Alif 114

الف- اصلاحِ باطن–Islah e Batin

اصلاحِ باطن

راہِ فقر باطن کی راہ ہے اور باطن ہی حقیقت ہے۔ جب تک باطن درست نہیں ہوتا ظاہر کبھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ باطنی درستی کے بغیر جو ظاہر آراستہ اور خوبصورت نظر آئے وہ محض فریب اور ریاکاری ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

کُلُّ بَاطِنٍ مُخَالِفٌ لِّلظَّاھِرٍفَھُوَ بَاطِلٌ 

 ترجمہ: ہر وہ باطن جو ظاہر کے مخالف ہو وہ باطل ہے۔
ایک انسان کی بھلائی مقصود ہو یا پورے معاشرے کی‘ جب تک اندر سے درستی نہیں ہوگی ظاہری درستی ممکن ہی نہیں اور اگر اتفاقاً ہو بھی جائے تو وقتی اور عارضی ہوگی کیونکہ بہرحال ہر ایک کے باطن کو ہی ظاہر ہونا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عرب معاشرے کی اصلاح کے لیے پہلے اپنی نگاہِ کرم سے ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کے باطن سنوارے اور پھر ان کے ظاہر میں انقلاب لے آئے۔ کسی بھی معاشرے کو فلاحی ریاست (welfare state) بنانے کا نبویؐ طریق یہی ہے اور یہی بہترین راستہ بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ابتدائی تیرہ چودہ سالوں میں زیادہ عبادات فرض نہ فرمائیں بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ تمام مکی سورتوں میں اللہ تعالیٰ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے صحابہؓ کو اپنے اسم ’’اللہ‘‘ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے کا حکم دے رہا ہے۔

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ (العلق۔1)
ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنے ربّ کے اسم (اسمِ اللہ ذات) سے پڑھیں جس نے ہر شے کو پیدا کیا۔

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی (الاعلیٰ۔1 )
ترجمہ: اپنے ربّ کے اسم (اسمِ اللہ ذات) کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے۔

وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا  (مزمل۔8 )
ترجمہ: اور اپنے ربّ کے اسم (اسمِ اللہ ذات) کا ذکر کرتے رہیں اور ہر ایک سے ٹوٹ کر اسی کی طرف متوجہ رہیں۔
انسانِ کامل کی روحانی طاقت کی حامل نگاہ کے ساتھ ساتھ ذکر اسمِ اللہ ہر انسان کے باطن کو درست کرنے کا اصل طریقہ ہے اور باطنی درستی، ظاہری بہتری کی آئینہ دار ہے۔ جب معاشرے کا ہر شخص باطنی اور ظاہری طور پر بہتر ہو جائے گا تو پورا معاشرہ فلاح کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
تمام سروری قادری مشائخ طالبانِ مولیٰ کے باطن کی درستی اور تزکیہ نفس کے لیے اوپر بیان کردہ نبویؐ طریق ہی استعمال کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ تمام ادوار میں، سوائے غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے دور کے، یہ راستہ صرف چنے ہوئے خاص طالبانِ مولیٰ کے لیے مخصوص تھا اور عام مسلمانوں سے مخفی رکھا جاتا تھا لیکن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس طالبانِ مولیٰ کے لیے مزید آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور اور سلطان الاذکار ھُو کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما دیا ہے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے۔ تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات حاصل کریں اور معرفت ِ الٰہی کی نعمت سے سرفراز ہوں۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں