اعلانِ ولایت فقرِ محمدی Elan e Wilayat Faqr e Mohammadi

اعلانِ ولایت فقرِ محمدی

 تحریر: محسن سعید سروری قادری۔ حافظ آباد

محبوبِ الٰہی آقا دو جہان وجۂ تخلیقِ کائنات جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب حجتہ الوداع سے واپس پلٹ رہے تھے تو غدیرِ خم کے مقام پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا:
ترجمہ: ’’اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلِ بیتؓ ، ان دونوں کو تھام لینا کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔‘‘
پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا:
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔ (حدیث)
ترجمہ: جس کا میں مولا ہوں اس کا علیؓ مولا ہے۔
دراصل یہ آقا دوجہان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ایک اعلان تھا جسے اعلانِ ولایت کہتے ہیں جس میں فقر ِ محمدی کی وراثت کے لیے جانشین چنا گیا۔ وہ فقر جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا فخر قرار دیا۔ تمام صحابہؓ کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر اعلان فرمایا جس پر نہ کسی کی تجویز اور نہ ہی کسی کی تائید کی ضرورت تھی یہ خالصتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فیصلہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فقر کے جس مقام پر تھے اسی وراثتِ فقرِ محمدیؐ کا وارث حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مقرر فرما دیا اور ساتھ یہ دعا بھی فرمائی:
’’اے اللہ اس سے محبت کرنا جو علیؓ سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھنا جو علیؓ سے دشمنی رکھے۔‘‘ (صحیح مسلم۔ 6225 )
اس اعلان کا اطلاق تمام جملہ اہلِ ایمان پر قیامت کے دن تک ہوتا ہے اور اس اعلان کے بعد جو بھی مسلمان حضرت علیؓ کو اپنا مولا اور فقرِ محمدی کا وارث نہیں مانتاوہ فقرِ محمدی کا انکاری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:
ترجمہ: جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی میں اسے ولایتِ علیؓ کی نصیحت کرتا ہوں، جس نے اسے ولی جانا اس نے مجھے ولی جانا اور جس نے مجھے ولی جانا اس نے اللہ کو ولی جانا اور جس نے علیؓ سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھااور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔ (دیلمی۔ متقی۔ ابنِ عساکر)
آقا دو جہان محبوبِ الٰہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باطنی وراثت فقرِ محمدی کو حضرت علیؓ کے وسیلے سے اُمتِ محمدیہ میں منتقل کر دیا گیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اسی وجہ سے بابِ فقر کہا جاتا ہے کیونکہ جو کوئی بھی فقر کے شہنشاہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے وسیلہ سے پہنچتا ہے اور اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مہر ثبت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:
* ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے۔‘‘
* ’’علیؓ کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔‘‘(حدیث)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم سے تین خلافتیں جاری ہوئیں۔
1 ۔ خلافتِ باطنی کی روحانی وراثت
2 ۔ خلافتِ ظاہری کی سیاسی وراثت
3 ۔ خلافتِ دینی کی عمومی وراثت
1) خلافتِ باطنی وہ شعبہ ہے جس سے نہ صرف دینِ اسلام کے روحانی کمالات اور باطنی فیوضات کی حفاظت ہوئی بلکہ اُمتِ محمدیہ میں فقرِ محمدی، ولایت و قطبیت اور مجدد یت کے چشمے پھوٹے اور اُمتِ محمدیہ اسی واسطے سے روحانیتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فیضیاب ہوئی۔
فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :
* تمام پیغمبروں نے فقر کے مرتبے کی التجا کی لیکن نہیں ملا۔ صرف سرورِ کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حاصل ہوا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی اُمت کے سپرد کیا۔ یہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم محض فیض ہے۔( امیر الکونین)
* فقر دیدار الٰہی کا علم ہے۔(عین الفقر)
2) خلافتِ ظاہری سے غلبۂ دینِ حق اور نفاذِ اسلام کی عملی صورت وجود میں آئی اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تمکن اور زمینی اقتدار کا سلسلہ قائم ہوا۔ اسی وجہ سے اسلام دنیا کے کونے کونے میں پہنچا جس میں بے شمار صحابہ کرامؓ نے اپنی جانیں اور مال قربان کیا جس کی تاریخ میں ان گنت مثالیں موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے مختلف ریاستیں اور سلطنتیں قائم ہوئیں اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نظامِ عالم کے طور پر دنیا میں عملاً متعارف ہوئی۔
3) خلافتِ عمومی نیابتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کا وہ سر چشمہ ہے جس سے اُمتِ محمدیہ میں تعلیماتِ اسلام کا فروغ اور اعمالِ صالحہ کا تحقق وجود میں آیا اور اس کی وجہ سے علم و تقویٰ کی حفاظت ہوئی۔
پہلی خلافت۔ خلافتِ فقرِ محمدیؐ قرار پائی۔
دوسری خلافت۔ خلافتِ سلطنت قرار پائی
تیسری خلافت۔ خلافتِ ہدایت قرار پائی
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اپنی کتاب (التفہیمات الالٰہیہ) میں فرماتے ہیں:
* حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کی وراثت کے حاملین تین طرح کے ہیں:
1۔ ایک وہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حکمت و عصمت اور قطبیت باطنی کا فیض حاصل کیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ بیتؓ اور خواص ہیں۔
2 ۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حفظ و تلقین اور رشدو ہدایت سے متصف قطبیتِ ظاہری کا فیض حاصل کیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلفائے راشدین اور عشرہ مبشرہ جیسے صحابہ کرامؓ ہیں۔
3 ۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جنہوں نے انفرادی عنایات اور علم و تقویٰ کا فیض حاصل کیا۔ یہ وہ اصحاب ہیں جو احسان کے وصف سے متصف ہوئے جیسا کہ حضرت انسؓ اور حضرت ابوہریرہؓ اورا ن کے علاوہ دیگر متاخرین۔ یہ تینوں مدارج حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کے کامل ختمِ رسالت سے جاری ہوئے۔
1 ۔ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں سیّدنا علی مرتضیٰؓ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے براہِ راست خلیفہ اور نائب ہوئے۔
2۔ سلطنت میں سیّدنا صدیق اکبرؓ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پہلے خلیفہ اور نائب ہوئے۔
3 ۔ ہدایت میں جملہ صحابہ کرامؓ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلفا اور نائب ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ :
’’خلیفہ ظاہری منتخب ہوتا ہے، خلیفہ باطنی منتجب ہوتا ہے‘‘
یہی وجہ ہے کہ پہلے خلیفہ راشد سیّدنا ابو بکر صدیقؓ کا انتخاب حضرت سیّدنا عمرِ فاروقؓ کی تجویز اور رائے عامہ کی اکثریتی تائید سے عمل میں آیا مگر بابِ فقر امامِ ولایت سیّدناعلی کرم اللہ وجہہ کے انتخاب میں کسی کی تجویز مطلوب ہوئی نہ کسی کی تائید۔
خلافتِ سلطنت میں جمہوریت مطلوب تھی اسی لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کا اعلان نہیں کیا۔
فقرِ ِ محمدی (ولایت) میں ماموریت مقصود تھی اسی لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے 18 ذوالحجہ کو غدیرخم کے مقام پر اس کا اعلان فرما دیا:
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔
ترجمہ: جس کا میں مولا ہوں اس کا علیؓ مولا ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُمت کے لیے سیاسی خلفا کا انتخاب عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا مگر فقرِ محمدی کے لیے وارث کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی مرضی سے خود فرما دیا۔

خلافتِ سیاسی تخت نشینی کے بغیرمؤثر نہیں ہوتی

خلافتِ باطنی تخت و سلطنت کے بغیر بھی مؤثر ہوتی ہے جبکہ ظاہری سیاسی خلیفہ کے لیے عوامی رائے درکار ہے۔ باطنی خلیفہ یا امامِ زمانہ کا انتخاب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کی مرضی سے خود فرماتے ہیں اور آج بھی یہی طریقہ ہے۔ بالکل اسی طرح سے ہی میرے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو 21مارچ 2001 کو ان کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ نے منبعِ فقر جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضری کے دوران حکمِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے امانتِ فقر عطا فرمائی اور وراثتِ باطنی، امانتِ الٰہیہ کا روحانی وارث مقرر کیا تاکہ اس سلسلہ کو آگے چلایا جاسکے۔
میرے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے بارے میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ نے فرمایا تھا ’’ہم فقر کا عنوان اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقر کی تفصیل ہوں گے۔‘‘ بیشک آپ مدظلہ الاقدس فقر کی تفصیل بن کر زمانے میں اُبھرے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے تعلیماتِ فقر کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا جس کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے تحریک دعوتِ فقر کے نام سے ایک جماعت بنائی۔ سوشل میڈیا اور بے شمار ویب سائٹس کے ذریعے اس پیغام سے دنیا کو روشناس کروایا۔ تعلیماتِ فقر کے احیا کے لیے نہ صرف خود بہت سی کتب تصنیف فرمائیں بلکہ اپنی نگرانی میں بہت سی کتب کے تراجم شائع کروائے اور اس ورثہ کو تاقیامت طالبانِ مولیٰ کے لیے محفوظ فرمایا۔ اس کے علاوہ فقر کی تعلیمات کے فروغ کے لیے ماہنامہ سلطان الفقر جاری فرمایا جو فقر کا دنیا میں واحد ترجمان ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس نے نہ صرف کتب و ویب سائٹس کے ذریعے بلکہ لوگوں کو دعوتِ حق دینے کے لیے شعبہ دعوت و تبلیغ بھی قائم فرمایا جو ملک بھر میں لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں فقر کی دعوت دے رہا ہے۔۱؂
آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی زندگی فقرِ محمدی کے نام وقف کر دی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا فرمان مبارک ہے کہ جب سے ہمارے مرشد کی طرف سے یہ ڈیوٹی ہمیں ملی ہے ہم اس سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہیں ہوئے۔ اور بے شک آپ مدظلہ الاقدس کے مریدین اور عقیدتمند ان کاوشوں اور محنت کے گواہ ہیں۔
طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے فقرِ محمدی کا فیض حاصل کرنے کے لیے تحریک دعوتِ فقر میں شمولیت اختیار کریں۔
استفادہ کتب:
امیر الکونین تصنیف حضرت سخی سلطان باھُوؒ
عین الفقر تصنیف حضرت سخی سلطان باھُوؒ
السیف الجلی علٰی منکر ولایت علیؓ تصنیف ڈاکٹر طاہر القادری
****

اپنا تبصرہ بھیجیں