عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar

Rate this post

عقلِ بیدار Aqal-e-Baydar

تصنیف ِلطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ

قسط نمبر 4                                           مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

جان لو کہ اصل آدمی اور انسان کی پہچان کس علم سے ہوتی ہے؟ وہ مشکل وقت میں آزمایا ہوا، باوفا اور جانثار ہوتا ہے۔ وہ ایسا جانی دوست ہوتا ہے جو زبانی دعوے نہیں کرتا اور نہ ہی روزی معاش کے پیچھے بھاگتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نام اسمِ اللہ ذات کا ذاکر ہوتا ہے۔ ہر پرندہ اللہ کے نام کا ذکر کرتا ہے لیکن اسمِ اللہ ذات پڑھنے میں کامل وہ ہوتا ہے جسے اسمِ اللہ ذات سے حضوری حاصل ہو۔ ابیات:

ذکر را بگذار و فکرش را مجو
ذکر فکر و وسوسہ از دل بشو

ترجمہ: ذکر چھوڑو اور فکر کی جستجو بھی مت کرو بلکہ ذکر، فکر اور وساوس کو اپنے دل سے نکال دو۔ 

طلب کن از مرشدت توحید نور
طلب کن از مرشدت قربش حضور

ترجمہ: اپنے مرشد سے نورِ توحید اور قربِ حضوری طلب کرو۔

بی حضوری ہر طریقہ راہزن
طالبان را بس بود این یک سخن

ترجمہ: طالبانِ مولیٰ کے لیے یہی ایک نصیحت کافی ہے کہ جس طریقہ میں حضوری حاصل نہ ہوتی ہو، وہ راہزن ہے۔ 

با حضوری قادری را ابتدا
انتہائی قادری بیند لقا

ترجمہ: قادری سلسلہ میں ابتدا میں ہی طالب کو حضوری حاصل ہو جاتی ہے جبکہ انتہا پر وہ لقائے الٰہی سے مشرف ہو جاتا ہے۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
٭ وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ  اَعْمٰی  فَھُوَ  فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی   (سورۃ بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ: اور جو اس (دنیا) میں (دیدار سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔

بیت:

گر بگویم کور را با چشم بین
کور مادر زاد کی بیند بدین

ترجمہ: اگر میں اندھے سے کہوں کہ اپنی آنکھوں سے دیدار کرو تو مادر زاد اندھا کیسے دیدار کر سکتا ہے؟ 

قادری طالب مقربِ حق ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
٭ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِئَاتِ الْمُقَرَّبِیْنَ 
ترجمہ:نیکوکاروں کی نیکیاں مقربین کے نزدیک گناہ ہیں۔

فضیلت طریقہ ٔقادری

کامل قادری کی نظر میں جاہل طالب وعالم اور بانصیب و بے نصیب برابر ہوتے ہیں کیونکہ کامل قادری مقربِ پروردگار ہونے کی بدولت ہر علم اور ہر نصیب میں بااختیار ہوتا ہے۔ لوحِ محفوظ سے حاصل ہونے والے علم کی بدولت وہ بدبخت کو نیک بخت اور نیک بخت کو بدبخت بنا سکتا ہے۔ اس مرتبہ پر حیران مت ہو۔ کامل قادری طالب کے لیے کھانا مجاہدہ اور نیند مشاہدئہ حضوری ہوتی ہے۔ دانا بنو اور آگاہ رہو کہ قادری طریقہ میں ہر دوسرے طریقہ سے جاسوس داخل ہو جاتے ہیں۔ وہ شیطان چور کی طرح ہیں جو قادری طالب کو گمراہ کرتے ہیں۔ قادری طالب کو قادری طریقہ میں ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جو قادری طالب دوسرے طریقے کی طرف رجوع کرے یا ان سے اخلاص رکھے اس مردود کا مرتبہ سلب ہو جاتا ہے اور پھر قیامت تک اس کا قلب ہرگز زندہ نہیں ہوتا۔ قادری طالب اور دوسرے سلسلہ کے طالب کو کس علم سے پہچانا جا سکتا ہے؟ قادری طالب بغیر مشقت کیے اہلِ توحید ہو جاتا ہے جبکہ دیگر سلاسل میں اکثر طالب اہلِ تقلید ہوتے ہیں۔ کامل قادری روزِ اوّل جس بھی مہم کے قفل کی کلید اپنے ہاتھ میں پکڑتا ہے اسے کھول دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں دونوں جہانوں میں بھلائی عطا فرمائے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔

پیر میراں محی الدین حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اپنے طالبوں اور مریدوں کے ہمراہ اس طرح ہوتے ہیں جس طرح آدمی کے وجود میں جان۔ حضرت پیر دستگیر سیّدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے طالب اور مرید آپ کے (روحانی) فرزند ہیں جو اگر صالح ہوں تو ہمیشہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی آستین میں رہتے ہیں اور اگر طالح ہوں تو سیّدنا غوث الاعظمؓ ان بدبخت طالبوں کی آستین میں رہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کی قسم! محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ تا قیامت کسی بھی حال، احوال، اقوال، افعال اور اعمال کے دوران اپنے طالب و مرید فرزند سے جدا نہیں ہوتے بلکہ حشرگاہ میں بھی ہر مقام پر اپنی نگاہ اور پناہ میں رکھیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے وعدہ ہے کہ سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا کوئی بھی طالب و مرید فرزند دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا اور جو بھی حاسد، کاذب اور منافق یہ کہے کہ دوزخ میں ڈالا جائے گا تو وہ خود جنت سے محروم رہے گا۔ جو طالب و مرید فرزند سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کو خود سے جدا سمجھتا ہو وہ خود کو پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا طالب و مرید فرزند کیسے کہہ سکتا ہے؟ اگر کوئی طالب کسی بھی مشکل وقت میں حضرت پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کو اخلاص، اعتقاد اور یقین کے ساتھ مدد کے لیے یاد کرتے ہوئے کہے:
٭ اُحْضُرُوْا بِمَلَکِ الْاَرْوَاحِ الْمُقَدَّسِ وَ الْحَیُّ  الْحَقِّ  یا شیخ عبد القادر جیلانیؓ حاضر شو
ترجمہ: اے شیخ عبدالقادر جیلانیؓ! ارواحِ مقدسہ کے مالک اور جو زندہ و حق ہیں، کے ساتھ اپنی حاضری سے نوازیں۔

اور تین مرتبہ جذب کے ساتھ اپنے نفس پر غضبناک ہو کر دل پر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ،  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ،  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ   کی ضرب لگائے تو بلاشبہ تیسری ضرب لگاتے ہی سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ تشریف لے آئیں گے۔ اگر وہ اپنے اربعہ عناصر سے بنے وجود کے ساتھ تشریف لائیں تو طالب ان کو چشم ِظاہر سے دیکھ سکے گا، اگر قلبی وجود کے ساتھ تشریف لائیں تو چشم ِ عیاں سے، اگر روحانی وجود کے ساتھ تشریف لائیں تو چشم ِآگاہ سے، اگر سرّی وجود کے ساتھ تشریف لائیں تو چشم ِنگاہ سے، اگر نوری وجود کے ساتھ تشریف لائیں تو طالب انہیں چشم ِنور سے دیکھ سکے گا۔ لیکن وہ تشریف ضرور لائیں گے۔ بعض کے ساتھ وہ ظاہری طور پر ملاقات کریں گے، بعض کے ساتھ بذریعہ وھم، بعض کے ساتھ بذریعہ الہام، بعض کے ساتھ بذریعہ دلیل، بعض کے ساتھ بذریعہ خیال، بعض کے ساتھ بذریعہ وصال اور بعض کے ساتھ بذریعہ پیغام بات کریں گے۔ جو شخص بھی اپنے خاص نسب اور نسل کے ساتھ سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا طالب و مرید فرزند بنے گا وہ اولیا اللہ کے مرتبہ پر پہنچ جائے گا۔ اولیا اللہ مردہ نہیں ہوتے بلکہ اسم ِاللہ ذات کی بدولت حیاتِ جاودانی پا لیتے ہیں جس کے بعد وہ ہرگز نہیں مرتے۔ اولیا اللہ کے لیے موت ان کی مراد ہے کیونکہ (جسمانی) موت کے بعدوہ لوگوں کے خطرات سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
٭ مَنَ عَرَفَ اللّٰہَ لَمْ یَکُنْ لَّہُ لَذَّۃً مَعَ الْخَلْقِ 
ترجمہ: جو اللہ کو پہچان لیتا ہے وہ مخلوق سے کوئی لذت نہیں پاتا۔

شاہ محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا:
٭ اَلْاُنُسُ بِاللّٰہِ وَالْمُتَوَحَّشُ عَنْ غَیْرِ اللّٰہِ   
ترجمہ:جو اللہ کے ساتھ انس رکھتا ہے وہ غیر اللہ سے وحشت کھاتا ہے۔

یہ ان اولیا اللہ کے مراتب ہیں جن کے لیے زندگی اور موت برابر ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
٭ اِنَّ اَوْلِیَائَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُوْنَ بَلْ یَنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ 
ترجمہ: بیشک اولیا اللہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوتے ہیں۔

فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
٭ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ ط بَلْ اَحْیَآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ  (سورۃ البقرہ۔154)
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہو کہ وہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔ 

جتنے بھی علوم، جن و انس، مؤکل اور فرشتے ہیں وہ سب علم ِدعوتِ قبور کی طے میں ہیں جو اہل ِتصور صاحب ِحضور عارف کو نصیب ہوتا ہے۔ کیا تو جانتا ہے کہ جتنے بھی خاص و عام لوگ ہیں وہ سب ہر روز اللہ جلّ جلالہٗ کے نام یعنی اسم ِاللہ ذات کا زبان سے ورد کرتے ہیں لیکن اسم ِاللہ ذات کی کنہ نہیں جانتے اس لیے اللہ کی معرفت اور قرب کی لذت سے محروم رہتے ہیں۔ مرشد کامل تلقین کے ذریعے اسم ِاللہ ذات کی کنہ کھولتا ہے اور طالب کو اسم ِاللہ ذات کی کنہ سے اس کا ہر مطلوب عطا کرتا ہے۔ عاقل وہ ہوتا ہے جو طالب کو چار تصرفات عطا کرتا ہے جن کی بدولت وہ عمر بھر بیقرار اور پریشان نہیں ہوتا۔ فقیر ظل ِاللہ بادشاہ اور اولیا اللہ پر غالب اور لایحتاج ہوتا ہے، وہ کسی سے کوئی حاجت نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی سے التجا کرتا ہے۔ وہ چار تصرف یہ ہیںـ: اوّل تصرف علم ِدعوتِ قبور، جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
٭ اِذَا تَحَیَّرْتُمْ فِی الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِیْنُوْا مِنْ اَہْلِ الْقُبُوْرِ 
ترجمہ: جب تم اپنے معاملات میں پریشان ہو جاؤ تو اہل ِقبور سے مدد مانگ لیا کرو۔ 

جو طالب علم ِ دعوت میں کامل ہو جائے اسے تمام تصرف دائمی طور پر حاصل ہو جاتے ہیں۔ لیکن فرضِ عین یہ ہے کہ طالب اپنے نفس کو حکم کے تابع کر لے۔ اگر کوئی تمام عمر مطالعہ ٔعلم میں مشغول رہے اور اس پر عمل بھی کرے وہ فقیر ِکامل بن جاتا ہے۔ یہی اصل راہ ہے جو اللہ کا قرب اور وصال عطا کرتی ہے نہ کہ وہ جس میں انسان عزتِ دنیا کی خاطر خود فروشی کرتا ہے اور نفس کے فربہ ہونے کے باعث اس کا دل شب و روز گناہوں میں مبتلا رہتا ہے۔

اے میرے عزیز سن! ایک سخن سے ہزاروں کتابوں کا علم منکشف ہو جاتا ہے لیکن وہ ایک سخن کتابوں میں نہیں سما سکتا کیونکہ وہ حضوری میں ملتا ہے۔ وہ ایک سخن مغفور عارفوں کو نصیب ہوتا ہے۔ پس دوسروں کی کیا مجال کہ صاحب ِسخن کے سامنے دم ماریں۔ سخن ِسرّ الگ ہے، سخن ِصفات الگ ہے اور سخن ِذات الگ ہے۔ تجھے کیا معلوم کہ وہ سخن کیا ہے؟ تجھے کچھ معلوم نہیں۔ یہ سخن دائمی حضوری کا حامل ہے۔ اس کا تعلق علم ِلدنیّ سے ہے جس کا فیض و فضل اور توفیق ازل سے حاصل ہوتی ہے اور اس کی بدولت طالب حلال رزق کمانے والا، سچ بولنے والا اور اللہ بزرگ و برتر کی حضوری کے مشاہدہ کا حامل ہو جاتا ہے۔ یہ اللہ کی معرفت، حضوری، قرب اور وصال کے مراتب ہیں جو مطلق توفیق سے حاصل ہوتے ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
٭ وَمَا تَوْفِیْقِیْٓ اِلَّا بِاللّٰہِ (سورۃ ھود۔88)
ترجمہ: اور میری توفیق اللہ ہی سے ہے۔ 

اس راہ کی اصل علم ہے کیونکہ جاہل اس راہ پر نہیں چل سکتا۔ بیت:

گر ترا عقل است علم از حق طلب
جاہلان خوک و خرس و مثل سگ

ترجمہ: اگر تجھ میں عقل ہے تو اللہ تعالیٰ سے علم طلب کر کیونکہ جاہل سور، ریچھ اور کتے کی مثل ہوتا ہے۔

علم تین قسم کے ہیں اور تین طریقوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اعرابی شعرا کا علم، علما کا علم اور اہل ِ تصوف فقیر اولیا کا معرفت ِتوحید کا علم۔ شعرا کا علم فصاحت و بلاغت کا حامل ہوتا ہے جو عقل و شعور سے حاصل ہوتا ہے۔ علما، فقہا، مفسرین اور محدثین کا علم مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے جو مناظرہ اور مذاکرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فقیر اہل ِتصوف، عارف اولیا اللہ کا علم اللہ حی ّقیوم کے قرب اور حضوری سے حاصل ہوتا ہے۔ جب حضوری حاصل ہو جائے تو علوم، رسوم، مطالعہ ٔکتب، کتب نویسی، شاعری اور عقل کی گنجائش نہیں رہتی کیونکہ یہ سب حضوری سے بہت دور اور بے خبر ہیں۔ دانا اور آگاہ رہو۔ جو بھی غیر ماسویٰ اللہ خطرات کے دفاتر ہیں انہیں اپنے دل سے محو کر دو۔ اسم ِاللہ ذات کی حضوری سے حاصل ہونے والے چند کلمات اللہ کے فیض و فضل سے بغیر کسی مشکل کے اللہ کے خزانوں پر تصرف عطا کرتے ہیں جس کی بدولت بے نصیب بانصیب ہو جاتے ہیں۔ طالبوں کا ہر مقصود اللہ کے حکم سے کلمہ طیب  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ      کی کنہ سے حاصل ہوتا ہے۔ جو کوئی  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ   کہتا ہے اس پر آتش ِدوزخ حرام ہو جاتی ہے۔ ایمان، جنت، فضل اور رحمت اس کے عاشق ہوتے ہیں۔ کامل جمعیت، خزانوں پر تصرف اور مقدر شدہ رزق کلمہ طیب پڑھنے والے کو نصیب ہو جاتے ہیں۔ خزانوں پر تصرف، نصیب اور ازلی فیض و فضل اسم ِاللہ ذات اور کلمہ طیب کی طے میں ہیں۔ پیر کامل و مرشد مکمل توجہ باطنی سے کلمہ طیب کی طے کھولتا ہے اور تمام خزانوں پر تصرف اور نصیب شدہ رزق کلمہ طیب کی مدد سے عطا کرتا ہے۔ کلمہ طیب حق سے ہے اور برحق ہے جو معرفت ِالٰہی عطا کرتا ہے۔ 

اللہ کی عزت کی قسم! یہ کتاب کم بخت و بے نصیب، کم عقل اور بدقسمت کو پسند نہیں آئے گی۔ اس میں خزانوں کا علم ہے جس کی بدولت خوش قسمت طالب اللہ کے خزانے حاصل کرتا ہے۔ فقیر اس کی تحقیق بخشتا اور توفیق کی بدولت دیدار عطا کرتا ہے۔ دانشمند ہمیشہ اس سے یہ خزانے حاصل کرتا ہے جبکہ کم عقل دولت اور شہرت کی خواہش میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ کتاب علما، فقہا، فقرا اور عارف اولیا کے لیے کسوٹی ہے کیونکہ یہ عنایت ِالٰہی سے ہدایت اور معرفت کے مراتب تک پہنچاتی اور مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں داخل کرتی ہے۔ جو شب و روز اسے اپنے مطالعہ میں رکھتا اور اس کی تکرار کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں لایحتاج ہو جاتا ہے اور کبھی محتاج نہیں ہوتا۔ ابیات:

بی عقل را خوش نیاید این کتاب
عاقلان را گنج بخشد بی حساب

ترجمہ: بیوقوفوں کو یہ کتاب پسند نہیں آئے گی جبکہ عاقلوں کو بے حساب خزانے عطا کرے گی۔

این کتاب غوث و قطب و ہر ورق
ہر تصرف کیمیا بدہد سبق

ترجمہ: اس کتاب کا ہر ورق غوث و قطب کے مرتبہ پر پہنچاتا ہے اور ہر کیمیا پر تصرف کا سبق دیتا ہے۔

اکسیر و تکثیر است و علم کیمیا
و ز کیمیا ہنرش نظر گردد غنا

ترجمہ: اس کتاب میں کیمیا اکسیر اور تکثیر کا علم ہے۔ کیمیا گری کے ہنر سے نظر غنا حاصل کر لیتی ہے۔ 

بعض لوگوں کو ایک دوسرے کو نصیحت کرنے سے عقل حاصل ہوتی ہے جو کہ گدائی کی مثل ہے اور وہ لوگ گدا ہیں۔ اولیا اللہ کو اللہ کی نوازش سے بغیر نصیحت کے علم اور عقل عطا ہوتی ہے جسے عقل ِکُلی کہتے ہیں۔ ایسا فقیر کل و جز پر حاکم اور غالب ہوتا ہے۔ عالم کو کتب کے مطالعہ سے معلومات حاصل ہوتی ہیں اور اس کی یہ معلومات اسے طمع و حرص سے باز نہیں رکھ سکتی اگرچہ وہ زبان سے تفسیر بیان کرتا رہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
٭ لِکُلِّ شَیْئٍ اٰفَۃٌ وَ اٰفَۃُ الْعِلْمِ بِالطَّمْعِ   
ترجمہ: ہر شے کی ایک آفت ہوتی ہے اور علم کی آفت طمع ہے۔

اسی بنا پر سب سے پہلے علم ِغنایت اور کیمیا ہنر و کیمیا نظر پر تصرف حاصل کرنا چاہیے اس کے بعد ہدایت کرنی چاہیے۔ خاص طالب و شاگرد کو علم ِکیمیا سے محرم کرنا سعادت، ثواب اور سراسر عطا ہے جبکہ نالائق طالب و شاگرد کو یہ علم عطا کرنا سراسر خطا ہے۔ اگر یہ علم کسی بیوقوف کو معلوم ہو جائے تو اس کے زوال اور بربادی کا وبال اس کی اپنی گردن پر ہوگا۔ فقیر وہ ہے جو ہر تصرف کا عامل، ہر تصور میں کامل، ہر توجہ میں مکمل اور ہر تفکر میں اکمل ہو۔ وہ ان سب مراتب کا جامع و مجمل مجموعہ اور طمع سے پاک ہوتا ہے۔ ابیات:

عقل یک نور است و ز حق آفتاب
میشود روشن بمثل مہتاب

ترجمہ: عقل ایک نور ہے جو آفتابِ حق سے روشن ہے اور یہ طالب کو بھی اس طرح روشن کرتا ہے جس طرح آفتاب چاند کو۔

کور تیرہ را نباشد عقل و رائی
بی خبر از معرفت وحدت خدائی

ترجمہ: اندھا عقل اور فیصلہ سازی سے محروم ہوتا ہے اور اسے اللہ کی معرفت اور وحدت کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔

عارفان را عقل شد با ذات حق
علم و حلم با مطالعہ دل ورق

ترجمہ: عارفین کو ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف سے عقل عطا ہوتی ہے اور وہ دل کے اوراق کے مطالعہ سے علم اور حلم حاصل کرتے ہیں۔

این سخن از کن گرفتم کنہ کن
جاودان را یافتم از یک سخن

ترجمہ: میں نے یہ سخن ’کن‘ کے نتیجے میں حاصل کیا جس سے مجھے کن کی حقیقت معلوم ہوئی۔ اسی ایک سخن سے میں نے جاودان ذات کو پا لیا۔

یک ز یک آیت ز قرآن یافتم
با خود رفیقی آیتش را ساختم

ترجمہ: یہ ایک سخن میں نے قرآن کی ہر ایک آیت سے پایا اور اسی کو میں نے اپنا رفیق بنا لیا۔ 

عقل یک سرّیست ازو ادبش بجو
بی عقل با بے ادب بس گفتگو

ترجمہ: عقل ایک راز ہے اسے ادب میں تلاش کر۔ بے عقل اور بے ادب بس گفتگو ہی کرتے ہیں۔

ہر کرا عقل است دائم سکوت
لب بلب بستہ بود اہل از لاھوت

ترجمہ: جسے عقل حاصل ہو وہ دائمی سکوت اختیار کرتا ہے۔ اہلِ لاھوت لب بستہ رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

 

 

 
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں