سلطان العاشقین کی سیّدنا غوث الاعظم ؓ سے محبت اور عقیدت | Sultan ul Ashiqeen ki Sayyidna Ghaus al Azam se Mohabbat aur Aqeedat

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی  سیّدنا غوث الاعظمؓ سے محبت اور عقیدت

تحریر: میمونہ اسد سروری قادری ۔لاہور

اللہ پاک نے تمام جہانوں اور عالمین کی تخلیق اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے فرمائی اور ان عالمین کی تزئین و آرائش اُن خاص کاملین اور محبین سے فرمائی جو اللہ پاک سے اس قدر عشق فرماتے ہیں کہ ان کی عبادت، اُن کی قربانی، اُن کی سانسیں، اُن کی موت و حیات غرض سب کچھ صرف اور صرف اللہ پاک کے لیے ہی ہے۔ یہ کاملین اور ان کی حیات اِس قدر پاک و طیب ہوتی ہے کہ اللہ پاک اُن کو دیگر لوگوں کے لیے مثال بنا دیتا ہے۔ عام لوگ اُن سے عقیدت کی بنا پر ان کی تعلیمات پر عمل کرنے، سیرت کو اپنانے اور اُس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ پاک کا ان کاملین کے لیے یہ خاص انعام ہوتا ہے کہ ان کی حیات و سیرت کو دیگر لوگوں کی رہنمائی کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔
جیسے جیسے عوام الناس اِن کامل ہستیوں کے حالات و واقعات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو محبت و عقیدت کی بدولت نہ صرف ان کامل ہستیوں سے تعلق قائم ہو جاتا ہے بلکہ اُن کی حیاتِ طیبہ کے متعلق چُھپے ہوئے رازوں سے پردہ کشائی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جس طرح یہ تمام کامل اولیا ازل میں پاک ارواح کی صف میں ایک دوسرے کے ساتھ موجود تھے اسی طرح دنیا میں ظاہری آمد کے بعد بھی یہ باطنی طور پر ایک دوسرے سے منسلک اور وابستہ رہتے ہیں۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ تمام اولیا کے سردار اور ان کے فیض رساں ہیں۔ آپؓ اولیا کاملین کی تربیت و تحفظ اُن کے اِس دنیا میں ظہور سے قبل ہی شروع فرما دیتے ہیں اور زندگی کے ہر لمحہ میں انہیں اپنی نگاہِ کرم میں رکھتے ہیں۔ اولیا کرام کا اپنے سردار سے یہ باطنی تعلق کسی لمحہ بھی نہیں ٹوٹتا۔
موجودہ دو رکے فقیر ِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا سیّدنا غوث الاعظمؓ سے باطنی تعلق اس قدر مضبوط ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کی تمام تر زندگی ان کے نقش ِ قدم پر گزری ہے۔ ان کی باطنی تربیت سے ہی آپ مدظلہ الاقدس روحانیت کے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچے اور پھر دینِ محمدیؐ کو حیاتِ نو عطا فرمانے کے لیے اسی طرح اقدامات فرمائے جیسے سیّدنا غوث الاعظمؓ نے فرمائے جس بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدیؐ سے شبیہ غوث الاعظم کا لقب عطا فرمایا گیا۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی والدہ محترمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اہل ِ بیتؓ سے شدید محبت و عشق کرتی تھیں اور سیّدنا غوث الاعظمؓ کی محب بھی تھیں۔ آپ باقاعدگی سے اُن کے لیے محافل کا انعقاد فرماتیں اور ہر ماہ گیارھویں شریف کا ختم دِلانا کبھی نہ بھولتیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی زندگی اور شخصیت پر آپ کی والدہ محترمہ کے گہرے اثرات ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہا فرماتی تھیں کہ جب وہ آپ مدظلہ الاقدس کے لیے امید سے تھیں تو ان کا ہر وقت دل چاہتا کہ درود پاک اور سیّدنا غوث الاعظمؓ کی شان میں منقبتیں پڑھتی رہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس کی والدہ محترمہ روایت فرمایا کرتی تھیں کہ ایک مجذوب فقیر کبھی کبھی اِن کے گھر آیا کرتا تھا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی پیدائش کے بعد ایک مرتبہ آیا تووالدہ محترمہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو مجذوب فقیر کو دِکھایا اور کہا بابا جی اِس کے لیے دعا کریں۔ اُس وقت وہ مجذوب فقیر زمین پر بیٹھا ہوا تھا جیسے ہی اُس کی نظر آپ مدظلہ الاقدس کی پیشانی مبارک پر پڑی تو جھٹکے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور آپ کی پیشانی کو بوسہ دے کر آپ کی والدہ محترمہ سے کہا کہ بہن اِس کی پیشانی کو چُھپا کر رکھا کرو اگر شیاطین نے پڑھ لیا تو تم لوگ بہت تنگ ہو گے۔ لیکن ہزاروں کوششوں کے باوجود وہ اِس بچے کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور یہ اپنی منزل پر پہنچ کر ہی رہے گا۔ لیکن تم نہ اس کی امیری دیکھو گی نہ فقیری۔
وہی مجذوب فقیر ایک بار پھر آپ مدظلہ الاقدس کے گھر آیا تو آپ کی والدہ سے کہنے لگا ’’آپ کا یہ بیٹابڑا سعید ہے۔ اللہ پاک نے اپنی ایک خاص تقدیر کو اس کی پیشانی پر رقم کر دیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی باطنی زیر نگرانی اِس کی خاص طرز پر تربیت کی جائے گی اور اسے زندگی کے تمام مراحل سے گزارا جائے گا‘‘۔ والدہ محترمہ یہ بھی روایت فرماتی ہیں کہ ایک بار انہیں خواب میں سیّدنا غوث الاعظمؓ کی زیارت ہوئی۔ آپؓ نے فرمایا ’’یہ ہمارا ہے۔ یہ ہمارا روپ ہے۔ ہم اس کے بارے میں تم سے سوال کریں گے۔‘‘
ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ آپ مدظلہ الاقدس کا سیّدنا غوث الاعظمؓ سے باطنی تعلق ازلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ مدظلہ الاقدس کا روحانی سفر شروع ہوا تو سب سے پہلے آپ مدظلہ الاقدس کی تربیت سیّدنا غوث الاعظمؓ نے فرمائی۔
12اپریل 1997ء کی رات بعد از نمازِ تہجد آپ مدظلہ الاقدس درودِ پاک پڑھنے میں مستغرق تھے کہ باطن کا دریچہ کُھلا اور آپ نے خود کو باطنی طور پر سب سے بڑی مجلس یعنی مجلس ِ محمدیؐ میں حاضر پایا جہاں رحمت ِ عالم آقائے ارض و سما حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ مدظلہ الاقدس کو اپنے اصحابؓ اور مشائخ کی موجودگی میں دست ِ بیعت فرمایا۔ بعد ازاں پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے فرمایا ’’اس کی وراثت آپ کے پاس ہے‘‘ اور آپ کا دست ِ مبارک سیّدنا غوث الاعظمؓ کے دست ِ اقدس میں دے کر فرمایا ’’یہ ہماری لخت ِ جگر سیّدہ فاطمتہ الزہرا ؓ کا نوری حضوری فرزند ہے۔ اب ہمارا اور آپ کا نوری حضوری فرزند ہے۔ ہم اِس کو آپؓ کے سپرد فرماتے ہیں اس کی باطنی تربیت آپؓ کے ذمہ ہے‘‘۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’یہ نعمتِ عظمیٰ پاکر میں نے محفل میں موجود اہلِ بیتؓ اور چاروں خلفائے راشدین کی قدم بوسی کی۔‘‘ سب نے آپ کو مبارکباد دی اور سر پر دست ِ شفقت رکھا۔ بعد ازاں سیّدنا غوث الاعظمؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت لے کر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدیؐ سے واپس لے آئے اور آپ مدظلہ الاقدس کی باطنی تربیت شروع ہو گئی۔
یہ بات عین حقیقت ہے کہ حقیقی سروری قادری طالب مریدوں کی باطنی تربیت خود سیّدنا غوث الاعظمؓ ہی فرماتے ہیں جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
٭ ایک اِس (اعلیٰ) مرتبے کے سروری قادری ہوتے ہیں جنہیں خاتم المرسلین، ربّ العالمین سرورِ دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی مہربانی سے نواز کر باطن میں حضرت محی ّالدین شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہُ العزیز کے سپرد کرتے ہیں اور حضرت پیرانِ پیر دستگیرؓ بھی اُسے اس طرح نوازتے ہیں کہ ایک لمحہ بھی خود سے جدا نہیں ہونے دیتے۔ (محک الفقر کلاں)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ سلسلہ سروری قادری کو سروری قادری اِس لیے کہا جاتا ہے کہ سروری کا مطلب ہے سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دست ِ مبارک پر بیعت ہونا اور قادری کا مطلب ہے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا باطنی تربیت فرمانا۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)
پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظم حضرت محی ّالدین جیلانیؓ نے آپ مدظلہ الاقدس کی مرحلہ وار تربیت کا آغاز فرمایا اور آپ مدظلہ الاقدس کو اسماء الحسنیٰ کا علم عطا فرمایا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے لاکھوں کی تعداد میں ہر اسمِ صفت کا ذکر فرمایا جس کے بعد سیّدنا غوث الاعظمؓ نے آپ مدظلہ الاقدس کو اسمِ اللہ ذات تک پہنچا دیا ۔ آ پ روزانہ اسمِ اللہ ذات کا ذکرو تصور فرماتے۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں کہ جیسے جیسے دن گزرتے جاتے آپ کے اندر اسمِ اللہ ذات کی طلب بڑھتی جاتی۔ پیرانِ پیر سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے آپ مدظلہ الاقدس کو علم دعوت بھی عطا فرمایا۔
باطنی تربیت کے ابتدائی مراحل کی تکمیل کے بعد سیّدنا غوث الاعظمؓ کی طرف سے ظاہر ی مرشد کی تلاش کا حکم ہوا۔ اِس حکم کے بعدآپ مدظلہ الاقدس ظاہری مرشدکی تلاش میں نہ صرف لاہور بلکہ لاہور سے باہر ملک بھر میں تشریف لے گئے۔ جہاں کہیں کسی مرشد کے موجود ہونے کے متعلق سنتے فوراً چل پڑتے۔ اس کی محفل میں پہنچتے، دیکھتے دل اس کی طرف بالکل مائل نہ ہوتا اور واپس آجاتے۔ اس تلاش میں بھی سیّدنا غوث الاعظمؓ نے ہی آپ مدظلہ الاقدس کی دستگیری فرمائی اور منزلِ مقصود پر پہنچایا۔ ایک رات جب آپ مرشد کی تلاش میں تھک کر چور ہو چکے تھے تو رو رو کر اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے’’اللہ پاک! اب تو منزل تک پہنچا دے۔ اگر چند ہفتوں تک منزل نہ ملی تو دوبارہ پچھلی زندگی کی طرف لوٹ جاؤں گا۔ تیرا فرمان ہے کہ تو کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘ روتے روتے آپ مدظلہ الاقدس جائے نماز پر گر کر ہی سو گئے۔ خواب میں سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ تشریف لائے اور فرمایا ’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو ہمارے سپرد فرمایا ہے اور ہم آپ کو خود سے جدا نہ ہونے دیں گے۔ جلد ہم آپ کو ظاہری مرشد کی بارگاہ کے لائق بنا کر ان کی بارگاہ میں پہنچا دیں گے۔‘‘ اس کے بعد سیّدنا غوث الاعظمؓ نے آپ مدظلہ الاقدس کے دل پر دست ِ مبارک رکھا۔ جب آپ مدظلہ الاقدس سو کر اُٹھے توپُر سکون ہو چکے تھے۔ اس کے چند روز بعد ہی سیّدنا غوث الاعظم ؓ کی مہربانی اور راہنمائی سے آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔
بیعت ہونے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس اپنے مرشد پاک کے محبوب بن گئے اور محبوبیت کی منازل طے کرتے چلے گئے اور آج آپ سلسلہ سروری قادری کی مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھالے ہوئے ہیںاور اس راہ پر چلنے والے محبین کی اصلاح، تزکیۂ نفس، تربیت اور روحانی منازل کو عبور کرنے میں راہنمائی فرمارہے ہیں۔
یہ آپ مدظلہ الاقدس کی سیّدنا غوث الاعظمؓ سے بے پناہ عقیدت و محبت اور سیّدنا غوث الاعظمؓ کی تربیت کا ہی اثر ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کی ہمیشہ سے یہی دلیل رہی ہے کہ اللہ پاک آپ سے بھی دین ِ حنیف کو زندہ کرنے کا وہی کام لے جو اس نے سیّدنا غوث الاعظمؓ سے لیا۔ اسی دلیل کے پیش ِنظر آپ مدظلہ الاقدس دن رات اسلام کی اصل روح سے آج کے مسلمان کو روشناس کرانے کے لیے کوشاں ہیں اور ہر ذریعہ ابلاغ کو دین ِ حقیقی کے فروغ کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے جس طرح ان ذرائع ابلاغ، خواہ وہ کتب ہوں یا ویب سائٹس یا سوشل میڈیا‘ کے توسط سے سیّدنا غوث الاعظمؓ اور حضرت سلطان باھُوؒ کی حیات و تعلیمات کو عام فرمایا اس کی نظیر ملنا نا ممکن ہے۔
سیّدنا غوث الاعظمؓ کی شان میں آپ مدظلہ الاقدس نے ایک انتہائی جامع کتاب ’’حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ‘‘ تصنیف فرمائی ہے جو آپ مدظلہ الاقدس کی سیّدنا غوث الاعظمؓ سے محبت و عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کتاب کے انتساب میں آپ سیّدنا غوث الاعظمؓ کی بارگاہ میں عرض پیش فرماتے ہیں ’’بصد عجز و نیاز و بکمال محبت و عقیدت یہ عاجز و آ ثم اپنی اس کاوش کو محبوبِ سبحانی قطب ِربانی غوثِ صمدانی سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی بارگاہِ عالیہ میں اس التجا کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ آپؓ اس عاجزانہ کاوش کو مقبول و منظور فرمائیں گے اور اپنے اس غلام پر کرم، فضل اور رحمت کی نگاہ تاقیامت رکھیں گے اور اس غلام کو اپنے محبوبوں میں شامل فرمائیں گے کیونکہ یہ عاجز جانتا ہے کہ آپؓ کی غلامی سے ہی فقر کی انتہا، اللہ تعالیٰ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ‘‘
اگر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی پوری زندگی پر نگاہ ڈالی جائے تو سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی حیاتِ طیبہ کی طرح آپ مدظلہ الاقدس کی حیات بھی جدوجہد اور مجاہدے سے عبارت ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا pattern (نمونہ) ہوبہو سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی زندگی سے ملتا ہے۔ دورانِ حمل آپ مدظلہ الاقدس کی والدہ کے تجربات، بچپن میں آپ کے چہرے کی نورانی کشش اور فقرا کا آپ کے بارے میں پیشن گوئیاں کرنا، لڑکپن سے ہی مالی مشکلات کی وجہ سے تنگی و عسرت میں گزربسر کرنے کے لیے محنت مشقت کا آغاز کر دینا، زمانہ طالب علمی بھی اسی مشقت و تکلیف میں گزارنا، ذہانت کے باعث اساتذہ کا منظورِ نظر ہونا، جوانی میں ہی اللہ کی تلاش کے لیے مجاہدے و ریاضت کا آغاز کر دینا، اس ریاضت کے دوران سب سے پہلے باطن میںسیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ سے روحانی تعلق استوار ہونا، ان سے اسماء الحسنیٰ کا ذکر اور علم لدنیّ حاصل کرنا، انہی کے حکم پر مرشد کی تلاش کا آغاز کرنا، مرشد کی صحبت میں بہت کم وقت گزارنا (تقریباً پانچ سال)، مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد کی جدوجہد، سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے زمانہ میں اسلام کی زبوں حالی اور فرقہ واریت کی انتہا اور آپ مدظلہ الاقدس کے زمانے میں اسلام کی خستہ حالت اور فرقہ پرستی کی بھرمار، اس فرقہ پرستی کے خاتمے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس کی کوششیںغرض پوری حیات سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی حیات کے نمونہ پر ہے، حتیٰ کہ آپ کا باطنی مجاہدہ بھی اسی قدر شدید ہے جس قدر سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کا تھا۔ آپ مدظلہ الاقدس خود فرماتے ہیں ’’جس قدر ظاہری و باطنی آزمائشوں سے ہم گزرے ہیں اگر کسی پہاڑ پر گزرتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا‘‘۔ اسی مماثلت کی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلس ِمحمدیؐ سے شبیہ غوث الاعظمؓ کا لقب عطا فرمایا گیا ہے۔
اس ضمن میں آپ مدظلہ الاقدس کی مرید ِ خاص انیلا یٰسین کا روحانی مشاہدہ بھی قابل ِ ذکر ہے۔ وہ بتاتی ہیں:
٭ ایک روز میں دعوت پڑھ کر مجلس ِ محمدیؐ میں حاضر ہوئی تو کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ سیّدنا غوث الاعظمؓ تشریف لائے ہیں اور ہمارے مرشد حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے متعلق فرمایا ’’یہ بہت انمول ہیں۔ دنیا کو ان کے مقام و مرتبہ کی خبر نہیں‘‘۔ پھر فرمایا ’’یہ میں ہیں اور میں یہ ہوں۔ ان کے پیچھے پیچھے چلنے والا فلاح پائے گا‘‘۔
حدیث ِ مبارکہ ہے:
٭ عن ابو ہریرہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُجَدِدْ لَھَا دِیْنَھَا (سنن ابی داؤد۔ 4291)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتدا میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘
سیّدناغوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اپنے دور کے مجدد تھے۔ آپؓ 470 ہجری بمطابق 1078عیسوی اس دنیا میں تشریف لائے۔ طویل ریاضت و مجاہدے کے بعد آپؓ 521 ہجری بمطابق 1128 عیسوی میں مسند ِ تلقین پر فائز ہوئے اور مجدد بن کر دنیا میں ظاہر ہوئے یعنی ہجری صدی کا بھی آغاز تھا اور عیسوی صدی کا بھی۔ اسی طرح شبیہ غوث الاعظم حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے بھی مسند ِ تلقین و ارشاد اپنے مرشد حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے فوراً بعد دسمبر 2003ء بمطابق 1424 ہجری میں سنبھال لی یعنی ہجری صدی کا بھی آغاز اور عیسوی صدی کا بھی آغاز۔
سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ دوسری ہزارویں صدی عیسوی کے آغاز میں بطور مجدد ظاہر ہوئے اور سلطان العاشقین تیسری ہزارویں صد ی عیسوی کے آغاز میں بطور مجدد ظاہر ہوئے۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
٭ عارف باللہ محبوبِ ربانی، قدرتِ سبحانی پیر دستگیر شاہ عبدالقادر جیلانیؓ کا زندگی بھر یہ معمول رہا کہ آپؓ ہر روز پانچ ہزار طالب مریدوں کو شرک و کفر سے پاک کرتے رہے، تین ہزار کو وحدانیت اِلاَّاللّٰہُہ میں غرق کر کے فقر میں اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  (ترجمہ: فقر جب کامل ہوتا ہے تو وہی اللہ ہے) کے مرتبہ پر پہنچاتے رہے اور دو ہزار کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچاتے رہے۔ آفتاب کی طرح روشن حضوری کا یہ فیض بخش سلک سلوک قادری طریقہ میں باطنی توجہ، حاضراتِ اسمِ اللہ ذات، ذکر ِ کلمہ طیبہ اور ذوق و سخاوت و تصور و تصرف کے ذریعے ایک دوسرے تک منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے اور منتقل ہوتا رہے گا اور قیامت تک دونوں جہانوں کو روشن و فیض یاب کرتا چلا جائے گا۔ (کلید التوحید کلاں)
حضوری کا یہ فیض بخش سروری قادری طریقہ جب منتقل ہوتے ہوتے حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تک پہنچا توآپ مدظلہ الاقدس نے بھی سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے اس مادہ پرستی کے دور میں جہاں طالبانِ مولیٰ ہی خال خال ملتے ہیں، محض اپنی نگاہِ کامل کے فیض اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کی برکت سے لاکھوں مریدوں کے دل سے حب ِ دنیا نکال کر انہیں عشقِ حقیقی کی نعمت سے مالا مال کیا اور تزکیہ نفس کے بعد انہیں مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور دیدارِ الٰہی کے اعلیٰ ترین روحانی مراتب تک پہنچایا اور پہنچا رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس پیر محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی طرح پژمردہ روحوں کو حیاتِ نو عطا فرماتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ طالب صادق ہو منافق اور ریاکار نہیں۔ اس دور میں یہ بھی کرامت ہی ہے اور اس بنا پر بھی آپ مدظلہ الاقدس کو شبیہ غوث الاعظم کا لقب عطا کیا گیا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس دکھی دِلوں کا قرار ،بے چین روحوں کے مددگار اور محبت کرنے والوں کے لیے شیریں گفتار ہیں۔
اللہ پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا سایۂ کرم ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے ۔آمین
استفادہ کتب
محک الفقر کلاں۔ تصنیف از حضرت سلطان باھوؒ
سلطان العاشقین۔ ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز

اپنا تبصرہ بھیجیں