہے۔ جو بھی کلمہ طیب کو تصدیقِ دل سے پڑھتا اور اس کی حقیقت کو جان جاتا ہے اس سے کوئی بھی علم مخفی اور پوشیدہ نہیں رہتا۔ (امیرالکونین)
کلمہ طیب کی حقیقت کیا ہے؟
کلمہ طیب سراسر توحید ہے جس نے توحید کو جانا اس نے کلمہ طیب کے اسرار یعنی ’’راز‘‘اور حقیقت کو جانا اور جس نے کلمہ طیب کو جانا اس نے ربّ تعالیٰ کو جانا۔کلمہ طیب کی حقیقت کو جاننے کے لئے توحید کے متعلق جاننا ضروری ہے۔ توحید کیا ہے؟ عموماً توحید سے مراد یہ لیا جاتا ہے کہ ’’ اللہ ایک ہے‘‘ اور سب اس کا اقرار باللسان بھی کرتے ہیں۔ لیکن تصدیق بالقلب یعنی قلب سے اس کی تصدیق اس وقت تک ممکن نہیں جب انسان کے ظاہر و باطن میں واحد اللہ ہی رہے۔ لوگ اللہ کو گنتی والا ایک سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ہے جبکہ اللہ وحدہٗ لاشریک والا ’’ایک‘‘ ہے یعنی تمام عالموں میں صرف وہی موجود ہے۔ وہی معبودِ برحق ہے، تمام عالم اور ان کی مخلوقات اسی کی ذات و صفات کا اظہار ہیں، ہر شے میں اسی کی جلوہ گری ہے۔ اس کے سوا دوسرا کوئی معبود ہی نہیں لہٰذا اس کا کوئی شریک بھی نہیں۔ وہ ہی قائم رہنے والا ہے باقی سب فنا ہونے والا ہے۔ جو قائم رہتا صرف اس کی ہی عبادت ہوتی ہے اور کسی کی نہیں۔ کلمہ طیب کا پہلا لفظ ہی’’لَآ‘‘ یعنی ’’نفی‘‘ہے کہ ’’نہیں کوئی‘‘ اور اللہ ساتھ ہی فرماتا ہے ’’ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ ’’معبود سوائے اللہ کے۔‘‘ وہ اپنے ساتھ کسی کو شریک برداشت نہیں کرتا وہ ’’تنہا‘‘ اور ’’یکتا‘‘ ہے اور کلمہ طیب کے دوسرے حصہ میں فرماتا ہے ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘ یعنی ’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اللہ پاک نے کسی کا نام بھی اپنے نام کے ساتھ پسند نہیں فرمایا سوائے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے۔ کیونکہ وہ ہی اس کی ذات و صفات کا کامل مکمل اکمل اظہار ہیں۔
فقر کی اصطلاح میں ’’لَآ اِلٰہَ‘‘ سے مراد تمام رشتوں کی نفی ہے چاہے وہ محبت کے ہوں، نفرت کے ہوں، کوئی سہارا ہو یا امید ہو سب کی نفی ہے سوائے اللہ کی ذات کے۔ ’’اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کے لفظی معنی ہیں ’’سوائے اللہ کے‘‘۔ فقرو معرفت میں یہ مرتبہ ’’اثبات‘‘ ہے جہاں طالب اللہ کے سوا تمام چیزوں اور اغیار کی نفی کر دیتا ہے اور جان جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی محبوب نہیں اور نہ ہی کوئی موجود ہے، صرف اللہ ہی ہے۔ اس طرح طالب تمام فانی چیزوں سے ٹوٹ کر صرف اور صرف اللہ سے جڑ جاتا ہے او ر اس پر توحید کی حقیقت کھل جاتی ہے اور پھر وہ وصالِ الٰہی کی طرف اپنا باطنی سفر جاری رکھتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ کلمہ طیب ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘ کے تین درجے بیان فرماتے ہیں:
1 ۔ لَآ اِلٰہَ
2 ۔ ’اِلَّا اللّٰہُ
3 ۔ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
ہزاروں ہزار طالبوں میں سے بعض فقط ’’لَآ اِلٰہَ ‘‘ تک پہنچتے ہیں۔’لَآ اِلٰہَ‘‘ نفی ہے، فانی ہے،’’اِلَّا اللّٰہُ‘‘ اثبات ہے ، باقی ہے۔ مرتے وقت (مقام مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا’’مرنے سے پہلے مرجاؤ‘‘ ) لَآ اِلٰہَ کہنے سے تمام عمر کے گناہ مٹ جاتے ہیں کہ نفی میں آکر تمام گناہ فنا ہو جاتے ہیں ’’اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کہنے سے بندہ اثبات میں پہنچ جاتا ہے۔اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہنے سے مراتبِ انتہائی پیغمبری پر پہنچ جاتا ہے۔ پس پیغمبروں پر آتشِ دوزخ حرام ہے۔ یہ کامل محبوبیت کا مقام (مقامِ فقر تمامیت ) ہے۔ (عین الفقر)
محبوبِ سبحانی سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ توحید کے متعلق فرماتے ہیں:
* ’’ توحید کے معنی یہ ہیں کہ تمام مخلوق کو معدوم سمجھے اور ہر ایک سے جدا ہو جائے اور طبیعت بدل کر فرشتوں کی پاکیزگی حاصل کرے اس کے بعد فرشتوں کی طبیعت سے بھی فنائیت حاصل ہو اور اپنے پروردگار کے ساتھ مل جائے۔‘‘ (الفتح الربانی)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* ’’ میں نے خود کو دریائے توحید میں غرق کر کے خود کو پایا۔‘‘ (عین الفقر)
کلمہ طیب کی حقیقت و کنہ کو جاننا ہی خالص توحید کی کنجی ہے۔ اس کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* ’’رازِ توحید کی چابی کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے۔ جو شخص کلمہ طیب کی چابی سے دل کا قفل کھول کر معرفتِ الٰہی کا راز پا لیتا ہے وہ بے نیاز و لایحتاج طالب ہے۔‘‘ (کلید التوحید کلاں)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ پنجابی ابیات میں بھی کلمہ کی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں:

اندر کلمہ کِل کِل کردا، عشق سکھایا کلماں ھُو
چوداں طبق کلمے دے اندر، قرآن کتاباں علماں ھُو
کانے کَپ کے قلم بناون، لکھ نہ سکن قلماں ھُو
باھُوؒ ایہہ کلمہ مینوں پیر پڑھایا، ذرا نہ رہیاں الماں ھُو

مفہوم: اس بیت میں توحید کے اسرار پوشیدہ ہیں۔ توحید کا مرتبہ اوّل زبان سے کلمہ پڑھنا، مرتبہ دوم تصدیقِ قلب سے کلمہ پڑھنا ہے، مرتبہ سوم یہ ہے کہ کلمہ کی حقیقت کا مشاہدہ ہوجائے۔ یہ مقربین کا مقام ہے۔ مرتبہ چہارم یہ ہے کہ جملہ موجودات کے وجود میں بجز ذاتِ اللہ کسی اور کو نہ دیکھنا اور کلمہ کی اس حقیقت اور کنہ تک پہنچنا طالب کا اور پہنچانا مرشد کا کام ہے۔
آپ ؒ فرماتے ہیں ’’ میرے اندر کلمہ کی جو حقیقت موجود ہے اسے میں نے عشق کی وجہ سے پایا ہے اور کلمہ کی حقیقت نے باطن کے اند رہلچل مچا رکھی ہے۔ پوری کائنات، تمام آسمانی کتابوں اور قرآنِ مجید کا علم کلمہ طیبہ کے اندر ہے۔ دنیا کے تمام مفسرین اور اہلِ قلم اس کلمہ کی شرح لکھتے چلے آرہے ہیں لیکن ابھی تک اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے۔‘‘
آپ ؒ فرماتے ہیں ’’ یہ کلمہ مجھے میرے مرشد نے سمجھایا اور تلقین کیا ہے (یعنی مرشد کی تلقین کے بغیر کلمہ کی حقیقت بھی سمجھ میں نہیں آتی) اور میں نے اس کی حقیقت اور کنہ کو پالیا ہے اب مجھے کوئی غم اور فکر نہیں ہے۔‘‘

کلمے دی کل تداں پیوسے، جداں کلمے دل نوں پھڑیا ھُو
بے درداں نوں خبر ناں کوئی، درد منداں گل مڑھیا ھُو
کفر اسلام دی گل تداں پیوسے، جداں بھن جگر وچ وڑیا ھُو
میں قربان تنہا توں باھُوؒ ، جنہاں کلمہ صحی کر پڑھیا ھُو

مفہوم: ہمیں کلمہ طیبہ کی حقیقت کا تب پتہ چلا جب کلمے نے دل کے اندر پوشیدہ رازِ حقیقی سے آگاہ کیا۔ اسی طرح تصدیقِ دل کے ساتھ کلمہ تو عاشقانِ ذات نے ہی پڑھا ہے۔ علما اور دنیاداروں کو تو اس حقیقت کی خبر تک نہیں ہے۔ کفر واسلام کا فرق بھی تب ہی سمجھ میں آیا جب کلمہ کی حقیقت کو پایا۔
آپؒ فرماتے ہیں میں ان طالبانِ مولیٰ کے قربان جاؤں جنہوں نے تصدیقِ دل کے ساتھ کلمہ پڑھ کر اس کی حقیقت اور راز کو پالیا ہے۔(ابیاتِ باھوؒ کامل)
جن اولیا اللہ نے کلمہ کی حقیقت کو جانا توحید تک پہنچ کر یعنی اللہ کے ساتھ وصال و وحدت پا کر ہی جانا اور لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کرتے رہے۔ بندہ توحید کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں جان سکتا جب تک اس کا قلب خواہشاتِ نفس سے پاک نہیں ہو جاتا۔ خواہشاتِ نفس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ حقیقی توحید یہ ہے کہ بجز اللہ کے نہ طالب کے اندر کچھ باقی بچے نہ باہر ۔ جیسا کہ حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا ’’میرے جبے میں سوائے اللہ کے کچھ نہیں۔‘‘
توحید کی حقیقت تک پہنچنے کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ اغیارکی محبت کو اپنے دل سے نکالا جائے اور باطل کی مخالفت کی جائے۔ صرف اسی طرح باطن کا سفر اللہ کی طرف جاری رہتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت اور صحابہ کرامؓ کا عمل رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی اپنے خاندان اور باطل روایات کے برعکس چلے، سب کی مخالفت برداشت کی اسی طرح صحابہ کرامؓ نے بھی بہت سی مصیبتیں برداشت کیں اسی لئے تمام صحابہ کرامؓ نے بہت بلند مقام و مرتبہ پایا۔ اگر ایک طالب کلمہ و توحید کی حقیقت کو جاننا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ راہِ حق میں آنے والے تمام مصائب کا سامنا ہمت و استقامت اور صبرو حوصلے سے کرے۔ آزمائش سے ہی پتہ چلتا ہے کہ طالب کتنا مخلص اور ثابت قدم ہے اور یہ آزمائشیں ہی طالب کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس راستہ میں شیطان اور بندے کا نفس بڑے حیلوں سے طالب کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں اس سے صرف مرشد کامل اکمل ہی بچا سکتا ہے۔ طالب کو چاہیے کہ اس راستہ پر آنے سے پہلے مرشد کامل اکمل کی بیعت کرے کیونکہ مرشد اس راستے کی رکاوٹوں سے واقف ہوتا ہے وہ طالب کو بچا کر اس راستے سے گزار کر ربّ سے ملوادیتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ مرشد کامل اور اکمل ہو جو طالب کے نفس کو مارکر اسے تصدیق بالقلب کے مرتبہ پر پہنچائے۔ حدیث مبارکہ ہے
اَلشَّیْخُ یُحْیِ الْقَلْبَ وَ یُمِیْتُ النَّفْسَ۔
ترجمہ: شیخ (مرشد کامل) قلب کو زندہ کرتا ہے اورنفس کو مارتا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
قَلْبُ الْمُؤْمِنِ عَرْشَ اللّٰہِ تَعَالٰی۔
ترجمہ:’’ مومن کا قلب اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔‘‘
یاد رہے کہ اس فرمان میں مومن کے قلب کا ذکر ہوا ہے۔ مومن کون ہے؟ جب ایک انسان زبانی کلمہ پڑھ کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ مسلمان بن جاتا ہے اور جب کلمہ کی حقیقت کو جان کر تصدیق بالقلب کرتا ہے تو وہ مومن بن جاتا ہے اور مومن وہ ہے جو اللہ کی خاطر سب کچھ چھوڑدیتا ہے اور صرف اُسی سے تمام امیدیں وابستہ رکھتا ہے۔ مومن ہمیشہ یہ سوچتا ہے کہ جو نعمتیں اس کے پاس ہیں و ہ سب ربّ کی عطا ہیں اور جو کچھ اس کے ساتھ بُرا ہورہا ہے وہ اس کی خطاؤں کی وجہ سے ہے۔ مومن کے لئے اس کی اپنی ذات کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں صرف وہ ربّ کی رضا میں راضی رہتا ہے اور اپنی ذات کو بھول جاتا ہے ۔ عام مسلمان جو صرف زبانی کلمہ پڑھتے ہیں اور دل میں غیر اللہ سے امیدوں، اللہ سے گِلوں اور خواہشاتِ نفس کے بت بنائے رکھتے ہیں اور اپنی زندگی میں توحید کی حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں۔ نہ اللہ کی طلب کرتے ہیں نہ اس کے لیے کوئی کوشش‘ اور اسی غفلت کے عالم میں موت انہیں گھیر لیتی ہے۔ پھر موت کے وقت ان پر توحید کے سب راز کھل جاتے ہیں مگر اس وقت کچھ نہیں ہو پاتا۔ اللہ کو راضی کر کے اس کا قرب و وصال پانے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ اس طرح انسان اپنی تمام زندگی کو فانی خواہشات کے لئے برباد کر دیتا ہے۔ اس لئے بندے کو چاہیے کہ وہ زندگی میں ہی توحید کو جان لے ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رہتا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’ اے ایمان والو! اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی مت کرو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (البقرہ)
اس آیت مبارکہ میں پوری طرح داخل ہوجانے سے مراد یہی ہے کہ دینِ اسلام اور توحید کی حقیقت کو جان کر اس پر عمل کر و۔دینِ اسلام کی حقیقت کو مرشد کامل اکمل کی صحبت اور پیروی کے بغیر نہیں پایا جاسکتا کیونکہ مرشد اس راستہ کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہو تا ہے اس لئے وہ طالب کو بحفاظت منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر کوئی سالک مرشد کے بغیر توحید کی منزل تک پہنچنا چاہے گا تو وہ ناکام ہو جائے گا کیونکہ سالک اس راستہ سے بالکل بھی واقف نہیں ہوتا ہے اور اس طرح وہ اپنی دنیا و آخرت دونوں ضائع و برباد کر لیتا ہے ۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

یا پھر طالب کسی ناقص مرشد کے ہاتھ لگ جائے تو بھی اس کا ایمان خراب ہو جاتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ بھی پنجابی ابیات میں مرشد کامل کی اہمیت کو یوں بیان فرماتے ہیں :

زبانی کلمہ ہر کوئی پڑھدا، دل دا پڑھدا کوئی ھُو
جتھے کلمہ دل دا پڑھئے ، اوتھے ملے زبان ناں ڈھوئی ھُو
دل دا کلمہ عاشق پڑھدے، کی جانن یار گلوئی ھُو
ایہہ کلمہ مینوں پیر پڑھایا باھُوؒ ، میں سدا سوہاگن ہوئی ھُو

مفہوم: زبانی کلمہ تو ہر کوئی پڑھ لیتا ہے لیکن قلبی تصدیق کے ساتھ کلمہ کوئی کوئی پڑھتا ہے۔ جب عاشق کلمہ کی کنہ اور حقیقت کو اپنے اندر پا لیتے ہیں تو پھر زبان ہلانے کی ضرورت نہیں رہتی بس دیدار ہی رہ جاتا ہے ۔ یہ کلمہ تو صر ف عاشقِ ذات ہی پڑھتے ہیں۔زبانی باتیں بنانے والے اس کلمہ کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔مجھے تصدیقِ قلب کے ساتھ کلمہ تو میرے مرشد کامل نے پڑھایا ہے اور میں دونوں جہانوں میں خوش بخت ہوگیا ہوں ۔

کلمے دی کل تداں پیوسے، جداں مرشد کلمہ دسیا ھُو
ساری عمر وچ کفر دے جالی، بن مرشد دے دسیا ھُو
شاہ علیؓ شیر بہادر وانگن، کلمے وڈھ کفر نوں سٹیا ھُو
دل صافی تاں ہووے باھُوؒ ، جاں کلمہ لوں لوں رسیا ھُو

مفہوم: کلمہ طیبہ کی کنہ اور حقیقت سے تب آگاہی حاصل ہوئی جب ہمارے مرشد کامل نے ہمیں کلمہ پڑھایا اور کلمہ کی حقیقت نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مثل کفر کو دل سے نکال پھینکا۔ مرشد کے بغیر کلمہ کی حقیقت سمجھ ہی نہیں آتی۔اس لیے مرشد کی راہبری کے بغیر کلمہ پڑھتے رہنا ساری عمر کفر میں گزارنے کے مترادف ہے اور دل کی صفائی تب حاصل ہوتی ہے جب کلمہ طیبہ لوں لوں کے اندر سرایت کر جاتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی مرشد کامل کے متعلق فرماتے ہیں:
* کتاب و حکمت کی تعلیم مرشدِ کامل اکمل کے بغیر ممکن نہیں ہے مرشد ہی طالب کو اس کی استطاعت کے مطابق شیطان اور نفس کی چالبازیوں سے بچاتا ہوا دار الامن (قربِ الٰہی ) میں لے جاتا ہے عام لوگوں کو تو اس علم کے نام سے بھی واقفیت نہیں چہ جائیکہ ان کو اس پر دسترس حاصل ہو۔
* راہِ فقر میں مرشد کامل اکمل کی راہبری لازمی ہے لیکن راہزن مرشد سے بچنا چاہیے۔ جو لوگ قلب میں اللہ تعالیٰ کی طلب خلوص کے ساتھ لے کر نکلتے ہیں وہ ان راہزنوں سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ جس کی طلب میں وہ نکلتے ہیں وہی ان کا حافظ و ناصر ہوتا ہے اور جس کا حافظ اللہ تعالیٰ خود ہو اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ۔(سلطان العاشقین)
مندرجہ بالا فرمودات سے یہ بات واضح ہے کہ دینِ اسلام اور کلمہ و توحید کی حقیقت جاننے کے لئے مرشد کامل کی کتنی ضرورت ہے۔ پیدائشی ولی بھی ظاہری طور پر مرشد کامل کی بیعت فرماتے ہیں کیونکہ یہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔
الغرض جب تک دل میں دنیا ، لذاتِ دنیا، خواہشاتِ دنیا موجود رہتی ہیں طالب کے دل میں اللہ کی محبت پیدا نہیں ہوسکتی اور جب تک دل میں اللہ کی محبت پیدا نہیں ہوتی تب تک سالک / طالب کسی بھی شے کی حقیقت کو نہیں پا سکتا ۔ یہ سب کچھ مرشد کامل اکمل کی صحبت اور نگاہِ کرم سے ممکن ہے اس لیے طالب کو چاہیے کہ پہلے وہ مرشد کامل اکمل کو تلاش کرے۔ اس سے اسم v ذات حاصل کر کے توحید کو پہچانے پھر ہی وہ رازِ حقیقی کو جان پائے گا۔ جو رازِ حقیقی کو جان گیا وہ اللہ کو پہچان گیا، جو اللہ کو پہچان گیا وہی دین میں مکمل طور پر داخل ہوا پس اس پر آتشِ دوزخ حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام اور اسکے ارکان کی روح (حقیقت) کو جاننے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
بیشک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے انسانِ کامل ہیں۔ التجا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مریدین میں ہمیشہ شامل رکھیں اور فقر (دینِ اسلام کی حقیقت) کو سمجھنے میں رہنمائی فرماتے رہیں۔ (آمین)
استفادہ کتب:
الفتح الربانی تصنیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
کلید التوحید کلاں تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
امیر الکونین تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
عین الفقر تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
شمس الفقرا۔ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
ابیاتِ باھُوؒ کامل۔تحقیق و ترتیب، شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
سلطان العاشقین۔ ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور
فضیلت ذکر اللہ تعالیٰ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں