86

امیر الکونین–ameer-ul-kaunain

امیر الکونین

 تصنیفِ لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ

قسط نمبر 05
مترجم احسن علی سروری قادری

شرح اشتغالِ اللہ

ایک دم میں اللہ کے ساتھ مشغول ہونا اور ایک دم میں اللہ قدیم کے احوال کا اثبات ہونا کسے کہتے ہیں اور قدیم ذات کے اثبات سے کیا مراد ہے؟ اللہ کے ساتھ مشغول ہونے کی راہ کونسی ہے اور (قدیم ذات کے) احوال کے گواہ کونسے ہیں؟ جاننا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے (خود کو ظاہر کرنے کے لیے کائنات کو پیدا کرنا) چاہا تو کن فیکون کا نعرہ لگایا۔ قدرتِ الٰہی سے کل مخلوقات نورِ محمدی سے ظاہر ہو گئیں اور اللہ کی ذات جلوہ گر ہو گئی۔ اس کے بعد اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ   کی آواز اللہ تعالیٰ کی قدرت سے‘ جو ہر شے پر قادر ہے‘ تمام ارواح نے سنی اور جواب میں قَالُوْا بَلٰی کہا اور ایسا کہتے ہی بعض ارواح مستی ٔ حال میں آ گئیں اور اسی حضوری میں اللہ کے انوار کے دیدار میں غرق ہو گئیں اور اسی حالت میں شکم ِ مادر میں داخل ہوئیں اور اللہ کے ساتھ مشغولیت کی اسی حالت میں ماں کے پیٹ سے باہر (دنیا میں) آئیں۔ یہ مادر زاد ولی اللہ کی ارواح ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مد ِ نظر رہتے ہیں اور جان کنی کے وقت بھی اسی اشتغال میں محو رہتے ہیں اور قبر میں داخل ہوتے وقت بھی اسی اشتغالِ اللہ کی حضوری میں ہوتے ہیں اور جب صورِ اسرافیل پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوگی تب بھی وہ اسی حضوری اور اشتغال کی حالت میں ہوں گے اور جب قبر سے باہر نکل کر میدانِ حساب گاہ میں پہنچیں گے تب بھی اسی حضوری اور اشتغال میں ہوں گے اور جب پل صراط سے گزریں گے تو اسی اشتغال اللہ اور حضوری میں۔جب جنت میں داخل ہو کر حور و قصور کی طرف ان کی نگاہ پڑے گی تو بھی اسی حضوری اور اشتغالِ اللہ کی حالت میں اور جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دست ِ مبارک سے شرابِ طہور کا جام پئیں گے اور پانچ سو سال رکوع میں اور پانچ سو سال سجدے کی حالت میں جھکے رہیں گے تب بھی اسی حضوری اور اشتغال اللہ میں محو ہوں گے اور جب رکوع و سجود کی حالت سے اٹھیں گے تو اللہ معبود کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔ یہ طالب ِ مولیٰ کے حضوری اور اشتغالِ اللہ کے مطالب ہیں اور یہ معرفت، قرب، حضوری اور وصال حاصل کرنے کے لازوال مراتب ہیں جن سے ابتدا تا انتہا کل و جز کے احوال کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ پس مرشد کامل وہ ہوتا ہے جو نورِ ذات کی انتہا تک پہنچانے والا اور حضوری سے مشرف کرانے والا ہو اور جو طالب کا باطن معمور اور وجود مغفور بنا دے۔ پیر و مرشد پر فرضِ عین اور لازم و ضروری ہے کہ طالب ِ مولیٰ کو ایک دم اور ایک قدم میں بغیر ریاضت و طاعت کے اسمِ اللہ ذات اور کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  جو کہ حضورِ حق کی کلید ہیں‘ کے ذریعے کن فیکون کی کنہ سے ابتدا سے انتہا تک کے انوار کا نظارہ دکھا کر مشرفِ دیدار کر دے۔ طالب ِ مولیٰ کو اشتغالِ اللہ سے حضوری میں پہنچا کر ا س کا نصیب و منصب دلائے جیسا کہ اوپر تحریر ہوا ہے۔ جو مرشد طالب کو قرب، حضوری، معرفت اور وصال کے مراتب سے نوازے وہ مرشد جامع ہے ورنہ وہ خام ہے اور اس سے تلقین لینا مطلق حرام ہے۔ اگر باطن میں اشتغالِ اللہ، معرفت‘ قرب و وِصالِ الٰہی اور لذتِ دیدار کی نعمتیں نہ ہوتیں تو راہِ باطن پر چلنے والے سب طالب گمراہ ہو جاتے۔ جو کوئی اس راہِ راستی سے آگاہ ہوتا ہے اور اس پر چلتا ہے تو توفیق ِ الٰہی سے اللہ کا دیدار، قرب اور حضوری اس باتحقیق راستے پر اس کے رفیق ہوتے ہیں۔ جو کوئی اس میں شک کرتا ہے وہ منافق ہے اور قومِ زندیق سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ راہِ باطن ویسی ہی ہے جیسے تھی یعنی شرک، کفر، نفس ِ امارہ، بے دین دنیا اور شیطان سے فارغ ہے۔

وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (آلِ عمران۔97)
ترجمہ: اور جو اس میں داخل ہوا وہ امان پا گیا۔
یہ صفائے باطن کا مرتبہ ہے جس سے مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا  کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے طالب کو اولیا کے مراتب نصیب ہوتے ہیں۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ ابیات:

کل و جز در یک حرف عارف شناس
شاہ میشناسند عارفان در ہر لباس

ترجمہ: عارف کل و جز ہر شے کو ایک ہی حرف (اسمِ اللہ ) سے پہچان لیتا ہے۔ عارفین حق کو ہر لباس میں پہچان لیتے ہیں۔

جسم را در اسم پنہان می نمود
معرفت معراج وحدت می ربود

ترجمہ: عارف اپنے جسم کو اسم (اسمِ اللہ ذات) میں گم دیکھتا ہے جس سے اسے معرفت و معراج کے ذریعے وحدت حاصل ہوتی ہے۔
یہ فنا فی اللہ (عارف) کے مراتب ہیں۔ بیت:

چنان کن جسم را در اسم پنہان
کہ میگردد الف در بسم پنہان

ترجمہ: تو اپنے جسم کو اسم میں اس طرح فنا کر لے جس طرح الف ’بسم‘ میں گم ہوتا ہے۔
اس بارِ گراں کو اٹھانا لاھوت لامکان میں رہنے والے کامل انسان اور مردوں کا کام ہے جو تمام انسانوں سے برگزیدہ ہیں جیسا کہ انبیا اور اولیا اللہ۔ اسمِ اللہ ذات عظیم ہے اور اس کے عظیم بار کو اٹھانا اس کے لیے ہی ممکن ہے جس کا وجود معظم ہو۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَ حَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًاجَھُوْلًا۔ (الاحزاب۔72)
ترجمہ: بے شک ہم نے اپنی امانت آسمانوں پر، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کی لیکن وہ اس (بار) کی متحمل نہ ہو سکیں اور ڈر گئیں لیکن انسان نے اس کو اٹھا لیا بے شک وہ (اپنے نفس کے لیے) ظالم اور نادان ہے۔
  قَالَ فِی الْمَعْرِفَۃِ مَوْجُوْدُ  ثَلَاثَۃِ اَشْیَآءٍ اَلْصَبْرُ عَلَی الْجَفَآءِ وَالشُّکْرُ عَلَی الْعَطَآءِ وَالرَّضَآءِ بِالْقَضَآءِ فَمَنْ اَدْعِیَ الْمَعْرِفَۃِ وَلَمْ یَکُنْ فِیْہِ ھٰذِہِ الثَّلٰثَۃِ فَلَیْسَ یُصَادِقُ فِیْہِ۔
ترجمہ: فرمایا گیا ہے کہ صاحب ِ معرفت میں تین چیزیں ہونا ضروری ہیں (۱) مشکل میں صبر (۲) عطا پر شکر (۳) تقدیر پر رضا۔ پس جو صاحب ِ معرفت ہونے کا دعویٰ کرے لیکن اس میں یہ تین چیزیں نہ ہوں تو وہ اس دعویٰ میں ہرگز صادق نہیں۔
مصنف کہتا ہے کہ اہل ِ معرفت کے مراتب یہ ہیںکہ ان کے باطن آئینہ کی طرح صاف ہوتے ہیں جس میں وہ ہر مرتبہ اور ہر مقام کو اپنے مراتب ِ معرفت سے دیکھتے ہیں لیکن معرفت کی اصل نور ہے جو عارف کو دائمی حضوری عطا کرتا ہے۔ بعض لوگوں کو حضوری اس وھم سے حاصل ہوتی ہے جو وحدانیت سے ہوا ہو۔ بعض کو خیال سے حاصل ہوتی ہے جو اللہ کے قرب اور وصال سے متعلق ہوتا ہے۔ بعض کو توجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ توجہ جس کی توفیق وحدت سے حاصل ہوتی ہے۔ بعض کو فکر سے حاصل ہوتی ہے وہ فکر جو نفس کو فنا کر دے اور روح کے لیے فیض بخش اور معرفت کا باعث ہو۔ بعض کو یہ حضوری تصور سے حاصل ہوتی ہے ایسا تصور جو ہر شے کو ترک کرنے کے بعد اللہ پر توکل سے ہو۔ سعید کا ہر روز سعید، شقی کا ہر روز شقی اور کافر کا ہر روز ابتر ہوتا ہے۔ بعض کو حضوری تصرف سے حاصل ہوتی ہے۔ عارف کی نظر کا تصرف ہر دو جہان پر ہوتا ہے۔ بعض کو حضوری حال سے اور بعض کو قال سے حاصل ہوتی ہے۔ ولایت کے یہ تمام مراتب عارف کو حاصل ہوتے ہیں جو عالم باللہ ہوتا ہے۔ یہ عارف اور ولی اللہ کا اصل مرتبہ ہے۔ ابیات:

انتظار شہپر توفیق بردن کاہلیست
خویش را اُفتان و خیزان برسر منزل بیار

ترجمہ: توفیق کی امید کے انتظار میں رہنا کاہلی ہے۔ خود کو گرتے پڑتے جیسے بھی ہو اپنی منزل تک پہنچا۔

شمع پشت بر نمی آید ز کار پیش او
ہر چہ داری پیش تر از مرگ کن برخود فشار

ترجمہ: شمع کو پشت پر نہیں رکھتے۔ کام کرنے کے لیے اسے سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ جو کچھ تیرے پاس ہے مرنے سے پہلے اسے اپنے استعمال میں لے آ(کیونکہ مرنے کے بعد وہ تیرے کسی کام کا نہیں)۔

ہر چہ بر خود می پسندی بر کسان آنرا پسند
آنچہ بر خود چشم داری و آن ز مردم چشم دار

ترجمہ: جو کچھ تو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کر اور جس نظر سے تو خود کو دیکھتا ہے اسی نظر سے دوسروں کو دیکھ۔

خانہ در بستہ فانوس حضوری خاطر است
ہم زبان را بستہ ہم چشم را پوشیدہ دار

ترجمہ: (وجود کے) گھر کا دروازہ اگر بند کر دیا جائے تو فانوسِ حضوری روشن ہو جاتا ہے تو زبان کو بند کرلے اور اپنی نظر کو (غیر اللہ سے) بچا کر رکھ۔

ہر کہ این است درد در سینہ سائل نہاد
حاجت جنت گذارد چون پیشش رو بیار

ترجمہ: جس طالب کے سینے میں (عشق کا) یہ درد پیدا ہو جائے وہ جنت کی طلب بھی چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اس کے سامنے اس کے محبوب کا چہرہ ہوتا ہے۔
لیکن خام کا وھم وسوسہ ٔ شیطان ہوتا ہے اور اُسے مشاہدہ میں جو کچھ بھی نظر آتا ہے وہ بس خام خیالی ہے اور ناقص کا ذکر، فکراور مراقبہ بے تحقیق ہے اور اس کا مراقبہ میں غرق ہونا بے توفیق ہے۔

شرح غرق

غرق غیب ہے اور غیب کی تحقیق کس طرح کرنی چاہیے؟ مراقبہ ٔ حضوری توفیق ِ الٰہی سے ہوتا ہے اور توفیق کسے کہتے ہیں؟ توفیق نور ہے۔ جو کوئی توفیق ِ الٰہی سے نورِ توحید تک پہنچ جاتا ہے وہ غیب میں غرق ہو جاتا ہے اور حضورِ حق میں اللہ سے سوال وجواب کرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ غرق باطن کی خاص حضوری کا نام ہے۔ صاحب ِ باطن اس حضوری کے دوران باشعور ہوتا ہے۔ تمام جمعیت غرق ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ولی اللہ اسی غرق کی حالت میں ہوتے ہیں۔ راہِ غرق برحق ہے اور جس کسی کو غرقِ حق کے دوران حق حاصل نہیں ہوتا اس کا باطن باطل پر ہے کیونکہ خاص طالبوں کو غرق کی یہ حالت ان کے قربِ ربِّ جلیل کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔
جان لو کہ راہِ دل‘ روشن ضمیری اور حی ّو قیوم ذات میں غرق ہونے کی راہ ہے۔ جو کوئی حی ّو قیوم ذات کے علم کے مطالعہ میں غرق ہو جاتا ہے اس کو لوحِ محفوظ پر تحریر کردہ علم پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اس کی (اللہ سے) محبت اسے تمام اسرار کا محرم بنا دیتی ہے۔ جو کوئی اس محبت کا محرمِ راز ہو جاتا ہے وہ صادق طالب ِ مولیٰ کو اس کی طلب یعنی اللہ تک پہنچانے والا ہوتا ہے اور کاذب کو اس کی طلب خواہشاتِ نفس تک پہنچانے والا ہوتا ہے۔ یہ ہر برکت و عظمت اسمِ اللہ ذات سے ہے کیونکہ یہ خود اللہ کی ذات ہے۔ قاضی الحق ذاکر سے دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل دائمی ذکر‘ دوم دائمی مشاہد ہ اور حضوری۔ قاضی الحق فکر سے بھی دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل فنائے نفس‘ دوم گواہ یہ کہ وجود میں خواہش و ہوس باقی نہ رہے۔ قاضی الحق اہل ِ مراقبہ سے بھی دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل معرفت دوم مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری۔ قاضی الحق اہل ِ محبت سے بھی دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل مشاہدہ‘ دوم مشاہدہ کے لیے مجاہدہ۔ قاضی الحق طالب سے دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل طلب ِ دیدار‘ دوم مردار (دنیا) سے بیزاری۔ قاضی الحق مرشد سے بھی دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل اپنی نظر سے طالب کے دل کو بیدار کرنے اور دیدار والی آنکھ عطا کرنے کی طاقت، دوم طالب کو نورِ دیدار میں غرق کرنے کا تصرف۔ قاضی الحق صاحب ِ مذکور سے دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری عطا کرنے کی طاقت اور دوم قربِ الٰہی کے ذریعے نورِ الہام عطا کرنا۔ قاضی الحق فقیر سے دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل فیض دوم فضل جیسے بارانِ رحمت۔ قاضی الحق درویش سے دو گواہ طلب کرتا ہے ایک (عشق ِ الٰہی کا) دائمی درد، دوم دن رات علم ِ لوحِ محفوظ کا دائمی مطالعہ ۔ قاضی الحق عالم سے دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل کلامِ الٰہی اور کلامِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دوم اہل ِ وصال سے معرفت ِ الٰہی کی طلب میں کیے جانے والے نیک اعمال۔ قاضی الحق قاضی سے دو گواہ طلب کرتا ہے اوّل خدا تعالیٰ کو اس کی قدرت سے قدیم اور حاضر جانے، دوم مفلس و یتیم سے رشوت نہ لے۔ قاضی الحق اہل ِ حق کو حق تک پہنچاتا ہے اور باطل کو باطل ثابت کرتا ہے۔ مجھے اس قوم پر حیرت ہوتی ہے جو اپنے نفس پر قاضی نہیں بنتے اور نہ ہی رات دن اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کیسے ہو سکتے ہیںبلکہ وہ تو حیوانات سے بھی بدتر ہیں۔ اے عزیز! اصل انسان وہ ہے جو قدم ازل کی طرف رکھے اور نظر حساب گاہِ قیامت پر‘اور دنیا کی زندگی کو ایک رات کی مانند سمجھے جیسے راستے کے مسافر۔ دنیا کافروں کے لیے جنت اور جمعیت ہے۔ دنیا آرائش کا مقام نہیں بلکہ امتحان و آزمائش گاہ ہے۔ تجھے دنیا پسند ہے یا خدا تعالیٰ؟ یا تجھے دنیا پسند ہے یا صاحب ِ فقر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم؟۔ دنیا فرعون کی پسندیدہ ہے اسے فربہ اور فتنہ و فریب دینے والے پسند کرتے ہیں۔ نفس و دنیا متاعِ شیطان ہیں جن کی وجہ سے طالب ِ دنیا ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ دنیا کے مال و متاع کو ہر وہ شخص جمع کرتا ہے جو شیطان کے کہنے پر ہاتھ روکتا ہے اور بخل کی صفت اختیار کرتا ہے۔ سوائے ان تین قسم کے لوگوں کے‘ جو نفاق اور کینہ سے پاک ہیں ایک وہ جو رات کو جو کچھ کمائے اسے رات میں ہی خرچ کر دے، دوسرے وہ کہ جو کچھ دن میں کمائے اسے دن میں ہی خرچ کر دے اور تیسرے عارف باللہ جو ہر شے کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دے۔
صاحب ِ مدینہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
اَلدُّنْیَا مِزْرَعَۃُ الْاَخِرَۃِ۔
ترجمہ: دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
ابیات:

ہر کہ این راہ نداند کور تر
کی شناسد عارفان را بی بصر

ترجمہ: جو اس راہ کے متعلق نہیں جانتا وہ اندھوں سے بھی بدتر ہے۔ یہ اندھے (بے بصیرت) عارفین کو کیسے پہچان سکتے ہیں۔

اسم اللہ بس گرانست بی بہا
این حقیقت را بداند مصطفیؐ

ترجمہ: اسم ِ اللہ گراں قدر اور عظیم امانت ہے جس کی حقیقت کو صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی جانتے ہیں۔
جان لو کہ بعض فقیر لایحتاج ہوتے ہیں جنہیں کسی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ غنایت کے خزانوں کے حامل ہوتے ہیں لیکن تمام عالم پر تصرف کو ترک کر دیتے ہیں۔ بعض (نام نہاد) فقیر بے جمعیت ہوتے ہیں جو رزق کے پیچھے دربدر خوار و ہلاک ہوتے ہیں۔ پس اسمِ اللہ کو مفلس فقیر بھی پڑھتے ہیں اور غنی فقیر بھی۔ اسمِ اللہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اسمِ اللہ پڑھنے سے لایحتاج فقیر غنی ہو جاتے ہیں اور نام نہاد فقیر مفلس ہی رہتے ہیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ جو بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی عزت، عظمت اور قدر جانتا ہے اسمِ اللہ اسے عزت و عظمت اور اعلیٰ قدر مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے۔ جو کوئی اسمِ اللہ کی عزت نہیں کرتا اور اس کی قدر سے آگاہ نہیں اسمِ اللہ اسے فقر و فاقہ میں ہی خراب رکھتا ہے۔ علما کا بھی علم کے حوالے سے یہی طریق ہے کہ عالم کے لیے علم اللہ کی توفیق ہے۔ جان لے کہ فقیر ِ کامل، درویش مکمل، علما عامل، عارف اکمل، ولی اللہ غوث و قطب وہ ہیں جو فنا فی اللہ کے مرتبہ سے گزر کر کن کی حقیقت تک پہنچ جائیں اور اسمِ اللہ ذات کے تصور، تصرف، توجہ ، تفکر اور حضورِ حق سے اسمِ اللہ ذات کی حقیقت اور آیاتِ قرآن کے اصل معانی منکشف کر دیں اور انہیں عظمت ِ اسمِ اللہ ذات سے آگاہ کر دیں اور تصور اسمِ اللہ ذات کی توفیق اوراسمِ اللہ ذات کے تصرف کی تحقیق سے (طالب کو) دونوں جہان کا نظارہ ہتھیلی اور ناخن کی پشت پر دکھا دیں۔ مرشد کامل پہلے ہی روز طالب ِ صادق کو یہ قاعدہ اور سبق دیتا ہے اور دعوت شروع کرتے ہی ان مراتب سے نوازتا ہے۔ دعوت پڑھنا آسان کام نہیں ہے۔ علم ِ دعوت میں اسرارِ پروردگار کے عظیم خزانے ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ۔(المومن۔60)
ترجمہ: اور تمہارا پروردگار فرماتا ہے مجھ سے طلب کرو میں عطا کروں گا۔
اے جانِ عزیز اور صاحب ِ دانش و باعقل و باتمیز! یہ بھی جاننا چاہیے کہ اسمِ اللہ ذات اور نورِ ایمان عطائے فیض اور فضل ِ الٰہی ہیں جو قلب کی طے میں تحریر ہے ۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
    اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانِ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوْحِ مِّنْہُ ۔ (المجادلہ۔22)
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب پر ایمان لکھا جا چکا ہے اور اللہ نے ان کی مدد اپنی روح سے کی۔
ایسے ہی قلوب جن کا تعلق قربِ حق سے ہو‘ انہیں قلب ِ سلیم کہتے ہیں۔ جاننا چاہیے قلب ِ سلیم حق کو تسلیم کرنے والا ہوتا ہے۔ قلب ِ سلیم کے حامل شخص کا نفس مردہ اور قلب زندہ ہوتا ہے اور اسکی روح روشن ضمیر ہوتی ہے۔ اس کا قلب صراطِ مستقیم کا مشاہدہ کرنے والا ہوتا ہے اور وہ حق کی رضا پر ہوتا ہے اور وہ کُل کا حامل ہو جاتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَo اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔(الشعراء۔88,89)
ترجمہ: اس دن کوئی مال اور اولاد نفع نہ دے گی سوائے اس کے جو اللہ کے پاس قلب ِ سلیم لے کر آیا ہوگا۔
جو قلب خطرات، وسوسہ، وہمات، خناس، خرطوم، نفس، شیطان اور حوادث ِ دنیا سے نجات پا چکا ہو اور جو قلب ِ سلیم حق تسلیم کرنے والا ہو‘ اللہ کے نور، شفقت اور رحمت سے نوازا گیا ہوتا ہے۔ اور وہ قرآن کے احکامات کی موافقت کرنے والا اور نفس و شیطان لعین کا مخالف ہوتا ہے۔ (جاری ہے)

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں