فتح مکہ–Fatah Makkah

فتح مکہ

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔ (الصف۔9)
ترجمہ: ’’ وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ضابطۂ ہدایت اور دین ِ حق دے کر اس غرض سے بھیجا ہے کہ وہ ہر دین کے مقابلے میں اسے (پوری انسانی زندگی پر) غالب کر دے۔ اگرچہ یہ مشرکوںکو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضورعلیہ الصلوٰۃو السلام کی بعثت کا مقصد تمام انسانوں پر واضح فرما دیا گویا یہ اعلان کر دیا کہ اللہ ربّ العزت مشرکوں سے بیزار ہے اور ان کی ناگواری کے باوجود حق پھیل کر رہے گا۔ وہی حق جس پر قائم رہنے کے لیے حضورعلیہ الصلوٰۃو السلام نے اپنے پیارے چچا جان حضرت ابوطالب سے فرمایا تھا کہ میں اس پیغام کو پھیلانے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا خواہ کافر میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند ہی کیوں نہ رکھ دیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک واقعہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر آن اسی مشن کی تکمیل میں مصروف رہے، مکہ کے میدانوں میں لگنے والے میلوں میں جلوہ افروز ہوںیا شعب ِابی طالب کی تنگ وتاریک گھاٹی میں محصور، بدر و احد کے دل دہلا دینے والے میدانِ جنگ ہوںیا مسجد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منبر، خانگی ا مور میں مصروف ہوں یا کاروباری معاملات میں‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کی دلیل بن کر اُس کے پیغام کی تبلیغ کرتے ہوئے ہی نظر آتے ہیں۔اورفتح مکہ کا دن تاریخ ِ انسانیت میںوہ مبارک دن ہے جب اس مشن کی عملاً تکمیل ہوئی اور اللہ کا دین مکمل ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جانثار ساتھیوں کو کڑی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد فتح مبین عطا ہوئی اور صدیوں سے جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکنے والی انسانیت کو صراطِ مستقیم تک رسائی حاصل ہوئی۔ اسی روز اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان تعصب و ہٹ دھرمی، جہالت و بربریت، نفس پرستی اور اندھی تقلید کے جتنے حجابات تھے سب تار تار ہوئے اور انسانیت خود شناسی اور خدا شناسی کی عظیم نعمت سے بہرہ ور ہوئی۔
علامہ ابنِ قیم لکھتے ہیں ’’یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو، اپنے رسول کو، اپنے لشکر کو اور اپنے امامت دار گروہ کو عزت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو دنیا والوں کے لیے ذریعہ ٔ ہدایت بنایا اورکفار و مشرکین کے شر سے چھٹکارا دلایا۔ اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اس کی عزت کی طنابیں جوزاء کے شانوں پر تن گئیں اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوئے اور روئے زمین کاچہرہ روشنی اور چمک دمک سے جگمگا اٹھا۔‘‘
روئے زمین پر جو پہلا گھر اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر ہواوہ خانہ کعبہ ہے۔ کیا ایسا ہوسکتاتھا کہ معراجِ آدمیت نبی آخرالزماںحضور علیہ الصلوٰۃو السلام تشریف لائیں، دو جہانوں پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، بنی نوع انسان ان کی نظر ِ کرم کے فیضان سے سیراب ہو رہے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کا گھر جو اس کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا شرک کی نشانیوں (بتوں) سے آلودہ رہتا۔بالآخرجب مکہ فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی زبانِ گوہر فشاں سے یہ اعلان فرما دیا ’’حق آپہنچا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے والا ہے۔‘‘
یہاں یہ بات غو ر طلب ہے کہ حق کی تبلیغ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تقریباً اکیس برس کا عرصہ گزر چکا تھا لیکن جب مکہ فتح ہوا تب اللہ کی طرف سے یہ پیغام آیا کہ اب باطل سرنگوں ہو گیا۔ یہ بات بھی طالبانِ مولیٰ کے دلوں کوگرما دیتی ہے کہ حق کی سر بلندی کی یہ منزل راتوں رات حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحاب ؓ نے21سال کا صبر آزما وقت طے کیا، قدم قدم پر جان سے عزیز رشتے ناطے بھی قربان کیے اور اپنی ہر اس چیز کو قربان کیا جو کسی بھی انسان کے لیے وجہ ٔ راحت اور وجہ ٔ سکونِ قلب ہو سکتی ہے۔اس علاقے (مکہ) کو بھی عارضی طور پرچھوڑنا پڑا جو حقیقتاً اسلام کا مرکز تھا۔ اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اشاروں کنایوں میں فتح مکہ کی بشارت ہجرتِ مدینہ کے بعد سے ہی دینا شروع کر دی تھی۔ شعبان 2ھ (فروری 624ء)میں اللہ تعالیٰ نے دورانِ نماز یہ حکم نازل فرمایا کہ بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کی طرف رخ موڑ لیا جائے اب مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہے۔ تحویل ِ قبلہ کے حکم سے ایک طرف تو یہ فائدہ ہوا کہ جماعت میں موجود منافقین ظاہر ہو گئے اور دوسری طرف اس میں یہ لطیف اشارہ بھی تھاکہ اب ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے جو اس قبلے پر مسلمانوں کے قبضے سے پہلے ختم نہ ہو گا کیونکہ یہ بڑی عجیب بات ہو گی کہ کسی قوم کا قبلہ اس کے دشمنوں کے قبضہ میں ہو اور اگر ہے تو پھر ضروری ہے کہ کسی نہ کسی دن اُسے آزاد کرایا جائے۔ شعبان 2ھ میں ہی جہاد کی آیات کا نزول شروع ہوگیا۔ سورۃ البقرہ میں اللہ ربّ العزت نے مسلمانوں کو تاکید فرمائی:
ترجمہ: ’’اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو۔ بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا اور (دورانِ جنگ)ان (کافروں) کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالواور انہیں وہاں سے باہرنکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی سخت (جرم) ہے اور ان سے مسجد ِ حرام (خانہ کعبہ) کے پاس جنگ نہ کروجب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں ، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، (ایسے) کافروں کی یہی سزا ہے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور ان سے جنگ کرتے رہو حتیٰ کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملاً) اللہ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں۔‘‘ (البقرہ۔190-193)
احکامِ جنگ کی ان آیات کے سیاق و سباق پر غور کرنے سے کسی بھی صاحب ِ بصیرت کے لیے اس بات کا اندازہ لگانامشکل نہیں تھا کہ خونریز معرکے کا وقت قریب ہے اور اس میں آخری فتح و نصرت مسلمانوں کو ہی نصیب ہو گی۔ یہ بات بھی قابل ِ غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جہاں سے مشرکین نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ مکرمہ سے) تم بھی انہیں وہاں سے نکال دو۔ان احکامات کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مخالفین کو سخت سزا دیتے ہوئے جنگ کا خاتمہ کرو۔ یقینایہ سب کام ایک غالب اور فاتح قوم ہی کر سکتی تھی۔

پس منظر:

فتح مکہ سے تقریباً 22ماہ قبل صلح نامہ حدیبیہ طے پایا جس کی شرائط یہ تھیں کہ:
(1مسلمان اس سال بغیر عمرہ اداکیے واپس چلے جائیں گے۔
(2آئندہ سال عمرہ کے لیے آئیں اور صرف تین دن مکہ میں ٹھہر کر واپس چلے جائیں۔
(3تلوار کے سوا کوئی دوسراہتھیارلے کر نہ آئیں۔ تلوار بھی نیام کے اندر رکھ کر تھیلے وغیرہ میں بند ہو۔
(4مکہ میں جو مسلمان پہلے سے مقیم ہیں ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور مسلمانوں میں سے اگر کوئی مکہ میں رہنا چاہے تو اس کو نہ روکیں۔
(5کافروں یا مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگرمدینہ چلا جائے تو واپس کر دیا جائے لیکن اگر کوئی مسلمان مدینہ سے مکہ میں چلا جائے تو وہ واپس نہیں کیا جائے گا۔
(6قبائل ِعرب کو اختیار ہو گا کہ وہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہیں دوستی کا معاہدہ کرلیں۔
یہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے سخت خلاف تھیں اورکچھ صحابہ کرامؓ کو ان شرائط پر رنج بھی تھا لیکن حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی با کمال بصیرت جو مناظر دیکھ رہی تھی اس کا تذکرہ قرآنِ مجید میں ان الفاظ میں ملتا ہے:

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًامُّبِیْنًا۔(الفتح۔1)
ترجمہ: ’’(اے حبیب ِ مکرمؐ!) بیشک ہم نے آپ کے لیے (اسلام کی) روشن فتح (اور غلبہ) کا فیصلہ فرما دیا (اس لیے کہ آپؐ کی عظیم جدوجہدکامیابی کے ساتھ مکمل ہو جائے)۔‘‘
تاریخ گواہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے فتح مکہ تک اس قدر کثیرتعداد میں لوگ مسلمان ہوئے کہ اتنے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ یہ صلح تمام بڑی فتوحات کی کنجی ثابت ہوئی اور یہی صلح مکہ میں اشاعت ِ اسلام بلکہ فتح مکہ کا ذریعہ بنی۔ قریش ِ مکہ اپنی اسلام دشمنی اور عداوت کی وجہ سے زیادہ دیر اس معاہدے پر قائم نہ رہ سکے اور خود ہی عہد شکنی کر بیٹھے۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ معاہدہ حدیبیہ میںعرب کے دیگر قبائل کو اجازت دی گئی تھی کہ جو قبیلہ جس بھی فریق کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرنا چاہے تو وہ اس فیصلہ میں آزاد ہے۔چنانچہ بنو بکر نے قریش کے ساتھ اور بنو خزاعہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیا۔ اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہو گئے لیکن ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہو گئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان۸ ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمہ پر خیمہ زن تھے ۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ قریش نے نہ صرف ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی بلکہ ان کے کچھ آدمی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑائی میں شریک بھی ہوئے۔بہر حال حملہ آوروں نے بنو خزاعہ کو حرم تک پہنچا دیا۔ حرم پہنچ کر بنو بکر نے نوفل سے کہا ’’ اے نوفل! اب تو ہم حرم میں داخل ہو گئے۔ تمہارا الٰہ!۔۔۔ تمہارا الٰہ!۔۔۔‘‘ اس کے جواب میںنوفل بولا ’’بنو بکر! آج کوئی الٰہ نہیں، اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہوتو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔‘‘
ظاہر ہے کہ قریش نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو عملی طور پر توڑ ڈالا کیونکہ بنو خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معاہدہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حلیف بن چکے تھے اس لیے بنو خزاعہ پر حملہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حملہ کرنے کے برابر تھا۔ اس حادثہ کے بعد قبیلہ ٔ بنو خزاعہ کے سردار عمرو بن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کا وفد لے کر فریاد کرنے اور امداد طلب کرنے کے لیے مدینہ منورہ بارگاہِ رسالت میں پہنچے اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی۔
اس کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے قریش کے پاس قاصد بھیجا اور تین شرطیں پیش فرمائیں کہ قریش ان میں سے کوئی ایک شرط منظور کر لیں:
(1بنو خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا دیا جائے۔
(2قریش قبیلہ بنو بکر کی حمایت سے الگ ہو جائیں۔
(3اعلان کر دیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔
جب حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے قاصد نے ان شرائط کو قریش کے سامنے رکھا تو قرطہ بن عبد عمر نے قریش کا نمائندہ بن کر جواب دیا ’’نہ ہم مقتولوں کا خون بہا دیں گے، نہ اپنے حلیف قبیلہ بنو بکر کی حمایت چھوڑیں گے۔ ہاں تیسری شرط ہمیں منظورہے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔‘‘ لیکن قاصد کے چلے جانے کے بعد قریش کو اپنے اس جواب پر ندامت ہوئی۔ چنانچہ چند رؤسائے قریش ابو سفیان کے پاس گئے اور کہا کہ اگر یہ معاملہ نہ سلجھا تو پھر سمجھ لو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) یقیناً ہم پر حملہ کردیں گے۔
اس کے بعد ابو سفیان مدینہ طیبہ پہنچ کر سب سے پہلے اپنی بیٹی اُم المومنین اُمِ حبیبہؓ کے گھر گیا تاکہ ان کے توسط سے حضور علیہ الصلوٰۃو السلام سے عرض کر سکے۔ ابوسفیان نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بستر پر بیٹھنے کا ارادہ کیا تو ام المومنین اُمِ حبیبہؓ نے فوراً وہ بستر لپیٹ کر الگ کر دیا۔ابو سفیان نے کہا ’’اے میری بچی! کیا تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا؟یا مجھے اس قابل نہیں سمجھا کہ میں اس پر بیٹھوں اس لیے تم نے اسے لپیٹ کر رکھ دیاہے۔‘‘ حضرت امِ حبیبہؓ نے بغیر کسی جھجک کے اپنے باپ کو جواب دیا ’’یہ بستر اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے جب کہ تُو مشرک اور ناپاک ہے اس لیے میں نہیں برداشت کر سکتی کہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاک بستر پر بیٹھے۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت حضور علیہ الصلوٰۃو السلام مسجد میں تشریف فرما تھے۔ حاضر ہو کر اس نے عرض کی ’’ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا تھاتو میں غیر حاضر تھا۔ اب میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ حضوراس معاہدہ کی تجدید فرمائیں اور معاہدہ کی مدت میں اضافہ کر دیں۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے پوچھا! ابو سفیان تم سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے؟ اُس نے بات ٹالتے ہوئے کہا بخدا!ہم تو صلح حدیبیہ پر قائم ہیں۔ اس پر جب حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے خاموشی اختیار فرمائی تو ابو سفیان دیگر صحابہؓ کے پاس بھی باری باری گیامگر ہر طرف سے ناکام لوٹااور اپنے حق میں کچھ نہ سن سکا۔ ابو سفیان کے مکہ واپس لوٹنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چند روز توقف فرمایا پھر اپنے جلیل القدر صحابہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم سے مشورہ کر کے مکہ پر حملہ کا فیصلہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ پاک کے حضور دعا فرمائی ’’الٰہی! اہلِ مکہ کو ہمارے بارے میں اندھا اور بہرہ کر دے تاکہ نہ وہ ہماری تیاری دیکھ سکیں اور نہ ہمارے بارے میں کچھ سن سکیں تاکہ جب ہم اچانک ان پر ہلہ بول دیں تو انہیں ہمارے پروگرام کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلے۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے مدینہ کے تمام راستوں پر پہرہ مقرر فرمایا اور حضرت عمر فاروقؓ کو پہرہ کی نگرانی سوپنی تاکہ مدینہ والوں کے اس فیصلہ کی اطلاع باہر نہ نکل سکے۔

شانِ رسالت مآب

فتح مکہ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی بے پناہ ذہانت، بے مثال عاجزی، اعلیٰ انتظامی، جنگی اور سیاسی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو علمِ کامل تھا کہ مکہ فتح ہو گا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مسلمان فوج کی تمام کاروائیوں سے دشمن بے خبر رہے۔یہی وجہ تھی اہلِ مکہ کو اسلامی لشکر کی آمد کی خبر اس وقت ہوئی جب وہ عین ان کے سر پر پہنچ گیا۔
مکہ سے کچھ فاصلے پر مرالظہران کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام فوج کو پھیلا دیااور انہیں الگ الگ آگ جلانے کا حکم فرمایا۔ اس طرح تاحد ِ نگاہ جلتی ہوئی آگ دیکھ کر کفارِ مکہ اسلامی فوج کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے اور پہلے سے خوفزدہ دشمن کے حوصلے مزید پست ہوگئے اور ان میں رہی سہی مقابلہ کی سکت بھی ختم ہو گئی۔
قریش کی پشت پناہی کرنے والے تمام چوٹی کے لیڈروں میں سے ابو سفیان زندہ تھا۔ جب اسے حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو اسے بھی معاف فرمادیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درگزر فرمانے پر اسلام کا بدترین دشمن اس حد تک متاثر ہوا کہ اسلام کی حقانیت کوتسلیم کرتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر ہمیشہ کے لیے معزز ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ابو سفیان کو مزید عزت سے نوازتے ہوئے اعلان فرمایا ’’جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گیا اس کے لیے امان ہے۔‘‘ پھر حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے ارشاد فرمایا! جو حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہو گا اسے بھی امان ہے۔ پھر حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایاجو مسجد میں داخل ہوگیا اس کو بھی امان ہے۔ رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عفو ِ عام کا دروازہ کھولتے ہوئے فرمایا جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر دیا اس کو بھی امان ہے۔
مکہ مکرمہ میں داخلہ سے ایک رات پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ اعلان فرمایا کہ صبح سویرے ہر قبیلہ کے جوان اپنی سواریوں پر زینیں اور کجاوے کَس کے اپنے قائد کے ساتھ اپنے جھنڈے کے پاس کھڑے ہو جائیں اور اپنے اسلحہ اور سامانِ جنگ کی نمائش کریں۔ چنانچہ صبح کو یہ تمام نظارا ابوسفیانؓ، جو کہ ابھی نو مسلم تھے، کو کرایا گیا تاکہ انہیں ظاہری آنکھوں سے اسلام کی شان و شوکت کا ایک اور نظارہ مل سکے۔ اسی دوران جب انصار کے علمبردار حضرت سعد بن عبادہ ؓ جھنڈا لیے ہوئے ابو سفیانؓ کے قریب سے گزرے تو انہوں نے بلند آواز سے کہا کہ اے ابوسفیان! آج گھمسان کی جنگ کا دن ہے۔ آج کعبہ میں خونریزی حلال کردی جائے گی۔جب حضور جب حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسلامی لشکر کا جھنڈا حضرت سعدؓ سے لے کر ان کے بیٹے قیس بن سعدؓ کے ہاتھ میں دے دیا نیز فرمایا ’’آج تو کعبہ کی عظمت کا دن ہے۔ آج تو کعبہ کو لباس پہنانے کا دن ہے ۔‘‘ گویا اسلحہ و سامانِ جنگ کی نمائش کرنا جبکہ زبان ودل اور دماغ میں ذرہ بھر بھی غرور و تکبر نہ آئے‘ روا ہے۔
جب ہادیٔ برحق نے اپنے سالاروں کو مختلف اطراف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا حکم دیا توساتھ ہی یہ بھی تاکید فرمائی کہ وہ اپنی تلواروں کو بے نیام نہ کریں جب تک کفار ان پر حملہ نہ کریں۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کے دستے کو اپنی تلواریں اس وقت بے نیام کرنا پڑیں جب کچھ شر پسند مشرکین نے ان پر حملہ کیا۔اس طرح معمولی سے جانی نقصان کے علاوہ اس عظیم فتح کی راہ میں کوئی خاص رکاوٹ پیش نہ آئی۔
تاریخ ِ عالم میں جب بھی کسی کو برسرِ اقتدار آنے کا موقع ملا خواہ تلوار کے زور سے، سازش کے بل پر، جمہوری انتخاب کے راستے سے یا کسی اتفاقی حادثے کے تحت، فاتح قوت ہمیشہ نشہ ٔ تکبر میں مست ہو کر نہایت غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی حرکات کی مرتکب پائی گئی لیکن ہزار ہا رحمتیں اور برکتیں ہوں نبی رحمتصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبارک اصحابؓ پر کہ اس عظیم فتح کے موقع پر کوئی غیر انسانی اور غیر اخلاقی واقعہ بدترین دشمن بھی پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مکہ میں داخلہ کے شاندار لمحات کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ ِ عالم کی گود خالی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی اونٹنی ’’قصویٰ‘‘ پر سوار تھے اور ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ اور دوسری جانب اسید بن حضیر رضی اللہ عنہٗ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا اور ہتھیاروں سے لیس لشکر تھا۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شانِ تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سر جھکائے ہوئے، پیکر ِ عجز و انکسار بنے ربّ کریم کی حمد و ثنا میں مصروف تھے جبکہ جبین ِ سعادت کجاوے کی سامنے والی لکڑی کو چھو رہی تھی۔
مسجد حرام میں داخلے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور حجر ِ اسود کا بوسہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک ہاتھ میں کمان تھی۔ بیت اللہ کے گرد اور اس کی چھت پر تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کمان سے ان بتوں کو گراتے جاتے اور فرماتے:
جَاءَ الْحَقُّ وَ زَحَقَ الْبَاطِلُج اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔
ترجمہ: حق آ پہنچا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے والا ہے۔
خانہ کعبہ کوبتوں سے پاک کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ا ہل ِ مکہ سے خطاب فرمایا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس ہزاروں کے مجمع پر ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سر جھکائے، نگاہیں نیچی کیے ہوئے لرزاں و ترساں اشرافِ قریش کھڑے ہوئے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ شایدآج ہماری لاشیں چیلوں اور کوئوں کو کھلا دی جائیںگی اور انصار و مہاجرین کی غضب ناک فوجیں ہمارے بچے بچے کو خاک و خون میں نہلا کرہماری نسلوں کو نیست و نابود کر دیں گی اور ہماری بستیوں کو تہس نہس کر ڈالیں گی۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو ئے اور فرمایا:
’’بولو! تم کو کچھ معلوم ہے کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں۔‘‘
سب یک زبان ہو کر بولے کہ آپ کریم بھائی اور کریم بھائی کے صاحبزادے ہیں۔ سب کی منتظر نظریں جمالِ نبوت کا منہ تک رہی تھیں اور سب کے کان شہنشاہِ نبوت کا فیصلہ کن جواب سننے کے منتظر تھے کہ فاتح مکہ نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا ’’آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔‘‘
بالکل غیر متوقع طور پر ایک دم اچانک یہ فرمان سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرطِ ندامت سے اشکبار ہو گئیں اور ان کے دلوں کی گہرائیوں سے جذباتِ شکریہ کے آثار آنسوؤں کی دھار بن کر ان کے رخسار پر مچلنے لگے اور کفار کی زبانوں پر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے نعروں سے حرمِ کعبہ کے در ودیوارپر ہر طرف انوار کی بارش ہونے لگی۔ ناگہاں بالکل ہی اچانک اور دفعتاً ایک عجیب انقلاب برپا ہو گیاکہ سماں ہی بدل گیا اور ایک دم ایسا محسوس ہونے لگاکہ

جہاں تاریک تھا، بے نور تھا اور سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھرمیں اجالا تھا

فتح مکہ کے اس واقعہ سے طالبانِ مولیٰ کو یہ سبق ملتا ہے کہ آزمائشیں اور مشکلات جتنی بھی طویل ہوں ثابت قدم رہنے والے اور اللہ کی ذات پر یقین رکھتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنے والے ہی فتح یاب ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:

تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

اگر طالبانِ مولیٰ صحابہ کرامؓ کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے اپنا سب کچھ مرشد کی ذات پر نچھاور کردیں گے اور کسی بھی جانی، مالی اور بدنی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ہر مشکل اور آزمائش میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کریں گے تو نہ صرف قربِ حق حاصل ہو گا بلکہ ظاہری مقام و مرتبہ بھی حاصل ہو گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عہد ِ حاضر کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس جو کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام ہیں اور اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عوام الناس میں عام کرنے کے لیے دن رات کوشش فرما رہے ہیں، کی بارگاہ میں سچے دل اور خلوصِ نیت سے حاضر ہونے اور راہِ فقر پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

تحریر: فائزہ گلزار سروری قادری۔ لاہور

اپنا تبصرہ بھیجیں