اخلاقی پستی کے اسباب اور ان کا حل |Akhlaaqi Pasti Kay Asbaab or In ka Hal

اخلاقی پستی کے اسباب اور ان کا حل

تحریر: احسن علی سروری قادری

کسی بھی معاشرے یا ملک یا قوم کی ترقی کا انحصار اس ملک یا قوم کے نوجوان طبقہ پر ہوتا ہے جو جتنی زیادہ پُرجوش، مہذب، متحد اور اصلاح یافتہ ہوگی معاشرہ یا ملک یا وہ قوم اتنی ہی زیادہ تیزی سے ترقی کرے گی۔ لیکن اگر آج ہم اپنے معاشرے یا ملک میں نظر دوڑائیں اور اپنی نوجوان نسل کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم کس ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ آج کا مسلم معاشرہ اخلاقی پستی کی انتہا پر ہے۔ عبادات کی کثرت ہے لیکن اخلاقی طور پر حیوانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ برائیاں جو پہلے تمام انبیا کی امتوں میں الگ الگ موجود تھیں وہ سب آج کی امت ِ مسلمہ و معاشرے میں مجموعی طور پر موجود ہیں۔ ہم اشیا میں ملاوٹ کرتے ہیں، ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، بے راہ روی کا شکار ہیں، حلال و حرام کی تمیز کھو چکے ہیں۔ فرقہ پرستی کی دلدل میں سر سے پاؤں تک دھنسے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر نفسانی بیماریاں مثلاً جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان، غرور و تکبر، خود پسندی، بے حیائی وغیرہ معاشرے میں بکثرت موجود ہیں۔ نوجوان نسل کے مشاغل سیر و تفریح کے علاوہ کچھ نہیں۔ خواتین کو غیبت اور چغل خوری سے فرصت نہیں۔ بچوں کی اصلاح و تربیت کی جانب کسی کی توجہ نہیں بلکہ بچوں کو خود ایسی چیزیں سکھائی جا رہی ہیں جو آگے جا کر ان کی شخصیت کو مسخ کر دیتی ہیں۔ پھر والدین شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے بچے غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہو رہے ہیں۔ جبکہ ان سب کے پیچھے اصل محرک وہ خود ہی ہیں کیونکہ بچے کی اوّلین درسگاہ اس کا گھر اور خاص کر ماں کی گود ہے۔
ذیل میں کچھ ایسے عناصر بیان کیے جا رہے ہیں جو اخلاقی پستی کا سبب ہیں اور جن کی روک تھام اور جن سے بچائو کے ذریعے ہی ہم اخلاقی طور پر بہتر ہو سکتے ہیں اور ایک فلاح یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اخلاقی پستی کا سب سے بنیادی سبب اللہ سے دوری، اس کے قرب کی لذت اور اہمیت سے ناآشنائی ہے۔ ہماری عبادات کھوکھلی اور روح سے یکسر عاری ہیں۔ بکثرت عبادات کرتے ہیں لیکن ان عبادات کی فرضیت کے مقصد سے مکمل طور پر غافل ہیں اور نہ ہی نئی نسل کی اس جانب کوئی توجہ اور رجحان ہے۔ دین ہمارے لیے ایک اضافی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ اللہ سے قلبی و روحانی تعلق نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ ہی دین کے احکامات کی طرف توجہ ہے۔ جب توجہ ہی نہ ہوگی تو ان پر عمل کرنا تو دور ان کو سیکھنا ہی محال ہوگا۔ 
اخلاقی پستی کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہم دین ِ اسلام کی تعلیمات سے غافل اور قرآن و حدیث کے احکامات پر عمل کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ اگر قرآن و حدیث کے فرامین و احکامات یاد بھی آتے ہیں تو محض اپنے ذاتی دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر نہ کہ اپنی و معاشرتی اصلاح و درستگی کے لیے۔ اس لیے صرف برائے نام مسلمان ہیں جس کی دنیا میں کوئی عزت و وقار نہیں۔ بقول اقبالؒ

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

ہم اگر کتابیں پڑھتے بھی ہیں تو محض مطالعہ کی عادت سے مجبور ہو کر۔ کیونکہ عمل کی طرف توجہ تو ہے ہی نہیں۔ قرآن میں ان کی مثال یوں بیان کی گئی ہے:

کَمِثْلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ
اَسْفَارًاط
 (سورہ الجمعہ۔5)
ترجمہ: وہ گدھے کی مثل ہیں جو اپنی پیٹھ پر بڑی کتابیں لادے ہوئے ہو۔
اخلاقی پستی کی ایک اہم وجہ مال و دولت کی محبت ہے۔ ٹیکنالوجی کے دور میں طرح طرح کی آسائشات اور سہولیات کی فراوانی ہو چکی ہے جن کے حصول کے لیے ہر شخص دیوانہ ہو رہا ہے اور ان آسائشات اور آرزوؤں کی تکمیل کے لیے ہر شخص جائز و ناجائز اور حرام و حلال ہر طریقے سے مال و دولت کمانے پر کمربستہ ہے۔ اللہ پاک کی ذات پر توکل برائے نام ہی ہے۔توجہ مسبب الاسباب کی بجائے اسباب پر ہے۔
دوسری جانب امیر لوگ امیر تر اور غریب لوگ غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ امیر لوگوں کے پاس مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر غریب لوگوں میں احساسِ کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ کی ذات پر نہ یقین ہے نہ توکل۔ اگر یقین و توکل ہو تو انسان اللہ کی تقسیم پر بھی راضی ہو کیونکہ اللہ پاک نے واضح طور پر قرآن میں ارشاد فرما دیا ہے:
ترجمہ: فرما دیجئے کہ میرا ربّ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ فرما دیتا ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔ (السبا۔37)
ترجمہ: اور زمین پر چلنے والے ہر جاندار کی ذمہ داری اللہ پر ہے۔ (ھود۔6)
اخلاقی پستی کا ایک اور سبب بے راہ روی ہے۔ ہم خود کو ہر قید و پابندی سے آزاد کر چکے ہیں۔ جو ذرا سا بھی مذہبی دکھائی دیتا ہے اس کے اوپر دقیانوسی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ ماڈرن اِزم کے نام پر فحاشی و عریانی عام ہو چکی ہے۔ مرد و خواتین اپنی حدود و قیود کو بھول چکے ہیں۔ 
ماڈرن زمانہ اور ماڈرن سوچ کے نام پر آزادانہ خیالات اور ماحول کو ترویج دی جا رہی ہے۔ بچے اور نوجوان نسل جب یہ کھلا اور مخلوط ماحول دیکھتے ہیں تو اسی کو اپنا لیتے ہیں اور اوپر سے یہ سوچ کہ بچوں کو روک ٹوک نہیں کرنی اور نہ ہی مارنا ہے‘ انہیں مزید خراب کیے جا رہا ہے۔ یہ بچے اور نوجوان ہی ملک و قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر بنیاد ہی خراب ہو گی تو عمارت کا معیار کیا ہوگا انسان خود اندازہ لگا لے۔
اخلاقی پستی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ظاہری نمود و نمائش اور آرائش پر ہماری توجہ بڑھتی جا رہی ہے جبکہ تزکیہ نفس اور قلب کی پاکیزگی کی طرف توجہ بالکل نہیں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بظاہر تو انسان بہت مہذب اور سلجھا ہوا نظر آتا ہے لیکن اخلاقی اور روحانی طور پر ہر برائی اس میں موجود ہوتی ہے۔ طرح طرح کی منفی سوچیں اس کا احاطہ کیے رکھتی ہیں۔اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ انسان نے بظاہر تو صاف اور پاکیزہ لباس پہن رکھا ہو لیکن اس کا وجود غسل واجب ہونے کی بنا پر ناپاک ہو۔
دوسروں کی عزت بھی کرتے ہیں تو محض اپنے مفادات کے حصول اور دوسروں کی امارت کی بنا پر۔ عزت و ادب کا معیار بزرگی و تقویٰ کی بجائے مال و دولت بن چکا ہے۔ جو جتنا زیادہ امیر اس کی معاشرے میں اتنی ہی عزت و قار۔
اخلاقی پستی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج انسان کسی بھی غلط کام یا غلطی یا برائی کاذمہ دار خود کو نہیں ٹھہراتا بلکہ دوسروں کو ہی اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے کیونکہ اسے اپنی کوئی خامی اور کوتاہی نظر نہیں آتی۔ وہ خود کو کامل اور مکمل جبکہ دوسروں کو خام و ناقص سمجھتا ہے۔ دھیان دوسروں کی کمزوریوں اور غلطیوں کی جانب ہے اپنی اصلاح اور درستگی کی جانب توجہ کم ہے۔ بے جا تنقید اور بحث مباحثہ کی وجہ سے آپس کے تعلقات اور رشتے بھی خراب کر لیتا ہے۔
اس کے علاوہ انسان کو صرف اپنے حقوق یاد رہتے ہیں اس کے ذمہ جو فرائض ہیں ان کی انجام دہی سے یکسر غافل ہے۔ بطور باپ، بیٹا، بھائی یا بطور ایک عام شہری اس کے ذمہ جو فرائض ہیں ان سے انسان مکمل طور پر غافل اور انجان ہو چکا ہے۔ امیر و غریب کے لیے علیحدہ علیحدہ قانون ہیں۔ امیر جرم کرے تو اسے کوئی سزا نہیں اور اگر وہی جرم کسی غریب سے سرزد ہو جائے تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ عدل و انصاف کی یکسر کمی ہے۔امیر لوگ مال و دولت کی وجہ سے غرور و تکبر میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اسی تکبر کے نشے میں وہ کوئی بھی گناہ یا جرم کرنے سے نہیں چوکتے۔
اخلاقی پستی کی ایک بہت ہی اہم وجہ اتحاد کا نہ ہونا ہے۔ بطور امت ہماری قوم بالکل بھی متحد نہیں ہے اور نہ ہی وہ ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہر شخص اپنی ضروریات اور اپنے مفادات کی خاطر سرگردان ہے پس کسی دوسرے شخص یا معاشرے کی فلاح و بہبود سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ جب قوم ہی متحد نہ ہوگی اور ان کا ایک مقصد نہ ہوگا تو وہ پستی کا شکار ہی ہوں گے۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اخلاقی پستی کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے بے جا رسومات کو اپنا لیا ہے اور اکثر اوقات اس حد سے بھی گزر جاتے ہیں کہ غیر شرعی و غیر اخلاقی طور طریقے بھی اپناتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے۔ اور بعض اوقات غیر مسلموں کی روایات و رسومات کو اپنا لیتے ہیں۔
مندرجہ بالا تمام عوامل اور عناصر جو اخلاقی پستی کا سبب بنتے ہیں‘ کا ایک ہی علاج اور حل ہے اور وہ یہ کہ بطور امت اور بطور معاشرہ ہمیں اخلاقی طور پر ٹھیک ہونا چاہیے۔ ہمارا بحران معاشی نہیں بلکہ اخلاقی ہے۔ ہمیں قلبی و روحانی پاکیزگی کی ضرورت ہے جو کہ فقرا کاملین کی صحبت سے میسر آتی ہے۔ فقرا کاملین کی صحبت کی نورانی تاثیر سے زنگ آلود نفوس اور قلوب کو تزکیہ نفس کی دولت عطا ہوتی ہے۔ انسان روحانی ترقی حاصل کرتا ہے اور اخلاقی طور پر اصلاح پا لیتا ہے۔ حدیث ِ مبارکہ ہے:

تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہ
ترجمہ: اور اللہ کے اخلاق سے متخلق ہو جاؤ۔
مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ نفسانی برائیوں اور بیماریوں سے نجات حاصل کر کے اللہ کی صفات کو اپنایا جائے اور اللہ کے رنگ میں خود کو رنگا جائے۔ 
 سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر کے مجدد اور فقیر کامل مکمل اکمل اور جامع نور الہدیٰ ہیں جنہوں نے اپنی نگاہِ کامل سے زنگ آلود قلوب کو پاکیزہ کر کے حیاتِ نو بخشی ہے۔ آپ کے فیض ِ لامحدود نے دنیا بھر میں لاکھوں طالبانِ دنیا کو معرفت ِ الٰہی سے روشناس فرما کر طالبانِ مولیٰ بنا دیا ہے۔ نفسی و قلبی صفائی سے عشق ِ حقیقی کی دولت سے سرفراز فرما دیا ہے۔ ظاہر و نفس پرستی سے دھیان و توجہ ہٹا کر قلبی و باطنی اصلاح و درستی کی جانب توجہ مبذول کرا دی ہے اور یہ سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ  مزید جوش و جذبے سے دنیا بھر میں جاری ہے اور انشاء اللہ جاری رہے گا۔ اسی لیے ہر خاص و عام مرد و عورت کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ جس بھی فرقہ و مذہب سے تعلق رکھتا ہو، کسی بھی عمر کا ہو، اپنی اخلاقی اصلاح کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی ذات سے وابستہ ہو، آپ کی ظاہری و باطنی تربیت اور رہنمائی میں نہ صرف ایک اچھا مسلمان بن کر قربِ حق میں بھی ترقی کرے بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اخلاقی پستی سے نکال کر وہ عروج و کمال عطا فرمائے جو اللہ کے انعام یافتہ بندوں کو عطا ہوا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں