Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh

تصورِ شیخ سے فنا فی الشیخ کا سفر Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh

Rate this post

تصورِ شیخ سے فنا فی الشیخ کا سفر  (Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh)

تحریر:مسز انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:
’’اگر کسی کا چہرہ دِل میں قائم ہو جائے ، اسے تصور کہتے ہیں۔‘‘ (گفتگو۔ 26)
دل میں چہرہ اسی ہستی کا قائم ہوتا ہے جس سے انسان کو شدید محبت ہو۔ یوں تو انسان کو دنیا میں بہت سے رشتوں سے محبت ہوتی ہے لیکن انسان کے لیے بہترین، دائمی اورمنافع بخش محبت اور تصور وہی ہے جو بندے کا تعلق ربّ سے جوڑ دے اور اسے دائمی حیات عطا کرے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بندے کا اپنے ربّ کے ساتھ تعلق کس طرح استوار ہو اور اللہ جل جلالہ‘ کے ساتھ یہ تعلق کیسے مضبوط کیا جائے؟ تو اس کے لیے قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔‘‘ (المائدہ۔ 35)

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔تصوف میں وسیلہ سے مرادمرشد کامل اکمل، شیخِ کامل یا پیر ہوتا ہے۔ چونکہ معرفت و تصوف کی راہ نہایت کٹھن اور دشوار گزار ہوتی ہے اس لیے مرشد کامل اکمل کی رہنمائی نہایت ضروری ہے۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
 وصالِ حق تعالیٰ مرشد کامل اکمل (شیخِ کامل ) کی رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔ (عین الفقر)

مرشد کامل اکمل (شیخِ کامل) کی کیا نشانی ہے؟

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
 ’’مرشد کامل اکمل (شیخِ کامل ) وہ ہوتا ہے جو طالب کو اسمِ اللہ ذات کے ذکر کے ساتھ ساتھ اس کا تصور بھی عطا کرے۔ آپؒ فرماتے ہیں جو مرشد طالب کو تصور اسمِ اللہ ذات عطا نہیں کرتا وہ مرشد لائقِ ارشاد نہیں ۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور اکتیسویں شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
اللہ کی معرفت اور وصال کے سچے طالبوں کے لیے ضروری ہے کہ شیخ پکڑتے وقت تحقیق کر لیں کہ ایک تو سروری قادری صاحبِ مسمّیٰ ہو ، ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا فرمائے اور ’’اسمِ اللہ ذات‘‘ سنہری حروف سے لکھا ہوا ہو۔ کچھ عرصہ تک اسمِ اللہ ذات کے تصور سے تصورِ شیخ حاصل نہ ہو تو اسے شیخِ کامل نہ سمجھیں۔ (سلطان العاشقین) 

تفسیر روح البیان میں اسمِ اللہ ذات کے بارے میں علامہ شیخ محمد اسماعیل حقیؒ فرماتے ہیں:
اسمِ اعظم (اسمِ اللہ ذات) کی صورت ولی کامل (شیخِ کامل) کی ظاہری صورت کا نام ہے۔ (شمس الفقرا)

چونکہ مرشد کامل تجلیاتِ الٰہیہ کا مظہر ہوتا ہے اس لئے جب طالب کامل مرشد کا تصور کرتا ہے تو وہ انہی تجلیات کو اپنی باطنی آنکھ سے اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ تصور اسمِ اللہ ذات اسی وقت تاثیر پکڑتا ہے جب طالب مرشد پر یقین رکھتے ہوئے نہایت محبت و خلوص سے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی مشق کرتا ہے ۔غور طلب بات یہ ہے کہ مرشد پر طالب کے یقین کی تصور اسمِ اللہ ذات کی تاثیر سے کیا نسبت ہو سکتی ہے؟ جب تک طالب کو اپنے مرشد کے کامل ہونے کا یقین نہ ہو تب تک وہ باطن میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ جب تک طالب اپنے دل و ماغ میں شکو ک و شبہات کو جگہ دیتا رہے گاکہ جس کے ہاتھ پر میں نے بیعت کی وہ مرشد کامل اکمل ہے بھی یا نہیں، یہ مرشد مجھے وصالِ الٰہی تک پہنچائے گا یا نہیں، اسکی صحبت سے میرے نفس کا تزکیہ ہو پائے گا یا نہیں، اس مرشد کی باطنی توجہ سے میرا باطن روشن اور طیب و طاہر ہو پائے گا یا نہیں، یہ مرشد مجھے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری جیسے اعلیٰ ترین باطنی مراتب عطا کر پائے گا یا نہیں، یہ مرشد جس نے مجھے اسمِ اللہ ذات عطا کیا وہ صاحبِ مسمّٰی ہے یا نہیں۔۔۔  جب تک طالب ایسی بے یقینی اور کشمکش میں مبتلا رہے گا تب تک نہ تو تصور اثر کرے گا اور نہ ہی ذکر۔اس لئے طالب سب سے پہلے تو اپنے دل و دماغ میں اس بات کو پختہ کر لے کہ میرا مرشد کامل مکمل اکمل ہے تب ہی ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے ثمرات ظاہر ہوں گے۔

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہونے والے تصورِ شیخ سے مرید کا قلب پاک ہوتا ہے اور اس کے روحانی سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ معرفتِ حق تعالیٰ کے لیے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
روح اور باطن کی بیداری کے بغیر انسان نہ ہی اپنی اور نہ ہی خدا کی پہچان کر سکتا ہے ۔ باطن کے اس بند قفل کو کھولنے کے لیے کلید (چابی) ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی ضرورت ہے۔ (سلطان العاشقین) 

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہونے والے تصورِ شیخ سے مرید کا قلب اس قدر پاک ہو کر روحانی ترقی پا لیتا ہے کہ اسے ہر جگہ اپنے مرشد کی صورت دکھائی دیتی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ’’تم جدھر دیکھو گے تمہیں اللہ کا چہرہ دکھائی دے گا‘‘ کے مصداق ہر طرف مظہرِ الٰہی شیخِ کامل کی صورت کے جلوے دکھائی دیتے ہیں۔ اس حال کو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ایک مرید کے تصورِ شیخ کے واقعہ کی روشنی میں بیان کرتے ہیں:
 حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ایک مرید نے آپ کو خط لکھا ’’اس کا تصور شیخ اس حد تک غالب آچکا ہے کہ وہ نماز میں بھی اپنے شیخ کے تصور کو اپنا مسجود دیکھتا اور جانتا ہے اور اگر فرضاً نفی کرے تو بھی حقیقتاً نفی نہیں ہوتا یعنی نظر کے سامنے سے نہیں ہٹتا ۔‘‘ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے اس مرید کو جواب میں لکھا ’’اے محبت کے اطوار والے! یہ دولت طالبانِ حق کی تمنا اور آرزو ہے اور ہزاروں میں سے شاید کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے ۔ اس کیفیت اور معاملے والا مرید صاحبِ استعداد اور شیخ سے مکمل مناسبت رکھنے والا ہوتا ہے۔ احتمال ہے کہ شیخ کی تھوڑی سی صحبت سے وہ شیخ کے تمام کمالات کو جذب کر لے ۔ تصورِ شیخ کی نفی کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ (شیخ) مسجودِ الیہ ہے مسجودِ  لہٗ نہیں (یعنی جس کی طرف سجدہ کیا جائے نہ کہ وہ جس کو سجدہ کیا جائے)۔ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے (یعنی نماز کی حالت میں مسجد، مینار، محراب، دیواریں وغیرہ یا دیگر بہت سی چیزیں سامنے ہوں تو بھی نماز میں کسی قسم کی خرابی واقع نہیں ہوتی)۔ اس قسم کا ظہور سعادت مندوں کو ہی میسر آتا ہے تاکہ وہ تمام احوال میں مرشد کامل کو ( اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اسے پہچاننے کے لیے ) اپنا وسیلہ جانیں اور اپنے تمام اوقات میں اس کی طرف متوجہ رہیں نہ کہ اس بد نصیب گروہ کی طرح جو اپنے آپ کو (اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے ہر قسم کے وسیلے سے) بے نیاز جانتا ہے اور اپنے قبلۂ توجہ کو اپنے شیخ سے پھیر لیتا ہے اور اپنے معاملے کو خراب کر لیتا ہے۔ ‘‘ (مکتوبات نمبر30، دفتر دوم، حصہ اوّل،صفحہ101)

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔ خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں:
جب مرید یا سالک آنکھیں بند کر کے ہر طرف سے ذہن ہٹا کر اپنے شیخ کا تصور کرتا ہے تو اس کے ا ندر شیخ کی طرزِ فکر منتقل ہوتی ہے، طرزِ فکر دراصل روشنیوں کا وہ ذخیرہ ہے جو حواس بناتی ہیں، شعور بناتی ہیں، زندگی کی ایک نہج بناتی ہیں۔ جب ہم اپنے ارادے کے تحت شیخ کا تصور کریں گے تو تصور میں گہرائی پیدا ہونے کے بعد شیخ کے اندر کام کرنے والی وہ روشنیاں جو اسے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے منتقل ہوئی ہیں، ہمارے اندر منتقل ہو جائیں گی۔ (توجیہات) 

حضرت سیدّ محمد امینؒ فرماتے ہیں:
جب تک نیک خیال (تصورِ شیخ ) دل میں جما رہتا ہے ۔ تب تک دل میں کوئی خیالِ فاسد دخل نہیں دے پاتا۔ (اثبات تصورِ شیخ)

خواجہ شمس الحق سیالویؒ سے سوال کیا گیا ’’کیا نماز کے حال میں بھی تصورِ شیخ ضروری ہے؟‘‘ تو آپؒ نے فرمایا: ’’ہاں ضروری ہے۔‘‘ سائل نے عرض کی ’’حضور !نماز میں ماسویٰ اللہ کی نفی کی جاتی ہے ، تو شیخ کا تصور کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ تو آپؒ نے فرمایا ’’ہر چیز کی نفی کر سکتا ہے ، لیکن شیخ کی نفی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ماسویٰ اللہ نہیں۔‘‘ (تصورِ شیخ)

دل کا آئینہ بناتا ہے تصور پیر کا
قلب کی سیاہی مٹاتا ہے تصور پیر کا
ہوتا ہے اس سے میسر دِل کو دیدارِ رسولؐ
حق تعالیٰ سے ملاتا ہے تصور پیر کا

 

رابطۂ شیخ

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔ جب طالب یا مرید کو نہایت محبت، خلوص اور یقین کے ساتھ ذکروتصور اسمِ اللہ ذات سے تصورِ شیخ حاصل ہو جاتا ہے تو اس کے روحانی سفر کا اگلا مرحلہ رابطۂ شیخ ہے۔ یعنی مرشد کی وہ روحانی صورت جو تصور سے طالب کے قلب میں ظاہر ہوتی ہے طالب اس سے ہم کلام ہونا شروع ہوجاتا ہے جس سے مرید اپنی بہت سی اَن کہی باتیں جنہیں وہ بظاہر پوچھنے سے ہچکچاتا ہے باطنی طور پر مرشد سے پوچھ کر روحانی رہنمائی حاصل کر سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ باطنی رابطہ سے طالب کی روح مرشد کی تجلیاتِ الٰہیہ کو زیادہ تیزی سے جذب کرتی ہے۔ جس سے مرید کا روحانی سفر مرشدکے روحانی فیض کی بدولت تیزی سے طے ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 

پیر عبد اللطیف خان فرماتے ہیں: ’’رابطۂ شیخ سے مراد یہ ہے کہ مرید اپنے شیخ کی صورت کو اپنے سامنے یا اپنے دل میں ایسے رکھے جس طرح کوئی چیز ہر وقت نگاہ میں رکھی جاتی ہے۔‘‘ (رابطۂ شیخ) 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ مرید کے رابطۂ شیخ کے متعلق فرماتے ہیں:
جان لو! کہ تصورِ شیخ بے حد کثرت سے کرنے سے وجود میں غیب الغیب سے ایک صورت پیدا ہوتی ہے جو کبھی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  پڑھتے ہوئے ذکرِ اللہ میں مشغول ہوتی ہے اور کبھی وہ صورت روز و شب تلاوتِ قرآن اور آیات حفظ کرنے میں مشغول ہوتی ہے ، کبھی وہ علم ِ فضیلت بیان کرتی ہے اور نص و حدیث ، تفسیر ، مسائلِ فقہ اور فرض ، واجب، سنت ، مستحب کے علم کے ذریعے سنت ِمحمدیؐ کو بجا لانے اور ربّ کے حضور پیش ہونے کے فرض آداب سکھاتی ہے اور کبھی وہ صورت ذکرِ اللہ میں غرق ہوتی ہے اور کبھی وہ صورت وجود کے اندر بلند آواز سے سِرِّ ھُوْ،  سِرِّ ھُوْ، ھُوَالْحَقُّ، لَیْسَ فِی الدَّارَیْنِ اَلَّا ھُوْ   پکارتی ہے جو طالب کو سنائی دیتی ہے اور کبھی وہ صورت ماضی، حال اور مستقبل کے احوال ایک ساتھ بتاتی ہے ، اکثر وہ صورت رات دن نماز میں مشغول رہتی ہے اور اطاعت و بندگی سے کبھی فارغ نہیں رہتی اور وہ صورت ہر لمحہ شریعت کی نگہداری کرتی ہے۔ اگر طالب سے کوئی خطا، غلطی یا غیر شرعی امر واقع ہو جائے یا پھر کفر، شرک، بدعت یا گناہ کا کوئی جملہ اس کے منہ سے ادا ہو جائے تو وہ صورت نفس کو ملامت کرتی ہے اور نفس سے کہتی ہے پڑھو  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)

حضرت خواجہ عبید اللہ احرارؒ فرماتے ہیں: ’’پیر کا سایہ ذکرِ حق سے بہتر ہے۔‘‘ یعنی شیخ سے رابطہ رکھنا ذکر کرنے سے زیادہ نفع بخش ہے کیونکہ سالک اپنی ابتدائی حالت میں اللہ عزوجل کے ساتھ اپنی مناسبت قائم کرنے کی استعداد نہیں رکھتا۔  (رابطۂ شیخ)

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔رابطۂ شیخ بھی وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے اس لیے اس مقام پر مرید کوایک نہایت اہم بات یاد رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ ابتدا میں جب طالب باطن میں مرشد سے کسی معاملے میں روحانی رہنمائی حاصل کرتا ہے تو اگر اسے یقین میں تھوڑی کمی محسوس ہو تو مرشد طالب کی آسانی کے لیے ظاہری طور پر بھی اپنے عمل ، انداز یا گفتگو سے طالب کو اشارۃً بتا دیتا ہے جس پر طالب کو فوراً خلوص اور یقین کے ساتھ عمل کر لینا چاہیے۔ جب طالب مرشد کے روحانی حکم کو مانتا جاتا ہے تو مرشد طالب کو اطاعتِ الٰہی میں کامل بناتا جاتا ہے۔اس کے برعکس اگر طالب مرشد کے ظاہری و باطنی حکم کو اپنی عقل و شعور (جو کہ محدود ہے) کے پیمانہ سے ماپنا شروع کر دے ، مرشد پر یقین نہ رکھے اور حکم ماننے میں کوتاہی کرے تو وہ اپنا شدید نقصان کر بیٹھتا ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
جو طالب آوازِ روحانی کا محرم ہو جاتا ہے وہ قربِ رباّنی سے الہام وصول کرتا ہے لیکن اگر اسے اسمِ اللہ ذات پر اعتبار نہ آئے اور نہ ہی وہ مرشد بزرگوار کے فرمان پر اعتبار کرے تو معلوم ہوا کہ وہ طالب خود پسند ہے جو ہوا و نفس کی قید میں ہے اور راہِ صفا نہیں پا رہا ۔ ایسا طالب بے ادب و بے حیا بلکہ بے نصیب ہے جو معرفتِ الٰہی سے محروم ہے یہ مطالبِ توحید سے دور ہے ۔ کیونکہ طالب اپنی طبیعت کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں اگر مرشد طالب کے ظاہر و باطن پر توجہ نہ کرے اور توفیقِ الٰہی سے طالب کا رفیق نہ ہوتو طالب کسی بھی مقام و مطالب تک نہیں پہنچ سکتا اگرچہ تمام عمر اخلاص سے مرشد کی صحبت میں رہے اور خواہ ریاضت میں سالہا سال تک گرمی و سردی اور خوف و رجا کے احوال برداشت کرتا رہے۔ نیز یہ مراتب خوف و رجا اور عقل و ہوشیاری سے تعلق رکھتے ہیں اور خود طالب کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ (امیر الکونین)

حضرت سیدّ محمد امینؒ رابطۂ شیخ کے متعلق فرماتے ہیں:
طالبانِ مولیٰ کے واسطے فرضِ عین ہے کہ ہر وقت اپنے مرشد کی صورت و محبت کو دِل میں جمائے رکھے۔ کیونکہ کل کتبِ تصوف میں اس کو یعنی رابطۂ شیخ کو ’’رکنِ اعظم‘‘ لکھا ہے۔(اثبات تصورِ شیخ )

حضرت مولانا مولوی عبد الصمدؒ ’’تحفۃ العاشقین‘‘ میں فرماتے ہیں :

رابطہ کیا ہے؟ یہ عینک ہے پَسر
نورِ وحدت صاف آتا ہے نظر

حضرت مولانا شاہ ابو سعید فاروقی فرماتے ہیں: ’’جاننا چاہیے کہ تمام طریقوں میں رابطہ کا راستہ تمام راستوں کی نسبت بہت نزدیک راستہ ہے اور عجائب و غرائب کے ظہور کا یہی ذریعہ ہے۔‘‘ (ہدایۃ الطالبین)

پس مرید پر لازم ہے کہ رابطۂ شیخ کے مقام پر مرشد کی جانب سے ملنے والے ہر باطنی احکام کو نہایت عشق، خلوص، استقامت اور وفاداری سے تسلیم کرے اور اطاعتِ مرشد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے تاکہ وہ مرشد کی نگاہِ کرم سے بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو جائے۔ 

بیت:

جتھے جتھے فقیر دی نظر پے گئی ، سونھ ربّ دی کلہاں سنوار گئی اے
چنگا ہویا محبوب دی پاک ہستی، میری ہستی دی مستی نوں مار گئی اے
لا کے پیار دی یار دے نال بازی، جتی اوہ سمجھو جیہڑی ہار گئی اے
سچ دساں دیوانیا! ربّ دی سونھ، مینوں نظر فقیر دی تار گئی اے

(گنجینۂ معرفت از غلام مصطفی)

 فنا فی الشیخ

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔حدیثِ نبویؐ ہے: ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔ جس نے اپنے نفس کو فنا سے پہچانا پس تحقیق اس نے اپنے ربّ کو بقا سے پہچانا۔‘‘

جب مرید خلوص، محبت ، یقین اور استقامت سے اپنے مرشد سے باطنی رابطہ مضبوط کر لیتا ہے تو مرشد کی نگاہِ فیض اس کو سنوارنا شروع کر دیتی ہے ۔ رابطۂ شیخ کے بعد اگلا مرحلہ فنا فی الشیخ کا ہوتا ہے جو طالب کو باطنی پاکیزگی کے باعث حاصل ہوتا ہے ۔ اس حالت کی ابتدا میں طالب کو باطنی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ اپنے ظاہری وجود میں بھی تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ اسے اپنی آنکھیں مرشد کی آنکھیں لگتی ہیں، اپنا چہرہ مرشد کا چہرہ محسوس ہوتا ہے حتیٰ کہ آہستہ آہستہ اپنا سارا وجود مرشد کا وجود لگتا ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم اور مرشد کا جسم ایک ہو جائیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)

مولانا شاہ ابو سعید فاروقی فرماتے ہیں: ’’جب رابطۂ مرشد مرید پر غالب آجاتا ہے تو ہر چیز میں شیخ کی صورت نظر آنے لگتی ہے اس حالت کوفنا فی الشیخ کہتے ہیں۔‘‘  (ہدایۃ الطالبین)

کثرتِ شوق سے دیوار و در آئینہ ہوئے
ہر جگہ تیری ہی صورت نظر آتی ہے مجھے

آفتابِ فقر ، مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں: 
فنا فی الشیخ کے تمام مراتب اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مرشدِ کامل باطن میں طالب کو مجلسِ محمدیؐ میں آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیتا ہے ۔ یہ مرتبہ بھی تصورِ اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتا ہے ۔ الغرض وردو وظائف اور اعمالِ ظاہر سے طالبِ اللہ باطن میں کبھی بھی مجلسِ محمدیؐ کی حضوری تک نہیں پہنچ سکتا خواہ عمر بھر ریاضت کرتا رہے کہ راہِ باطن صرف صاحبِ باطن مرشد کامل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ (شمس الفقرا)

فنا فی الشیخ سب سے اعلیٰ اور مشکل مرتبہ ہے فقر میں ۔ اس میں ظاہری نزدیکی یا ظاہری دوری معنی نہیں رکھتی۔ (سلطان العاشقین)

حضرت امام مجدد الف ثانیؒ اس قدرفنا فی الشیخ تھے ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اگر خدا بھی مجھے نظر آئے اور وہ میرے شیخ خواجہ باقی باللہؒ کی صورت میں نہ ہو تو میں نہ دیکھوں۔‘‘ (تصورِ شیخ)

سیدّ ابوالحائق نظامی فرماتے ہیں: ’’جب تصورِ شیخ ضروری ہے تو صورتِ شیخ کا تصور جو سلسلہ وار حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا نمونہ ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام ذات و صفاتِ خداوندی کے مظہر اُتمّ ہیں تو اس میں شک نہیں کہ یہی واحد ایک ذریعہ ہے جس سے سالک فنا فی اللہ اور بقا باللہ ہو سکے۔ جب یہ سلسلہ قریب سے قریب نسبتوں سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے تو جو بھی فنا فی الشیخ ہوا وہ فنا فی الرسول ہوا اور جو فنا فی الرسول ہوا وہ فنا فی اللہ ہوا اور جو فنا فی اللہ ہوا وہی بقاباللہ ہوا۔ اس لیے اس منزل میں جو بھی منتہی ہوا وہ سبحانی مااعظم شانی، انا الحق، لیس فی جبتی الا اللّٰہ  پکار اٹھا۔ تصورِ شیخ کمال اتباعِ شیخ اور کمال اتباعِ شیخ کمال اتباعِ سنت رسولؐ اور کمال اتباع سنت  فاتبعونی یحببکم اللّٰہ  کے آثار اور علامات ہیں۔‘‘ (تصورِ شیخ)

Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔مرشد کامل اکمل (شیخِ کامل) ذات و صفاتِ حق تعالیٰ میں فنا و بقا (احدیت) کا مظہر ہوتا ہے وہ مقام فنا فی الرسول، فنافی اللہ بقا باللہ  پر فائض ہوتا ہے۔ اس لیے قرب و معرفتِ حق تعالیٰ کے لیے فنا فی الشیخ کے مرتبہ کو پانا لازم و ملزوم ہے۔ فقر و تصوف کا مسافر جب تک  مقام فنا فی الشیخ کو نہیں پالیتا اس وقت تک اس کا ہر عمل، مشاہدہ، مجاہدہ سب بیکار ہو جاتا ہے۔
سلطان باھوؒ:

باجھ وصال اللہ دے باَھوؒ، سبھ کہانیاں قصے ھوُ

وصالِ الٰہی (فنا فی ھوُ) کے بغیر باقی سب مقامات اور منازل بیکار اور بے فائدہ ہیں۔  (ابیاتِ باھوؒکامل)

مرشد کل صفاتِ الٰہیہ میں کامل ہوتا ہے جب طالب اخلاص، وفاداری اور عاجزی سے مرشد کے ہر حکم کی پیروی کرتا ہے توطالب  مرشد کی کسی نہ کسی ایک صفت میں کامل ہوجاتا ہے۔
سلطان باھوؒ:

جے توں چاہیں وحدت ربّ دی، مل مرشد دیاں تلیاں ھوُ
مرشد لطفوں کرے نظارہ، گل تھیون سبھ کلیاں ھوُ

سلطان باھوؒ تمام سالکین کو تاکید فرما رہے ہیں کہ اگر توُ وحدتِ حق تعالیٰ (وصالِ الٰہی ) حاصل کرنا چاہتا ہے تو ظاہر و باطن سے مرشد کی اتباع کر ۔ اگر مرشد کامل نے توجہ فرمائی تو تمام صادق طالب جو کلیوں کی مانند ہیں ، پھول بن جائیں گے یعنی اپنے کمال کو پہنچ جائیں گے۔ (ابیاتِ باھوؒکامل)

 مرشدکامل اکمل کی یہ شان ہوتی ہے کہ جومرید ظاہری اور باطنی طور پر استقامت ، اخلاص، وفاداری اور عاجزی سے صحبت میں حاضر رہتا ہے۔ مرشد اُسے کسی بھی حال و مقام پر ٹھہرنے نہیں دیتا اسے فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک ضرور پہنچاتا ہے تاہم مرید کا صادق ہونا لازم ہے۔ 

استفادہ کتب:
۱۔امیر الکونین : تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۲۔کلید التوحید کلاں :ایضاً
۳۔نور الہدیٰ کلاں : ایضاً
۴۔ سلطان العاشقین: ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
۵۔ابیاتِ باھوؒکامل : تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۶۔مکتوبات حضرت مجدد الف ثانیؒ
۷۔اثبات تصورِ شیخ : تصنیف حضرت سیدّ محمد امینؒ
۸۔توجیہات : تصنیفِ خواجہ شمس الدین عظیمی
۹۔  تصورِ شیخ : تصنیف سیدّ ابوالحقائق نظامی
۱۰۔ہدایۃ الطالبین : تصنیف تصور مولانا شاہ ابو سعید فاروقی
۱۱۔رابطۂ شیخ : تصنیف پیر عبد اللطیف خان 


 

38 تبصرے “تصورِ شیخ سے فنا فی الشیخ کا سفر Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh

  1. دل کا آئینہ بناتا ہے تصور پیر کا
    قلب کی سیاہی مٹاتا ہے تصور پیر کا
    ہوتا ہے اس سے میسر دِل کو دیدارِ رسولؐ
    حق تعالیٰ سے ملاتا ہے تصور پیر کا

  2. وصالِ حق تعالیٰ مرشد کامل اکمل (شیخِ کامل ) کی رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔ (عین الفقر)

  3. Tasawwur-e-Shaikh se Fanna-Fi-Sheikh۔سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور اکتیسویں شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    اللہ کی معرفت اور وصال کے سچے طالبوں کے لیے ضروری ہے کہ شیخ پکڑتے وقت تحقیق کر لیں کہ ایک تو سروری قادری صاحبِ مسمّیٰ ہو ، ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا فرمائے اور ’’اسمِ اللہ ذات‘‘ سنہری حروف سے لکھا ہوا ہو۔ کچھ عرصہ تک اسمِ اللہ ذات کے تصور سے تصورِ شیخ حاصل نہ ہو تو اسے شیخِ کامل نہ سمجھیں۔ (سلطان العاشقین)

  4. تفسیر روح البیان میں اسمِ اللہ ذات کے بارے میں علامہ شیخ محمد اسماعیل حقیؒ فرماتے ہیں:
    اسمِ اعظم (اسمِ اللہ ذات) کی صورت ولی کامل (شیخِ کامل) کی ظاہری صورت کا نام ہے۔ (شمس الفقرا)

  5. یوں تو انسان کو دنیا میں بہت سے رشتوں سے محبت ہوتی ہے لیکن انسان کے لیے بہترین، دائمی اورمنافع بخش محبت اور تصور وہی ہے جو بندے کا تعلق ربّ سے جوڑ دے

  6. بہت خوبصورت انداز اور الفاظ میں فنافی الشیخ تک کے سفر کو بیان کیا گیا ہے

  7.  حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ایک مرید نے آپ کو خط لکھا ’’اس کا تصور شیخ اس حد تک غالب آچکا ہے کہ وہ نماز میں بھی اپنے شیخ کے تصور کو اپنا مسجود دیکھتا اور جانتا ہے اور اگر فرضاً نفی کرے تو بھی حقیقتاً نفی نہیں ہوتا یعنی نظر کے سامنے سے نہیں ہٹتا ۔‘‘ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے اس مرید کو جواب میں لکھا ’’اے محبت کے اطوار والے! یہ دولت طالبانِ حق کی تمنا اور آرزو ہے اور ہزاروں میں سے شاید کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے ۔ اس کیفیت اور معاملے والا مرید صاحبِ استعداد اور شیخ سے مکمل مناسبت رکھنے والا ہوتا ہے۔ احتمال ہے کہ شیخ کی تھوڑی سی صحبت سے وہ شیخ کے تمام کمالات کو جذب کر لے ۔ تصورِ شیخ کی نفی کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ (شیخ) مسجودِ الیہ ہے مسجودِ  لہٗ نہیں (یعنی جس کی طرف سجدہ کیا جائے نہ کہ وہ جس کو سجدہ کیا جائے)۔ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے (یعنی نماز کی حالت میں مسجد، مینار، محراب، دیواریں وغیرہ یا دیگر بہت سی چیزیں سامنے ہوں تو بھی نماز میں کسی قسم کی خرابی واقع نہیں ہوتی)۔ اس قسم کا ظہور سعادت مندوں کو ہی میسر آتا ہے تاکہ وہ تمام احوال میں مرشد کامل کو ( اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اسے پہچاننے کے لیے ) اپنا وسیلہ جانیں اور اپنے تمام اوقات میں اس کی طرف متوجہ رہیں نہ کہ اس بد نصیب گروہ کی طرح جو اپنے آپ کو (اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے ہر قسم کے وسیلے سے) بے نیاز جانتا ہے اور اپنے قبلۂ توجہ کو اپنے شیخ سے پھیر لیتا ہے اور اپنے معاملے کو خراب کر لیتا ہے۔ ‘‘ (مکتوبات نمبر30، دفتر دوم، حصہ اوّل،صفحہ101)

  8. دل کا آئینہ بناتا ہے تصور پیر کا
    قلب کی سیاہی مٹاتا ہے تصور پیر کا
    ہوتا ہے اس سے میسر دِل کو دیدارِ رسولؐ
    حق تعالیٰ سے ملاتا ہے تصور پیر کا

  9. حضرت سیدّ محمد امینؒ فرماتے ہیں:
    جب تک نیک خیال (تصورِ شیخ ) دل میں جما رہتا ہے ۔ تب تک دل میں کوئی خیالِ فاسد دخل نہیں دے پاتا۔ (اثبات تصورِ شیخ)

  10. کثرتِ شوق سے دیوار و در آئینہ ہوئے
    ہر جگہ تیری ہی صورت نظر آتی ہے مجھے

  11. روح اور باطن کی بیداری کے بغیر انسان نہ ہی اپنی اور نہ ہی خدا کی پہچان کر سکتا ہے ۔ باطن کے اس بند قفل کو کھولنے کے لیے کلید (چابی) ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی ضرورت ہے۔ (سلطان العاشقین)

  12. دل میں چہرہ اسی ہستی کا قائم ہوتا ہے جس سے انسان کو شدید محبت ہو۔ یوں تو انسان کو دنیا میں بہت سے رشتوں سے محبت ہوتی ہے لیکن انسان کے لیے بہترین، دائمی اورمنافع بخش محبت اور تصور وہی ہے جو بندے کا تعلق ربّ سے جوڑ دے

  13. ماشااللہ بہت ہی خوبصورت آرٹیکل ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ❤🤲🌹

  14. دل کا آئینہ بناتا ہے تصور پیر کا
    قلب کی سیاہی مٹاتا ہے تصور پیر کا
    ہوتا ہے اس سے میسر دِل کو دیدارِ رسولؐ
    حق تعالیٰ سے ملاتا ہے تصور پیر کا

  15. جے توں چاہیں وحدت ربّ دی، مل مرشد دیاں تلیاں ھوُ
    مرشد لطفوں کرے نظارہ، گل تھیون سبھ کلیاں ھوُ

اپنا تبصرہ بھیجیں