فرمودات سلطان العارفین
Farmoodaat Sultan-ul-Arifeen Taig-e-Barhana
دوسرا اور آخری حصہ مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری
فقیر عارف باللہ
٭ فقیر عارف باللہ بے حجاب دیدار کرنے والا ہوتا ہے۔
٭ فقیر عارف باللہ کو اسم ِاللہ ذات کی بدولت ہر جگہ حاضر رہنے کی توفیق اور قوت حاصل ہوتی ہے۔
٭ وحدت میں غرق فقیر عارف باللہ کو مالک الملکی قطب کہتے ہیں۔
٭ جب تک فقیر ِکامل اور عالم باللہ ظاہر و باطن میں توجہ نہ کرے کوئی بھی دینی و دنیوی مہم ہرگز انجام نہیں پاسکتی۔
٭ بادشاہ کی بادشاہی بھی فقرا کی بخشش اور خیرات ہے۔
٭ فنا فی اللہ فقیر جو ہمیشہ اللہ کے ساتھ مستغرق رہتا ہے اگرچہ ظاہر میں عوام کے ساتھ ہم سخن ہو لیکن باطن میں وہ حضورِ حق میں مشغول اور معرفت میں کامل ہوتا ہے۔
٭ طالب کو ایسی آنکھ (بصیرت) حاصل ہونی چاہیے جو فقیر کو (ادراکِ قلبی سے) پہچان سکے کیونکہ فقیر امر ِالٰہی کی بدولت ہر ملک پر غالب ہوتا ہے۔
٭ فنا فی اللہ فقیر اپنے ہاتھوں میں تلوار کو اس طرح پکڑتا ہے کہ ہاتھ میں لیتے ہی نفس کو قتل کر دیتا ہے۔
٭ عارفین اولیا کو یہ مراتب حاصل ہوتے ہیں کہ وہ نفس کو ہوا و ہوس اور بدخصائل سے روکے رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اور جس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا، پس اس کا ٹھکانہ جنت ِماویٰ ہے‘‘۔(سورۃ النازعات۔40,41)
٭ کوئی بھی عارف باللہ ولی اللہ جاہل نہیں ہوتا۔
٭ عارف باللہ علم ِباطن کی قوت سے ایک ہی نظر میں علما کے سینہ سے یکبارگی تمام علم اس طرح سلب کر سکتا ہے کہ انہیں ایک حرف بھی یاد نہیں رہتا، نہ وہ کوئی لفظ پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی پڑھ پاتے ہیں۔
٭ فقیر دونوں جہان پر غالب اور روشن ضمیراُولی الامرہوتا ہے۔
٭ فقیر کی شناخت اسم ِاللہ ذات کے تصور، تصرف، تفکر اور توجہ کے بغیر ناممکن ہے۔
٭ فقیر ولی اللہ کو علم سینہ بہ سینہ، نظر با نظر، علم ِتوحید با توحید، توجہ بہ توجہ اور علم عین العیان حاصل ہوتا ہے۔
٭ فقیر ولی اللہ تلمیذ الرحمن ہوتا ہے جس کی بدولت وہ نفس پر غالب اور شیطان کا مخالف ہوتا ہے۔
٭ فقیر بغیر ریاضت کے خزائن ِالٰہی بخشتا ہے اور ایک ہی نظر میں طالب کو لامکان میں پہنچا دیتا ہے۔
٭ اگر فقیر کو مرتبہ ولایت یا مرتبہ غوث یا مرتبہ قطب یا پھر مرتبہ ابدال یا مرتبہ دنیا یا مرتبہ عقبیٰ دے دیا جائے وہ ان تمام کمتر اور ناسوتی مراتب کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
٭ فقیر کا نفس مردہ اور قلب زندہ ہوتا ہے جو نیند میں بھی بیدار اور دیدارِ الٰہی سے مشرف رہتا ہے۔
٭ جب فقیر غرق فی التوحید ہو کر نورِ ذات کا مشاہدہ کرتاہے تو اس کی مثال کسی چیز سے نہیں دے سکتا۔
٭ فقیر معرفت، لاھوت لامکان تک رسائی، محبت، مراقبہ، ماہ تاماہی کونین کی بادشاہی، قربِ الٰہی، مشاہدئہ احوال اور لازوال وصال کے مراتب کا حامل ہوتا ہے۔
٭ تمام درجات کی کلید صاحب ِتوحید عارف باللہ ہے۔
٭ باھُوؒ دیدار کے اسرار کا بار اُٹھائے ہوئے ہے۔ یہ جان کی بازی لگانے والے عارفین ِحق کے مراتب ہیں۔
٭ جان لو کہ کامل اسے کہتے ہیں جس کے تصرف میں کُل و جز ہوں جیسا کہ لایحتاج فقیر کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ کونین پر کامل تصرف رکھتا ہے۔
موتوا قبل ان تموتوا
٭ معرفت، مشاہدہ، محبت اور مجلس ِانبیا و اولیا اللہ تک رسائی موت یعنی ’مرنے سے پہلے مر جاؤ‘ میں ہے۔
٭ ملاقات و غرق فنا فی اللہ موت یعنی مرنے سے پہلے مر جاؤ میں ہے۔
٭ دیدارِ الٰہی، معراج، قرب اور حضوری بھی موت یعنی ’مرنے سے پہلے مر جاؤ‘ میں ہے۔
٭ جب تک طالب ’’مرنے سے قبل مر جائو‘‘ کے مراتب تک نہیں پہنچتا اسرارِ الٰہی کا محرم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اللہ کی معرفت اور قرب حاصل کر کے واصل ہو سکتا ہے۔
طالب ِ مولیٰ
٭ ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی طالب ِمولیٰ ہوتا ہے جو مرشد کا دلدار اور حضورِ حق کے لائق ہوتا ہے۔
٭ جو طالب اللہ کی معرفت اور وصال کا خواہشمند ہو اسے چاہیے کہ اپنا تمام مال و دولت قربان کر دے۔
٭ جو طالب رحمن کی حضوری اور قرب کا طلبگار ہو اسے چاہیے کہ مال و جان خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا سر بھی قربان کر دے۔
٭ وہی طالب عاشق ہوتا ہے جو اپنی جان اور سر قربان کر دے۔ یہ طریقہ حقیقی طالبوں کا ہے۔
٭ اگر مجھے حضورِ حق کا کوئی طالب مل جائے تو اسے وحدتِ ذات کے نور میں غرق کر دوں۔
٭ میں حقیقی طالبانِ مولیٰ کے لیے راہبر ہوں اور انہیں ایک ہی نگاہ سے انتہا تک پہنچا سکتا ہوں۔
٭ ہر مرید و طالب اپنے مقامِ ہدایت کے مطابق منصب و مراتب ِولایت پاتا ہے۔
٭ طالب و مرید وہ نہیں جو محض گفت و شنید میں مشغول رہتا ہو۔
٭ مرید مردانِ خدا میں سے ایک مرد ہوتا ہے جو ہمیشہ اللہ کا طالب اور اس کی حضوری کا خواہشمند ہوتا ہے۔
٭ طالب اپنے مرشد کو اس طرح پہچانتا ہے جس طرح بیٹا اپنے باپ کو جانتا اور پہچانتا ہے۔ ایسے یقین کو کلُ الکامل کہتے ہیں۔
٭ اگر طالب کو ازلی فیض و فضل نصیب ہو تو اس کے وجود کو علم کی طلب، حکمت اور معرفت کا شوق اس طرح جلائے گا جس طرح آگ خشک لکڑی کو جلاتی ہے۔
٭ طالب کے تمام احوال موت سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔
٭ طلب ِنور کی بدولت ہی طالب حضوری میں پہنچتا ہے۔
٭ طالب کے پاس ایسی آنکھیں ہونی چاہئیں جو حق شناس ہوںتاکہ ان کی بدولت وہ اہل ِحق کو ہر لباس میں پہچان لے۔
٭ جس توجہ کو توفیق ِالٰہی حاصل ہو وہ ہر جگہ پہنچ جاتی ہے بلکہ ایسی توجہ تو دیوارِ سکندر میں سے بھی راستہ بنا لیتی ہے۔
ناقص طالب
٭ طالب وہ نہیں جو خودپسند ہوں اور اپنی مرضی اختیار کریں۔
٭ طالب ِدنیا کثیر ہیں جو ہمیشہ خوار ہوتے ہیں اور آخرت میں حور و قصور کے طالب بھی بیشمار ہیں۔
٭ جو طالب خواہشاتِ نفس سے مغلوب اور شیطان کے جاسوس ہیں وہ مرشد پر غالب آنا چاہتے ہیں۔
٭ جو حق کے طالب نہیں ہیں انہیں خود سے دور کر دو، اپنی چشم و دل اور اپنے ہر سخن کو نور سے لبریز کر لو۔
٭ میں نے عمر بھر کوئی طالب ِحق نہیں دیکھا۔ ہر طالب مال و دولت کا طلبگار ہے۔
حب ِ دنیا
٭ دنیاحاصل کرنا باطل ہے کیونکہ حب ِدنیا سے حرص، طمع، تکبر، خواہشاتِ نفس جیسے تمام ناشائستہ افعال پیدا ہوتے ہیں۔
٭ دنیا ناپاک ہے اور دین و ایمان کی دشمن ہے۔
معرفت ِ الٰہی
٭ معرفت کے لیے علم ِحق حاصل کر اس کی بدولت تو ایسا عارف بن جائے گا جو مردہ دل کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
٭ لِیْ مَعَ اللّٰہ کا مرتبہ پانے کے لیے علم حاصل کر، اس سے تجھے رازِ کن عطا ہوگا اور تو حق کا محرم ہو جائے گا۔
٭ اللہ کے قربِ حضوری کے لیے علم ِحق حاصل کر اور نورِ ذات میں فنا ہو کر غرق فی التوحید ہو جا۔
٭ جان لو کہ عارف باللہ اگرچہ ظاہری عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی اس نے علم ِظاہر پڑھا ہوتا ہے لیکن اسم ِ اللہ ذات کی برکت سے علم ِظاہر و باطن میں عاجز نہیں ہوتا کیونکہ ارواحِ فقرا کو روزِ ازل سے ہی اللہ نے علم سکھایا ہوتاہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت فرما کر تلقین کی ہوتی ہے۔
٭ جس عالم کو معرفت حاصل نہ ہو وہ نادان ہے بلکہ وہ طفل ِنادان کی مانند ہے جو تمام عمر مطالعہ اور علم سیکھنے میں گزار دیتا ہے لیکن موت کے وقت ملک الموت کو دیکھتے ہی تمام علم بھول جاتا ہے۔
٭ اے باھوؒ! جو اللہ شہنشاہ کے لقا کا منکر ہو وہ گلہ گو، کاذب اور منافق ہے جو ہمیشہ روسیاہ رہتا ہے۔
٭ اگر معرفت، وحدت اور لقا کا علم حاصل کیا جائے تو یہ علم ِباطل سے دور رکھتا ہے جو سراسر خواہشاتِ نفس کا باعث بنتا ہے۔
٭ علم ِحق نور ہے اور نورِ ذات عطا کرتا ہے۔ اسی علم ِحق کی بدولت طالب عارف بن کر وحدت کی حضوری میں پہنچتا ہے۔
ذکر ِخفی
٭ ذکر ِخفی تصور اسم ِاللہ ذات سے کیا جاتا ہے۔
٭ ذکر ِخفی کا ذاکر ہمیشہ معرفت ِتوحید میں مستغرق اللہ کے ساتھ اس کے قرب و حضوری میں اور انبیا و اولیا کی دائمی مجلس میں ان کے ساتھ ہم سخن رہتا ہے۔
٭ ذکر ِخفیہ مجمل اور تمام نیکیوں کا مجموعہ ہے۔
٭ ذکر ِحق نور ہے جو حضوری میں لے جاتا ہے۔ یہ ذکر ذاکروں کو اللہ کا فیض و فضل بخشتا ہے جس سے ان کی جان مغفور ہو جاتی ہے۔
٭ خواہ تو ذکر کی بدولت تجلیات کا مشاہدہ کر لے اور فکر کی بدولت فنا ہو جائے لیکن اگر تو توحید سے دور ہے تو تیرے سر پر خاک کیونکہ (ابھی تک) تُو خواہشاتِ نفس کا اسیر ہے۔
عشقِ حقیقی
٭ عشق میں دعویٰ کرنے والے جھوٹے ہیں۔
٭ عاشق بے شمار ہیں لیکن جانثار اور صادق عاشق ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی ہوتا ہے۔
٭ تصور اس طریقے سے توفیق و تحقیق بخشتا ہے کہ تصور کے ساتھ ساتھ بذریعہ تفکر مشق مرقومِ وجودیہ حیّ و قیوم کرنے سے کل و جز مقاماتِ ذات و صفات واضح طور پر معلوم ہو جاتے ہیں۔
نفس
٭ جان لو کہ نفس روحِ مقدس کا دشمن ہے اور روح نفس کے ہاتھوں پریشان رہتی ہے۔
٭ شیطان قلب کا دشمن ہے۔ قلب معرفت ِالٰہی اور نورِ توحید کا منبع ہے۔
متفرق
٭ مجھے اپنے پیر ِطریقت کی نصیحت یاد ہے کہ اللہ کی یاد کے سوا ہر شے برباد ہونے والی ہے۔
٭ دولت کتوں کو دے دی گئی اور نعمت گدھوں کو۔ ہم حالت ِامن میں ان کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔
٭ میری نظردولت و کیمیا گری پر نہیں ہوتی بلکہ میں طالب کو غرق فی التوحید کر کے اللہ سے ملا دیتا ہوں۔
٭ قلب گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ توحید ِالٰہی کا سمندر ہے۔
٭ اللہ کے قرب اور نورِ ذات کی حضوری کی بدولت چشم ِدل کھل جاتی ہے اور طالب روشن ضمیر ہو جاتا ہے۔
٭ اے جانِ عزیز! جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ فیض و فضل اور لطف و کرم سے اپنے جس طالب کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے نوازنا چاہے وہ طالب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حضوری سے مشرف ہو جاتا ہے۔
٭ طالب توحید میں غرق ہو کر تحقیق کی آنکھوں سے حقیقت کی معرفت حاصل کر لیتا ہے اور فنا فی اللہ ہو جاتا ہے۔
٭ اللہ کے قرب اور حضوری میں استقامت اہمیت کی حامل ہے۔