Alif

الف | Alif

الف

مقصد ِ حیات۔۔معرفتِ الٰہی کا حصول

اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق محض اس غرض سے کی کہ اُس کی پہچان ہو، اس کے جلال و جمال کے جلوے آشکار ہوں اور اس کے حسن و جمال پر مر مٹنے والا کوئی عاشق ہو۔ سو انسان کی پیدائش کی اصل غرض و غایت اللہ کی معرفت اور پہچان ٹھہری۔ کسی چیز کی پہچان کا سب سے اعلیٰ اور عمدہ ذریعہ آنکھ اور بصارت ہے اور ’’دیکھنے‘‘ سے کسی بھی چیز کی پوری پوری پہچان ہو جایا کرتی ہے۔ دیگر حواس او راعضاء شناخت کے کمزور اور ناقص آلے ہیں اس لیے آنکھ سے کیا جانے والا تصور اور سانسوں سے کیا جانے والا ذکر سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔ صرف یہی ذریعہ ٔ معرفت اور وسیلہ ٔ دیدارِ پروردگار ہے۔ تصور سے اسم اللہ ذات کو اپنے دل پر نقش کرنے سے یہ انسان کی باطنی شخصیت (روح) پر اثر انداز ہو کر اسے زندہ اور بیدار کرتا ہے اور اس طرح تصور اور ذکر اپنے ’’حقیقی مقام‘‘ (روح) پر مرکوز ہوتا ہے۔ دوسرے طریقوں پر ذکر کرنے سے ذاکر اپنے اصلی مقصد اور حقیقی غرض سے بہت دور رہتا ہے۔ گویا ذکر کا اصل مقصد ’’باطنی آنکھ‘‘ (روح) کو بیدار کرنا ہے اور جب سالک کی باطنی آنکھ کھل جاتی ہے تو اسے ’’نورِ بصیرت‘‘ حاصل ہو جاتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی جلوے اور مشاہدے میں محو ہو جاتا ہے۔

ذکر اور تصور کیا ہے؟

تصور کے لغوی معنی خیال ‘ دھیان‘ تفکر اور مراقبہ کے ہیں۔ذکر اور تصور کا باہمی رشتہ ایک تانے بانے کی مانند ہے اور ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا دل ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے، کسی نہ کسی چیز کے خیال میں محو رہتا ہے، ایک لمحہ بھی خالی نہیں رہ سکتا۔ یہ ذکر کی قسم ہے اور جن چیزوں کے متعلق ہمارا دل سوچتا ہے ان کی شکلیں ہمارے سامنے آجاتی ہیں۔ اگر بیوی بچوں کے متعلق سوچتا ہے تو وہ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور گھر کے بارے میں سوچتا ہے تو گھرسامنے آجاتا ہے اِسے’’ تصور ‘‘کہتے ہیں۔ ذکر و تصور کا یہ سلسلہ مسلسل اور لگاتار جاری رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا، دنیا کے لوگوں اور دنیا کی اشیاء سے ہماری محبت اور رشتہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہی تعلق اور لگائو ذکراور تصور ہے۔ صوفیاء کرامؒ ذکر اور تصور کے اس دنیاوی رُخ کو رُوحانی رُخ کی طرف موڑ کر واصل باللہ ہونے کا طریقہ ذِکر اور تصورِ اسم اللہ ذات کی صورت میں بتاتے ہیں۔ سورۃ مزمل کی اس آیت وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً  (ترجمہ: اور سب سے الگ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہو جائو) میں اسی طرف اشارہ ہے۔ جس طرح لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اور پانی کی بہتات سے پژمُردہ (مرجھائی، سوکھی ہوئی) فصل پانی ہی سے ہری بھری ہو جاتی ہے اسی طرح ذکر کو ذکر اور تصور کو تصور کاٹتا ہے۔ ضرورت صرف ذِکر اور تصور کے رُخ کو بدلنے کی ہے۔ اگر ہم دنیا اور اس کی فانی اشیاء اور اشکال کی بجائے اسم اللہ ذات کا ذِکر اور تصور کریں تو ہمارا اس دنیا اور اس کی اشیاء سے لگائو اور محبت ٹوٹ کر اللہ سے عشق و محبت پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کے قلب میں پوشیدہ امانت ِ حق تعالیٰ ظاہر ہو جاتی ہے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے ذکر و تصور اسم اللہ ذات حاصل کرنے کے لیے سلسلہ سروری قادری میں شمولیت اختیار کیجئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں