فضائل ِ جبرائیل ؑ | Fazail e Jibreel (A.S)

فضائل ِ جبرائیل ؑ  

تحریر: فوزیہ فرید سروری قادری ۔ لاہور

خدائے بزرگ و برتر نے اِس کُرّۂ ارض پر انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے جس کو اچھائی اور برائی کی تعلیم دینے اور معرفت ِ الٰہی سے روشناس کرانے کے لیے انبیا اور آسمانی کتب اور صحائف کے ذریعے مدد فراہم کی تاکہ انسان بطور مخلوق اپنے عاجز و نیاز مند ہونے اور اللہ تعالیٰ کے بطور مالک ِ کائنات اور خالق و پروردگار ہونے کا اقرار کر سکے اور اس کی معرفت حاصل کر کے حق الیقین سے اس کی وحدانیت کی تصدیق کر سکے۔ تمام انبیا نے آسمانی کتب و صحائف کی پیروی کو ہی کامیابی کی ضمانت قرار دیا اور سلسلہ نبوت کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپؐ پر نازل ہونے والی آسمانی کتاب یعنی قرآنِ مجید فرقانِ حمید پر ایمان ہی ہماری فلاح و کامیابی کی ضمانت ہے۔ 
تمام انبیا کرام علیہم السلام اور آسمانی کتب و صحائف پر ایمان لانے کے علاوہ اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں جن کی تخلیق میں کسی قسم کی مادیت یا کثافت کا عمل دخل نہیں۔ مخلوقاتِ عالم میں فرشتے وہ مخلوق ہیں جن کا مقصد ِتخلیق اوّل و آخر، ظاہر و باطن حق تعالیٰ کا ذکر و تسبیح اور احکاماتِ الٰہی کی بجا آوری کے بجز کچھ بھی نہیں اورجو احکامِ الٰہی سے روگردانی کی  ذرّہ برابر قدرت نہیں رکھتے۔ تمام فرشتے اپنی تخلیق سے فنا ہونے تک حمد و ثناء میں اور احکاماتِ الٰہی کی بجاآوری میں مشغول رہیں گے۔
اللہ بزرگ و بر تر کے تخلیق کردہ فرشتوں کی حقیقی تعداد کسی کو معلوم نہیں اور نہ ہی کوئی اِن کے فرائض کے متعلق آگاہ ہے۔ وہ تمام کائنات کے ظاہری اور پوشیدہ اُمور بحکمِ مالکِ   کائنات سر انجام دینے میں مصروف ہیں۔
اللہ اور انسان کے درمیان رابطے کا ذریعہ انبیا کرام علیہم السلام تھے لیکن اللہ اور انبیا علیہم السلام کے درمیان رابطے کا ذریعہ سردارِ ملائکہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ کے احکامات و پیغامات کو انبیا کرام تک پہنچاتے تھے۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے باعث وحی کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا ہے۔
جبرائیل ؑاللہ تعالیٰ کے نہایت بزرگ و برتر فرشتے ہیں جن کا مقام و مرتبہ دیگر تمام ملائکہ سے افضل ہے۔
امام السیوطیؒ فرماتے ہیں کہ فرشتے کا وجو د عطا کردہ اور مقرر کردہ کام کے مطابق ہوتا ہے۔ جبرائیل ؑ کے ذمے مقرر احکامات اور اعمال تمام گروہِ ملائکہ میں سب سے عظیم ہیں چنانچہ اُن کا وجود بھی تمام گروہِ ملائکہ میں سب سے عظیم ہے۔
ان کے علاوہ خدائے بزرگ و برتر کے دیگر مقرب ملائکہ میں عزرائیل ؑ، میکائیل ؑ اور اسرافیل ؑ کے نام شامل ہیں۔
ہر پیدا ہونے والا بچہ چاہے وہ جس بھی مخلوق سے تعلق رکھتا ہو، شور مچاتا او ر روتا ہے لیکن فرشتے تخلیق پاتے ہی خدائے بزرگ و برتر کی حمد و ثناء اور تسبیح کرنا شروع کردیتے ہیں اور فرشتوں کی تخلیق کا آغاز تخلیق ِ جبرائیل ؑ سے ہوا۔
حضرت سعید ابن ِ مسیبؓ روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل ؑ کی تخلیق ہوئی تو اُنہوں نے فرمایا ’’لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ‘‘ا و ر اقرار کیا کہ فرشتوں کے پاس اپنی کوئی طاقت نہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کی عمر کے متعلق سوال فرمایا کہ آپؑ نے اپنی عمر کے کتنے سال گزار لیے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم اس کے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کے نورانی حجابات میں سے چوتھے پردہ میں ستر ہزار (70000) سال کے بعد ایک نوری تارا ظاہر ہو تا ہے۔ میں نے اُسے بہتر ہزار (72000) مرتبہ دیکھا ہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا! اے جبرائیل (علیہ السلام) میرے ربّ کی عزت کی قسم وہ تارا میں ہی ہوں۔ (جواہر البحار جلد2۔روح البیان جلد 2۔ سیرتِ حلبیہ جلد 1)
حضور سرورِ کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مجھے ملائکہ میں سے صرف ایک پاک روح (جبرائیل ؑ) کے بارے میں سنانے کی اجازت دی گئی جو کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے عرش تلے ہیں اور خدائے بزرگ و برتر کے تاجِ حق کو اُٹھائے ہوئے ہیں۔ اُن کے (جبرائیل ؑ کے) کان کی لو اور کندھے کے درمیان سات سوسال کا فاصلہ ہے ‘‘۔ابن ِ خزیمہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’پرندے کی سات سوسال کی اُڑان کا فاصلہ ہے ‘‘۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’جبرائیل ؑ عین عرشِ معلّٰی تلے رہائش پذیر ہے۔ میں نے جبرائیل ؑ کو دیکھا۔ اُس کے چھ سو پَر تھے اور وہ تمام اُفق پر محیط تھا اور اللہ بزرگ و برتر کے عطا کردہ تخت پر بیٹھا تھا۔ اُس کے تما م پَر پھیلے ہوئے تھے اور اِن پروں میں سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔‘‘ بروایت احمد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اُس کے پروں کا رنگ سبز ہے اورپائو ں کے تلوں کا رنگ بھی سبز ہے۔‘‘
حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت جبرائیل ؑ کو بچپن میں اس سال دیکھا جس سال آپؐ کی والدہ ماجدہ ؓ کی وفات ہوئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دیگر بچوں کے ساتھ مشغول تھے کہ یکدم ایک شخص آیا اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔خوف اور ہیبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قریب موجود دوسرے بچے بھاگ کھڑے ہوئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اُس شخص نے میرا سینہ چیرا اور میرے دل کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ اُس نے دل میں سے ایک چیز نکالی اور کہا ’’ھٰذا حَظ الشیطان مِنکَ‘‘ (یہ شر کاذرہ آپ کے اندر تھا) اور اُس کو نکال کر پھینک دیا اور میرے د ل کو سونے کی طشتری میں رکھ کر آبِ زم زم سے دھویا اور پھر میرا سینہ دوبارہ سی دیا۔ جب دوسرے بچے اپنے والدین کے ساتھ واپس آئے تو میرا سینہ پہلی حالت میں آ چکا تھا، اس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عمر مبارک 6 سال تھی۔
اُم المومنین حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے چھ ماہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روز مرہ زندگی اور طبیعت میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ حضور کو متواتر سچے خواب آنا شروع ہو گئے اور بحکمِ خدائے بزرگ و برتر آپ ؐ خلوت پسندی کے عادی ہوگئے۔ آپؐ نے تنہائی میں عبادت کے لیے غارِ حرا جا نا شروع کر دیا جوکہ مکہ سے دو گھنٹے کی پیدل چڑھائی پر واقع ہے اور یہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دن جبرائیل ؑ کو غارِ حرا کے دروازے پر انسانی شکل میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس آمد پر گھبرا گئے۔ جبرائیل ؑ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سینے سے لگایا اور وحی کے الفاظ ادا کیے ’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق‘‘۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس واقعہ سے ہیبت زدہ ہو گئے اور تمام واقعہ اپنی رفیق ِ حیات حضرت خدیجہؓ سے بیان کیا جو انہیں ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جنہوں نے تصدیق کی کہ یہ وہی قاصد ہیں جو دیگر انبیا پر احکامِ الٰہی لے کر نازل ہوتے رہے۔
اس واقعہ کے بعد حضرت جبرائیل ؑ حضو ر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال تک آپ کے پاس تشریف لاتے رہے اور بحکمِ خدا مختلف مواقع پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ابو جہل نے ایک موقع پر بتوں کی قسم کھائی کہ اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُس کے سامنے نماز پڑھی اور سجدہ کیا اور خدائے یکتا کا ذکر کیا تو وہ (نعوذ باللہ) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل کر دے گا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُس کے سامنے تشریف لائے اور کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز شروع کی تو ابوجہل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف لپکا لیکن یکدم چہرے پر ہاتھ مارنے اور چیخیں مارنے لگا اور پھر واپس دوڑ گیا۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ کیا ہوا تو کہنے لگا ’’میں نے محمد ؐ اور اپنے درمیان آگ کا دریا دیکھا اور اُس کی گرمی محسوس کی‘‘۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اگر وہ کوشش کرتا توجبرائیل ؑ اُسے قتل کر دیتا‘‘۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مزید ارشاد فرمایا ’’ہر نبی کے دو دنیاوی اور دوآسمانی ( ملائکہ) رفیق ہوتے ہیں میرے آسمانی رفیق جبرائیل و میکائیل اور دنیاوی رفیق ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔‘‘
رسالہ الشفا میں تحریر ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جبرائیل ؑ سے پوچھا ’’اے جبرائیل ؑ ! خدائے بزرگ و برتر نے قرآنِ کریم میں مجھے ’رحمت اللعالمین‘ کہا ہے کیا میری رحمت کاکوئی وصف اور جزو تجھ تک بھی پہنچا ہے؟ ‘‘جبرائیل ؑ نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپؐ ہی کے ذریعے مجھے اپنے مقام کا تحفظ حاصل ہوا جب اللہ ربّ العرش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا ’’وہ اپنے مالک ربّ العرش کا مقرب ہے‘‘ تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحمت سے اپنے مقام کا پتا چلا۔
ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں ’’ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صحابہ کرام ؓ کے درمیان موجو دتھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکمل صحت مند تھے۔ یکایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’اللہ نے اپنے ایک غلام کو یہ چُننے کی سعادت بخشی کہ وہ اِس دُنیا کی نعمتوں اور آخرت کی زندگی میں سے جو چاہے چُن لے اور اُس غلام نے آخرت کی زندگی اور نعمتوں کو چن لیا جو اللہ کے پاس ہیں‘۔ تمام صحابہؓ سمجھے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معمول کی کوئی بات کی ہے لیکن حضرت ابوبکر ؓ یہ بات سن کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کا وقت قریب آپہنچا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بارے میں ہی بات کی ہے۔ اِس واقعے کے بعد سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طبیعت خراب ہوتی گئی، بخاربڑھتا گیا اور حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چلنے پھرنے میں دشواری محسوس ہونے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے حجرے سے بہت کم باہر آتے، نماز کے لیے کھڑاہونا اور عبادت گزاری مشکل ہوگئی ۔ گھر والے جان گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آپہنچا ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سہارا دےکر بٹھاتیں اور چلاتی پھراتی تھیں۔ ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگاہ مبارک حضرت عبدالرحمٰن ابن ابی بکرؓ کی جیب میں موجود مسواک پر پڑی۔ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو مسواک چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سر کے اشارے سے اثبات میں جواب دیا۔ حضرت عائشہؓ نے اپنے بھائی عبدالرحمٰن ابن ابی بکر ؓ سے مسواک لے کر اپنے منہ مبارک سے چبا کر اور نرم کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دی۔ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جیسے ہی مسواک سے فارغ ہوئے اُم المومنین حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق جبرائیل ؑ دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ حضرت عائشہ ؓ فر ماتی ہیں میں نے جیسے ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرے پر نگاہ کی تو دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کاچہرہ مبارک جبرائیل ؑ کو دیکھ کر خوشی سے چمک اُٹھا تھا اور چہرے پر بھرپور مسکراہٹ تھی۔ جبرائیل ؑ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سلام کیا اور کہا ’’اے محمد ؐ ! مجھے بحکم ِ خدا تعالیٰ آپؐ کو اختیار دینے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے کہ اگر آپؐ چاہیں تو اِس دُنیا میں اپنے رفقا کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں اور اگر آپؐ چاہیں تو خدائے بزرگ وبرتر کی رفاقت اختیار کر سکتے ہیں۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’بل الرفیق الاعلٰی۔ بل الرفیق الاعلٰی۔  بل الرفیق الاعلٰی‘‘۔ یعنی اس اعلیٰ رفیق کی رفاقت منظور ہے۔  حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اِن الفاظ کے ساتھ ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ر وح مبارک جسد ِ خاکی سے پرواز فرما گئی اور حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ہاتھ مبارک گر گیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اِس دنیا سے تشریف لے گئے۔
 حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’قیامت کے دن جب صور پھونکا جائے گا اور تمام کا ئنات فنا ہو جائے گی اُس دِن دربارِ خدائے بزرگ و برتر کے تلے صِرف چار فرشتے باقی رہ جائیں گے جبرائیلؑ، اسرافیلؑ، میکائیل ؑ اور عزرائیل ؑ۔خدائے بزرگ و برتر اُس وقت عزرائیل ؑ سے فرمائے گا ’’کون باقی ہے؟‘‘ اور عزرائیل ؑ کہیں گے اے پروردگار آپ کی ذات مالک ِ کون ومکاں!میں آپ کاغلا م ‘ جبرائیل ؑآ پ کا غلام‘ میکا ئیل ؑ آپ کا غلا م اور اِسرافیل ؑ آپ کا غلام۔ اللہ پاک فرمائے گا  کہ میکا ئیل کی روح قبض کر لو۔ اورقبض کرلی جائے گی۔ پھر خدائے بزرگ و برتر فرمائے گا کہ کون باقی ہے ؟اور عزرائیل ؑ کہیں گے اے پروردگار! آپ کی ذات مالک ِ کون مکاں!میں آپ کا غلا م ‘ جبرائیل ؑ آپ کا غلام اور اِسرافیل ؑ آپ کا غلام۔ اللہ پاک فرمائے گا کہ اسرافیل ؑ کی بھی روح قبض کرلو اور پھر وہ روح قبض کر لی جائے گی۔ پھرخدائے بزرگ و برتر فرمائے گا کہ کون باقی ہے؟ اور عزرائیل ؑ کہیں گے ’’اے پروردگار! آپ کی ذات مالک ِ کون ومکاں !میں آپکا غلام اور آپ کا غلام جبرائیل ؑ۔ اللہ پاک فرمائے گا کہ جبرائیل  ؑکی ر وح قبض کرلو اور وہ قبض کرلی جائے گی۔ اُس وقت جبرائیل ؑ کے پر پھیلے ہوئے ہوں گے اور وہ حق سبحانہٗ وتعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے منہ کے بل گر جائیں گے۔ خدائے بزرگ و برتر پھر فرمائے گا کہ کو ن باقی ہے؟اور عزرائیل ؑ کہیں گے اے پروردگار! آپ کی ذات مالک ِ کون و مکاں اور میں آپ کا غلام؟ اللہ پاک کا حکم ہو گا اور عزرائیل ؑ کو بھی موت آ جائے گی۔ تب اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرمائے گا ’’کُلُّ مَنْ عَلیْھَا فَانٍ۔  وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام۔‘‘ (ہر شے کو فنا ہے اور صرف تیرے ربّ کے چہرے کو دوام ہے جو جلال و اکرام والا ہے)۔ اس کے بعد خدائے بزرگ و برتر اپنے آپ سے فرمائے گا ’’آج کس کی بادشاہت ہے‘‘۔ اور پھر خود ہی جواب دے گا ’’اللہ کی جو واحد و قہار ہے۔‘‘
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا قیامت کے روز جب سب انسان اُٹھائے جائیں گے ‘زمین اللہ کے حکم سے ہموار کر دی جائے گی اُس دِن کوئی نفس جمع کیے جانے والے مقام سے نہ ہل سکے گا اور مجھے لوگوں میں سب سے پہلے خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں طلب کیا جائے گا اور میں خدا کی بارگاہ میں داخل ہوتے ہی سجدے میں گر جاؤں گا۔ جب میں سَر اُٹھاؤں گا تو جبرائیل ؑ مجھے خدائے بزرگ و برتر کے دا ہنی طرف نظر آئیں گے۔ خدا کی قسم! جبرائیل نے اُس دن سے پہلے اپنے مالک پرودرگار کو کبھی نہیں دیکھا ہو گا اور میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے جبرائیل ؑ کی طرف اِشارہ کر کے کہوں گا ’’یَا رَبْ اِنَّ ھٰذا اَخْبَرْنِیْ اِنَّکَ اَرسَلَہُ اِلَیَّ ‘‘ ( یا رب ! اِس نے مجھے کہا تھا کہ آپ نے اِسے میری طرف بھیجا ہے)۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہو گا ’’تم نے سچ کہا۔‘‘
 جبرائیل ؑ کا مقام و مرتبہ گروہِ ملائکہ میں سب سے بلند ہے۔ اُن کے نشانات و معجزات پورے عالم میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جبرائیل ؑ انبیا کرام ؑکے رفیق اور اپنے مالک و پروردگار  کے بہترین غلام ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں جہاں قرآن پاک لے کر نازل ہوتے رہے وہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس اپنے خدا کے حکم سے مختلف مواقع پر تربیت اورتشریح ِ دین کے لیے بھی آتے رہے۔ حضرت جبرائیل ؑ تمام انبیا کرام کے پاس بھیجے گئے ہیں او ریہ راز دارِ انبیا ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر نے حضرت جبرائیل ؑ کو روح القدس اور رُوح الامین کے ناموں سے عزت بخشی ہے ۔
کُل انبیا کرام اور مرسلین کی حیات کی تفصیل میں جا بجاجبرائیل ؑ کا ذکر ملتا ہے۔ قصص الا نبیاء میں مختلف صورتوں میں جبرائیل ؑ کا ذکر موجو د ہے کیونکہ یہ ہر نبی اور رسول کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ بروایت حدیث مسند امام الاحمد، انبیا کی تعداد ایک لاکھ چو بیس ہزار ہے اور ان میں سے 315 رُسل (رسول) ہیں اور حضرت جبرائیل ؑ تمام کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اِن کو تمام انبیا کرام کی طرف تربیت، امداد اور آفات سے بچا ؤ  کیلئے بحکم ِ خدائے بزرگ و برتر بھیجا گیا۔
حضرت آدم ؑ کی جنت سے بید خلی کے ساتھ ہی خدائے پاک نے آدم ؑ سے بلا واسطہ کلام بند کر دیا اور حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے بالواسطہ کلام شروع کر دیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی تو اُس وقت تک تدفین کا تصور مو جود نہ تھا کیونکہ بنی نوع انسان میں تب تک کوئی موت سے ہم آغوش نہ ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات نے تب حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ فرشتوں کی ایک جماعت بھیجی جنہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسد ِ خاکی کو غسل دیا۔ کفن میں لپیٹا اور تدفین کی۔ حضرت جبرائیل ؑ کا بنی نوعِ انسان سے واسطہ حضرت آدم ؑ سے قائم ہے ۔
صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جب حضرت بی بی حا جرہ ؑ صفا اور مروہ کی بے آب وگیا ہ پتھریلی پہاڑیوں کے درمیان حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اُٹھائے دوڑ رہی تھیں اورمدد کے لیے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھیں اور وہا ں کوئی موجو د نہ تھا تب اُنہوں نے اچانک آواز سنی اور کہا جو بھی ہے سامنے آئے اور جو بھلائی ہے وہ پیش کرو تب اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام سامنے آئے اُنہوں نے اپنی ایڑھی زمین پر ماری اور پانی زمین سے فواروں کی طرح اُبل پڑا۔ ’’حضور علیہ السلام نے فرمایا ’’ اللہ اسماعیل علیہ السلام کی ماں پر رحم فرمائے اگر و ہ پانی کے گرد حصار نہ لگاتیں تو زم زم کا پانی زمین کے کونے کونے کو چھو لیتا۔‘‘
آج کروڑوں مسلمان آبِ زم زم سے لطف اندوز ہوتے ہیں، معجزہِ آبِ زم زم رواں دواں ہے۔یہ آٹھ ضرب تین فٹ کا کنواں ہے اور مستند ریسرچ کے مطابق یہ آٹھ ہزار لیٹر فی سیکنڈ کے حساب سے پانی مہیا کر رہا ہے جو کہ ایک دن میں69 کڑور لیٹر پانی بنتا ہے جو حضرت جبرائیل ؑکے پاؤں کی ایڑھی کی چوٹ زمین پر لگنے پر بحکمِ خداوندی وجود میں آیا۔
روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ او ر حضرت اسمعٰیل ؑ خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کرچکے تو حضرت ابراہیم ؑ نے دُعا کی ’’اے اللہ! ہمیں مناسک ِ حج بھی سکھا دیجئے‘‘۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے متعلق فرمایا ’’اللہ ربّ العرش نے جبرائیل ؑ کو بھیجا اور اُنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ قدم بہ قدم مناسک ِ حج ادا کیے۔ جمرات کے مقام پر شیطان نے ورغلانے کی کوشش کی تو حضرت جبرائیل ؑ نے ہی بحکم ِخدا حضرت ابراہیم ؑ کو شیطان کو کنکر مارنے کی ہدایت فرمائی۔‘‘ آج تمام مسلمان اس عمل کی تجدید مناسک حج کے دوران کرتے ہیں۔
حضرت یوسف ؑ کو جب اُن کے بھائیوں نے حسد کے سبب کنویں میں پھینکا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں پر لیا اور کنویں کی تہہ میں گرنے اور چو ٹ لگنے سے بچایا۔
روایت ہے کہ حضرت لوط ؑ کی تمام نافرمان قوم اوراُن کا عظیم شہر جبرائیل ؑ کے پروں میں سے صرف ایک پَر کی نوک لگنے سے تباہ و برباد ہو گئے۔ جبرائیل ؑ نے تمام شہر اپنے ایک پَر کی نوک پر اُٹھایا اور بحکم ِ خدا تعالیٰ اُلٹا کر فنا کر دیا اور تمام قوم ہلاک ہو گئی۔
قرآن میں خدائے بزرگ و برتر نے حضرت عیسیٰ ؑ کے زمین سے آسمان پر اٹھائے جانے کے بارے میں ارشاد فرمایا ’’ایدناہ بروح القُدس‘‘ (او ر ہم نے رو ح القدس کے ذریعے اُس کی مدد کی)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زمین سے آسمان تک لے جانا اور لانا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ہی ذمے ہے سو وہی بحکمِ خداتعالیٰ اُن کو آسمانو ں تک لے گئے ہیں جب تک زمین پر واپسی کا حکم اللہ کی طرف سے نہ ہو گا۔ 

حضرت انسؓ ابو طلحہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار محفل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک اُٹھا۔ میں نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ جبرائیل ؑ ابھی میرے پاس آئے اور کہا !’’اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! کیا آپؐ اس سے خوش نہیں کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایک مرتبہ دُرود پڑھتا ہے اور میں اُس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہوں۔‘‘
 اگر آپ بھی فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل  ؑسے اپنا نام کہلوانا چاہتے ہیں تو آئیے! پیارے نبی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھ لیں۔    صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم۔

استفادہ از خطبات امام عمر سلیمان

 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں