بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین) Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

Rate this post

بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)   
Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen

قسط نمبر   20                                                                     مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

تمام سلاسل حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہیں
فرمایا: تمام سلاسل حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہیں۔ صرف سلسلہ نقشبندیہ حضرت ابوبکرؓ سے چلا پھر ان سے محمد بن ابی بکرؓ۔ اور محمد بن ابی بکر ؓ بہت عرصہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی صحبت میں رہے اور ان سے فیض یاب ہوئے۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو تمام سلاسل حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہی ہیں۔

حضرت عثمانؓ کے دور ِخلافت میں سازشیں

کسی نے پوچھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے دور میں سازشیں کب اور کیوں شروع ہوئیں؟

فرمایا: حضرت عمر ؓکے دور میں سازشیں شروع ہوگئی تھیں اور اس کے بارے میں آپؓ نے خاص صحابہؓ کو بتا دیا تھا کہ یہ آپ کو تنگ کریں گے۔حضرت عثمانؓ کے دور میں مال بہت زیادہ ہوگیا تھا،اتنا ہوگیا تھا کہ حضرت ابوہریرہ ؓجیسے صحابی کے پاس 100گھوڑے تھے۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آپ ؓنرم مزاج بھی تھے۔

آزمائش

فرمایا: آزمائش کا ادراک نہ ہونا بھی فتنہ ہے۔ طالب کی تو ہر لمحہ آزمائش ہوتی ہے۔ طالب رہتا ہی آزمائش میں ہے بشرطیکہ وہ طالب ہو۔ اگر طالبعلم کو یہ ہی نہ پتا ہو کہ اس کا امتحان ہے تووہ کیسے پاس کرے گا!

رزق

کسی نے پوچھا کہ اللہ سب کو وافر رزق کیوں نہیں دے دیتا کہ کوئی غریب ہی نہ ہو؟فرمایا: اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے:
٭ وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ (سورۃ الشوریٰ ۔27)
ترجمہ: اوراگر اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کے لیے روزی کشادہ کر دیتا تو وہ ضرورزمین میں فساد برپا کر دیتے۔

یہ ظاہری رزق کے ساتھ ساتھ باطنی رزق کے متعلق بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
٭ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ (سورۃ البقرۃ۔253)
ترجمہ: ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ 

ناصبی کون ہیں؟

کسی نے پوچھا ناصبی کون ہیں؟فرمایا: جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان کو (معاذاللہ) کم کرنے کی کوشش کریں اور اس کو دین کا حصہ سمجھیں۔ اسی طرح رافضی وہ ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کریں اور اس کو دین کا حصہ سمجھیں۔ 

فرمایا: اسی طرح لوگ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ نے جو معاہدہ کیا اس میں صرف وظیفہ کی بات کرتے ہیں حالانکہ پورا معاہدہ پڑھ کر دیکھیں۔ یہ تو معمولی سی بات تھی۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کے معاہدہ کی ایک وجہ یہ تھی کہ کوفی جرنیل ساتھ دینے سے انکاری ہو گئے تھے۔

مزید فرمایا جو لوگ یہ حرکتیں کرتے ہیں یعنی الزامات لگاتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ اگر کوئی صاحب ِعلم ان کے سامنے آ جائے تو بھاگ جاتے ہیں۔ 

دھوکہ باز کوفی

کوفیوں کے متعلق فرمایا کہ ان کی دھوکہ بازی مشہور ہے۔ انسان کو کھڑا کر کے مشکل وقت میں چپکے سے بھاگ جاتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی دغا کیا، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے بھی اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ سے بھی۔ 

حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ کی آل پاک نے بہت کارنامے سر انجام دیے لیکن تاریخ میں ان کا ذکر کم ملتا ہے۔ اسی طرح جید صحابہ کرامؓ کا ذکر بھی تاریخ میں کم ملتا ہے۔ 

مرشد کے پکارنے کی برکت

آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: حضرت معروف کرخیؒ ابتدائے سلوک میں حضرت امام علی الرضا رضی اللہ عنہٗ کے پاس آئے۔ ان کے دروازہ مبارک پر کھڑے رہتے اور لوگوں کو آپ رضی اللہ عنہٗ سے ملاتے۔ ایک دفعہ مامون الرشید آیا اور حضرت معروف کرخیؒ سے کہا کہ حضرت امام علی الرضاؓ سے عرض کریں کہ میں نے سمندری سفر پر جانا ہے لیکن مجھے سمندر سے ڈر لگتا ہے اس لیے کوئی وظیفہ عنایت فرمائیں۔ 

حضرت معروف کرخیؒ اندر گئے۔ حضرت امام علی الرضا رضی اللہ عنہٗ نے ایک پرچی پر کچھ لکھ کر دے دیا۔ حضرت معروف کرخیؒ نے باہر آ کر وہ پرچی مامون الرشید کے حوالے کر دی۔ وہ بحری سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں طوفان آ گیا۔ اس نے پرچی نکالی تا کہ وظیفہ شروع کرے۔ پرچی کھولی تو اندر صرف ’’معروف کرخی‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اسے بہت دکھ ہوا کہ میں نے تو وظیفہ مانگا تھا اور مجھے یہ دیا گیا۔ اس نے پرچی پانی میں پھینک دی۔ جیسے ہی پھینکی تو طوفان تھم گیا۔ وہ بہت حیران ہوا۔ واپسی پر دوبارہ حضرت معروف کرخیؒ کے پاس آیا اور معاملہ بیان کیا اور استفسار کیا کہ آپؒ کا کب سے اتنا مقام ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرا کوئی کمال نہیں بلکہ حضرت امام علی الرضا رضی اللہ عنہٗ ہر روز کئی بار مجھے نام سے پکارتے ہیں جس کی برکت سے نام میں تاثیر آئی۔

اللہ کے عاشق

جو اللہ کے عاشق ہوتے ہیں وہ اپنا سب کچھ یہاں تک کہ اپنا گھر بار بھی اللہ کی راہ میں قربان کر دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں یہی دائمی کامیابی اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کا راز ہے۔ جیساکہ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:
٭ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ  (سورۃ آلِ عمران۔92)
ترجمہ:تم اس وقت تک اللہ کو نہیں پا سکتے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز قربان نہ کردو۔ 

دائمی سکون

جو طالب ِمولیٰ ہوتا ہے اسے سکو ن صرف مرشد کامل اکمل کے دَر پر آتا ہے کیونکہ وہی وصالِ الٰہی کی کنجی ہوتا ہے۔ طالب ِمولیٰ تب تک چین نہیں لیتا جب تک وصالِ الٰہی حاصل نہ ہو جائے۔ کیونکہ وصالِ الٰہی کے بغیر سب کچھ محض قصے اور کہانیاں ہیں۔

عالم اور صوفی

کسی نے پوچھا صوفی اور عالم میں کیا فرق ہے؟ فرمایا:جب ہم میٹرک میں تھے تو پڑھایا جاتا تھا کہ Chlorine  کی Smell سے انسان بیہوش ہو جاتا ہے اور یہ اِس اِس طرح بنتی ہے۔پھر ہمیں وہ لیب میں لے جاتے تھے اور تجربہ کر کے دکھاتے تھے۔بالکل اسی طرح صوفی جو علم سیکھتا ہے پہلے اس کا تجربہ کرتا ہے، اس میں سے گزرتا ہے۔

عالم ایک چیز کو جب رٹا لگا لیتا ہے تو اسے اگلا سبق مل جاتا ہے کہ اب وہ یاد کرو لیکن مرشد جب طالب کو کوئی چیز سکھا رہا ہوتا ہے تو عالم کی طرح نہیں کرتا بلکہ جب تک صوفی اندر سے اس چیز میں مکمل نہیں ہو جاتا، اس میں سے کامیابی سے گزر نہیں جاتا، مرشد اسے اگلا سبق یا منزل عطا نہیں کرتا مثلاً اگر وہ صبر کے متعلق سیکھتا ہے تو پہلے صبر میں سے گزرے گا پھر مرشد اگلا سبق عطا کرے گا۔ 

دوجنتیں

کسی نے پوچھا: اللہ فرماتا ہے ’’جو میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں‘‘ اس میں کونسی دو جنتیں مراد ہیں؟

فرمایا: اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے کہ انسان عاجزی میں رہے، ہر چیز پر صبر و شکر سے کام لیتا ہے تو وہ سکون میں رہتا ہے، اللہ اس کے لیے ادھر ہی جنت بنا دیتا ہے اور آگے بھی اس کے لیے جنت ہے۔ ہمارے مرشد(سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ) کے ایک خدمتگار تھے، ان کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ہمارے مرشد کو انسولین لگاتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم صبح اٹھتے ہیں، انجیکشن لگاتے ہیں، ناشتہ کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ پھر دوپہر کو انجیکشن لگاتے ہیں، کھانا کھاتے اور سو جاتے ہیں۔ پھر رات کو انجیکشن لگاتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ جب سو سو کر تھک جاتے ہو پھر کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ پھر کھانا کھاتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ تو یہ دنیا ان کے لیے جنت ہی تھی۔ 

فقیری

فرمایا: ابھی سے اللہ کی راہ میں قربانی دیں، دن رات اللہ کا کام کر کے فقیری جلدی کما لیں تاکہ بڑھاپے میں سکون سے بیٹھ جاؤ۔ اگر ابھی یہ راہ نہیں چلو گے تو بڑھاپے میں چلنا پڑے گی جو زیادہ مشکل ہو گا۔ 

فقیر کے لیے اللہ کی زمین

فرمایا: جب فقیرکے لیے گھر میں سونا اور خانقاہ میں سونا ایک برابر ہو جائے تو اس کے لیے ہر جگہ اللہ کی زمین ہوتی ہے۔ فقیر ہر جگہ کو اللہ کی زمین سمجھتا ہے، اس کے لیے گھر میں سونا اور خانقاہ میں سونا ایک جیسا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہر قسم کا کھانا ایک جیسا ہوتا ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا دال ہو یا گوشت ہو۔

خوفِ خدا

فرمایا: ایک مرتبہ حضرت دائود طائی رحمتہ اللہ علیہ نے حاضر خدمت ہو کر حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ آپ چونکہ اہل ِبیت رضی اللہ عنہم میں سے ہیں اس لئے مجھ کو کوئی نصیحت فرمائیں۔ لیکن آپ خاموش رہے اور جب دوبارہ حضرت دائود طائی رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کی کہ اہل ِبیت رضی اللہ عنہم ہونے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو فضیلت بخشی ہے اس لحاظ سے نصیحت کرنا آپ کے لئے لازم ہے۔ یہ سن کر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: مجھے یہی تو خوف لگا ہوا ہے کہ قیامت کے دن میرے جد ِاعلیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہاتھ پکڑ کر یہ سوال نہ کر دیں کہ تو نے خود میری اتباع کیوں نہیں کی؟ یہ سن کر حضرت دائود طائی رحمتہ اللہ علیہ کو بہت عبرت ہوئی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ جب اہل ِبیت رضی اللہ عنہم پر خوف کے غلبہ کا یہ عالم ہے تو میں کس گنتی میں آتا ہوں اور کسی چیز پر فخر کر سکتا ہوں۔ 

مرشد کی خاموشی

فرمایا: حضرت مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ جس کو مرشد کی خاموشی فائدہ نہیں دیتی اس کو مرشد کا کلام بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہمارے مرشد بھی خاموش رہتے تھے۔ ہم نے بھی ان کی خاموشی سے فیض حاصل کیا۔ مرشد باطن کی تربیت کرتا ہے جس کا زبان سے تعلق نہیں۔ 

خلافت و ملوکیت

مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت کتاب لکھی ہے۔ اس نے اسلام کا سیاسی رُخ پیش کیا ہے۔ اسی وجہ سے آج تک اس پر کفر کے فتوے لگتے ہیں۔ پاکستان کے دو لوگوں کو دنیا مانتی ہے اور ان دونوں پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں قائداعظم اور مولانامودودی۔ 

اولیا کا انکار نہ کریں

علم کے متعلق فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم علم کا شہر ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ علم کا دروازہ ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ شہید ہو گئے تو حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا ’’علم کے دس حصوں میں سے 9 حصے اس دن چلے گئے جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ اس دنیا سے وصال فرما گئے۔‘‘

باقی علم کتنا علم بچا ہو گا؟

اللہ پاک فرماتا ہے:
٭ وَ مَا اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا   (سورۃ الاسرا۔85)
ترجمہ: تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
اس تھوڑے سے علم کے ہوتے ہوئے اولیائے کاملین کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ 

جعلی پیر

جعلی پیروں نے پیرانِ حق کو بدنام کیا ہے۔ لوگ خالص لوگوں کو بھی جعلی پر محمول کر لیتے ہیں۔جدھر اصل ہوتا ہے وہیں نقل تیار ہوتی ہے۔ نقل کا مقصد پیسے کمانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رزق مقرر کر دیا ہے، طریقہ حلال یا حرام میں آزادی ہے۔ جعلی پیر غلط طریقے سے روزی کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔

مشن

(7دسمبر 2024ئ) فرمایا:ہماری زندگی کا مشن تھا کہ ہم اپنے مرشد کا مقام دنیا پر ظاہر کریں کہ وہ سلطان الفقر ششم ہیں۔ آج ہر بندہ ان کو سلطان الفقر ششم مانتا ہے۔

مرکزِ فقر

 (22 جنوری 2023ئ) : اللہ تعالیٰ نے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کرم نوازی سے ہمیں اس بلند مرتبہ تک پہنچایا ہے کہ طویل عرصہ تک کوئی اس مرتبہ پر نہیں پہنچ سکے گا۔سلسلہ کے امام آتے رہیں گے اسم ِاللہ ذات کے ذریعے طالبانِ مولیٰ کو ان کی پہچان بھی نصیب ہوگی لیکن اللہ کے احکامات کے لیے ان کا روحانی مرکز ہمارا مزار ہوگا۔ ہمارا دربار دنیاداروں کے لیے نہیںبلکہ روحانی لوگوں کے لیے فقر کا مرکز ہوگا یعنی طالبانِ مولیٰ کے لیے۔

امانت کس کو منتقل ہوتی ہے؟

(20 فروری 2023ئ) فرمایا: جس کو امانت منتقل ہوتی ہے وہ اپنی جان چھڑوانا چاہتا ہے۔جب ہم حج کے لیے گئے تو ہمارے مرشد کریم سلطان الفقر ششمؒ صرف ایک ہی بات بار بار بہت شدت سے فرمارہے تھے کہ مدینہ کب جانا ہے اور حج کی ادائیگی سے پہلے ہی فرمانے لگ پڑے۔ہم نے عرض کی کہ حضور حج ادا کریں گے تو جائیں گے۔

 اس کے باوجود آپؒ مسلسل فرماتے رہے اور آپؒ کی طبیعت اتنی سخت خراب تھی کہ کھانسی کے ساتھ بلیڈنگ شروع ہو گئی۔پراسٹیٹ گلینڈ بڑھا ہوا تھا لیکن جب امانت منتقل فرمائی تو یوں لگتا تھا بالکل جوان ہوگئے اور کوئی بیماری نہ رہی۔

سیدنا غوث الاعظمؓ کے مریدین

حضور غوث پاکؓ کے بھی ارادت مند بہت زیادہ تھے لیکن مریدین  بہت کم تھے۔ایک قول حضور غوث پاک ؓ کا نقل کیا جاتا ہے کہ آپؓ نے فرمایا’’ ہمیں زندگی میں اصلی مرید پانچ سو ہی ملے۔‘‘

ہمارے بھی زیادہ مریدین نہیں ہیں لیکن آنے والی نسلیں ہمارے مریدین پر فخر کریں گی کہ وہ سلطان العاشقین کے مرید تھے۔ہمارا دربار دنیاداروں کے لیے نہیں بلکہ روحانی لوگوں کے لیے فقر کا مرکز ہوگا یعنی طالبانِ مولیٰ کے لیے۔

معافی کا طلبگار

(2 مارچ 2020)فرمایا: غلطی پراگر کوئی معافی کا طلب گار ہو تو اللہ پاک سے بہترین معاف کرنے والا تم کسی کو نہ پاؤ گے۔ اپنی ڈیوٹیاں دھیان سے کرو اور ہماری معمولی سی بات بھی دھیان سے سنا کرو اور اس پر غور کیا کرو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال نہ دیا کرو۔

خلیفہ اصغر و اکبر

(7اپریل 2020) فرمایا: تصوف میں کسی بھی سلسلہ کے سربراہ کے خلفاہوتے ہیں ان میں صرف ایک خلیفہ اکبر ہوتاہے اور اسے مرشد کے وصال کے بعد اللہ پاک ظاہر کرتاہے۔ کبھی کبھی تو ظاہر ہونے میں پانچ سال تک لگ جاتے ہیں اور باقی خلفاکو خلفااصغر کہا جاتا ہے۔ ان کی تعداد مقررنہیں، ایک بھی ہو سکتا ہے اور ہزار بھی۔ جیسے حضور غوث پاک کے پانچ ہزار یا لا تعداد کہا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں