اخلاقِ حسنہ–Akhlaq e Husna

اخلاقِ حسنہ

تمام تعریفیں اللہ جل و شانہٗ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے تمام مخلوق کا خالق اور روزی دینے والا ہے۔ پھولوں میں خوشبو بسانے والا اور گلشن کو مہکانے والا ہے۔ لم یزل اور لا یزال ہے دونوں جہاں میں ھُوکے سوا کوئی نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے۔
بعد ازیں رحمت اللعالمین سرورِ کائنات وجۂ وجودِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو اُمت کے پیشوا، شفیع روزِ جزا ، انبیا واصفیا کے شرف ہیں جنہوں نے بنی نوع انسان کو اخلاقِ حسنہ کی صورت میں ایسا ضابطہ حیات دیا کہ جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جانور سے بھی بدتر برتاؤ کرتے تھے وہ سرکارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جان چھڑکنے لگے اور ایک دوسرے کے ساتھ اخوت، اخلاقیات اور محبت و سلوک کی وہ مثال قائم کی جس کی مثال آج تک نہیں ملتی۔
دنیا کے تمام مذاہب کی بنیاد اخلاقیات پر ہی ہے۔ اس عرصۂ ہستی میں جتنے انبیا و مرسلین تشریف لائے سب نے اخلاقِ حسنہ اور انسانی اقتدار کی بالا دستی کو فروغ دیا۔ ہمارے نبی کریم روف الرحیم کی بعثت ایک تکمیل کی حیثیت رکھتی ہے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔‘‘
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی بعثت سے قبل ہی اپنے حسنِ اخلاق کی بدولت مشہور تھے اور اعلانِ نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ کی وحدانیت کے درس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اخلاقیات کا سبق دینا شروع کیا۔ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکہ میں ہی تھے کہ ابو ذر نے اپنے بھائی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حالات و تعلقات کی تحقیق کے لئے بھیجا انہوں نے واپس آکر اپنے بھائی کو جن الفاظ میں اطلاع دی تھی وہ یہ تھے:
رَاَیْتُہٗ یَامُرُ بِمَکَارِمِ الْاَخْلاَق
ترجمہ: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دے رہے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عہدِ کمال میں اسلام پھیلنے کی ایک وجہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ اور اس کی تبلیغ عام تھی جس کی بے شمار مثالوں سے تاریخِ اسلام بھری پڑی ہے۔ قرآنِ حکیم نے اس کی مثال یوں بیان کی ہے:
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم
ترجمہ: بے شک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اخلاقِ حسنہ کے عظیم درجے پر فائز ہیں۔
شاعر نے کیا خوب کہا:

بے بناوٹ ادا پر ہزاروں درود
بے تکلف ملاحت پر لاکھوں سلام

یہ عظیم اخلاقیات ہی سرورِ کائنات کو تمام عالم سے ممتاز کرتی ہیں اور بلند مراتب پر فائز کئے ہوئے ہیں۔ حسنِ اخلاق سرورِ دو عالم کی ایک ممتاز صفت ہے اور اسی کے فروغ سے اسلام اتنی تیزی سے پھیلا۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب اسلام کی حقیقت یعنی فقر کو عام کیا تو تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور تجلیہۂ روح سے مسلمانوں کو نفس کی بیماریوں سے آزادی حاصل ہوئی اور وہ اخلاقِ حسنہ کا نمونہ بن گئے جس کی بدولت انسانی اقدار کو عروج حاصل ہوا اور تعلیماتِ اسلام کو تیزی سے فروغ ملا۔ حقیقتِ اسلام سے روشناسی سے نفس کی حقیقت سے آگہی حاصل ہوئی اور اس سے انسان میں عرفانِ نفس کا شعور پیدا ہوا اور یہاں پر قدمِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے توسل سے فائز مرشدان کامل اکمل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ لوگوں کو معرفتِ الٰہی کی راہ سے آشنا کروا کر انہیں معراج کا درس دیں جس سے وہ اپنے ربّ کا وصال پائیں۔ اور اسی فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جب انسان مرشد کامل اکمل کے توسط سے پاتا ہے تو وہ نفوس کی بیماریوں اور حملوں سے پاک ہو کر روح کی پاکیزگی کو پالیتا ہے جس سے وہ اخلاق کے اعلیٰ مراتب حاصل کر کے معاشرہ میں کامیابی حاصل کرتا ہے اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مطابق اخلاقِ حسنہ پر عمل پیرا ہوتا ہے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاقِ حسنہ

حضرت عائشہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت انسؓ کا متفقہ بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہایت نرم مزاج، خوش اخلاق اور نیک سیرت انسان تھے چہرۂ اقدس ہنس مکھ تھا۔ وقارومتانت سے گفتگو فرماتے اور کسی کی دل شکنی نہ فرماتے تھے۔ جو دوسخا میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فطرت تھی۔ ابنِ عباس کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے بڑھ کر سخی تھے۔ خصوصاً رمضان المبارک کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جو دوسخا میں بے حد اضافہ ہو جاتا تھا۔
ایک دفعہ ایک شخص خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بکریوں کا ریوڑ دور تک پھیلا ہوا تھا اس نے درخواست کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام بکریاں اس کو عطا فرما دیں اس نے اپنے قبیلہ میں جاکر کہا اسلام قبول کر لو ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایسے فیاض اور سخی ہیں کہ مفلس ہونے کی پرواہ ہی نہیں کرتے۔ (بخاری)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو دوسخا کا پیکر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معمول تھا کہ جو چیز آتی جب تک خرچ نہ ہوجاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چین نہ آتا بلکہ بے قراری سی رہتی۔
حضرت اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گھر تشریف لائے تو چہرۂ اقدس مغموم تھا۔ میں نے سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ کل جو سات دینار آئے تھے شام ہو گئی مگر ابھی تک بستر پر پڑے ہیں۔
ایک بار عصر کی نماز کے بعد خلافِ معمول فوراً گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس تشریف لے آئے۔ لوگوں کو تعجب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں خیال آیا کہ کچھ سونا گھر میں پڑا رہ گیا ہے خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو رات ہو جائے اور وہ سونا رہ جائے اس لئے گھر جا کر خیرات کر دینے کو کہہ آیا ہوں۔ (بخاری)
غزوہ حنین میں مالِ کثیر آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کو تقسیم فرما کر واپس تشریف لا رہے تھے کہ بدوؤ ں کو خبر مل گئی۔ دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہِ ایثار میں حاضر خدمت ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے لپٹ گئے کہ حضور ساقی کوثر ہمیں بھی کچھ عطا فرما دیجئے۔ فیاضِ عالم نے فرمایا ’’خدا کی قسم جنگل کے درختوں کے برابر بھی اونٹ میرے پاس ہوتے تو میں تم کو دے دیتا اور تم مجھ کو بخیل نہ پاتے۔‘‘
حضور سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق و عادات میں قناعت کا وصف سب سے زیادہ نمایاں تھا اور جس کا اظہار ہر موقعہ پر نظر آتا۔ اولاد سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے انتہا محبت تھی۔ سیّدہ فقر فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا جب بھی بار گاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں تشریف لاتیں توآپؐ فرطِ محبت سے کھڑے ہو جاتے، پیشانی کو بوسہ دیتے، اپنی جگہ بٹھاتے مگر اس کے باوجود قناعت کا یہ عالم تھا کہ فاطمہ زہراؓ کے گھر مبارک میں کوئی خادمہ نہ تھیں آپؓ خود چکی پیستیں،پانی بھرتی تھیں چکی پیستے پیستے ہتھیلیاں چھل گئی تھیں مشک اٹھانے کے اثر سے شانہ مبارک پر نیل پڑ گئے تھے۔ ایک دن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں مگر خود تو پاسِ ادب کے باعث عرض نہ کر سکیں، جناب علیؓ نے عرض کی اور درخواست کی کہ فلاں غزوہ میں جو کنیزیں آئی ہیں ان میں سے ایک عطا فرما دیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ابھی اصحابِ صفہ کا انتظام نہیں ہوا، جب تک ان کا انتظام نہ ہو جائے کسی اور طرف توجہ نہیں کر سکتا۔ (ابوداؤد)

قناعت ہی وہ دولت ہے جو ہرگز کم نہیں ہوتی
مگر چشم ہوس اس راز کی محرم نہیں ہوتی

صحاحِ ستہ میں مرقوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دوشیزہ لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے۔شرم و حیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مقدس دل نواز ادا سے تعلق رکھتی ہے جس کی اثر آفرینی کی ایک ایک ادا، ادائے دلبرانہ ہے اور یہ ادا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا امتیازی وصف تھا اس کی اثر آفرینی دلپزیری و دل گیری اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کبھی بھی کسی کے ساتھ بد زبانی نہ کی۔ بازار میں تشریف لے جاتے تو چپ چاپ گزر جاتے تبسم کے سوا لب مبارک خندہ و قہقہہ سے بہت کم آشنا ہوتے تھے۔

نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود
اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی لے کر اپنی زندگیوں کو بھی حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چلائیں۔ اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی ذات مبارکہ سے عشق نہ ہو گا۔ عشق ہی وہ جذبہ ہے جو معشوق کی ہر ادا کو اپنانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی ذات مبارکہ سے عشق تب تک نہیں ہو گا جب تک ہم اپنے نفس کو پاک نہیں کریں گے۔ نفس کی پاکیزگی اور تزکیہ کے لیے مرشد کامل اکمل کی صحبت بہت ضروری ہے۔
موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جو اپنی نگاہِ فیض سے زنگ آلود قلوب و نفوس کا تزکیہ فرما رہے ہیں اور عام انسانوں کو طالبانِ مولیٰ بنا کر معرفتِ الٰہی اور حقیقتِ محمدیہ سے روشناس فرما رہے ہیں۔ عوام الناس کے لیے دعوتِ عام ہے کہ اس دور کے مجدد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صحبت سے فیض یاب ہو کر تزکیۂ نفس کی نعمت حاصل کریں اور اپنے ظاہر و باطن کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تحریر: محمد یوسف اکبر سروری قادری۔ لاہور

اپنا تبصرہ بھیجیں