قربِ دیدار | Qurb e Deedar

Spread the love

Rate this post

قربِ دیدار

قسط نمبر 06

معرفت کسے کہتے ہیں؟ معرفت جاننے اور پہچاننے کو کہتے ہیں۔ جس نے بھی پہچان لیا وہ دیدار تک پہنچ گیا۔ جس نے دیدار حاصل کر لیا وہ نورِ ذات تک پہنچ گیا اور توحید کو اختیار کر کے مشاہدۂ معرفت اور دیدار کی لذت چکھ لی۔ جس نے معرفت حاصل کر لی وہ عارف باللہ ہو گیا۔ اس کی باطنی آنکھ ہمیشہ معرفت اور دیدار سے مشرف رہتی ہے۔ وہ باادب، خاموش اور شریعت میں ہوشیار ہوتا ہے۔ معرفت کے یہ مراتب علما باللہ اور فقیر اولیا اللہ کو حاصل ہوتے ہیں۔ علما باللہ کی توجہ، نظر، تفکر، تصور، تصرف سے طالب روزِ اوّل ہی عالم باللہ بن جاتا ہے جبکہ اولیا اللہ کی نظر، توجہ، تصرف، تصور اور تفکر سے طالب پہلے دن ہی اولیا اللہ کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے۔فرمانِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے: 
  مَنْ عَرَفَ رَبَّہٗ فَقَدْ کَلَّ لِسَانَہٗ
ترجمہ:جس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا پس اس کی زبان گونگی ہو گئی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ط  (یونس۔62)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کے اولیا پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے۔
حدیثِ قدسی:
دَعَ نَفْسَکَ وَتَعَالِ 
ترجمہ: اپنے نفس کو چھوڑ دے اور اللہ تک رسائی حاصل کر۔
دنیا، شیطان، نجس، مردود اور مردار ہے ۔ 
مثنوی

تا نہ بینم باچشم باور کجا
دیدۂ بیدار نہ بیند سر ہوا

ترجمہ: جب تک میں اپنی آنکھ سے دیکھ نہ لوں تب تک کامل یقین کیسے کروں؟ جس کی با طنی آنکھیں بیدار نہیں وہ محض نفسانی خواہشات کے مطابق دیکھتا ہے۔

این چشم پر آب و خون خواب بر
چشم نورش معرفت نور از نظر

ترجمہ: یہ خون اور پانی سے بھری ہوئی جسمانی آنکھیں خواب دیکھنے کے لیے ہیں۔ نورِمعرفت حاصل کرنے کے لیے باطنی آنکھوں کا نور چاہیے جو فقیرِ کامل کی نگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔

ہر طرف بینم بیابم ذات نور
یک نظر عارف برد باحق حضور

ترجمہ: میں جس طرف نظر کرتا ہوں نورِ ذات ہی دیکھتا ہوں۔ عارف کی ایک ہی نگاہ حضوری میں پہنچا دیتی ہے۔ 

گر توجہ میکند آن اہل راز
فقر لایحتاج گردد بی نیاز

ترجمہ:اگر اہلِ راز مرشد تجھے اپنی توجہ سے نواز دے تو تجھے فقرِ لایحتاج عطا کر کے بے نیاز بنا دے گا۔

چشم دو عین است آخر شد دو عین
از دوئی برخیز یکتا جان بین

ترجمہ: آنکھیں دو ہیں (ایک ظاہری اور ایک باطنی)۔ جب وہ دونوں ایک ہو جاتی ہیں تو ان سے دوئی کا پردہ اُٹھ جاتا ہے اور وہ ایک ہی ذات کو دیکھتی ہیں۔

شد بسد سکندری خود درمیان
درمیان خود رفتہ شد عین العیان

ترجمہ: تیری اپنی ذات سدِسکندری (کانسی کی دیوار جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سکندر بادشاہ نے چینی تاتار اور چین کے درمیان بنائی تھی) کی طرح اللہ اور تیرے درمیان حائل ہے۔ جب تو خود کو درمیان سے نکال دے گا تو تجھے عین العیان (دیدار) حاصل ہو جائے گا۔

پردہ بیرون آمدن حکمت نما
غرق شو با اسم اللہ دل صفا

ترجمہ: تمام حجابات سے نکل آنے پر حکمت حاصل ہوتی ہے۔ پس تو اسم اللہ  ذات میں غرق ہو کر تصفیہ قلب پا لے۔

ذکر فکر پردہ شد علمش حجاب
ذکر را بگذار مذکورش بیاب

ترجمہ: راہِ معرفت میں علم، ذکر اور فکر بھی حجاب ہیں۔ ذکر سے گزر اور مذکور تک پہنچ۔

ذکر بی مذکور گردد صد حجاب
غرق فی التوحید فی اللہ کامیاب

ترجمہ:مذکور کو پہچانے بغیر ذکر کرنا سو حجابوں کے برابر ہے۔ غرق فی التوحید اور فنا فی اللہ ہو جانے سے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

غرق باعین است عین از غرق بین
تاشوی عارف خدا دیدار بین

ترجمہ:غرق عین کے ساتھ ہے۔ غرق ہو کر عین (ذاتِ خداوندی) کو دیکھ تاکہ تو اس کا دیدار کرنے والا عارفِ خدا بن جائے۔
مرد طالبِ مولیٰ کے قلب و روح ہر لمحہ اور ہر دم دیدار کے مشتاق رہتے ہیں۔ مردِمطلوب  ھَلْ مِنْ مَّزِیْدَ  ھَلْ مِنْ مَّزِیْدَ الْمُشْتَاقُ اِلَی الْمُشَاہِدَۃٌ   ترجمہ: ’’ہم تیرے مشاہدے کے مشتاق ہیں۔ کیا اور ہے؟ کیا اور ہے؟‘‘ کی فریاد کرتا رہتا ہے۔
بیت:

نظر بر دیدار دل دیدار در
دل نظر یکتائی نظار تر

ترجمہ: نظر بھی دیدار میں گم ہے اور دل بھی دیدار میں غرق ہے۔ جب دل اور نظر یکتا ہو جاتے ہیں تو دیکھنے والے کے لیے دیدار مزید واضح ہو جاتا ہے۔
اگر تجھے فقر کی نگاہ حاصل ہے تو دیدار کی طرف رخ کر۔ ورنہ اہلِ دیدار اور فقر کا گلہ اور ان کا انکار مت کر کیونکہ ایسا کرنا تیرے لیے دونوں جہان میں ذلت و خواری کا باعث ہو گا۔

بیت:

خندہ ہا بر سینۂ صافان میکنی ہشیار باش
ہر کہ بر آئینہ خندد رِیش خندی خود کند

ترجمہ: باصفا لوگوں کا مذاق اڑانے سے باز آ جا کیونکہ جو کوئی آئینے کو دیکھ کر ہنستا ہے وہ اپنی ہنسی خود اڑاتا ہے۔
اگربے بصر مادر زاد اندھے کو ہزار مرتبہ سورج اور آئینہ دکھایا جائے تو بھی اسے کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ مردہ دل طالب لبِ گور تک اندھا ہی رہتا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی      (بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ: اور جو شخص اس دنیا میں (دیدارِ الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔
بیت:

چشم باطن معرفت با دل نظر
چشم ظاہر داشتند ہم گاؤخر

ترجمہ: اپنے قلب پر نظر رکھ کہ اللہ کی معرفت باطنی آنکھ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ ظاہری آنکھیں تو گدھے اور بیل کے پاس بھی ہیں۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی   (النجم۔17)
ترجمہ: ان (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نظر نہ (حق سے) ہٹی اور نہ حد سے بڑھی۔
بیت

دنیا را بگذار و عقبیٰ را مبین
نظر بر اللہ بود عارف یقین

ترجمہ: دنیا کو چھوڑ اور عقبیٰ کو بھی مت دیکھ۔ عارف کی نظر تو مکمل یقین کے ساتھ صرف اللہ پر ہی رہتی ہے۔
اگر کسی تصنیف کا مصنف عارف باللہ فقیر کامل اور نفس پر حاکم ہے تو اس کتاب کے مطالعہ سے قاری کے وجود میں تصنیف کی تاثیر کلی طور پر رواں ہو جاتی ہے اور وہ روشن ضمیر بن جاتا ہے۔ اس کی باطنی آنکھ روشن ہو جاتی ہے، وہ بابصیرت عامل کامل اور نفس پر حکمران ہو جاتا ہے۔ اگر تصنیف تاثیر ِکلی رکھتی ہو تو اس کا مطالعہ کرنے والے کو تجلیاتِ ذات کے مشاہدہ سے معرفت نصیب ہوتی ہے اور وہ قربِ الٰہی اور مطلق وصال سے مشرف ہو جاتا ہے۔ ابیات:

ہیچ علمی بہتر از تفسیر نیست
ہیچ تفسیری بہ از تاثیر نیست

ترجمہ: کوئی بھی علم، علمِ تفسیرسے بہتر نہیں۔ کوئی تفسیر تاثیر سے بہتر نہیں۔

گر کسی دل روشن از تفسیر نیست
آں تفسیری باتاثیر نیست

ترجمہ: اگر تفسیر پڑھنے سے دل روشن نہیں ہوتا تو ایسی تفسیر تاثیر نہیں رکھتی۔
اگر عالم صاحبِ تفسیر بے تاثیر ہے تو وہ مفسد ہے۔ اگر چلہ کرنے والے کی تاثیر بغیر علمِ تفسیر کے ہے تو وہ رجعت کھا کر مرتے وقت دیوانہ یا کافر ہو جائے گا۔ جو جاہل ہے، وہ عارف فقیر نہیں ہو سکتا اور جو فقیر ہے وہ جاہل نہیں ہو سکتا۔ بیت

علم را آموز از مہد تا لحد
انتہائی نیست علمش تا حد ز حد

ترجمہ:مہد سے لحد تک علم حاصل کر۔ علم کی کوئی انتہا نہیں خواہ ایک حد سے دوسری حد یعنی ازل سے ابد تک کا علم حاصل ہو جائے۔
علم مونسِ جان ہے۔ جاہل فقیر شیطان کا ساتھی ہے۔ بیت

علم ظاہر شیر باطن شد شکر
ہر دو را آمیز بہ از شہد تر

ترجمہ: ظاہری علم دودھ کی طرح ہے اور باطنی علم شکر کی طرح۔ دونوں کو ملالے تا کہ شہد سے زیادہ بہتر ہو جائے۔
دعوت پڑھنے کے لا ئق وہ شخص ہے جو عامل کامل اور عین العیان ہو، جس کا وجود مغفور ہو اور روحانی جسم قربِ ربانی کی حضوری سے مشرف ہو۔ ایسا شخص صاحبِ توجہ و توفیق، صاحبِ تصور تحقیق اور صاحبِ تصرف و تصدیق و تفکر ہوتا ہے۔ صدیق وہ ہے جس کو فنا فی اللہ عارف باللہ کا مرتبہ حاصل ہو، اسم اللہ ذات میں مستغرق رہتا ہو اور مشاہدۂ باطنی میں نورِ ذاتِ الٰہی کی تجلیات سے فیض یاب ہو۔ جس شخص کو یہ صفات حاصل ہیں وہ اس لائق ہے کہ اولیا اللہ روحانی کی قبروں پر جا کر دعوت پڑھ سکے۔ جب کامل صاحبِ دعوت کسی ایسی قبر پر جائے جو بمنزلہ تیغ برہنہ ہو تو قبر کے نزدیک بیٹھ کر قرآنِ مجید سے سورۂ الملک یا سورۂ یٰسین یا سورۂ مزمل پڑھے یا پھر جتنا قرآن اسے یاد ہے وہ پڑھے اور دل سے روحانی کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اگر دعوت پڑھنے والا غالب ہے تو روحانی ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہو جائے گا اور باادب ہو کر قرآنِ مجید سنے گا اور اگر دعوت پڑھنے والا ناقص ہے تو روحانی ایک ہاتھ یا ایک بالشت کے فاصلے پر اس کے روبرو باادب بیٹھ کر قرآنِ مجید سنے گا۔ اگر اس وقت دعوت پڑھنے والا علمی ترتیب سے اس روحانی کو قید کرلے تو وہ ساری عمر اس کی قید سے ہرگز رہائی حاصل نہیں کر پائے گا، وہ جہاں چاہے گا روحانی حاضر ہو جائے گا۔ ایک روحانی صاحبِ باطن عارف باللہ ناظر ولی اللہ کو اس قدر قوت اور قدرت حاصل ہوتی ہے کہ اگر تمام جہان کے جن و انس، فرشتے اور جو کچھ روئے زمین پر ہے، سب ایک جگہ جمع ہو جائیں تو بھی وہ زندہ روحانی تمام عالم پر غالب ہو گا۔ اگر صاحبِ دعوت باترتیب دعوت پڑھے گا تو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک اور روزِ قیامت تک آنے والے تمام انبیا، اولیا اللہ، غوث، قطب، شہید، ابدال، اوتاد، فقیر، درویش، عارف، ولی، مومنوں اور مسلمانوں کی ارواح اور کائنات کی تمام زندہ ارواح دعوت پڑھنے والے کے گرد بگرد صف با صف کھڑی ہو جائیں گی اور وہ سب کے ساتھ مصافحہ کرے گا۔ دعوت پڑھنے والے کو اپنی تمام زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی اس مجلس کی ملاقات حاصل رہے گی۔ اس قسم کی دعوت پڑھنا صرف صاحبِ عیان کے لیے ممکن ہے کیونکہ ایسا عیان العیان یہ دعوتِ قبور قرآن کی برکت سے پڑھتا ہے اور تمام ارواح کو اللہ تعالیٰ کے حکمِ حضوری سے قید کرتا ہے۔ جو اہلِ دعوت یہ کامل راہ نہیں جانتا وہ دعوت پڑھنے کے کسی علم سے آگاہ نہیں۔ ارواحِ قبور پر غالب اہلِ دعوت اہلِ حضور فقیر اگر ارواح و قبور کو ایذا پہنچائے گا تو دونوں جہان میں اور آخرت میں بھی ذلیل و خوار ہو گا۔ 

جان لے کہ خاموشی کی چار قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کی خاموشی اہلِ دنیا، متکبر اور ظالم لوگوں کی ہے جو تکبر اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے غریب، عاجز، مظلوم، مسکین اور فقیروں سے ہمکلام نہیں ہوتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مَظْلُوْمًا وَّلَا تَجْعَلْنِیْ ظَالِمًا 
ترجمہ:اے اللہ تعالیٰ! تو مجھے مظلوم بنا اور ظالموں میں سے نہ بنا۔
اَللّٰھُمَّ اَحْیِیْنِیْ مِسْکِیْنًا وَّ اَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَّ احْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنِ 
ترجمہ: اے پروردگار! تو مجھے مساکین جیسی زندگی دے، مساکین جیسی موت عطا کر اور حشرکے روز مساکین کے ساتھ اٹھا۔
غریب وہ ہے جس کے وجود میں غلطی، غیبت، غضب و غصہ کی غلاظت نہ ہو اور شکستہ اسے کہتے ہیں جس نے اپنی گردن پر اطاعتِ الٰہی کا طوق پہنا ہوا ہو۔ مسکین کا خطاب سب اولیا اللہ کو ربّ الارباب کی طرف سے عطا ہوا ہے۔

خاموشی کی دوسری قسم وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جن کا مقصد اپنے عیبوں کو چھپانا ہوتا ہے۔ وہ خاموشی کی آڑ میں خود فروشی اور دکانداری کرتے ہیں۔ ایسے دکاندار ظاہر میں جمعیت سے آراستہ نظر آتے ہیں لیکن ان کا باطن معرفت سے محروم اور پریشان حال ہوتا ہے۔ ان کی درویشی سراسر مکرو فریب ہوتی ہے۔ جان لو کہ ان کی خاموشی حلیمی، سلیمی اور علم در حقیقت لوگوں کو پھانسنے کا جال ہے اور از روئے تکبر ہوتی ہے۔ 

تیسری قسم کی خاموشی ان لوگوں کی ہے جن کا قلب تفکر، ذکر، فکر، مراقبہ اور اللہ کی جانب متوجہ رہنے سے زندہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ قلب ہے جو اللہ سے پیوست ہے۔ وہ اپنے قلب سے الہام اور روزِ الست کے کن فیکون کے پیغام حاصل کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی اس وجہ سے ہے کہ ان کی آنکھیں عین العیان دیدار میں مست ہیں اور وہ قربِ رحمن میں جڑے ہوئے ہیں۔
 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی  (طٰہٰ۔5)
ترجمہ:وہ رحمن ہے جس کا استویٰ عرش پر ہے۔
بیت

عرش اکبر دل بود از دل بہ بین
نظر حق بر دل بود حق الیقین

ترجمہ: دل اللہ کا عرشِ اکبر ہے، اُسے دل میں دیکھ۔ یہ بات حق الیقین سے جان لے کہ نظرِ حق دل پر رہتی ہے۔
چہارم خاموشی ان لوگوں کی ہے جن کی جان بے حجاب دیدار کی وجہ سے کباب ہو گئی ہے اور وہ خونِ جگر پیتے ہیں۔ یہ لوگ نفس، دنیا اور شیطان کو فراموش کر کے معرفتِ الٰہی میں محو رہتے ہیں۔ جو طالب توحیدِ الٰہی میں غرق اور نورِ ذات کے دیدار سے مشرف ہوتا ہے اس کے لیے اس طرح کی خاموشی فرضِ عین ہے اور اس کی یہ خاموشی اللہ کے ساتھ خلوت ہوتی ہے۔ ایسے طالب باطن میں مست اور ظاہر میں شریعت میں ہوشیار ہوتے ہیں۔ وہ بدعت اور غیر شرعی کاموں سے ہزار بار استغفار کرتے ہیں۔ ان کے ذکر میں لازوال ذوق شامل ہوتا ہے اور اس طرح کے ذکر کو ذکرِ اللہ یگانہ کہتے ہیں۔ بہت زیادہ بولنا اور بے معنی کلام رجعت کا پیش خیمہ ہے۔ ناقص کے پاس نہ معرفت کی حکمت ہے اور نہ حکمِ حضوری اور قربِ الٰہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا
لَا تُکَلِّمُوْا کَلَامِ الْحِکْمَۃِ عِنْدَ الْجُھَالِ   
ترجمہ: جاہلوں کے سامنے دانائی کی باتیں نہ کیا کرو۔
اس حدیث میں جاہل سے مراد وہ شخص ہے جو علمِ تصوف، علمِ باطن اور وصال و معرفتِ الٰہی سے محروم ہے۔ حدیث:
مَنْ عَرَفَ رَبَّہٗ فَقَدْ کَلَّ لِسَانَہٗ 
ترجمہ: جس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا اس کی زبان گونگی ہو گئی۔
اَلسَّکُوْتُ رَأسَ الْاِسْلَامِ 
ترجمہ: خاموشی اسلام کی بنیاد ہے۔
اَلسَّکُوْتُ تَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ سَکَتَ سَلَمَ نَجَا اَلسَّکُوْتُ قُرْبُ الرَّبِّ اَلسَّکُوْتُ اَنِیْسُ الرَّحْمٰنِ اَلسَّکُوْتُ مَعَ اللّٰہِ قَالَ الْقَلْبِ  اَلسَّکُوْتُ اَحْیَائُ الْعُلُوْمِ اَلسَّکُوْتُ خَیْرٌ اَلسَّکُوْتُ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ اَلسَّکُوْتُ حِصَارٌ مِّنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ اَلسَّکُوْتُ الْحِکْمَۃِ  اَلسَّکُوْتُ سَلِیْمُ الْقَلْبِ اَلسَّکُوْتُ یُمِیْتُ النَّفْسِ اَلسَّکُوْتُ یُحْیِ  الْقَلْبِ اَلسَّکُوْتُ سَلَامَۃٌ الرُّوْحِ اَلسَّکُوْتُ نُوْرُ الْہُدٰی  اَلسَّکُوْتُ ثَمْرَۃُ الْاِیْمَانِ اَلسَّکُوْتُ نَجَاتُ الْخَلْقِ اَلسَّکُوْتُ خَلْوَتِ التَّوحِیْدِ اَلسَّکُوْتُ جَامِعُ الْجَمِیَّتِ۔
ترجمہ: خاموشی مومن کا تاج ہے۔ جو خاموش رہا وہ سلامت رہا اور نجات پا گیا۔ خاموشی قربِ الٰہی ہے۔ خاموشی انیس الرحمن ہے۔ خاموشی قلب کا اللہ سے گفتگو کرنا ہے۔ خاموشی علوم کو زندہ کرتی ہے۔ خاموشی خیر ہے۔ خاموشی جنت کی چابی ہے۔ خاموشی شیطان کے شر کے خلاف حصار ہے۔ خاموشی حکمت ہے۔ خاموشی قلب کی پاکیزگی ہے۔ خاموشی نفس کی موت ہے۔ خاموشی قلب کی حیات ہے۔ خاموشی روح کی سلامتی ہے۔ خاموشی ہدایت کا نور ہے۔ خاموشی ایمان کا ثمرہ ہے۔ خاموشی مخلوق سے نجات ہے۔ خاموشی توحید کی خلوت ہے۔ خاموشی جامع الجمعیت ہے۔(جاری ہے)

 

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں