مومنین کی صفت بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Momnin Ki Sifat Biniyan Marsoos

Rate this post

مومنین کی صفت  بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ
Momnin Ki Sifat Biniyan Marsoos

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری

سچے مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کی واحدانیت کا صرف اقرار باللسان نہیں کرتا بلکہ تصدیق ِقلب کے ساتھ اللہ کو ایک مانتا ہے اور باطل کے خلاف ڈٹ جاتا ہے۔ حقیقی مومن وہ ہے جو نفسانی و دنیاوی خواہشات کو باطل سمجھے، روحانی طور پر اللہ کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کر ے اور ظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف قوی ہو جائے۔ قرآنِ کریم میں جا بجا مومنین کی صفات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے ایک ’’بُنیَانٌ مَّرْصُوْصٌ‘‘ ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃالصف کی آیت نمبر 2تا4 میں ارشاد ہوا ہے :
 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ٭ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ٭  اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ ٭  (سورۃ الصف۔ 2-4)
ترجمہ: اے ایمان والو ! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔ اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو( ظلم کے خاتمے اور حق کی مدد کے لیے ) اس کی راہ میں (یوں ) صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں ۔  

سیاق و سباق :

اس آیت کا سیاق و سباق یہ ہے کہ حضرت ابن ِعباس ؓ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوںنے جہاد کی فرضیت سے پہلے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اللہ تعالیٰ وہ عمل بتاتا جو اسے سب سے زیادہ پسندیدہ ہے تا کہ ہم اس پر عامل ہوتے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو خبر کی کہ سب سے زیادہ پسندیدہ عمل میرے نزدیک ایمان ہے جو شک و شبہ سے پاک ہو اور بے ایمانوں کے خلاف مضبوطی سے ڈٹ کر جہاد کرنا ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک قرآنِ کریم کی یہ آیت ’’اے ایمان والوں ! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو‘‘ تب نازل ہوئی جب اُحد والے دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ (تفسیر ابن ِکثیر ، جلد ۵)   

یعنی یہ مومن کی صفت ہے کہ وہ اپنے وعدہ سے پیچھے نہیں ہٹتا اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات کے پہاڑ بھی آجائیں تب بھی وہ سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کے خلاف جہاد کرتا ہے۔ اور اللہ ایسے ہی مومنوں کو پسند فرماتا ہے۔ا س کے برعکس منافق کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں تضاد کرتاہے اورآزمائش کے وقت بھاگ جاتا ہے۔

موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس ضمن میں فرماتے ہیں :
 مومن کبھی جنگ کی خواہش نہیں کرتا لیکن جب اس پر مسلط کردی جائے تو وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا ہے ۔ ایک بار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا تھا:
دشمن کے ساتھ جنگ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت کی دعا کرو۔ البتہ جب دشمن سے مقابلہ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو۔ (بخاری۔ 2966) 

’’بُنیَانٌ مَّرْصُوْص‘‘کی اصطلاح

الرص کے معنی تعمیر کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوست اور مستحکم کرنے کے ہیں۔ ابن ِعباسؓ کہتے ہیں کہ پتھر کو پتھر پر رکھ کر پتھریاں اور روڑیاں ملا کر گارا ڈالنے کو اہل ِمکہ رصاص کہتے ہیں۔امام راغب ؒ ’بنیان مرصوص‘ کے معنی مستحکم کے لیتے ہیں، یہ کنایہ ہے جنگ میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر چلنے کا۔( کمالین ترجمہ و شرح تفسیر جلالین ، جلد ششم )

’’بنیان مرصوص‘‘ دو عربی الفاظ کا مجموعہ ہے۔ بنیان کا مطلب عمارت، مکان یا تعمیر ہے۔ یہ لفظ ’’بنا‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب بنیاد یا جڑ ہے۔ مرصوص عربی زبان میں سیسہ پلائی ہوئی، مضبوطی سے جڑی ہوئی یا باہم پیوست ہونے کو کہتے ہیں۔ان دونوں الفاظ کو  قرآنِ مجید کی اصطلاح میں دیکھیں تو اس سے مراد ــ’’سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘‘ ہے یعنی ایسا ناقابل ِ شکست اور آہنی اتحاد جو دشمن کے سامنے متزلزل نہ ہو اور ایک مضبوط دیوار کی طرح ڈٹ جائے۔ 

احادیث کی روشنی میں : 

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے پسند فرماتاہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبر کرے، ثواب کی نیت سے مجاہدین کے ہمراہ جہاد میں شریک ہو پھر دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ لڑتا رہے حتیٰ کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور یہ بیان قرآنِ کریم میں موجود ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی :
’’بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی (سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں )‘‘۔(المستدرک ۔2446)

دشمنوں کے خلاف لڑنے کو جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنی تصنیف ’’ الجہاد الاکبر‘‘میں فرماتے ہیں:
٭ جہاد و مجاہدہ کا معنی ہے دشمن سے مدافعت کرتے ہوئے اپنی قوت و طاقت اور صلاحیت کو استعمال کرنا۔ جہاد کی تین اقسام ہیں: ظاہری دشمن کے خلاف جہاد، شیطان کے خلاف جہاد اور نفس کے خلاف جہاد۔ یہ تینوں اقسام ارشادِ ربّانی میں شامل ہیں:
٭ وَجَا ھِدُوْا  فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ (سورۃ الحج ۔ 78)
ترجمہ: اور (خاتمہ ٔ ظلم، قیام ِ امن اور تکریم ِانسانیت کے لیے) اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔

٭ وَجَاھِدُوْا بِاَمْوَالَکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ  (سورۃ التوبہ ۔ 41)
ترجمہ :اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو ۔

٭ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (سورۃ الانفال۔ 72)
ترجمہ: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :
٭ اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرو جس طرح تم اپنے دشمن کے خلاف جہاد کرتے ہو۔( الجہاد فی الاکبر)
٭ حضرت جابررضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں: رسولؐ اللہ کے پاس غازیوں کی ایک جماعت حاضر ہوئی ۔ آپؐ نے فرمایا ’’تمہیں جہاد ِاصغر (جہاد بالسیف ) سے جہادِ اکبر (جہاد بالنفس )کی طرف لوٹ کر آنا مبارک ہو۔ عرض کیا گیا: جہادِ اکبر کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: انسان کا اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد کرناجہادِ اکبر ہے ‘‘۔

تعلیماتِ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی روشنی میں  

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنی تصانیف میں طالبانِ مولیٰ کو تلقین کرتے ہیں کہ طالب ِمولیٰ وہ ہے جو دشمنوں کے خلاف جنگ لڑتا ہے۔ ا س کے دشمن کون ہیں؟ نفس، دنیا اور شیطان۔ یہ تین ایسے دشمن ہیں جو ہر طرح کے حیلہ و حجت سے کام لیتے ہوئے طالب کو حق کی راہ سے گمراہ کرتے ہیں ۔ آپؒ فرماتے ہیں :
٭ نفس کیا ہے ؟ شیطان کیا ہے اور دنیا کیا ہے ؟نفس بادشاہ ہے، شیطان اس کا وزیر ہے اور دنیا دونوں کی ماںہے جو ان کی پرورش کرتی ہے ۔ (عین الفقر )

آپؒ مزیدفرماتے ہیں:

باھوؒ! نفس را سگ گفت سگ بانی مکن
تابع شیطان شیطانی مکن 

ترجمہ: اے باھوؒ ! نفس کو کتا کہا گیا ہے ۔ اس کتے کو مت پال اور شیطان کے تابع ہو کر شیطانی نہ کر ۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ :
٭ اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ج اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (سورۃ یٰسین ۔ 60)
ترجمہ:اے بنی آدم! کیا میں نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی پرستش نہ کرنا، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

طالبِ مولیٰ کو چاہیے کہ دن رات ہر وقت، ہر لمحہ نفس کی مخالفت کرے اور کسی بھی وقت نفس سے غافل نہ رہے کیونکہ نفس کافر ہے۔ نیند ہو یا بیداری، مستی ہو یا ہشیاری، ہر حال میں اس نفس سے دشمنی اور جنگ جاری رکھے کہ یہ جان کے اندر چھپا ہوا چور اور دشمن ہے اور راہِ (حق) کا رہزن اور نقصان پہنچانے والا ہے۔ اس کی طرف سے کبھی مطمئن نہ ہو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:’’ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آتے ہیں ‘‘۔ (عین الفقر)

نفس کی مخالفت سے مراد نفسانی خواہشات یا خصائل ِبد کی مخالفت ہے جیسا کہ حسد، کینہ، تکبر، چوری، شہوت، کثرتِ مال کی خواہش وغیرہ۔ طالب ِمولیٰ کو جہاں نفس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر لڑنا پڑتا ہے وہاں ایک اور دشمن بھی ہے اور وہ دنیا ہے ۔ دنیا سے مراد ’’ خواہشاتِ دنیا ‘‘ ہے۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف ِمبارکہ ’’شمس الفقرا ‘‘ میں ’’دنیا‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں :
٭ ہر وہ چیز دنیا ہے جو اللہ کی یاد سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول یا متوجہ کر لے۔ (شمس الفقرا)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کی محبت کو طالب ِمولیٰ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے :
٭ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑہے ۔(مشکوٰۃ۔5212)
٭ دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب ملعون ہے سوائے ذکر اللہ کے۔(ابن ِماجہ ۔4112)

راہِ فقر میں جہاں دنیا وی خواہشات کو زیر کرنا پڑتا ہے وہاں طالب دنیا بھی طالب ِمولیٰ کی راہ کا کانٹا ہوتے ہیں بلکہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ ان کے لیے ’’راہزن‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا مقصد طالبِ مولیٰ کو ان کی منزل پر پہنچنے سے روکنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں سورۃالناس میں شیطان کے وسوسوں اور طالب ِدنیا جو دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں ان سے پناہ مانگی گئی ہے ۔ارشاد ہوا ہے :
٭ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ لا الْخَنَّاسِ ٭ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ٭لا مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ٭ (سورۃالناس ۔ 4تا 6)
ترجمہ: وسوسہ انداز (شیطان ) کے شر سے جو (اللہ کے ذکر کے اثر سے ) پیچھے ہٹ کر چھپ جانے والا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ خواہ وہ (وسوسہ انداز شیطان ) جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

قربِ دیدار میں حضرت سخی سلطان باھوؒ ایسے طالبوں کے متعلق فرماتے ہیں :
٭ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ موجودہ دور میں کوئی بھی ولی ٔکامل ایسا نہیں جو دست ِبیعت اور تلقین و ارشاد کے لائق ہو تو سمجھ لو یہ شیطانی حیلہ اور نفس کا فتنہ و فساد ہے۔ ایسا کہنے والے اَنا و ہوس کے مارے لوگ طالب ِمولیٰ کو معرفت اور مجلس ِمحمدیؐ کی حضوری سے محروم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ لوگ جاسوس، رہزن، ڈاکہ زن، غیبت گو اور عیب جو ہوتے ہیں۔ اگرچہ ظاہر میں وہ عالم ہی کیوں نہ ہوں، لیکن باطن میں جاہل ہیں ۔ (قرب ِدیدار )

آپؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں :
٭ طالب ِدنیا دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا یا وہ منافق ہو گا یا ریاکار۔ دنیا شیطان ہے اور طالب ِ دنیا شیاطین ہیں۔ (عین الفقر )

 طالبِ مولیٰ کے لیے طالب ِدنیا (راہزن، ڈاکو) کی پہچان بہت ضروری ہے کیونکہ یہ اپنے ہی رشتہ داروں، عزیزوں، دوستوں کی شکل و صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور یہ وسوسوں کے تیر چلا کر طالبِ حق کو گمراہ کرتے ہیں۔  

ظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف بلند ہمت، وفا شعار اور استقامت پسند طالب ہی لڑ سکتا ہے۔ ایسا ہی طالب مجاہدہ کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس باطنی جہاد میں طالب پر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ دشمن چاروں طرف سے حملہ کرتے ہیں، اندر کا دشمن یعنی نفس اور دنیا دونوں مل کر مسلسل خواہشات کے زہر آلود تیر طالب کے باطن میں برساتے ہیں، طالب ِدنیا جو اپنے ہی عزیزوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں کبھی راہِ فقر سے دور کرتے ہیں یا مرشد کے خلاف بد گمان کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جو اپنا باطنی قلعہ مضبوط رکھتے ہیں یعنی اپنا بھروسہ مرشد کامل پر قائم کرتے ہیں اور راہِ فقر چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ استقامت کے ساتھ مجاہدہ (ڈیوٹی) کو جاری رکھتے ہیں وہ ضرور بالضرور آزمائشوں میں سرخرو اور کامیاب ہوتے ہیں۔ طالب ِمولیٰ کو ان آزمائشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ اس کے تزکیہؐ نفس کے لیے ضروری ہے، یہی مجاہدہ حق و باطل میں تمیز سکھاتاہے، لوگوں کی پہچان سکھاتا ہے اور یہ دنیا تو ہے ہی آزمائش۔ اس کے متعلق اللہ پاک نے خود فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ضرور آزماتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
٭ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ٭  (سورۃ العنکبوت ۔ 2)
ترجمہ: کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ (صرف ) ان کے (اتنا) کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی ۔

٭ وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ٭ (سورۃ العنکبوت ۔ 3)
ترجمہ:اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو (بھی ) آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے سو یقینا اللہ ان لوگوں کو ضرور (آزمائش کے ذریعہ ) نمایاں فرما دے گا جو (دعویٰ ایمان میں )سچے ہیں اور جھوٹوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گا۔ 

٭ وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ط وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ  (سورۃ البقرۃ۔ 155)
ترجمہ: اور ہم ضرور باضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ، اور (اے  حبیب !) آپ (ان ) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں ۔

 یعنی اس نے نبیوں کو،ولیوں کو، محبوبین کو بھی آزمایا۔ اسی لیے اس راہ  (یعنی فقر )پر جو چل نکلتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے اور ہر لمحہ مجاہدہ میں گزارنا پڑتا ہے اور باطنی جہاد یا جہاد بالنفس میں جو سب سے بڑی آزمائش ہے وہ جان، مال اور اولاد کی آزمائش ہے۔ انہی کی آزمائش میں صف بستہ ہو کر نفس کے خلاف لڑنے والے دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔ تصنیف الرسالۃ الغوثیہ میں اللہ تعالیٰ سیدنا غوث الاعظم ؓ کو فرماتے ہیں:
٭ اے غوث الا عظمؓ ! مجاہدہ مشاہدہ کے سمندروں میں سے ایک سمندر ہے جس میں واقف زندگی بسر کرتے ہیں اورجو کوئی مشاہدہ کے سمندر میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ مجاہدہ اختیار کرے کیونکہ مجاہدہ مشاہدہ کا مغز ہے ۔ اے غوث الاعظم ؓ! جس نے میرے لیے مجاہدہ اختیار کیا پس اس کے لیے میرا مشاہدہ ہے خواہ وہ اسے چاہتا ہو یا نہ چاہتا ہو ۔ اے غوث الاعظم ؓ ! جو میرے مجاہدہ سے محروم ہے اس کے لیے میرے مشاہدہ کی طرف کوئی راہ نہیں۔ اے غوث الاعظمؓ! طالبوں کے لیے مجاہدہ ایسے ضروری ہے جیسے ان کے لیے میں۔ (الرسالۃ الغوثیہ )

طالب ان دشمنوں کے خلاف بنیان مرصوص

(سیسہ پلائی دیوار) کیسے بن سکتا ہے ؟
قرآنِ کریم میں ظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر لڑنے کی تلقین کی گئی ہے اور اسی کومو منین کی صفت اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل کہا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طالب از خود ان دشمنوں کے خلاف لڑ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! اس کے لیے مرشد کامل اکمل کی راہبری ازحد ضروری ہے۔ وہی اس کافر نفس اور راہزن دنیا کی چالوں اور سرکشی سے بچا کر طالب کو دار الامن میں لے جاتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم اور احادیث ِمبارکہ میں بارہا مرشد کامل کی راہبری کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ 

دوسرا ان دشمنوں کے خلاف ذکر و تصور اسم ِاللہ ذات طالب کو ایک مضبوط قلعہ فراہم کرتا ہے، جب طالب کا باطن پاک و مطہر ہو تا ہے اور غیر اللہ کی محبت اور خوف دل سے نکل جاتا ہے صرف تب ہی طالب ِمولیٰ دشمن کے خلاف مضبوط ہوسکتا ہے،ذکر و تصور اسم ِ اللہ  ذات سے طالب کا نفس کمزور ہوجاتا ہے اور دل سے غیر اللہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ 

تفسیر ابن العربی میں اس آیت کی تفسیر  اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ٭  (یقینا اللہ انہیں دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں )میں بیان ہوا ہے :

’’اس لیے کہ اللہ کی راہ میں جان لڑا دینا اللہ تعالیٰ کی محبت میں خلوصِ نفس کے وقت ہی ہو سکتا ہے اس لیے کہ انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ محبت ہو گی تو جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا اپنی ذات سے محبت کرتا ہے تو یہ اصلی شرک ہے ‘‘۔(تفسیر ابن العربی ) 

صف بستہ ہو کر لڑنے سے کیا مراد ہے ؟

صف بستہ ہو کر لڑنا دراصل مسلمانوں کے اتحاد کی علامت اور مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ میدانِ جنگ میںدشمنوں کے خلاف ایک مسلمان بھائی کا دوسرے مسلمان کے ساتھ یا ایک مسلم ملک کا دوسرے مسلم ممالک کے ساتھ جڑ جانا ، متحد ہو جانا اس طرح کہ گویا مضبوط دیوار ہوں۔ سورۃ الصف کی مذکورہ آیت میں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ صف بستہ ہو کر دشمنانِ اسلام کے خلاف لڑیں یعنی اتحاد کو لازمی پکڑیں پھر ہی مسلمان قوی ہو ں گے اور پوری دنیا پر غلبہ پائیں گے۔آج کے موجودہ دور میں غیر اسلامی طاقتوں کے خلاف مسلمانوں یا مسلم ممالک کا اتحاد ناگزیر ہے۔

تفسیر روح البیان میں’’ صف بستہ ہو کر لڑنے ‘‘کے متعلق بیان ہوا ہے :
 حضرت سعید بن جبیرؓ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے کہ دشمن کی جنگ میں جو صورت میسر آئے عمل میں لاؤ لیکن صف بندی کو اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ جنگ میں صف سے نکلنا حوائج ضروریہ کے سوا ناجائز ہے یا وہ جسے امام (حاکم ِوقت) پیغام رسانی کے لیے کہیں بھیجے یااس طرف منتقل کرنا ہو جس میں زیادہ فائدہ محسوس ہو۔

امام راغبؒ نے فرمایا صف بستہ ہو کر بنیان مرصوص بمعنی مضبوط عمارت گویا وہ رانگا پلائی ہوئی ہے اس سے ثابت قدمی مرادہے۔ معرکہ جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے چسپاں ہو جائے گویا رانگا پلائی دیوار ہو ۔
 یہ فرا ء کا قول ہے کہا جاتاہے تراصوا فی الصلٰوۃ یعنی نماز میں مل کر کھڑے ہو جیسے حضور سرور ِعالم ؐ نے فرمایا’’نماز میں مل کر کھڑے ہو تاکہ تمہارے میں شیطان خلل انداز نہ ہو ‘‘۔(تفسیر روح البیان )

 صف بندی کی اہمیت 

 حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز کی صفیں درست کرواتے ہوئے فرمایا کرتے تھے :
٭ اپنی صفیں سیدھی رکھو اور اختلاف نہ کرو ، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم 972)

یہی اصول میدانِ جنگ میں سب سے اہم ہے ۔ اگر سپاہیوں کی صفوں میں نظم و ضبط نہ ہو اور وہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہوں ، تو ان کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور باہمی اتحاد ختم ہو جاتا ہے ۔ صف بستہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ سب کا رُخ اور مقصد ایک ہی ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے :
٭ مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری 481)

جس طرح دشمنوں کے خلاف ظاہری اتحاد ضروری ہے اسی طرح نفس کے خلاف باطنی اتحاد بھی ضروری ہے یعنی غیر اللہ کو دل سے  نکال کر اللہ کے ساتھ ایک ہو جانا، متحد ہو جانا۔ اگر دل میں غیر اللہ آجائے گا تو اللہ کے ساتھ باطنی تعلق قائم نہیں رہ سکتا ہے اور نفس و شیطان جیسے دشمن بآسانی طالب کے دل پر حملہ آور ہو سکیں گے۔  باطنی اتحاد یا توحید کیا ہے اس کے متعلق حضرت جنید بغدادی ؒ فرماتے ہیں :

٭ توحید یہ ہے کہ بندہ حق تعالیٰ کے حضور ایک ایسا جسم بن جائے کہ اس میں اپنے نفس کے تصرفات فنا ہو جائیں اور توحید کے سمندر اور حق تعالیٰ کے احکامِ قدرت کے جاری ہو نے میںصرف حق تعالیٰ کا تصرف ہی کارفرما ہو اور وہ حق تعالیٰ کے حقیقی قرب میں اور اس کی توحید سے پوری طرح آگاہ ہو جانے کی وجہ سے اپنے احساس اور ارادے سے اس طرح بے خبر ہو جائے کہ وہ صرف حق تعالیٰ کوپکارے اور صرف اسی کی دعوت کا جواب دے۔ یہ اس طرح ہو جائے گا کہ گویا بندے کی آخری حالت اس کی پہلی حالت کی طرف راجع ہو یعنی یوں ہو جائے جیسے وجود میں آنے سے پہلے تھا۔ (کشف المحجوب )

علامہ اقبالؒ نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بنیان مرصوص جیسی عظیم صفت کے معنی کو اپنے اس شعر میں سمو دیا ہے :

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن 

اللہ پاک سے دعا ہے کہ پوری دنیا میں اسلام کا بول بالاہو، تمام اسلامی طاقتیں متحد ہو کر کفر و باطل کا خاتمہ کر یں۔ اللہ پاک تمام عالمِ اسلام اور راہِ فقر کے تمام طالبانِ مولیٰ کو’’بنیان مرصوص‘‘ کا حقیقی مقصدسمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے ۔ (آمین)

استفادہ کتب :
۱۔شمس الفقرا : تصنیف ِلطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۲۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین :  ترتیب و تدوین مسز عنبرین مغیث سروری قادری
۳۔الرسالۃ الغوثیہ:  سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدا لقادر جیلانیؓ
۴۔عین الفقر : تصنیف ِلطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۵۔قرب دیدار : ایضاً
۶۔ الجہاد الاکبر : تصنیف شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری
۷۔تفسیر روح البیان:  امام اسماعیل حقیؒس
۸۔تفسیر ابن العربی : شیخ اکبر محی الدین ابن العربی
۹۔کمالین ترجمہ و شرح تفسیر جلالین: علامہ جلال الدین المحلی
۱۰۔کشف المحجوب : حضرت سید ابو الحسن علی بن عثمان ہجویریؒ 
۱۱۔تفسیر ابن ِکثیر : علامہ ابن ِ کثیر

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں