فضیلتِ حج | Fazilat e Hajj

فضیلتِ حج

تحریر: مسز میمونہ اسد سروری قادری۔ لاہور

حج اسلام کا پانچواں رُکن ہے۔ اللہ پاک کی فرض کردہ تمام عبادات اہم ہیں لیکن شریعت ِ محمدی میں حج کو اس لحاظ سے عظمت اور فضیلت حاصل ہے کہ یہ مسلم اُمت کی وحدت اور عالمگیریت کا نشان اور ان کے اتحاد اور مساوات کی دلیل ہے۔ اِس میں نماز، تلاوتِ قرآن، روزوں کی طرح بھوک پیاس، نفسانی خواہشات سے پرہیز، زکوٰۃکی طرح مالی قربانی‘ برداشت ‘ صبر ‘ درگزر الغرض تمام عبادات شامل ہیں۔
حج کے لغوی معنی زیارت کرنا اور ارادہ کرنا کے ہیں۔ لیکن اصطلاحِ شریعت میں یہ وہ مخصوص عبادت ہے جو اسلامی ماہ ذوالحجہ کے پانچ دِنوں، آٹھ سے بارہ ذوالحجہ تک منیٰ‘ میدانِ عرفات اور بیت اللہ شریف میں اداکی جاتی ہے۔
حج نو ہجری میں فرض ہوا اور ہر اُس صاحب ِ استطاعت مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میںایک بار فرض ہے جو عاقل‘ بالغ‘ تندرست اور آزاد ہو اور مالی لحاظ سے حج ِ بیت اللہ کے سفر کے اخراجات بر داشت کر سکتا ہو۔ حج وہ واحد عبادت ہے جس کو جان بوجھ کر ترک کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور شرعی عذر کے بغیر دیر کرنے والا سخت گناہگار ‘ فاسق اور فاجر ہے اور حکم ہے کہ اِس کی شہادت قبول نہ کی جائے۔
حج کی فرضیت کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
٭ ترجمہ: اور اللہ کی طرف سے ان لوگوں پر اس گھر (بیت اللہ) کا حج فرض کر دیا گیا ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور جو کوئی اسے نہ مانے تو جان لے کہ بیشک اللہ تعالیٰ تمام جہانوںسے بے نیاز ہے۔ (آلِ عمران۔97)
٭ ترجمہ:ـ’’حج کے جانے پہچانے چند مہینے ہیں تو جو شخص اِن میں حج کی نیت کر کے حج لازم کر لے تو حج کے دنوں میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے اور نہ کوئی (اور) گناہ اور نہ ہی کسی سے جھگڑا کرے اور جو بھلائی بھی کرو اللہ تعالیٰ اُسے خوب جانتا ہے۔ اور تم اپنا زادِ راہ ساتھ لے کر چلو لیکن (خوب یاد رکھو) بہترین زادِ راہ ’’ تقویٰ‘‘ ہے۔ اِس لئے اے اہل ِ عقل! میرا تقویٰ اختیار کرو۔ (البقرہ۔197)
٭ ترجمہ:’’ اور تم لوگوں میں بلند آواز سے حج کا اعلان کرو۔ وہ تمہارے پاس پیدل چل کر اور دُبلے پتلے اُنٹوں پر سوار ہو کر چلے آئیں۔ ‘‘ (سورۃالحج۔27)
سورہ البقرہ کی آیت 197میں بہترین زادِ راہ ’’ تقویٰ ‘‘ کو قرار دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک مرتبہ تقویٰ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُنگلی سے دِل کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔‘‘ احکامِ خداوندی پر کاربند ہونا تقویٰ کی اصل ہے۔ لیکن اصطلاحِ طریقت میں قلب (باطن) کا خلق سے ہٹ کر اللہ پاک کے قریب ہونے کا نام تقویٰ ہے۔ جس قدر کسی کا قلب اللہ پاک کے نزدیک ہو گاوہ اسی قدر متقی ہوگا۔ تقویٰ کا کتابِ حکمت میں اس قدر زیادہ ذِکر ہے کہ لگتا ہے تمام ہدایات ہی متقی بنانے کے لئے دی گئیں ہیں۔ سورۃ توبہ میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
’’بلاشبہ اللہ تقویٰ والوں کا دوست ہے۔ ‘‘
سورۃ انبیا میں اللہ پاک نے فرمایا:
’’بلا شبہ تقویٰ والوں کے لئے کامیابی ہے۔‘‘
حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنی تصنیف ِ لطیف سلطان الوھم میں فرماتے ہیں ’’ دِل کو ماسویٰ اللہ سے پاک کرنے کا نام تقویٰ ہے ‘‘۔
حدیث ِ مبارکہ ہے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بالنِّیَّاتِ۔ترجمہ: ’’اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔‘‘ 

کسی عمل کو کرتے وقت جو دِل کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتی ہے وہی تقویٰ ہے۔ عمل سے مخلوق کے سامنے ریاکاری ہو سکتی ہے لیکن قلب سے اللہ تعالیٰ کے لئے ریاکاری ممکن نہیں ہے اِس لئے حدیث ِ مبارکہ ہے کہ اللہ پاک نیتوں کو دیکھتا ہے اعمال کو نہیں۔
حج بظاہر ایک وقتی عبادت ہے مگر اصل میں ایک بندئہ مومن کی پوری زندگی کی تصویر ہے۔ یہ بندے کا ربّ کی ربوبیت اور اپنی عبدیت کا اقرارنامہ ہے۔ حج مومن کی زندگی کی تعبیر بھی ہے اور اِس کی موت کی تعبیر بھی۔
حج حق تعالیٰ کی زیارت کا نام ہے۔ یہ دُنیا کی زندگی میں اپنے ربّ سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادات اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج بارگاہِ اقدس تک بندے کا پہنچ جانا ہے۔ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر آدمی محسوس کرتا ہے گویا وہ خود ربّ کے سامنے کھڑا ہے۔ طواف اِس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے ربّ کے لیے پروانے کی طرح اِس کے گرد گھوم رہا ہے۔

احادیث کی روشنی میں حج کی اہمیت

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حج کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
٭ جو شخص اس حالت میں مرے کہ استطاعت کے باوجود اُس نے حج نہ کیا ہو تو اُسے کہہ دو کہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی‘ اللہ تعالیٰ کو اِس سے کوئی غرض نہیں ہے۔
٭ جس نے حج کیا اور جسم کو فسق و فجور سے آلودہ نہ ہونے دیا اور زبان کو بیہودہ اور ناشائستہ باتوں سے پاک رکھا تو وہ تمام گناہوں سے ایسے ہی پاک ہوگا جیسے کہ پیداہونے کے دِن پاک تھا۔
٭ بہت سے گناہ گار ایسے ہیں کہ اُن کا کفارہ سوائے عرفات میں کھڑے ہونے کے ادا نہیںہو سکتا۔
٭ اس سے بڑھ کر شدید گناہ اور کوئی نہیں کہ میدانِ عرفات میں کھڑا ہوکر یہ سوچے کہ اس کی مغفرت نہیں ہوئی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کون سا عمل بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ پر ایمان لانا، نبیؐ پر ایمان لانا۔‘‘ پوچھا گیا ’’اس کے بعد؟‘‘ فرمایا! ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنا‘‘ اور اس کے بعد؟ فرمایا! ’’حج مقبول ( حج کے تمام فرائض ادا کرنا)‘‘۔ ( بخاری و مسلم)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔ (بخاری ومسلم )
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو ایسا ہے جیسے میری زندگی میں میری زیارت سے مشرف ہوا۔ (طبرانی)
حضرت ابن ِ عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایاکہ جو شخص میری قبر کی زیارت کرے اِس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگی۔ (طبرانی)

رسول کریمؐ کا حج

؎ کعبے کا بھی کعبہ ہے مدینہ جس کا گھر ہے
دس10 ھ میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔ اِردگرد اطلاع بھیج دی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حج کے لیے تشریف لے جانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ شریف میں ادا فرمائی۔ نماز سے پہلے خطبہ پڑھا اور لوگوں کو ارکانِ حج کی تعلیم فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سر مبارک میں تیل لگا کر کنگھا کیا، چادر اوڑھی اور سفر پر روانہ ہوئے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نماز قصر کرکے پڑھی۔ شب کو وہاں قیام کیا اور صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک خاص قسم کی گھاس ملے ہوئے پانی سے غسل کیا۔ حضرت عائشہ ؓ خوشبو لائیں جس میں مشک ملا ہوا تھا۔ یہ خوشبو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بدن مبارک پر ملی گئی۔ غسل کے بعدتہمد باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اونٹنی پر سوار ہوئے او ر پہلی مرتبہ یہ کلمات پڑھے :
لَبِّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ
ترجمہ: حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں، بیشک سب تعریفیں اور ساری نعمتیں تیرے لیے ہی ہیں۔ اور تیری ہی بادشاہی ہیں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔

دوسری مرتبہ اس وقت لبیک کہا جب اونٹنی کھڑی ہو گئی۔ سفر کے دوران ذی طویٰ میں قیام فرمایا۔ مکہ پہنچ کر جب آپ کی نظر کعبہ شریف پر پڑھی تو یہ دعا پڑھی:
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُ فَحَیْنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامُ وَادْخِلْنَا دَارَ السَّلَامِ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ یَا ذَوالْجِلَالِ وَالْاِکْرَامِ ط  اَللّٰھُمَّ زِدْ بَیْتَکَ ھٰذَا تَعْظِیْمًا وَّ تَشْرِیْفًا وَ زِدْ مِنْ تَعْظِیْمِہٖ وَ تَشْرِیْفِہٖ مِنْ حَجَّتِہٖ وَ عُمْرَتِہٖ۔

ترجمہ: اے اللہ توسلامتی کا مالک ہے۔ سلامتی تیری طرف سے ہوتی ہے اور سلامتی تیری ہی طرف لوٹتی ہے۔ اے ہمارے پروردِگار ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ، سلامتی کے گھر (جنت)میں داخل فرما دے ۔ اے ہمارے رَبّ تو بڑی برکت والا ہے ۔ اور بڑی بلندی کا مالک ہے۔ اے جلال اور بزرگی کے مالک! اے اللہ! اپنے ہی گھر کی موجودہ عظمت اور شرافت اور رعب کو اور زیادہ کر اور اِس کی تعظیم اور شرف کو حج اور عمرہ سے مزید بڑھا۔‘‘ 

جب مسجد کے اندر داخل ہوئے تو سیدھے کعبہ شریف کی طرف گئے۔ حجر ِ اسود کے مقابل آئے تو سلام کیا مگر ہاتھ نہ اُٹھایا۔ طواف شروع کرتے وقت خانہ کعبہ بائیں ہاتھ کی طرف تھا۔ دورانِ طواف حجر ِ اسود اور رکن ِ یمانی کی طرف دیکھا اور فرمایا:
رَبَّنَا اٰتِنَّا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِط
ترجمہ: اے اللہ! ہم کو دُنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی نیکی عطا فرما اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا۔ 

طواف سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم پر یہ پڑھتے ہوئے تشریف لائے:
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی۔(البقرہ۔125)
ترجمہ: (اور حکم دیا کہ) ابراہیم ؑ کے کھڑے ہونے کی جگہ مقامِ نماز بنا لو۔

حقیقی حج

اگرچہ ہر عبادت کا حقیقی مقصد قرب و دیدارِ الٰہی حاصل کرنا ہی ہے لیکن حج چونکہ تمام عبادات کا جامع ہے اسی لیے ظاہری طور پر تمام مناسک ِحج ادا کرنے کے ساتھ ساتھ باطنی تقاضے بھی پورے کئے جائیں تو یہ قرب و دیدارِ الٰہی کا سب سے جامع وسیلہ بن جاتا ہے اور باطنی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی حقیقی حج ادا ہوتا ہے۔
وہ باطنی تقاضے کیا ہیں؟
درج ذیل عبارت ان تقاضوں کی وضاحت کرتی ہے:
حضرت جنید بغدادیؒ ’’معالیٰ الہمم‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ایک شخص اُن کے پاس آیا۔آپ ؒ نے دریافت فرمایا کہاں سے آرہے ہو؟ اس نے جواب دیا حج کر کے آ رہا ہوں۔ آپ ؒ نے دوبارہ دریافت کیا کہ کیا تو نے واقعی حج ادا کیا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں تو آپؒ نے اس سے مندرجہ ذیل سوالات کئے:
1۔ جب تو حج کے ارادہ سے گھر سے روانہ ہوا تھا تو کیا تو نے اس وقت اپنے گناہوں سے ہمیشہ کیلئے اجتناب کرنے کاارادہ بھی کیا تھا؟
2۔ گھر سے روانہ ہو کر جس جس منزل پر گیا تو کیا تو نے ساتھ ساتھ قربِ خدا کے مقامات بھی طے کیے؟
3۔ جب تو نے احرام باندھنے کیلئے کپڑے اتارے تو کیا تو نے صفاتِ بشر یہ کو بھی اپنے سے جدا کیا؟
4۔ جب تو میدانِ عرفات میں مقیم ہوا تو کیا تجھ کو مکاشفہ بھی ہوا؟
5۔جب تو مزدلفہ گیا تو کیا تو نے ہمیشہ کیلئے مستقل طو رپر خواہشاتِ نفسانی کو ترک کرنے کا ارادہ کیا؟
6۔ جب تو نے طوافِ کعبہ کیا تو کیا اپنی آنکھوں سے جمالِ حق کا دیدار کیا؟
7۔ جب تو نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو کیا باطنی طور پر صفا و مروہ کے مراتب کا مشاہدہ کیا؟
8۔ جب تو نے مقام نحر میں قربانی ادا کی تو کیا اس جگہ پر اپنی خواہشات ِنفسانی کو بھی قربان کیا؟
9۔ جب تو نے سنگریزے پھینکے تو کیا اس وقت تو نے ہوا و ہوس کی کدورتوں کو پھینکا یا نہیں؟
اس شخص نے آپؒ کے ہر سوال کا جواب نفی میں دیا‘ تو آپؒ نے فرمایا ’’تو نے حج کے آداب و شرائط کو حج کے وقت پورا نہیں کیا‘ اس لئے تیرا حج ہی نہیں ہوا۔ واپس جا اور مندرجہ بالا آداب اور طریقوں کے ساتھ حج کر تاکہ تو خانہ کعبہ میں پہنچ کر مقامِ ابراہیم تک رسائی حاصل کرے۔ ‘‘
حقیقی حج کرنے والوں اور برائے نام حج کرنے والوں میں فرق کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ یوں بیان فرماتے ہیں:
٭حاجی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک حاجی صاحب ِکرم اہل ِ باطن اور دوسرے حاجی حرم اہل ِ بطن۔ جب حاجی صاحب کرم ولی اللہ پورے اعتقاد کے ساتھ حرمِ کعبہ میں داخل ہوتا ہے تو حرمِ کعبہ اس پر قربِ حضور کی تجلی کرتا ہے اور جب حاجی خانہ کعبہ میں داخل ہو کر طواف کرتا ہے تو مشرفِ دیدار پروردِگار ہو جاتا ہے۔ جو حاجی باطنی خانہ کعبہ میں داخل ہو جاتا ہے اور طلب ِ دنیا سے ہزار بار استغفار کرتا ہے‘دیدار کیے بغیر وہ ہرگز خانہ کعبہ سے باہر نہیں آتا لیکن اہلِ بطن حاجی ہر وقت غم ِ روزگار میں مبتلا رہتا ہے۔ (امیر الکونین)
٭ حضرت خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ نے اپنے طالب ِ خاص محرمِ راز حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے نام ایک خط تحریر فرمایا جس میں آپؒ نے اسلام کے پانچوں ار کان کے وہ اسرار کھول کر بیان فرمائے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو تلقین کیے تھے۔ حقیقت ِحج کے باب میں آپؒ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
٭ اے عمر! یقین جانو کہ خانہ کعبہ انسان کا دل ہے۔
چنانچہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے کہ:
٭قَلْبُُ الْاِنْسَانِ بَیْتُ الرَّحْمٰنِ۔
ترجمہ:انسان کا دل دراصل خانہ کعبہ ہے۔ 

بلکہ فرمان مصطفی ؐ ہے:
٭قَلْبُُ الْمُؤْمِنْ عَرْشُ اللّٰہِ تَعَالٰی۔
ترجمہ: مومن کا دل عرشِ الٰہی ہے۔ 

پس کعبہ دل کا حج کرنا چاہیے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ؐ ! کعبہ ٔدل کا حج کس طرح کرنا چاہیے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ انسان کا وجود بمنزلہ ایک چار دیواری کے ہے۔ اگر اس چار دیواری میں سے شک ‘ وہم اور غیر اللہ کا پردہ دور کر دیا جائے تو دل کے صحن میں خدا کی ذات کا جلوہ نظر آئے گا۔ حج ِکعبہ کا یہی مقصد ہے ۔
نیز ایسا حقیقی حج کرنے سے یہ بھی مقصود ہے کہ انسان اپنی خودی اور ہستی کو اس طرح مٹا دے کہ ہستی کا ذرہ بھر بھی باقی نہ رہے حتیٰ کہ ظاہر و باطن یکساں پاکیزہ ہو جائے اور دل صفاتِ الٰہی سے متصف ہو جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ حضور اپنی ہستی سے فنا کیونکر حاصل ہو سکتی ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ محبوبِ حقیقی یعنی خدا تعالیٰ پر عاشق ہونے سے‘ جو شخص عاشق ِ الٰہی ہوگیا وہ فنا فی اللہ ہو گیا اور جو فنا فی اللہ ہو گیا وہ ذاتِ حق کا مظہر ہوگیا۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ حضرت! دل کو خانہ خدا اور عرشِ الٰہی کیوں قرار دیا ہے؟
سرکارِ دو عالم ؐ نے جواب دیا کہ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:
وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ۔(الذاریت۔21)
یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگو! میں تمہارے اندر ہی ہوں۔ پھر تم مجھے کیوں نہیں دیکھتے؟

اے عمر! رہنے کی جگہ کو گھر کہتے ہیں۔ چونکہ خدا تعالیٰ دل میں رہتا ہے لہٰذااسے خانۂ خدا اور عرشِ الٰہی قرار دیا۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ؐ اس خاک کے پتلے میں بولنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا کون ہے اور کیسا ہے؟
پیغمبر ِ خدا ؐ نے ارشاد فرمایا کہ وہی (خدا) بولنے والا ہے، وہی سننے والا ہے اور وہی دیکھنے والا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ حضرت! کعبہ ٔ دل کا حج کون ادا کرتا ہے؟
آپ ؐ نے فرمایا کہ خود ذاتِ خداوندی۔ یعنی جب بندہ نفس کا پردہ دور کر دیتا ہے اور عبد اور معبود کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا تو وہ صفاتِ الٰہی سے متصف ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں ذاتِ الٰہی کی سمائی ہو جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا بندے کے دل میں سمانا ہی کعبہ ٔ دل کا حج (حج ِ حقیقی) ہے۔
حضرت عمر نے پھر سوال کیا کہ حضور ؐ جب سب کچھ اسی ذاتِ مقدس کا ظہور ہے تو پھر یہ راہنمائی کس کو اور کیونکر ہے؟
حضور پُر نور C نے فرمایا کہ وہ خود ہی راہنما ہے اور خود اپنی ہی راہنمائی کرتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ حضور ؐ پھر یہ گونا گوں نقش و نگار کیوں ہیں؟
پیغمبر خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ راہنمائی کی مثال سوداگری کی سی ہے کہ جس چیز کا کوئی گاہک ہو سوداگر اس کو وہی چیز دیتا ہے۔ گیہوں کے خریدار کو جَو ہرگز نہیں دیئے جاتے اور نہ ہی جَو کے خریدار کو گیہوں دیئے جاتے ہیں۔
اے عمر ! پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے اطبائ۔ یعنی جس طرح طبیب مریض کی طبیعت اور مرض کے موافق دوا دیتا ہے اور اسی موافق طبع دوا سے اس مریض کو شفا حاصل ہوتی ہے اسی طرح پیغمبر بھی روحانی ایمانداروں کو ان کی باطنی استعداد اور روحانی مرض کے موافق دوائے معرفت عطا فرماتے ہیں جس کی بدولت مریض روحانی شفائے کلی پا کر عارفِ الٰہی بن جاتا ہے۔ (اسرارِ حقیقی)
پس بشری اور ظاہری حج کی لذت اور فیوض وبرکات سمیٹنے کے لیے باطنی پا کیزگی ہو نا ضروری ہے۔ حقیقی حج کی طرف اللہ پاک راہیں کھولتا اور مقاماتِ حقیقی حج عطا فرماتا ہے۔ اسی سے انسان قرب و وصالِ الٰہی کی منازل طے کرتے ہوئے فنافی اللہ بقاباللہ کے مقامات پر جا گزیں ہوتا ہے اور پھر وہ مقام آتا ہے جہاں انسان دنیاوی لذات و خواہشات ترک کرکے صرف اور صرف محبوبِ خدا‘ احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ پاک کے قرب میں جاسکتا ہے۔ یہی حقیقی حج ہوتا ہے۔ اور جسے یہ نصیبہ مل جائے وہی حقیقی مومن ہوتا ہے۔

حاجی جاون پہنچ پہنچ مکے‘ کرن مشقت ڈاڈھی
بنا مرشد کامل اکمل حقیقی حج توں دوری ہوندی ڈاڈھی
پہلے پھڑ توں بانہہ سجن دی، فر پو راہِ وادی
سجن مرشد راہ وکھاسی سوہنی سجری وادی
مرشد دا توں چھڈ نہ پلہ دشمن چار چفیرے
ازلاں دا اِک دشمن ساڈا بالکل بیٹھا نیڑے
جے مرشد دا ساتھ ہوئے تے مک جاون بکھیڑے
مرشد مرشد آکھی جا توں قرب وصال اے نیڑے
محمد مرشد ایسا سوہنا نہ کوئی سارے جہانی
جے دِل مَنے سجنا تیرا نجیب دے در تے آویں

اپنا تبصرہ بھیجیں