محبت ِالٰہی | Mohabbat e Elahi

محبت ِالٰہی

تحریر :فقیہہ صابر سروری قادری (رائیونڈ)

لفظ محبت ’حبُ‘ سے ماخوذ ہے جو اُس گڑھے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جس میں بہت زیادہ پانی ہو۔ پانی نظر کی راہ میں حائل ہو اور آنکھ اس میں دیکھ نہ سکتی ہو۔ محب محبت کرنے والے کو کہتے ہیں اور محبوب وہ ہے جس سے محبت کی جائے۔ محبت اس پاکیزہ جذبے اور تعلق کا نام ہے جو محبت کرنے والے یعنی محب اور محبوب کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ محبوبِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور محب طالب ِمولیٰ۔ اکثر لوگ محبوبِ حقیقی (اللہ) کوچھوڑ کر دیگر لوگوں اور اشیا (غیراللہ) سے محبت کرنے لگتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یُحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ   (سورۃ البقرہ۔ 165)
ترجمہ: وہ ان (غیر اللہ)سے (ایسی) محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے محبت کرنی چاہیے۔
جوانسان دنیا سے محبت کرتا ہے دنیا اسے خود میں مگن کرلیتی ہے اور پھر اس طرح مصائب میں گرفتار کرتی ہے کہ وہ دنیاسے باہر نہیں نکل پاتا۔ اس کے برعکس جو بندہ محبتِ الٰہی میں مبتلا ہو جائے پھروہ دنیا کوقبول نہیں کرتا۔

حضرت شبلیؒ فرماتے ہیں :
محبت کانام اس لیے محبت ہے کیونکہ یہ دل سے محبوب کے علاوہ ہرچیز کو مٹا دیتی ہے۔
محبت کے بغیر دل بیکارہے۔ لیکن اگر کوئی یہ چاہے کہ محبت بزور پیدا ہو جائے تو نہیں ہوسکتی اور اگر کوئی اسے بزور دفع کرنا چاہے تونہیں کر سکتا۔ یہ محبت توانعامِ خداوندی ہے۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :
خشخاش کے دانہ کے برابر محبتِ الٰہی تمام مسائلِ فقہ کے علم کی فضیلت، ستر سال کی پارسائی اور عبادت سے بہترہے کیونکہ محبت سے بندہ ربوبیت اور توحید کے رازِ الٰہی کا محرم ہو جاتا ہے جبکہ عبادات اور علم سے تکبر پیدا ہوتا ہے اوربندہ محبتِ الٰہی سے محروم ہو جاتا ہے۔ (عین الفقر)

محبت کے سامنے تمام سمندروں کی حیثیت سراب سے زیادہ نہیں۔ یہ ایسی غذا ہے جس پرروح کی زندگی منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا ہر گناہ اوربرائی سے دور رہتا ہے اورہمیشہ رحمت کے سائے میں ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کیلئے اس کی بھلائی کا ارادہ اور اس پر رحمت کرنے کوکہتے ہیں۔ جب بندے کے دل میں محبت قوی ہو تواطاعت کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔

حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں:
محبت یہ ہے کہ محب اپنے ’بہت‘ کو تھوڑا اور محبوب کے ’تھوڑے‘ کو بہت سمجھے۔

جب حسینؒ بن منصور حلاج کو سولی چڑھایا گیا تو ان کے آخری الفاظ یہ تھے:
صاحبِ حال کی محبت یہ ہے کہ اللہ کو واحد کہے، محبت کرنے والے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ محبت کے راستے میں مٹ جائے۔ (کشف المحجوب)

یعنی محب آہستہ آہستہ محبوب کی محبت کے سمندر میں غرق ہو تا چلا جاتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ بھی اس کے متعلق فرماتے ہیں :

غرق بہ دریائے محبت را چہ آرائی خطاب
چوں حباب از خود تہی شد گشت آب

مفہوم: محبت کے سمندر میں غرق ہونے والے کو کیا خطاب دیا جائے گا کیونکہ جب بلبلہ ختم ہوجاتاہے تووہ پانی ہی بن جاتا ہے۔ (کلیدتوحید کلاں)

ابوالقاسم قشیریؒ فرماتے ہیں ۔
محبت‘محبت کرنے والے کی صفات کامحو ہونا اور محبوب کی ذات کا ثبات ہوناہے۔

یعنی محب اپنی نفی کردے تاکہ اس میں صرف محبوب باقی رہے اور محبت کرنے والا فانی۔ ذاتِ محبوب کا ثبات محب کی صفات کے فنا ہونے سے وابستہ ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ محب اپنی صفات میں قائم رہے کیونکہ اگر وہ اپنی صفات پرقائم ہے تو گویا کہ جمالِ محبوب سے بے نیاز ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی جمالِ محبوب ہے اس واسطے وہ اپنی صفات کی نفی کا طالب ہوتا ہے کیونکہ اپنی صفات کی موجودگی میں وہ محبوب سے محجوب ہوتا ہے۔ (کشف المحجوب)

الرسالۃغوثیہ میں درج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے فرمایا:
اے غوث الاعظمؓ! محبت محب اور محبوب کے درمیان حجاب ہے۔ پس جب محب محبت سے فنا حاصل کرلیتا ہے تب وہ محبوب سے وصال پالیتا ہے۔
یعنی جب تک محبوب اورمحب ایک نہیں ہوجاتے دوئی باقی رہتی ہے اور دوئی حجاب ہے۔

باجھ وصال اللہ دے باھوؒ، سب کہانیاں قصّے ھوُ

یعنی اللہ کے وصال کے بغیر دوسرے مقامات ومراتب اور احوال کہانیاں اور قصّے ہیں۔ 

دوئی مذہبِ عشاق معنوی کفر است
خدا یکے و پیغمبر یکے و پیر یکے

ترجمہ: حقیقی عشاق کے مذہب میں دوئی کفر ہے۔ اللہ بھی ایک ہے، پیغمبر بھی ایک ہے اور پیرِ کامل بھی ایک ہے۔ (سرّ ِدلبراں)

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اے جانِ عزیز! محب (طالب) جب محبوب (اللہ) کیلئے اپنا آپ گم (فنا) کر دیتا ہے تومحبوب اس کے گھر (وجود) میں قدم رکھتا ہے اوراسے اپنے جمال وزیبائی اور اپنے اسما کی لطافت سے منور کر دیتا ہے۔ محبوب اپنے محب کواپنا لباس عطا کرتا ہے اور اس لباس کے اندر خود جلوہ گر ہوتا ہے۔ محب کو اپنے خصائل سے مزید سنوارتا ہے تاکہ محب محبوب کی صحبت اور ہمنشینی کے لائق ہو سکے۔ پھران کے درمیان دوئی بھی ختم ہوجاتی ہے اور محب عین محبوب ہو جاتا ہے۔ اس جگہ ’میں اور تو‘ کا معاملہ تشویش کا باعث بنتا ہے اور ’میں اور تو‘ کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ (سلطان الوھم)
بقول بلھے شاہؒ:

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
آکھونی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھے کوئی

مفہوم: رانجھا یعنی اپنے محبوب کو پکارتے پکارتے میں نے اپنی ہستی فراموش کردی اب مجھے کوئی ہیر نہ کہے بلکہ رانجھا ہی کہے۔

محبت کا عنصر محب کے اندر غالب ہوتا ہے وہ اپنی محبت کی بنا پراپنے محبوب کیلئے ہروقت بے چین رہتا ہے۔ جب تک وہ اپنے محبوب کونہ دیکھ لے اسے کیسے سکون مل سکتا ہے۔ محب اپنی جگہ تڑپ رہا ہوتا ہے کیونکہ اسے محبوب کا قرب میسرّ نہیں ہوتا۔ محبوب (اللہ تعالیٰ) سے قرب و وصال کی بیقراری کے درد اور تڑپ نے من میں طوفان برپاکررکھا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اس کیفیت کے متعلق فرماتے ہیں:

محبت است کی دل را نمیدہد آرام
وگرنہ کیست کہ آسودگی نمی خواہد 

ترجمہ: یہ محبت ہی ہے جودل کوسکون نہیں لینے دیتی وگرنہ کون ہے جوسکون کی زندگی نہیں چاہتا۔ (نورالہدیٰ خورد)
لہٰذا محبوب کا وصال پاکر محب عین محبوب بن جاتا ہے تب ان کے درمیان کوئی حجاب نہیں رہتا ہے۔ محب اور محبوب کے درمیان جب تک دوئی ختم نہیں ہوتی تب تک محبت کامل نہیں ہوتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے سیدّنا غوث الاعظمؓ سے فرمایا کہ محبت کاجذبہ محب اورمحبوب کے درمیان حجاب ہے۔
انسان کوبہت سی چیزوں سے محبت ہوتی ہے ۔کسی بھی چیز کی محبت اگر شدت پکڑلے تو وہ عشق کہلاتی ہے۔ اسی محبت کی شدت کو مومنوں کی نشانی کہا گیا ہے جیساکہ ارشادِ باری ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ  (سورۃ البقرہ ۔165)
ترجمہ :جولوگ ایمان لائے و ہ (ہرایک سے بڑھ کر) اللہ سے بہت شدید محبت کرتے ہیں۔
عشق ہی وہ جذبہ ہے جومحبوب کے علاو ہ ہر دوسری محبت سے بے نیاز کردیتا ہے۔
مولانا رومؒ فرماتے ہیں :

 عشق آں شعلہ است کہ چوں بر افروخت
ہر چہ جز معشوق باشد باقی جملہ سوخت

ترجمہ: عشق ایک شعلہ ہے جب بھڑک اٹھتا ہے تو معشوق کے سوا تمام چیزوں کو جلا دیتا ہے۔
آج کل کی نوجوان نسل دنیاوی محبت کوعشق سمجھ رہی ہے جو درحقیقت صرف ہوس پرستی ہے۔ نفسانی خواہشات کے حصول کو عشق کانام دے دیا گیا ہے۔ ذراسوچیئے! دنیا کی طرح اس کے لوگوں سے کی جانے والی محبت بھی کس قدر بے چینی و بے سکونی کاباعث ہے۔ ہر دنیاوی محبت اور تعلق کو زوال ہے کیونکہ یہ دنیا فانی ہے اور اس میں موجود رشتے بھی ایک د ن ختم ہو جاتے ہیں۔ اس بات کو میرے مرشد میرے ہادی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بہت خوبصورت الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
عشق کسی انسان سے نہیں ہوتا۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے کیونکہ اللہ خود عشق ہے اور عشق سے ہی عشق ہوتاہے۔ (سلطان العاشقین)
عشق بے لوث جذبہ ہے جووقت کے ساتھ بڑھتا ہے نہ کہ دنیاوی محبت یا رشتوں کی طرح منہ پھیرنے سے ختم ہو جاتا ہے۔
عشق ہی راہِ فقر کی کنجی ہے اور عشق سے ہی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ جب انسان کے اندر عشق پیدا ہوتا ہے تب ہی انسان کا اللہ کی طرف سفر شروع ہوتا ہے۔ جس دل میں عشق نہیں وہ راہِ فقر پر نہیں چل سکتا۔
خواجہ حافظ فرماتے ہیں :
جوشخص دل میں اللہ کاعشق نہیں رکھتا یقینا اس کی عبادت بے سود اور مکر و ریا ہے۔ (دیوانِ حافظ)
علامہ اقبالؒ عشق کے متعلق فرماتے ہیں:

عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات
علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب

اقبال کے نزدیک عشق ہی انسان کی تربیت کرتا ہے اور اس کے اندر سے غیر اللہ کو نکال کر اسے بارگاہِ حق کے لائق بناتا ہے۔
میاں محمد بخش صاحبؒ فرماتے ہیں:

جنہاں عشق خرید نہ کیتا عیویں آبھگتے
عشقے باجھ محمد بخشا کیا آدم کیا کتے

عشقِ حقیقی کیلئے عشقِ مجازی کا ہونا ضروری ہے۔
عشقِ مجازی سے مراد مرشد کامل اکمل کی ذات سے عشق ہے۔ مرشد کامل ہی عشقِ حقیقی کے جذبے سے روشنا س کرواتا ہے جس کیلئے وہ سب سے پہلے معرفتِ حق تعالیٰ سے مشرف کرتا ہے اور پھر مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری عطا فرماتا ہے اسی لیے طالبِ مولیٰ کو اپنا یقین و توکل مرشد کی ذات پر برقرار رکھنا چاہیے۔ عشقِ حقیقی کے سفر پرچلنے کیلئے اپنے ہاتھ کو مرشدکامل اکمل کے ہاتھ میں دینا لازمی ہے۔ موجودہ دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ایک فقیرِکامل کی حیثیت سے موجود ہیں جو بھی اللہ کوپانا چاہتا ہے تواس کے علاوہ اور کوئی سچا راستہ نہیں ہے۔ اللہ پاک سب کو راہِ فقر پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

23 تبصرے “محبت ِالٰہی | Mohabbat e Elahi

  1. اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا ہر گناہ اوربرائی سے دور رہتا ہے اورہمیشہ رحمت کے سائے میں ہوتا ہے

  2. حضرت شبلیؒ فرماتے ہیں :
    محبت کانام اس لیے محبت ہے کیونکہ یہ دل سے محبوب کے علاوہ ہرچیز کو مٹا دیتی ہے۔

    1. ذراسوچیئے! دنیا کی طرح اس کے لوگوں سے کی جانے والی محبت بھی کس قدر بے چینی و بے سکونی کاباعث ہے۔

      بہت خوبصورت بات کی گئی ہے۔۔۔۔۔بات دل کو لگی ہے۔۔۔۔۔۔بہت خوب۔۔۔۔۔

  3. جوانسان دنیا سے محبت کرتا ہے دنیا اسے خود میں مگن کرلیتی ہے اور پھر اس طرح مصائب میں گرفتار کرتی ہے کہ وہ دنیاسے باہر نہیں نکل پاتا۔ اس کے برعکس جو بندہ محبتِ الٰہی میں مبتلا ہو جائے پھروہ دنیا کوقبول نہیں کرتا۔

  4. الرسالتہ الغوثیہ میں ہے کہ اللہ تعالٰی
    نے سیدّنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے
    فرمایا:
    اے غوث الاعظمؓ! محبت محب اور محبوب کے درمیان حجاب ہے۔ پس جب محب محبت سے فنا حاصل کرلیتا ہے تب وہ محبوب سے وصال پالیتا ہے۔
    یعنی جب تک محبوب اورمحب ایک نہیں ہوجاتے دوئی باقی رہتی ہے اور دوئی حجاب ہے

    1. عشق کسی انسان سے نہیں ہوتا۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے کیونکہ اللہ خود عشق ہے اور عشق سے ہی عشق ہوتاہے۔ (سلطان العاشقین)

  5. بہت ہی خوبصورت تحریر جو روحانیت کو بیدار کر کے عشق اللہی کے حصول کی دعوت ہے۔
    نہایت خوبصورت کلام

  6. وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ (سورۃ البقرہ ۔165)
    ترجمہ :جولوگ ایمان لائے و ہ (ہرایک سے بڑھ کر) اللہ سے بہت شدید محبت کرتے ہیں۔

    1. بلھے شاہؒ:

      رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
      آکھونی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھے کوئی

  7. حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں:
    محبت یہ ہے کہ محب اپنے ’بہت‘ کو تھوڑا اور محبوب کے ’تھوڑے‘ کو بہت سمجھے۔

  8. بہت یونیق لکھا ہے ماشاءاللہ محبت الہی پر اس بلاگ میں تمام اقوال بہت خوبصورت ہیں

  9. محبت ایک بہت ہی خوبصورت اور پاکیزہ جذبہ ہے اور یہ عطائے الٰہی ہے

  10. حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں:
    محبت یہ ہے کہ محب اپنے ’بہت‘ کو تھوڑا اور محبوب کے ’تھوڑے‘ کو بہت سمجھے۔

  11. بے شک محبت کا عنصر محب کے اندر غالب ہوتا ہے وہ اپنی محبت کی بنا پراپنے محبوب کیلئے ہروقت بے چین رہتا ہے۔
    ماشااللہ بہت بہترین مضمون ہے۔

  12. محبت ایک بہت ہی خوبصورت اور پاکیزہ جذبہ ہے اور یہ عطائے الٰہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں