ایثار– Aisaar

Spread the love

Rate this post

ایثار

تحریر: انیلا یٰسین سروری قاری۔ لاہور

اپنی ضرورت کی کوئی شے اپنے کسی بھائی کو دے دینا ’’ایثار‘‘ کہلاتا ہے۔
ارشادِ نبویؐ ہے:
اَیَّمَا اِمْرِیٍ ےَشْتَھِیْ شَھْوَ ۃً فَرَدَّ شَھْوَتَہٗ وَآثَرَ عَلٰی نَفْسِہٖ غُفِرَ لَہٗ
ترجمہ: ’’جو شخص کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور پھر وہ چیز اسے مل جائے تو اسے ترک کر دیتا ہے اور کسی دوسرے کو اپنی ذات پر ترجیح دیتا ہے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔‘‘
حضرت شیخ ابو حفص ؒ نے ارشاد فرمایا:
’’ایثار یہ ہے کہ اپنے روحانی بھائی کے حصوں کو دنیا اور آخرت کے کاموں میں اپنے حصوں پر مقدم رکھا جائے۔
شیخ یوسف بن حسنؒ کا قول ہے:
’’ جو شخص خود کو کسی چیز کا مالک سمجھے وہ صحیح طرح سے ایثار نہیں کرسکتا ، اس لیے کہ وہ اپنی ملکیت کا گمان کر کے اپنے آپ کو اس چیز کا حق دار سمجھے گا۔ ایثار وہی کر سکتا ہے جو یہ سمجھے کہ سب چیزوں کا مالک اللہ ہے جس کی دسترس میں جو کچھ ہے وہ بس اتنے کا حقدار ہے لہٰذا اگر کسی کو کوئی چیز مل جائے تو وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ لازم ہے کہ وہ اس امانت کو اس کے حاجت مند تک پہنچا دے۔ہمیشہ دوسروں کی مدد اور حاجت روائی میں مشغول رہنے کا نام ’’ایثار ‘‘ ہے۔
ایثار نہ صرف سرورِ کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بلکہ اہلِ ِ بیتؓ ، صحابہ کرامؓ اور اولیا کرامؓ کا بھی وصفِ خاص رہا ہے۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ہجرتِ مدینہ کے واقعہ سے بھی حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایثار ظاہر ہوتا ہے۔ کفار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جان کے دشمن بن بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بحکمِ خداوندی صدیقِ اکبرؓ کے ہمراہ غارِ ثور میں تشریف لے گئے۔ صدیقِ اکبرؓ نے اپنا گھر بار اور آرام و سکون اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ایثار فرمایا۔ اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بستر پر سوگئے اور اپنی زندگی کو ایثار فرمایا۔ حضرت علیؓ کے ایثار کی فضیلت کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں یوں بیان فرمایا:
’’ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ سے فرمایا میں نے تم دونوں کو بھائی بنا دیا ہے اور طویل زندگی عطا کی ہے تم دونوں میں سے کون اپنی زندگی ایک دوسرے کے لیے ایثار کرے گا؟ تو ان دونوں نے اپنی زندگی کو اپنے لیے اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں سے فرمایا تم اپنے اوپر ’’ علی‘‘ کی فضیلت کو دیکھو میں نے ’’رسول اللہ‘‘ اور ’’علی‘‘ کے درمیان بھائی چارے کا رشتہ قائم کیا تھا تو ’’علی‘‘ نے اپنے مر جانے اور قتل ہوجانے کو اختیار کر لیا اور ’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)‘‘ پر اپنی جان فدا کرتے ہوئے ان (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی جگہ پر سو گئے اور خود کو موت کے حوالے کرتے ہوئے اپنی زندگی ایثار کردی۔ اب تم زمین پر جاؤ اور دشمنوں سے ’’علیؓ‘‘ کی حفاظت کرو‘‘۔ دونوں معزز فرشتے زمین پر تشریف لائے ان میں سے ایک حضرت علیؓ کے سرہانے اور ایک پائنتی کھڑا ہوگیا ۔ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا:
ترجمہ: بہت عمدہ!بہت عمدہ! اے ابو طالب کے صاحبزادے ! آپ جیسا کون ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے آپ پر فخر کا اظہار کیا ہے۔
تو اس وقت ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنِ ےَشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَؤْفٌ بِالْعِبَادِ (البقرہ۔207)
ترجمہ: اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنے آپ کو فروخت کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بارے میں بڑا مہربان ہے۔
وَےُؤثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃً (الحشر۔9)
ترجمہ:اور وہ دوسرے کے لیے ایثار کرتے ہیں خواہ انہیں خود شدید ضرورت ہو۔
قرآنِ مجید کی یہ آیت صحابہ کرامؓ کے خصوصی جذبہ ایثار کو ظاہر کرنے کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
غزوہ احد کے دوران جب حق و باطل کی شدید خون ریز جنگ جاری تھی اس وقت بھی اہلِ ایمان کی آزمائش ہوئی ۔ انصار کی ایک خاتون بیان کرتی ہیں کہ مَیں میدانِ جنگ میں زخمی صحابہ کو پانی پلانے کی ذمہ داری سرانجام دے رہی تھی۔ مَیں نے ایک صحابی کو دیکھا وہ آخری سانسیں لے رہے تھے ، انہوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ میں پانی لیکن ان کے پاس آؤں میں پانی لے کر ان کے پاس پہنچی تو ایک اور زخمی نے آواز دی ، تو انہوں نے اشارہ کیا کہ ان کے پاس لے جاؤ جب میں پانی لے کر اس دوسرے شخص کے پاس گئی تو وہاں سے ایک اور آواز آگئی، اس شخص نے بھی پانی نہیں پیا اور کہا تم یہ پانی اس شخص کے پاس لے جاؤ اس طرح میں سات لوگوں کے پاس وہ پانی لے کر گئی ساتوں اصحاب کا پانی پینے سے پہلے ہی انتقال ہوگیا۔میں لوٹ کر واپس پہلے صحابی کے پاس آئی تو ان کا بھی انتقال ہوچکا تھا۔ اس طرح ہر ایک صحابی نے اپنے دوسرے صحابی کی زندگی بچانے کے لیے اپنی ضرورت یعنی پیاس او ر جان کا ایثار کیا۔

ایثار کی اقسام
ایثار کی دو اقسام ہیں:
* ایک یہ کہ بندہ لوگوں کے ساتھ رہنے کے حوالے سے ایثار کرے یعنی آدمی کسی کے ساتھ رہتے ہوئے اس کے حق کا خیال رکھے، اپنی ضرورت پر اپنے ساتھی کی ضرورت کو ترجیح دے، خود تکلیف برداشت کرے لیکن اپنے ساتھی کے آرام و سکون کا مکمل خیال رکھے اور اپنے ساتھی کے ساتھ ہمدردی اور حسنِ اخلاق کا سلوک روا رکھے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لیے کوشش کرتا ہے وہ پوری ہو یا نہ ہو مگر اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کو دوزخ سے بَری کر دیتا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لیے چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم پر ستر نیکیاں لکھتا ہے اور ستر برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب اس کے ہاتھوں اس مسلمان بھائی کی ضرورت پوری ہو جائے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ ابھی اس دنیا میں آیا ہو اور اگر وہ اس دوران میں فوت ہو جائے تو بغیر حساب جنت میں داخل ہو جائے گا۔‘‘
* ایثار کی دوسری قسم یہ ہے کہ بندہ محبت میں ایثار کرے۔ ساتھی کے ساتھ ایثار کرنے میں رنج اور تکلیف کا پہلو پایا جاتا ہے اور محبت میں ایثار کرنے کے حوالے سے صرف راحت کا پہلو پایا جاتا ہے۔

انصار کا مہاجرین کے لیے محبت میں ایثار
حضرت عبدا للہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ بنونضیر کی جنگ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انصار سے ارشاد فرمایا:
اگر تم چاہو تو اپنے مال اور گھروں میں مہاجرین کو شریک کر لو، پھر تم اس مالِ غنیمت میں بھی ان کے شریک ہو جاؤ اور اگر تم چاہو تو تمہارا مال اور تمہارے گھر تمہارے پاس رہیں مگر تمہیں اس مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا( اس لیے کہ اس وقت مہاجرین کے پاس نہ گھر ہیں نہ مال)۔ اس کے جواب میں انصار نے عرض کیا:
اپنے مہاجر بھائیوں کو ہم اپنے اموال اور گھروں میں برابر کا شریک کریں گے ، اس کے علاوہ مالِ غنیمت پر صرف انہی کاحق ہے، ہم اپنا حق ان کے حق میں ایثا رکرتے ہیں ہم اس میں ان کے شریک نہیں ہوں گے۔
بے شک یہ آیت صحابہ کرامؓ کے ایثار پر نازل ہوئی:
وَےُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ (سورۃ حشر)
ترجمہ: اور وہ ایثار کر تے ہیں اپنے نفسوں پر خواہ انہیں کس قدر تنگی ہو۔

حضرت شیخ ابوالحسن نوریؒ کا ساتھی کے لیے ایثار
شیخ ابو الحسن حق کے نور کی وجہ سے مریدوں کے دلوں کے بھید کو جان لیتے تھے ۔ حضرت بغدادیؒ انہیں ’’دلوں کا جاسوس‘‘ کہا کرتے تھے۔
عباسی حکومت میں صوفیا کرام کے معمولات اور نظریات کے حوالے سے الزامات لگائے گئے۔ جس وقت غلام الخلیل نے صوفیا کرام کی مخالفت شروع کی تو حضرت جنید بغدادی ؒ اپنی فقاہت کی بدولت شاہی عتاب سے محفوظ رہے مگر شیخ نوریؒ ، شیخ رقامؒ اور شیخ ابو حمزہؒ کو گرفتار کر کے خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیاغلام الخلیل نے صوفیا کرام سے بغض کی وجہ سے خلیفہ سے کہا یہ لوگ بے دین ہیں اگر انہیں قتل کر دیا جائے تو ریاست سے بے دینی کا خاتمہ ہو جائے گا اور مزید یہ کہ اس امر سے خلیفہ کو آخرت میں بہت اجرو ثواب ملنے کی امید ہے۔ خلیفہ نے اسی وقت ان حضرات کو قتل کرنے کا حکم دیا جلاد آیا اور اس نے تینوں کے ہاتھ باندھ دئیے جب سب سے پہلے شیخ رقامؒ کو قتل کرنے کے لیے لے جانے لگے تو شیخ نوریؒ اپنی جگہ سے اُٹھے اور سب سے پہلے شیخ رقامؒ کی جگہ پر بیٹھ گئے لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوگئے جلاد نے کہا ’’ اے جواں مرد! تلوار کوئی اتنی اچھی چیز نہیں جو تم اس طرح اس کے آگے آگئے ہو، ابھی تمہاری باری نہیں آئی تو شیخ نوری ؒ نے کہا طریقت میں میرا طریقہ ایثار پر مبنی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ترین چیز زندگی ہوتی ہے اس لیے میں یہ چاہتا ہوں اپنی سانسیں بھی اپنے بھائیوں کے لیے ایثار کر دوں، کیونکہ میرے نزدیک دنیا کا ایک سانس آخرت کے ایک ہزار سال سے بہتر ہے یہ دنیا عمل کی جگہ ہے اور آخرت ثواب کا گھر ہے، یہ خدمت کا مقام ہے اور آخرت ثواب کا گھر ہے یہ خدمت کا مقام ہے اور آخرت قربت کا مقام ہے اور قربت انسان کو خدمت کے ذریعے ہی نصیب ہوتی ہے لہٰذا میں نے اپنے بھائیوں کے لیے ایک گھڑی کی زندگی کاایثار کیا ہے ۔راہِ فقر و تصوف میں بھی ایثار کو بنیادی مقام حاصل ہے اگر یہ کہا جائے تصوف کی بنیاد ہی ایثار ہے غلط نہ ہوگا۔ چونکہ فقر دنیا سے لاتعلق ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، خوشنودی اور دیدا ر پانے کی راہ ہے اور اس راہ پر آپ صر ف اسی وقت ثابت قدمی سے چل سکتے ہیں جب تک اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایثار نہ کردیں۔ شیخ روئیمؒ نے تصوف کی تین بنیادی خصلتیں بیان فرمائی ہیں:
1۔ فقر اختیار کرنا
2۔ سخاوت و ایثار کرنا
3۔ اپنی کوشش اور اپنی پسند کو چھوڑ دینا
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فقر میں ایثار کے بارے میں فرماتے ہیں :
’’ فقر کیا چیز ہے؟ فقر یہ ہے کہ تو طمع نہ کرے اگر کوئی تجھے کچھ دے تو منع نہ کرے اگر تجھے کچھ ملے تو جمع نہ کرے۔‘‘ (عین الفقر)
لہٰذا طالبِ مولیٰ کو چاہیے کہ وہ دنیا کی طمع و حرص نہ کریں کیونکہ دنیا کا سودا تو خسارے کا سودا ہے اور یہ عارضی ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان سب سے بڑا حجاب ہی دنیا او ر خواہشاتِ دنیا ہیں۔
صاد ق طالبِ مولیٰ کسی چیز کی حرص نہیں کرتا بلکہ وہ سخاوت کی بجائے ایثار کو اپناتا ہے۔ اپنی ضرورت سے زائد چیز اپنے مسلمان بھائی کو دے دینا’’سخاوت ‘‘ کہلاتا ہے ۔ جبکہ اپنی ضرورت کی چیز کسی دوسرے کی حاجت پوری کرنے کے لیے دینا ’ایثار‘‘کہلاتا ہے۔ یعنی ایثار کمال سخاوت ہے۔
ایثار و ہمدردی صوفیا کرام کا اخلاقی وصف ہے اسی وصف کی بنا پر جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اسے قربان کر دیتے ہیں اور اگر کچھ نہ ہو تووہ صبر کرتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے۔ صحابہ کرامؓ صادق طالب تھے۔ دورِ حاضر کے طالبانِ مولیٰ کو بھی چاہیے کہ وہ صحابہ کرامؓ کے طریقہ زندگی (جو انہوں نے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہِ کامل سے اپنے نفس کا تزکیہ کر کے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت میں رہ کر اختیار کئے) کی پیروی کریں۔ انسان کے لیے اپنی محبوب ترین چیز سے دستبردار ہونے سے سخت کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرامؓ کا ہمیشہ ہی یہ طرزِ عمل رہا وہ ہمیشہ اپنی ضرورتوں کو ایک دوسرے کی حاجت روائی کے لیے ایثار فرماتے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْ امِمَّا تُحِبُّوْنَ (آلِ عمران)
ترجمہ: تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو۔
طالب صادق کو بھی چاہیے کہ وہ اللہ کی رضا او رمعرفت پانے کے لیے اپنی جان اور مال و دولت کی پروانہ کرے اور اخلاص نیت اور عاجزی سے دورِ حاضر کے انسانِ کامل (مرشد کامل اکمل) کی صحبت اختیار کرے انسانِ کامل کی نگاہِ فیض سے اپنی ظاہری و باطنی حالت کو درست کروائے۔
ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
اَلْشَّےْخُ فِیْ قَوْمِہٖ کَنَبِّیٍ فِیْ اُمَّتِہٖ
ترجمہ: شیخ (مرشد کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسا کہ ایک نبی اپنی اُمت میں۔
ایثار چونکہ جمع کا مقام ہے اس میں کسی قسم کے تفرقہ کے اثرات نہیں ہے۔ اس لیے طالبِ مولیٰ اس وصف (ایثار) کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو نفس اور دنیا اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ لیکن صحبتِ مرشد کی کشش اس کے ساتھ کار فرما ہوتی ہے۔ جس کی بدولت طالبِ مولیٰ اللہ کے دیدار اور معرفت کی خاطر اپنے مال و دولت تو کیا اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا۔ اس مقام پر نگاہِ مرشد کے فیض سے طالب کے تمام احوال و افعال آپس میں اس طرح مل جاتے ہیں کہ نہ تو ان کی تعبیر کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان احوال کو کوئی نام دیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ شیخ ابو بکر شبلیؒ فرماتے ہیں:
غِبْتَ عَنِّیْ فَمَا اُحِسُّ بِنَفْسِیْ
وَ تِلَاشَتْ صِفَاتِیْ الْمَوْصُوْفَۃ
فَاَنَا الْےَوْمُ غَاءِبٌ عَنْ جَمِےْعٍ
لَےْسَ اِلَّا الْعِبَادَۃُ الْمَلُھُوْفَۃً
ترجمہ: تُو مجھ سے چھپ گیا ہے، تُو مجھے اپنی ذات کا بھی احساس نہیں رہا، میری تمام صفات فنا پذیر ہوگئی ہیں اور ختم ہوگئی ہیں اس لیے میں آج کے دن ہر چیز سے محروم ہوں، میں کچھ بھی نہیں ہوں، صرف ایک درد کی تحریر ہوں۔


Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں