حقیقی حج | Haqiqi Haj

حقیقی حج

مراسلہ: پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن  (لاہور)

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت بالغ مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میں ایک بار بیت اللہ شریف کی زیارت اور حج فرض ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ شریف جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کردہ ہر عبادت کے پیچھے خاص مقاصد ہیں جن کا حصول بے حد ضروری ہے۔ دورانِ حج جو اعمال سرانجام دیئے جاتے ہیں انہیں مناسکِ حج کہا جاتا ہے۔ مثلاً احرام باندھنا، طوافِ زیارت، سعی صفا مروہ، رمی جمرات، وقوفِ عرفات، مزدلفہ میں رات گزارنا، منیٰ میں قربانی، کعبہ کے گرد طواف کرنا، مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نفل نماز ادا کرنا، آبِ زم زم پینا وغیرہ۔ ان تمام مناسک کے پیچھے حکمتیں پوشیدہ ہیں جن سے آگاہ ہونا ہر حاجی کے لیے ضروری ہے۔ لوگوں کی اکثریت حج کی فرضیت اور اس میں ادا کیے جانے والے مناسک کی اصل روح سے انجان ہے۔ ذیل میں حضرت ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے ایک مرید کا واقعہ درج کیا جا رہا ہے جب حج کی ادائیگی کے بعد وہ مرید حضرت ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضرت ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے کچھ سوالات فرمائے۔ وہ مرید بیان کرتے ہیں:
مجھ سے شیخ نے دریافت فرمایا کہ تم نے حج کا ارادہ اور عزم کیا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ جی پختہ قصد حج کا تھا۔ آپؒ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ ان تمام ارادوں کو ایک دم چھوڑنے کا عہد کر لیا تھا جو پیدا ہونے کے بعد آج تک حج کی شان کے خلاف کیے؟ میں نے کہا کہ یہ عہد تو نہیں کیا تھا۔ آپؒ نے فرمایا کہ پھر حج کا عہد ہی نہیں کیا۔

پھر شیخ نے فرمایا کہ احرام کے وقت بدن کے کپڑے نکال دئیے تھے؟ میں نے عرض کی جی بالکل نکال دیئے تھے۔ آپؒ نے فرمایا اس وقت اللہ کے سوا ہر چیز کو اپنے سے جدا کر دیا تھا؟ میں نے عرض کیا ایسا تو نہیں ہوا۔ آپؒ نے فرمایا تو پھر کپڑے ہی کیا نکالے!

آپؒ نے فرمایا وضو اور غسل سے طہارت حاصل کی تھی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں بالکل پاک صاف ہو گیا تھا۔ آپؒ نے فرمایا اس وقت ہر قسم کی گندگی اور لغزش سے پاکی حاصل ہو گئی تھی؟ میں نے عرض کیا یہ تو نہ ہوئی تھی۔ آپؒ نے فرمایا پھر پاکی ہی کیا حاصل ہوئی!

پھر آپؒ نے فرمایا لبیک پڑھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں لبیک پڑھا تھا۔ آپؒ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ کی طرف سے لبیک کا جواب ملا تھا؟ میں نے عرض کیا مجھے تو کوئی جواب نہیں ملا۔ تو فرمایا کہ پھر لبیک کیا کہا!
پھر فرمایا حرم محترم میں داخل ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ داخل ہوا تھا۔ فرمایا اُس وقت ہر حرام چیز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ترک کرنے کا عزم کر لیا تھا؟ میں نے کہا یہ تو میں نے نہیں کیا۔ فرمایا کہ پھر حرم میں بھی داخل نہیں ہوئے۔

پھر فرمایا کہ مکہ کی زیارت کی تھی؟ میں نے عرض کی جی زیارت کی تھی۔ فرمایا اس و قت دوسرے عالم کی زیارت نصیب ہوئی؟ میں نے عرض کیا اُس عالم کی تو کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ فرمایا پھر مکہ کی بھی زیارت نہیں ہوئی۔

پھر فرمایا کہ مسجد ِحرام میں داخل ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا جی داخل ہوا تھا۔ فرمایا کہ اس وقت حق تعالیٰ شانہٗ کے قرب میں داخلہ محسوس ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو محسوس نہیں ہوا۔ فرمایا کہ تب تو مسجد میں بھی داخل نہیں ہوا۔

پھر فرمایا کہ کعبہ شریف کی زیارت کی؟ میں نے عرض کیا کہ زیارت کی۔ فرمایا کہ وہ چیز نظر آئی جس کی وجہ سے کعبہ کا سفر اختیار کیا جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو نظر نہیں آئی۔ فرمایا پھر تو کعبہ شریف کو نہیں دیکھا۔

پھر سوال کیا کہ طواف میں رمل (طواف کے دوران تیز تیز دوڑنے کو رمل کہتے ہیں۔) کیا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ کیا تھا۔ فرمایا کہ اس بھاگنے میں دنیا سے ایسے بھاگے تھے جیسے تم نے محسوس کیا ہو کہ تم دنیا سے بالکل یکسو ہو چکے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ نہیں محسوس ہوا۔ فرمایا کہ پھر تم نے رمل بھی نہیں کیا۔

پھر فرمایا کہ حجرِاسود پر ہاتھ رکھ کر اس کو بوسہ دیا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ایسا کیا تھا تو انہوں نے خوفزدہ ہو کر ایک آہ کھینچی اور فرمایا خبر بھی ہے کہ جو حجرِاسود پر ہاتھ رکھے وہ گویا اللہ جل شانہٗ سے مصافحہ کرتا ہے اور جس سے حق سبحانہٗ و تعالیٰ مصافحہ کرے وہ ہر طرح سے امن میں ہو جاتا ہے تو کیا تجھ پر امن کے آثار ظاہر ہوئے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھ پر تو امن کے آثار کچھ بھی ظاہر نہیں ہوئے۔ تو فرمایا کہ تو حجرِاسود پر ہاتھ ہی نہیں رکھا۔

پھر فرمایا کہ مقامِ ابراہیمؑ پر کھڑے ہو کر دو رکعت نفل نماز پڑھی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ پڑھی تھی۔ فرمایا کہ اس وقت اللہ جلّ جلالہٗ کے حضور میں ایک بڑے مرتبہ پر پہنچا تھا کیا اس مرتبہ کا حق ادا کیا جس مقصد سے وہاں کھڑا ہوا تھا وہ پورا کر دیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ فرمایا کہ تو نے پھر مقامِ ابراہیم ؑپر نماز ہی نہیں پڑھی۔

پھر فرمایا کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کے لیے صفا پر چڑھے تھے؟ میں نے عرض کیا، چڑھا تھا۔ فرمایا وہاں کیا کیا؟ میں نے عرض کیا کہ سات مرتبہ تکبیر کہی اور حج کے مقبول ہونے کی دعا کی۔ فرمایا کیا تمہاری تکبیر کے ساتھ فرشتوں نے بھی تکبیر کہی تھی اور اپنی تکبیر کی حقیقت کا تمہیں احساس ہوا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ تم نے تکبیر ہی نہیں کہی۔

پھر فرمایا کہ صفا سے نیچے اُترے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ اُترا تھا۔ فرمایا اس وقت ہر قسم کی علت دور ہو کر تم میں صفائی آگئی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ تم نہ صفا پر چڑھے نہ اُترے۔

پھر فرمایا کہ صفا مروہ کے درمیان دوڑے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ دوڑا تھا۔ فرمایا کہ اس وقت اللہ کے علاوہ ہر چیز سے بھاگ کر اس کی طرف پہنچ گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ تم دوڑے ہی نہیں۔ (سورۃ الذاریات کی آیت ’’فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہ   دوڑو اللہ کی طرف‘‘ کی جانب اشارہ ہے)

پھر فرمایا کیا مروہ پر چڑھے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ چڑھا تھا۔ فرمایا کہ وہاں تم پر سکینہ نازل ہوا اور اس سے وافر حصہ حاصل کیا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ تم مروہ پر چڑھے ہی نہیں۔

پھر فرمایا کہ منیٰ گئے تھے؟ میں نے عرض کیا گیا تھا۔ فرمایا کہ وہاں اللہ جل شانہٗ سے ایسی امیدیں بندھ گئی تھیں جو معاصی کے حال کے ساتھ نہ ہوں؟ میں نے عرض کیا کہ نہ ہو سکیں۔ فرمایا کہ تم منیٰ ہی نہیں گئے۔

پھر فرمایا کہ مسجد خیف (جو منیٰ میں ہے) میں داخل ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا جی داخل ہوا تھا۔ فرمایا کہ اس وقت اللہ جلّ شانہٗ کے خوف کا اس قدر غلبہ ہو گیا تھا جو اُس وقت کے علاوہ کبھی نہ ہوا ہو؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ تو آپؒ نے فرمایا کہ تم مسجد خیف میں داخل ہی نہیں ہوئے۔

پھر فرمایا کہ عرفات کے میدان میں پہنچے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ حاضر ہوا تھا۔ فرمایا کہ وہاں اس چیز کو پہچان لیا تھا کہ دنیا میں کیوں آئے تھے اور کیا کر رہے ہو اور اب کہاں جانا ہے اور ان حالات میں متنبہ کرنے والی چیز کو پہچان لیا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں تو فرمایا کہ پھر تو عرفات پر بھی نہیں گئے۔

پھر فرمایا کہ مزدلفہ گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ گیا تھا۔ فرمایا کہ وہاں اللہ جلّ شانہٗ کا ایسا ذکر کیا تھا جو اس کے ماسویٰ کو دل سے بھلا دے؟ میں نے عرض کیا کہ ایسا تو نہیں ہوا۔ فرمایا کہ پھر تو مزدلفہ پہنچے ہی نہیں۔

سوال فرمایا کہ منیٰ میں جا کر قربانی کی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں کی تھی۔ فرمایا کہ اس وقت اپنے نفس کو ذبح کیا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا پھر تو تم نے قربانی ہی نہیں کی۔

پھر فرمایا کہ رمی (شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل رمی کہلاتا ہے۔) کی تھی؟ میں نے عرض کیا کی تھی۔ فرمایا کہ ہر کنکری کے ساتھ اپنی سابقہ جہل کو پھینک کر کچھ علم کی زیادتی محسوس ہوئی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ تم نے رمی بھی نہیں کی۔

پھر فرمایا کہ طوافِ زیارت کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی کیا تھا۔ فرمایا اس وقت کچھ حقائق منکشف ہوئے تھے اور اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے تم پر اعزاز و اکرام کی بارش ہوئی تھی؟ اس لیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ حج اور عمرہ کرنے والا اللہ کی زیارت کرنے والا ہے اور جس کی زیارت کو کوئی جائے اس پر حق ہے کہ اپنے زائرین کا اکرام کرے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھ پر تو کچھ منکشف نہیں ہوا۔ فرمایا کہ تم نے طوافِ زیارت بھی نہیں کیا۔

پھر فرمایا کہ حلال (احرام کھولنے کو حلال ہونا کہتے ہیں۔) ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا جی ہوا تھا۔ فرمایا کہ ہمیشہ حلال کمائی کا اس وقت عہد کر لیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ تم حلال بھی نہیں ہوئے۔

پھر فرمایا کہ الوداعی طواف کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی کیا تھا۔ فرمایا اس وقت اپنے تن من کو کلیتہً الوداع کہہ دیا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ تم نے طوافِ وداع بھی نہیں کیا۔ پھر فرمایا دوبارہ حج کو جاؤ اور اس طرح حج کر کے آؤ جس طرح میں نے تم سے تفصیل بیان کی۔

تمام زائرین کے لیے لازم ہے کہ حج پر جانے سے قبل حج کی فرضیت کے مقصد سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہو کر جائیں تاکہ جس نیک فریضہ کی ادائیگی کے لیے کثیر مال اور وقت صرف کیا گیا ہے وہ عمل فاسد نہ ہو جائے بلکہ اس اہم فریضہ کو اس کی اصل روح کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج کو اس کی اصل اور حقیقی روح کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

22 تبصرے “حقیقی حج | Haqiqi Haj

  1. حقیقی حج تو دیدار حق تعالٰی ہے ورنہ نام کے حاجی تو کثیر ہیں

    1. اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج کو اس کی اصل اور حقیقی روح کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

  2. اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج کو اس کی اصل اور حقیقی روح کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے

  3. اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج کو اس کی اصل اور حقیقی روح کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

  4. اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح طریقے سے حج ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین

    1. للہ تعالیٰ ہم سب کو حج کو اس کی اصل اور حقیقی روح کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

  5. حج خوبصورت ترین عبادت ہے ایسی عبادت جس میں طالب اللہ کو دیکھتا ہے۔اس کے گرد پروانہ وار چکر لگاتا ہے اس کو اپنے قریب پاتا ہے اللہ پاک ایسا حج ہر سچے طالب مولی کو نصیب فرمائے

  6. اللہ پاک حج کی فرضیت اور اس کے تمام مناسک میں پوشیدہ حکمتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے.

  7. للہ تعالیٰ ہم سب کو حج کو اس کی اصل اور حقیقی روح کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں