سیّدنا غوث الاعظمؓ اور حقیقت ِگیارھویں شریف | Syedna Ghaus ul Azam aur Haqeeqat Gyarween Shareef

سیّدنا غوث الاعظمؓ  اور حقیقتِ گیارھویں شریف

تحریر: مریم گلزار سروری قادری ۔لاہور

سیّد الکونین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا، محبوبِ سبحانی، قطب ِ ربانی، غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، پیر دستگیر، پیرانِ پیر، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حقیقت الحق، قطب الکونین، قطب الاقطاب، غوث الثقلین، پیر میراں، سیّدنا غوث الاعظم محیّ الدین حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ یکم رمضان المبارک470ھ (17مارچ 1078ء) بروز جمعتہ المبارک عالمِ وحدت سے عالمِ  ناسوت میں تشریف لائے اور91 برس کی عمر میں 11 ربیع الثانی 561ھ (12 فروری 1166ء) شب ِ ہفتہ بعد از نمازِ عشاء دارالفنا سے دارالبقا تشریف لے گئے۔
آپؓ کے والد ماجد سیّد ابو صالح موسیٰ جنگیؒ حسنی سیّد اور والدہ ماجدہ اُم الخیر سیّدہ فاطمہؒ حُسینی سیّد ہیں گویا آپؓ نجیب الطرفین سیّد ہیں اور اس بات کی تصدیق بہت سی کتب میں موجود ہے۔
آپؓ کی ولادت باسعادت کسی معجزے سے کم نہیں۔ آپؓ زمانہ جاہلیت میں آفتاب کی طرح طلوع ہوئے اور زمانے کی تمام برائیوں کو اپنے فضل و کرم سے پاک کر دیا۔ جب آپؓ کا ظہور ہوا تھا اس وقت مسلمان 73 فرقوں میں بٹ چکے تھے۔ آپؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین ِ حنیف کو ایک نئی زندگی دی اور تمام بدعات کا خاتمہ کیا۔ اسی بنا پر آپؓ کو محی الدین یعنی ’دین کو زندہ کرنے والا‘ کا لقب دیا گیا۔ آپؓ کی شان اتنی بلند ہے کہ جو بھی آپؓ کا نام لے کر مدد کے لیے پکارے تو آپؓ فوراً اس کی دستگیری کے لیے پہنچتے ہیں اور ایسا قیامت تک جاری رہے گا۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اس قدر بلند و بالا مرتبے اور شان کے حامل ہیں کہ جس شے کو بھی آپؓ سے نسبت ہو جاتی ہے اس کا مرتبہ بھی بلند ہو جاتا ہے۔ انہی نسبتوں میں سے ایک نسبت گیارھویں تاریخ کو بھی ہے۔ ہر ماہ چاند کی گیارہ تاریخ آپؓ کی شانِ اقدس سے منسوب ہے اور آپؓ کے عقیدت مند اس روز ختم شریف دلاتے اور نذر نیاز کرتے ہیں۔
کچھ روایات کے مطابق گیارھویں شریف اس ختم کا نام ہے جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اپنے آقا و مولیٰ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے ہر قمری ماہ کی گیارھویں تاریخ کو دلایا کرتے تھے۔ اور حُسنِ اتفاق یہ کہ آپؓ کا وصال مبارک بھی گیارہ ربیع الثانی کو ہوا۔اس ماہ کی گیارہ تاریخ کو جو ختم دلایا جاتا ہے اُسے بڑی گیارھویں شریف کہا جاتا ہے اور جو ہر قمری ماہ کی گیارہ تاریخ کو عقیدتمند آپؓ کی محبت میں ختم دلاتے ہیں چھوٹی گیارھویں شریف کے نام سے موسوم ہے۔ (ماہنامہ سلطان الفقر)
حضرت محمد بن جیونؒ فرماتے ہیں کہ دیگر مشائخ کا عرس مبارک سال کے آخر میں ہوتا ہے لیکن سیّدنا غوث الاعظمؓ کو یہ امتیازی شان حاصل ہے کہ بزرگانِ دین نے آپؓ کا عرس مبارک ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کومقرر فرما دیا گیا ہے۔ (الوجیز)
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ حضرت غوث پاکؓ کے روضہ مبارک پرگیارھویں تاریخ کو بادشاہ اور شہر کے اکابرین جمع ہوتے، نمازِ عصر کے بعد سے نمازِ مغرب تک قرآن شریف کی تلاوت کرتے اور سرکار غوث پاکؓ کی شان میں قصا ئد اور منقبت پڑھتے۔ مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے آس پاس مریدین حلقہ بنا لیتے اور ذکر ِ جہر شروع ہو جاتا۔ اس کے بعد نیاز تقسیم کی جاتی اور نمازِ عشا پڑھ کے لوگ رخصت ہو جاتے۔
مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ گیارھویں شریف کا اہتمام علما،صالح اورامرا بھی کرتے رہے۔ سب سے بڑھ کر اولیا آپؓ کے عرس مبارک کا بہت عمدہ انداز میں اہتمام فرماتے رہے ہیں۔
سلسلہ سروری قادری کے تمام مشائخ بھی سیّدنا غوث الاعظمؓ سے منسوب یہ دن نہایت ادب و احترام سے مناتے آئے ہیں۔ سلسلہ سروری قادری کے موجودہ مرشد کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی والدہ محترمہ بھی بہت محبت و عقیدت سے ہر قمری مہینے کی گیارہ کو ختم دلایا کرتی تھیں۔
نہ صرف خود سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بلکہ ان کے مریدین بھی سیّدنا غوث الاعظمؓ سے بہت عقیدت رکھتے ہیں کیونکہ سلسلہ سروری قادری سیّدنا غوث الاعظمؓ کا سلسلہ ہے اوراس سلسلے کا تمام تر فیض آپؓ کی ذات پاک سے جاری ہے۔ جو طالب سلسلہ سروری قادری میں بیعت ہوتا ہے وہ در حقیقت سیّدنا غوث الاعظمؓ سے ہی بیعت ہوتا ہے۔ اسی نسبت سے ہر قمری ماہ کی گیارہ کو خانقاہ سروری قادری میں بھی ختم شریف کا اہتمام کیاجاتا ہے۔
انسان کی زندگی خوشی اور غم کامجموعہ ہے۔ کبھی اس کی زندگی میں غم آجاتے ہیں اور کبھی خوشیاں۔ اور انسان ان خاص دنوں کو یاد رکھنے کے لیے ایسا کو ئی اہتمام کرتا ہے جو اس کی آنے والی نسلوں کو بھی اس دن کی اہمیت کا احساس دلائے۔ بالکل اسی طرح اللہ کے نیک بندوں اور اولیا اللہ سے منسوب خاص دنوں کو یاد رکھنے اور آنے والی نسلوں کو دین سے جوڑے رکھنے کے لیے بزرگانِ دین کے عقیدت مند وہ تمام دن مناتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ان عظیم ہستیوں کی ذات اور حقیقت سے آگاہ ہوں اور ان سے فیض حاصل کرتی رہیں اور ایسا کرنا کسی بھی طرح بدعت نہیں ہو سکتا۔
گیارھویں شریف کے ختم کا اہتمام ایک محبوب ترین عمل ہے کیونکہ اس میں وہ تمام اعمال سرانجام دیئے جاتے ہیں جو اللہ کے قرب و رضا، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خوشنودی، حصولِ خیروبرکت اور سیّدنا غوث الاعظمؓ کے خصوصی فیض کا ذریعہ ہیں۔
تلاوتِ قرآنِ پاک: ختم شریف کی محفل کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوتا ہے۔ تلاوتِ قرآنِ پاک کے متعلق حدیث ِمبارکہ ہے کہ قرآن مجید پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔
درودوسلام: گیارھویں شریف میں درود و سلام پڑھا جاتاہے۔ بے شمار احادیثِ مبارکہ میں درودوسلام کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
٭ ’’جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا، اس کی دس برائیاں معاف کرے گا، اس کے دس درجات بلند فرمائے گا اور اسی طرح کا درود اس پر لوٹائے گا۔ ‘‘ (مسند احمد۔5709)
اللہ تعالیٰ قرآن میں حکم فرماتا ہے:
٭اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٓٗ  یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ  وَ سَلِّمُوْا  تَسْلِیْمًا۔ (سورۃالاحزاب۔56)

ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے (سب) فرشتے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر درود بھجتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔
نعتیں اور منقبتیں: گیارھویں شریف کے ختم سے پہلے سرورِ دو جہاں، رحمتہ العالمین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں نعتوں کے گلہائے عقیدت پیش کیے جاتے ہیں۔ پھر حضرت محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی شان میں منقبتیں پڑھی جاتی ہیں۔
تقریر یا بیان: گیارھویں شریف کے ختم میں علما کرام حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی شان بیان کرتے ہیں تاکہ آج کے مسلمان کو آپؓ کی شان معلوم ہو اور لوگ آپؓ کی ذاتِ بابرکات سے آگاہ ہو سکیں۔ اس لیے بھی کہ جو لوگ اللہ کے نیک بندوں سے عقیدت رکھتے ہیں وہ بزرگ ہستیاں قیامت کے روز ان لوگوں کی شفاعت کا وسیلہ بنیں گی۔
ایصالِ ثواب: گیارھویں شریف میں جوکچھ پڑھا جاتاہے اس کا ثواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور سیّدنا غوث الاعظمؓ کے وسیلے سے تمام مومنین و مومنات کو بھی بخش دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ محافل اوروں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔
حضرت ملا علی قاریؒ نے ایصالِ ثواب کے متعلق حدیث نقل فرما ئی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صاحبزادے حضرت سیّدنا ابراہیمؓ کی وفات کا تیسرا دن تھاکہ حضرت ابو ذرغفاریؓ خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو ئے۔ ان کے پاس سوکھے چھوہارے، اونٹنی کا دودھ اور جَو کی روٹی تھی۔ انہوں نے ان چیزوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے رکھ دیا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان پر ایک مرتبہ سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ اخلاص پڑھی اور درود شریف پڑھ کر دعا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت ابو ذرغفاریؓ سے فرمایا ان چیزوں کو تقسیم کردو اور ان کا ثواب میرے فرزند ابراہیمؓ کو پہنچے۔
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے پر ختم شریف پڑھنا اور لوگوں میں تقسیم کر دینا سنتِ رسولؐ ہے۔
سیّدنا غوث الاعظمؓ سے محبت رکھنے والے آپؓ کی یاد میں گیارھویں شریف کا ختم کیوں نہ دلائیں کہ آپؓ ہر لمحہ ان کی خبر گیری کرتے ہیں، ہر مشکل میں ان کے دستگیر اور مشکل کشا ہیں حتیٰ کہ وقت ِنزع اور روزِ قیامت بھی ان کی مدد کرنے والے ہیں۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھُوؒ اپنی تصنیف ’’محک الفقر کلاں‘‘ میں لکھتے ہیں:
٭ میرے پیر حضرت شاہ محی الدین سرّہُ العزیز ہیں جو نائبِ رسولؐ ہیں۔ آپ کا فرمان ہے ’’میرا مرید نہیں مرے گا مگر حالتِ ایمان پر۔‘‘
آپؓ کا مزید فرمان مبارک ہے ’’میرے مرید خوف مت کر کہ اللہ میرا پروردگار ہے۔‘‘ میدانِ حشر میں جب تمام انبیا نفسی نفسی پکاریں گے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُمتی اُمتی پکاریں گے توحضرت شاہ محی الدین مریدی مریدی پکاریں گے۔
روایات میں آیا ہے کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت پیر دستگیر قدس سرہّ العزیزسے فرمایا ’’اے محی الدین! میرا قدم آپ کی گردن پر ہے اور آپ کا قدم تمام اولیا ئے اللہ کی گردن پر ہو گا۔‘‘ یہ اعلان سن کر تمام اولیا اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمان جاری فرمایا ہے، اِس بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
حضرت علیؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس کے متعلق وضاحت چاہی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اے علی! حضرت شاہ محی الدین میری آل اور آپ کی اولاد ہیں، اگر آدمی اپنے لا ئق و ہونہار بیٹے کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر بٹھالے اور اُس کے قدم اپنی گردن پر رکھ لے تو یہ کوئی عیب کی بات تو نہیں۔‘‘ اس پر سب سے پہلے حضرت علیؓ نے حضرت پیر دستگیر قدس سرّہُ العزیز کو تعظیم دی اور بعد میں تمام اولیا کرام نے اپنی گردنوں پر اُن کا قدم قبول کر کے سعادت و ولایت و ہدایت کا شرف حاصل کیا۔ (محک الفقر کلاں)
حاصل تحریر یہ کہ جو شخص پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے محبت اور عقیدت رکھتا ہے وہ آپؓ کے فیض سے سیراب ہوتا ہے۔ اور جو آپؓ سے اور آپؓ کے مریدین سے بغض رکھتا ہے وہ اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ کر لیتا ہے۔
اللہ پاک حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں