alif

alif | الف

حج کی فرضیت کا اصل مقصد

حجۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
آدمی کو پیدا ہی اس طرز پر کیا گیا ہے کہ وہ جب تک اپنے تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے حوالے نہ کر دے اپنی سعادت کے کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔ اپنے نفس کی پیروی میں اپنے اختیارات کو استعمال کرنا اُس کی ہلاکت کا سبب ہے کیونکہ آدمی جب تک اپنے اختیارات پر رہتا ہے اُس کا کوئی عمل بھی شریعت کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ نفس کی موافقت اور مطابقت میں ہوتا ہے اور اُس کا کوئی معاملہ بھی بندے کی طرح نہیں ہوتا حالانکہ اُس کی سعادت اطاعت و بندگی ہی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی امتوں کو رہبانیت اور سیاحت کا حکم دیا گیا تھا یہاں تک کہ اُن کے امتی لوگوں سے علیحدہ ہو کر دور کہیں پہاڑوں پر نکل جاتے تھے اور ریاضت و مجاہدہ میں مستغرق رہتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے لوگوں نے پوچھا کہ ہمارے دین میں رہبانیت و سیاحت کیوں نہیں ہے؟ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
’’ہمیں اس کے بدلے جہاد اور حج کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔
 پس اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کے بدلے جو اس امت کو حج کا حکم دیا ہے تو اسی لیے کہ اس سے بھی مقصود مجاہدہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ شریف کو اپنے ساتھ نسبت کا شرفِ عظیم بخشا اور دنیاوی بادشاہوں کے دربار کی مثل بنا کر اس کے اطراف و جوانب کو قابلِ احترام قرار دیا۔ وہاں پر شکار کرنے یا درخت کاٹنے کو حرام قرار دیا اور اُس کی عظمت و حرمت کے لیے شاہی درباروں کے میدانوں کی طرح میدانِ عرفات کو حرم کے بالکل سامنے بنا دیا تاکہ چار دانگِ عالم سے لوگ جوق در جوق خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آیا کریں حالانکہ وہ اس حقیقت کو خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مکان اور گھر میں رہنے سے پاک و منزّہ ہے۔ لیکن آد می کی فطرت ہے کہ جب اُس پر دوست کی محبت کا جذبہ غالب آتا ہے تو اُسے دوست سے نسبت رکھنے والی ہر چیز پیاری لگنے لگتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اللہ سے محبت کرنے والے اُس سے منسوب خانہ کعبہ کو پیار کرنے لگتے ہیں اور اُسی شوق اور آرزو میں اپنے اہل و عیال،مال اور وطن کو پس ِپشت ڈال کر جنگل و بیابان کے خطرات کو برداشت کرتے ہوئے عاجزانہ طور پر اس سے نسبت رکھنے والے خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ اس عبادت میں ان کو ایسے افعال کا حکم دیا گیا ہے جنہیں عقل نہیں سمجھ سکتی۔ مثال کے طور پر عقل کو کیا خبر کہ کنکریاں پھینکنا یا صفا و مروہ کے درمیان دوڑتے پھرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اور یہ اس لیے ہے کہ جو بات عقل میں آسکتی ہے اُس کے ساتھ نفس کو برابر تعلق رہتا ہے۔ نفس کو معلوم ہوتا ہے کہ عقل کیا کام کر رہی ہے؟ اور کس غرض سے کر رہی ہے؟ لیکن کمالِ بندگی یہ ہے کہ بندہ اپنے مالک کے حکم کا پابند ہو چاہے وہ حکم اُس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ چنانچہ پتھر پھینکنا اور سعی کرنا بلاچوں و چرا اسی تعمیلِ حکم کی زندہ مثال ہے۔ ان احکام کا بجا لانا صرف بندگی کی بنا پر ہوتا ہے ورنہ عقل کے بس میں ہو تو دلیلوں میں الجھا کر رکھ دے۔ لہٰذا حج سے اس بات کی تربیت حاصل ہوتی ہے کہ بندہ اپنے مولیٰ کے سامنے اس حالت میں رہے کہ اُس کے وجود میں طلبِ مولیٰ کے سوا کسی اور چیز کا نام و نشان موجود نہ ہو اور احکامِ خداوندی کی بجا آوری میں اُس کی عقل اور طبیعت کو بالکل دخل نہ ہو۔‘‘ (کیمیائے سعادت)

اپنا تبصرہ بھیجیں