مجتبیٰ آخر زمانی Mujtaba Akhar Zamani

Rate this post

مجتبیٰ آخر زمانی
Mujtaba Akhar Zamani

قسط نمبر   2                                                           باب اوّل ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

(تصنیف ِ لطیف: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس)

محمد سرور خان اعوان نے اسی کتاب میں ’’میزان ہاشمی‘‘ کی فارسی عبارت کا ترجمہ بھی درج کیا ہے جس سے قطب شاہ کے حالاتِ زندگی پر کافی روشنی پڑتی ہے:

 نام مبارک عون رحمتہ اللہ علیہ ہے اور عباس بن علیؓ کی اولاد ہیں۔ ان کی زوجہ محترمہ عائشہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غوث الاعظمؓ  کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا کی حقیقی بہن تھیں۔ جناب عونؒ پہلے امامیہ عقائد رکھتے تھے۔ جب ان کا بیٹا گوہر علی پیدا ہوا تو ان کے دل میں شیعہ مذہب کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ انہوں نے ماہر علما سے ان کے بارے میں کافی بحث و تمحیص کی لیکن کہیں سے تسلی نہ ہوئی پھر امامیہ عقائد کے مطابق علمائے شیعہ سے اپنے شکوک و شبہات کو اہلِ سنت کی طرف منسوب کر کے جوابات طلب کیے لیکن ان جوابوں سے ان کی ذہنی پراگندگی اور قلبی خلجان میں اور اضافہ ہوا یہاں تک کہ 471ھ میں ان کی زوجہ کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا کی گود میں حضرت غوث ا لاعظمؓ جلوہ فگن ہوئے۔ ایک دن جناب عون رحمتہ اللہ علیہ  اپنی اہلیہ عائشہ کے ہمراہ ان کی بہن کے گھر کسی کام کی غرض سے گئے تو ان کی نظر حضرت غوث الاعظمؓ  کے جمال پر پڑی تو ان کے دل سے امامیہ عقائد جڑ سے نکل گئے۔ اسی دن اہلِ سنت کے طریقہ پر نماز ادا کی اور ہمیشہ اسی طریقہ پر نماز ادا کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت غوث الاعظمؓ  کی غوثیت کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجنے لگا اور لوگ اطراف و اکناف سے حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہونے لگے۔ جناب عون رحمتہ اللہ علیہ حضرت غوث پاکؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپؓ کی بیعت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے لیکن اس بات کو اپنے ساتھیوں سے پوشیدہ رکھا یہاں تک کہ وہ قطبِ مدار کے درجہ پر فائز ہوئے۔ اپنے بڑے فرزند گوہر علی کو اس راز سے آگاہ کر کے حضرت غوث پاکؓ کی خدمت میں حاضر کیا اور وہ بھی بیعت کے شرف سے مشرف ہوئے۔ کچھ دنوں کے بعد مذہب اہلِ سنت کو اعلانیہ اختیار کرلیا اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ جناب عون رحمتہ اللہ علیہ اور ان کا سارا خاندان شیعت عقائد سے تائب ہو کر غوث پاکؓ  کا حلقہ بگوش بن چکا ہے۔ اب جناب عون رحمتہ اللہ علیہ اپنے تمام اقارب و رشتہ داروں کو ساتھ لے کر بارگاہِ غوثیت میں حاضر ہو گئے۔

حضرت غوث پاکؓ نے بعض کو بغداد میں ٹھہرنے اوربعض کو ہند کی طرف سفر کرنے کا حکم صادر فرمایا چنانچہ حسب ِ ارشاد عون رحمتہ اللہ علیہ اپنے بیٹوں عبید اللہ اور محمد کو لے کر ہندوستان روانہ ہوئے اور کچھ لوگوں کو غوث الاعظمؓ کی خدمت میں چھوڑا۔ عون رحمتہ اللہ علیہ نے چند سال ہندوستان میں قیام کر کے سلسلہ قادری کی خوب اشاعت کی۔ وہ ہند میں قطب شاہ کے لقب سے مشہور ہوئے کیونکہ وہ قطب ِ مدار کے مرتبہ پر فائز تھے۔ اسی وجہ سے حضرت غوث پاکؓ کے مرید انہیں قطب کہتے تھے اور ہندوستانیوں نے اس کے ساتھ لفظ ’’شاہ‘‘ کااضافہ کردیا۔ پھر قطب شاہ حضرت غوث الاعظمؓ کے فرمان پر واپس بغداد پہنچے اور پہنچتے ہی مرضِ اسہال میں مبتلا ہو کر صاحب ِفراش ہوگئے۔ حضرت غوث پاکؓ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے یہاں تک کہ شب جمعہ 3رمضان 506ھ کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ حضرت غوث الاعظمؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ مقبرہ قریش میں مدفون ہوئے۔ تعزیتی رسومات سے فارغ ہو کر ہر کوئی اپنے کاروبار میں لگ گیا۔ اس وقت آپ کے بیٹے گوہر علی کی اولاد سے چار افراد تھے۔ گوہر علی عرف گولڑہ حضرت غوث الاعظمؓ کے فرمان کے مطابق اپنی اولاد کے ہمراہ ہند میں اقامت پذیر ہوگئے۔ ان کی اولاد ابھی تک ہندوستان میں موجود ہے۔ (صفحہ 105۔ 106)

مزید لکھتے ہیں:

ز میزان قطبی، میزان ہاشمی اور خلاصۃ الانساب کے مطابق قطب شاہؒ حضرت عباس عملدار رضی اللہ عنہٗ کی اولاد ہیں،بغداد میں پیدا ہوئے۔ وہاں سے ہند اورہرات کا سفر کیا۔ واپس بغداد پہنچ کر وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ ان کی اولاد آج بھی ہند میں موجود ہے۔ اس نظریے کے برعکس کچھ اعوان تذکرہ نویسوں نے محض سنی سنائی بے سروپا روایات کی بنیاد پر نظریہ قائم کرنے کی کوشش کی کہ اعوان حضرت محمد بن حنفیہؓ کی اولاد ہیں اوراعوان کا لقب انہیں سلطان محمود غزنوی نے فوجی خدمات کے صلہ میں دیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مستند تاریخی کتب سے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا بلکہ داستان گو اورقصہ گو لوگوں کی مبالغہ آمیز باتوں پر اپنے نظریے کی بنیاد رکھی‘‘۔ (وادی سون سکیسر۔ تاریخ، تہذیب، ثقافت) 

ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی ’’پاکستان میں صوفیانہ تحریکیں ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں کہ سیّد قطب شاہ بغدادی غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے خلیفہ ہیں اور انہوں نے براہِ راست سیّدنا غوث الاعظمؓ سے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا۔ پھر مزید تفصیل اس طرح سے تحریر فرماتے ہیں:
حضرت سید عون قطب شاہ علوی بغدادی  رحمتہ اللہ علیہ  کئی ناموں سے مشہور ہیں مثلاً علی، عون، عبد الرحمن، عبد العلی ، ابراہیم، قطب شاہ وغیرہ۔ شجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس طرح ملتا ہے: سید عونؒ بن قاسم بن حمزہ ثانی بن طیار بن قاسم بن علی بن حمزہ الاکبر بن حسن بن عبد اللہ مدنی بن عباس علمدارؓ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔حضرت قطب شاہ mسنہ 419ھ (1028ئ) میں تولد ہوئے اور3 رمضان 552ھ (1161ئ) میں فوت ہوئے اور مقبرہ قریش میں مدفون ہوئے۔ آپ کی اولاد عرب، ایران اور برصغیر پاک و ہند میں کثیر تعداد میں موجود ہے۔ پاکستان میں اعوان خود کو آپ کی اولاد ظاہر کرتے ہیں۔‘‘(صفحہ78)

ہم نے اعوانوں کے تما م شجروں کو درج کردیا ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ حقائق کو سامنے لایا جائے لیکن اس بات کو بھی مد ِنظر رکھیں کہ مناقبِ سلطانی حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی پر اوّلین کتاب ہے جو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ساتویں پشت میں سلطان حامد علیؒ نے تحر یر کی اور اعوانوں کا شجرہ کالاباغ کے رئیسوں کے کتب خانہ کی کسی کتاب سے نقل کیا ہے۔ دوسرا شجرہ نسب جس کو ملک شیرمحمد نے اپنی کتاب ’’تاریخ الاعوان‘‘ میں درج کیا ہے ان کا تعلق بھی کالاباغ سے ہے لیکن یہ دونوں شجرے تحقیق سے خالی ہیں اور محض کتب سے نقل کردیئے گئے ہیں البتہ محمد سرور خان اعوان کاشجرہ تحقیق سے پرُ ہے اور انہوں نے اسے ثابت بھی کیا ہے۔ اہلِ تحقیق کے لیے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔

 اعوانوں کے نسب نامے میں اس الجھاؤ اور اختلاف کے باوجود جو حقائق مصدقہ اورمسلّمہ ہیں وہ یہ ہیں کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ تمام شجروں کا اختتام قطب شاہ  رحمتہ اللہ علیہ  پر ہوتا ہے جن کی شخصیت پر کسی کو اختلاف نہیں۔ اعوان جہاں بھی ہوں اپنا شجرہ نسب میر قطب شاہؒ سے ہی ملاتے ہیں اور اس بات میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔ لیکن جہاں تک حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق ہے وہ نسلی تفاخر کے قائل نہیں اورآپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں کہیں بھی اعوان قوم کی برتری کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کہیں اپنی فضیلت آلِ علیؓ کے حوالے سے بیان کی ہے بلکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فقیری کا تعلق سید یا قریشی یا مشہور ہونے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق اللہ کی معرفت سے ہے، جسے چاہے اللہ عطا فرمائے۔ (نورالہدیٰ خورد)
فقر کسی کی سات پشتی میراث نہیں ہے۔ (عین الفقر)
معرفت ودیدار کا یہ مرتبہ فیض و فضل ِ الٰہی اور بخشش و عطائے الٰہی ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازدیتا ہے۔ درویشی کے ان مراتب کا تعلق حسب و نسب، شہرت یا سیّد و قریشی ہونے سے نہیں بلکہ دردِ دِل، ہمت اور صدق سے ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں) 

حضرت سخی سلطان باھوؒ کے اجداد

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے اجداد وادی سون سکیسر (تحصیل نو شہرہ ضلع خوشاب) کے گائوں انگہ میں رہائش پذیر رہے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ  کے آباؤاجداد کے مزارات اور متعلقہ مقامات کے آثار اب تک انگہ اور اس کے گرد و نواح میں موجود ہیں۔ انگہ کے قبرستان میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  کے دادا حضرت سلطان فتح محمدرحمتہ اللہ علیہ کا مزار ہے۔ اس کے ساتھ ہی سلطان العارفین  رحمتہ اللہ علیہ  کی دادی محترمہ کا مزار مبارک بھی ہے۔ اس قبرستان سے ذرا آگے درمیان میں سڑک ہے اوراس سڑک کے ساتھ ہی پرانا قبرستان ہے جہاں پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے نانا کی تربت مبارک موجود ہے۔

والدین

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے والد ِمحترم کا اسمِ گرامی حضرت سلطان بازید محمد رحمتہ اللہ علیہ تھا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  اپنی کتب کے شروع میں اپنا تعارف جن الفاظ سے کراتے ہیں اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے یعنی ’’تصنیف فقیر باھوؒ ولد بازیدمحمد عرف اعوان‘‘۔

حضرت بازید محمد  رحمتہ اللہ علیہ  پیشہ ور سپاہی تھے اور شاہجہان کے لشکر میں ایک ممتاز عہدے پر فائز تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  صالح، شریعت کے پابند اور حافظ ِقرآن تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے اپنی جوانی لشکر کے ساتھ بسر کی اور تمام جوانی جہاد کی نذرکردی۔

 ڈھلتی عمر میں شاہی دربار چھوڑ کر چپ چاپ واپس اپنے علاقے میں چلے آئے اورایک رشتہ دار ہم کفو خاتون حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا سے نکاح فرمایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  کی اہلیہ بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا عارفہ کاملہ تھیں اورپاکیزگی اورپارسائی میں اپنے خاندان میں معروف تھیں۔ اکثر ذکر اور عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ میں وہ جگہ اب تک معروف و محفوظ ہے جہاں آپ رحمتہ اللہ علیہا ایک پہاڑی کے دامن میں چشمہ کے کنارے ذکر اسمِ اللہ ذات میں محو رہا کرتی تھیں۔ 

سلطان العارفین حضرت سلطان باھو  رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصانیف میں اپنی والدہ محترمہ سے عقیدت و محبت کا بارہا اظہار فرماتے ہیں ’’ مائی راستی صاحبہ (رحمتہ اللہ علیہا )کی روح پر اللہ تعالیٰ کی صدبار رحمت ہو کہ انہوں نے میرا نام باھوؒؒ رکھا۔‘‘ آپ  رحمتہ اللہ علیہ  عین الفقر میں فرماتے ہیں:

راستیؒ از راستی آراستی
رحمت و غفران بود بر راستی

ترجمہ: حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا سچائی سے آراستہ ہیں ۔ یااللہ! تو حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا پر رحمت نازل فرما اور ان کی مغفرت فرما۔ 

آپ رحمتہ اللہ علیہ  کی والدہ کا پایہ فقر میں بہت بلند تھا۔ اور اپنے بچے کا نام باھوؒؒ رکھا تو اس بنا پر کہ وہ فنا فی ھوُ کے مرتبہ پرتھیں اور آپ رحمتہ اللہ علیہا کو بارگاہِ حق تعالیٰ سے سلطان العارفین حضرت سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ  کی ولادت اور بلند مرتبہ کی اطلاع مل چکی تھی اس لیے آپ رحمتہ اللہ علیہا نے حکم ِ الٰہی کے تابع آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نام باھوؒ رکھا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ  رحمتہ اللہ علیہ کی ابتدائی تربیت بی بی رحمتہ اللہ علیہا نے کی اورآپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی والدہ سے ہی ابتدائی باطنی تربیت بھی حاصل کی۔

محک الفقر(کلاں) میں آپ  رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
میری والدہ کو ایسا ذکر حاصل تھا کہ آنکھوں سے خون نکلتا تھا۔ یہ حال مجھ پر بھی وارد ہوا۔ اس کو ’حضور ِحق‘ کہتے ہیں۔

حضرت سلطان بازید محمد  رحمتہ اللہ علیہ  نکاح کے بعد جب اپنی اہلیہ محترمہ حضرت بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کے ساتھ رہنے لگے تو ان کی پارسائی اور عبادت گزاری سے بہت متاثر ہوئے۔ اب وہ خود عمر کے اس مرحلے پرتھے جب آدمی اپنے اندر تجزیے میں مصروف ہوتا ہے کہ زندگی میں کیا کھویا، کیا پایا۔ کچھ فیضِ ازلی نے آپ کو متوجہ کیا تو آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے دنیا ترک کردی اورطے کیا کہ آئندہ اسبابِ دنیاداری سے الگ رہ کر وہ بھی صرف یادِ خدا میں زندگی بسر کریں گے۔ دل میں یہ قصد لے کر ایک دن آپ رحمتہ اللہ علیہ کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور ملتان پہنچے۔ چونکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ  فوج چھوڑ کر گئے تھے اور سلطنتِ دہلی سے آپ رحمتہ اللہ علیہ  کا حلیہ مشتہر کیا جا چکا تھا اس لیے سرکاری اہلکار آپ رحمتہ اللہ علیہ  کی تلاش میں تھے۔ ملتان میں آپ رحمتہ اللہ علیہ  پہچان لیے گئے اورحاکمِ ملتان کے سامنے پیش کیے گئے۔ جب ملتان کے حاکم نے حضرت بازید محمد رحمتہ اللہ علیہ  کا چہرہ مبارک، لباس، آلاتِ جنگ اور سواری کی گھوڑی (شیہن) دیکھی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ سے بہت متاثر ہوا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ  کا دو روپیہ یومیہ وظیفہ مقرر کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  ملتان میں ایک مکان کے اندرتنہائی میں یادِ الٰہی میں مشغول ہو گئے اور بالآخر ولی اللہ اوربارگاہِ الٰہی کے مقبول بندے ہوئے۔

’’پس جس شخص کو ہادی مطلق ظاہری وسیلہ (یعنی سبب) کے بغیر خود فیض و فضل سے اپنے قرب کی طرف کھینچ لے اسے مجاہدات کی کیا ضرورت ہے اور وہاں دیر ہی کیا ہے۔ اس راہ میں عقل کا گھوڑا لنگڑا ہے۔ یہ فضلِ الٰہی ہے جسے چاہے عنایت کردے اور اللہ تعالیٰ صاحب ِفضل ِعظیم ہے۔‘‘(فرمانِ غوث الاعظمؓ)

آپ رحمتہ اللہ علیہ  کے ملتان میں قیام کے دوران حاکمِ ملتان اور راجہ مروٹ کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ چونکہ آپ  رحمتہ اللہ علیہ  تنہا ملازم تھے اس لیے اس خدمت کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ  کو کسی نے یاد نہیں کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ خود بخود گھوڑی پر ضروری اسباب باندھ کر اور ہتھیار لگا کر ملتان کے حاکم کی خدمت میں پہنچے اور کارِخدمت کی درخواست کی۔ حاکم نے پوچھا ’’آپ رحمتہ اللہ علیہ  لشکر میں کس برادری کے جتھہ میں شریک ہو کر جنگ کریں گے؟‘‘عرض کیا ’’چونکہ میں اکیلا تنخواہ کھاتا رہا ہوں اب جو کچھ مجھ سے ہوگا اکیلا ہی خدمت کروں گا‘‘۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی یہ بات سن کر دربار کے تمام امرا مسکرا دیئے۔ حاکم نے کہا ’’کوئی مضائقہ نہیں جس طرح یہ مرد کہے اسی طرح کرنا چاہیے۔ ‘‘پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کی ’’ایک شخص راستہ کا واقف اور ایک تصویر راجہ مروٹ کی عنایت ہو۔‘‘ چنانچہ دونوں چیزیں مہیا کردی گئیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سلام کر کے روانہ ہوئے اور جب قلعہ مروٹ کے قریب پہنچے تو ساتھی کو رخصت کیا اور خود شہر کی راہ لی اور ایک ہی چھلانگ میں آپ  رحمتہ اللہ علیہ کی گھوڑی قلعہ کی فصیل پار کر گئی۔ قدرت دیکھیے کہ آپ  رحمتہ اللہ علیہ سیدھے راجہ مروٹ کی کچہری میں جا ٹھہرے اور سب درباریوں کی موجودگی میں راجہ کا سر کاٹ کر قربوس سے لٹکے ہوئے توبڑہ میں رکھ لیا۔ اس اچانک افتاد سے تمام درباریوں پر حالتِ سکتہ طاری ہوگئی اور کسی کو آپؒ کی طرف بڑھنے کی جرأت نہ ہوئی۔ شہر کے تمام دروازے بند کردیئے گئے تاکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرار نہ ہو سکیں لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ  کی شیہن گھوڑی پھرایک ہی چھلانگ میں قلعے کی فصیل پھلانگ گئی۔

 حضرت بازید محمد  رحمتہ اللہ علیہ  جب ملتان کے حاکم کے دربار میں راجہ مروٹ کا سر اکیلے لے کر داخل ہوئے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی یہ کرامت دیکھ کر حاکم حیران رہ گیا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کے اس کارنامے کی شہرت جب دہلی کے دربار تک پہنچی تو پہچان لیے گئے اور شاہجہان نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو واپس بلوایا۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے معذرت کی اور کہا کہ باقی عمر یاد ِخدا میں بسر کرنا چاہتا ہوں۔ لہٰذا ان کی سابقہ خدمات کے پیشِ نظر یہ درخواست نہ صرف منظور ہوئی بلکہ شور کوٹ کی جاگیر بھی انہیں عطا ہوئی جس کا رقبہ 25ہزار ایکڑ زمین پر مشتمل تھا۔ آپ  رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ انگہ کو چھوڑ کر شورکوٹ میں رہائش اختیار کرلی۔ تاریخ میں حضرت بازید محمد رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت بی بی ر استی رحمتہ اللہ علیہا کے درست سن ِ وفات کا تذکرہ نہیں ملتا۔ مناقب ِ سلطانی سے بس اتنا معلوم ہوا ہے کہ حضرت بازید محمد رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔ لیکن مائی صاحبہ رحمتہ اللہ علیہا اس وقت بھی زندہ تھیں جب سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو  رحمتہ اللہ علیہ کی عمر مبارک 40سال تھی۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  کے والدین کے مزار مبارک شورکوٹ شہر میں ہیں اور مزار مبارک مائی باپ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ  کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  کے والدین کے مزارات، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، شور کوٹ ضلع جھنگ میں ہی ہیں لیکن مناقبِ سلطانی میں ایک سہو کی وجہ سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو  رحمتہ اللہ علیہ  کی والدہ محترمہ بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کے مزارکی جگہ کے بارے میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ صاحب ِ مناقب ِ سلطانی کے نزدیک بی بی راستی رحمتہ اللہ علیہا کا مزار مبارک ملتان میں ہے نہ کہ شور کوٹ میں۔ سلطان حامد تحریر کرتے ہیں ’’جناب (سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ) کے والد بزرگوار کا مزار قصبہ شور کوٹ میں ہے جو آنحضرت کی جائے پیدائش ہے۔قصبہ مذکورہ کے شمال مغربی گوشہ میں قریشی صاحبان کی مسجد کے صحن میں شیخ طلحہ قریشی کی قبر کے پاس مزار اور خانقاہ ہے۔ جناب کی والدہ ماجدہ کے مزار کے بارے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ یہیں مسجد میں جو دو مزار ہیں آنحضرت کے والدین کے مزار مبارک ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ملتان کے گردو نواح میں لطف آباد کے قریب بی بی پور کے سادات عظام کے قبرستان میں ہے جو کہ رانواں کلاں نامی گاؤں میں ہے جو سلطنتِ دہلی کی طرف سے آنحضرت کے والد کو بطور جاگیر ملا تھا اور بودوباش بی بی پور مذکورہ میں نیک لوگوں، شریفوں اور سادات عظام کے پڑوس میں اختیار کی تھی وہیں وفات پائی اور سادات شریف کے مقبروں کے پاس جگہ پائی۔‘‘(مناقب ِ سلطانی۔ بابِ اوّل۔ فصل دوم)

(جاری ہے)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں