دورِ حاضر اور تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ| Door-e-Hazir aur Talimat Syedna Ghaus-ul-Azam

  دورِ حاضر اور تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ

تحریر: نورین عبدالغفور سروری قادری۔ سیالکوٹ

عصر ِحاضر میں حقیقی اسلام سے دوری کے باعث معاشرہ افراتفری، نفسانیت، اضطراب اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہوچکا ہے۔ خلائوں کو مسخر کرنے والا انسان اپنے ہمسائے سے بے خبر ہے۔ ایک ہی معاشرے کے افراد کو تعصب، بے راہ روی اور بغض و عناد نے ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاقی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ علم کی طرف تو توجہ دے رہا ہے مگر اخلاقیات کی تعلیم ناپید ہو چکی ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں روحانی بلندی کے حامل افراد معاشرے کو صالح بناسکتے ہیں۔ نفسانی اغراض و مقاصد سے انسانوں میں دشمنی، عناد، تعصب، بغض، کینہ اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر افراد معاشرہ کو جہنم کا نمونہ بنادیتے ہیں۔ ان سارے مسائل اور خرابیوں کا ایک ہی حل ہے کہ کتاب و سنت کی طرف رجوع کیا جائے۔ اللہ کے وہ متقی اور صالح بندے جو نفسانی اغراض و آلائشوں سے اپنے آپ کو پاک کرتے ہوئے صادقین و صالحین کے درجے پر فائز ہوچکے ہیں ان کی صحبت، مجلس اور قربت حاصل کی جائے۔ صوفیا کرام انسان دوست ہوتے ہیں وہ ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو مخلوقِ خدا سمجھتے ہوئے ان سے محبت اور پیار کرتے ہیں۔ صوفیانہ تعلیمات اور متصوفانہ طریق ہمارے معاشرتی مسائل کو بہتر حل کرسکتے ہیں۔

پختہ ایمان اور عملِ  صالح کا فقدان

موجودہ دور کا مسلمان صرف گفتار کا غازی ہے اور عمل و کردار سے کوسوں دور ہے۔ ہمارے کردار میں حقیقی مسلمان کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر قران اور حدیث سے رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے اپنے ہی تجربات و خیالات کی بنیاد پر من مانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب ہمارے ایمان ہی پختہ نہیں ہوں گے اور ہم خود اپنی بھلائی کا نہیں سوچیں گے ایسے میں اللہ ہماری رہنمائی کیسے کرے گا؟

دنیا سے محبت اور موت کا ڈر

ہم سب دھن کی محبت کی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ یعنی ہمیں دنیا اور دنیا داری سے اتنی محبت ہو چکی ہے کہ موت یاد ہی نہیں۔ ہم دنیا کی اس بناوٹی محبت میں اللہ کی محبت بھلا چکے ہیں۔ دنیا کی محبت نے ہمیں دنیاوی طاقتوں کے تابع کردیا ہے۔ آج ہم دنیا کی چاہت و لذت میں جانے انجانے میں بے دینوں کی پیروی کرتے ہیں۔

اتفاق و اتحاد کا فقدان

ہمارے ذاتی مفادات اور خواہشات نے ہمارے اتحاد و اتفاق کی دھجیاں اڑا دیں‘ ہم اپنے مفادات کی دوڑ میں اپنے بھائی چارے کو روندتے چلے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی مسلم دنیا کا اتحاد معرضِ وجود میں نہیں آیا اور کفار اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

تعلیم کا فقدان

تعلیم کے میدان میں بھی مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ قرآن میں علم کو بڑی فوقیت دی گئی ہے۔ دشمن نے علم کے میدان میں سبقت کی بدولت ہمارے معاملات پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔آج دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پر دشمنوں کا قبضہ ہے اور اپنے اس قبضے کی بدولت وہ مسلمانوں کو اخلاقی لحاظ سے کمزور کر رہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے مسلم دنیا میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔

عیش و عشرت اور کاہلی

عیاشی، سستی اور کاہلی نے تو جیسے ہمارے زوال پر مہر لگادی ہو۔ ہماری عیاشی و کاہلی نے معاشرے کو کھوکھلا کرکے ہمیں اخلاقی و معاشی پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ دین سے ایسے دور ہوئے ہیں کہ بربادی نے ہمیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا۔ عیش و عشرت میں ہم نے اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو ملنے والے انعام (زرعی و معدنی وسائل) کا بھی غلط استعمال شروع کر دیا ہے اور ہمارے معدنی و زرعی وسائل بھی دشمنوں کے ہاتھ اونے پونے داموں فروخت ہو رہے ہیں اور خاتمے کی طرف رواں دواں ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی حیات مبارکہ سے دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ صرف اپنے کام خود کرتے بلکہ دوسروں کے کام میں بھی ہاتھ بٹاتے۔

بدعنوانی و بددیانتی اور احساسِ کمتری

بدعنوانی اور بددیانتی نے ہمیں احساسِ کمتری کا شکار کر دیا ہے۔ بدعنوانی کی گرم بازاری نے ہمارے ایمان کی کمزوری کو عیاں کردیا ہے۔ ہماری بدیانتی کو استعمال کرتے ہوئے بے دین لوگوں نے ہمیں اپنے تابع کرنے کے لیے ہمیں سود پر قرض کے کھیل میں دھکیل دیا اور سود کے حرام مال نے ہمارے خون میں تبدیلیاں شروع کردیں ہیں۔ اس تبدیلی نے ہماری خودمختاری کو ختم کر کے ہمیں تابع رہنے کی عادت ڈال دی ہے۔ یوں ہم احساسِ کمتری کے سفر پر گامزن ہیں۔

تفرقہ بازی

ہم رنگ و نسل اور فرقوں و مسلکوں کی تفریق میں ایسا گِرے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا اور خود کو ایک لڑی میں پرونا تو ہم بھول ہی گئے ہیں۔ہم خود ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر انتشار کو فروغ دے رہے ہیں۔ دشمن ہمارے انتشار کو پروان چڑھا کر ہمیں کھوکھلا کر رہا ہے۔آج ہم اتنے شدت پسند ہو چکے ہیں کہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے جاری کر دیتے ہیں۔ معاملات کو سلجھانے کی بجھائے مزیدالجھاتے ہیں۔

اصلاح کا فقدان

اصلاح کی بات کی جائے تو ہم اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کو اصلاح کے مشورے دیتے ہیں۔ دوسروں کو برا کہنا اور خود غلطی پر غلطی کرتے جانا ہمارا معمول بن چکا ہے۔ اگر کوئی اصلاح کا مشورہ دے تو اس پر عمل کرنے کی بجائے الٹا اس پر تنقید کرتے ہیں۔ خود احتسابی تو جیسے ہمارے پاس سے بھی نہ گزری ہو۔

انصاف کا فقدان اور ظلم کا بول بالا

ظلم و زیادتی اور ناانصافی معاشرے کے بگاڑ کا اہم ترین عامل ہے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے ’’معاشرے کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتے ہیں لیکن ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتے‘‘۔
ہم اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں تو مسلمانوں کا ایک اہم اصول انصاف تھا۔ اسی انصاف کی بدولت مسلمانوں نے دنیا پر حکومتیں قائم کیں اور کامیابی سے چلائیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا اور ان کے ساتھ صلح و انصاف کے ساتھ رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس حکومت میں انصاف کی دھجیاں اڑائی گئیں ان کا خاتمہ ہی ان کا مقدر ٹھہرا۔ انصاف کا دامن چھوڑنے پر مسلمانوں کی حکومتیں بھی ختم ہوئیں جیسے مغلیہ سلطنت۔ہمارے ہاں بے جاناانصافی نے ہمارے معاشرے اور نظریے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
بہت سے ایسے مزید عوامل بھی ہیں جو ہماری بربادی کا سبب ہیں۔ بے دین طاقتوں کی سازشوں کا عمل دخل بھی اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب ہم کمزور اور کھوکھلے ہوں۔ ہمیں اپنے ذاتی مسائل کو سمجھنا ہو گا۔ ہم دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ تب ہی کر سکیں گے جب ہم اسلام کے جھنڈے کو مضبوطی سے تھام کر ایمان، اتحاد اور تنظیم کو فروغ دیں گے اور جب انصاف کا بول بالا ہوگا۔

فلاح کا ذریعہ

مادی ترقی کی انتہا، مال و دولت کی فراوانی اور طاقت و حکمرانی میں عروج حاصل کر لینے کے بعد بھی اگر آج انسان دنیا سے دکھ، غربت، ظلم اور بے راہ روی کا خاتمہ نہیں کر سکا، نہ ہی دنیا میں امن و سکون اور خوشحالی کو پروان چڑھا سکا تو اسے جان لینا چاہیے کہ اس کا واحد علاج صرف روحانیت اور رجوع اِلی اللہ میں ہے۔
روزِ ازل سے ہی کائنات میں ایسی ہستیوں کی روئے ارضی پر تشریف آوری ہوتی رہی جو ظلمت کدوں میں ڈوبی ہوئی مخلوقِ خدا کو راہ راست پر لانے کا فریضہ سرانجام دیتی رہیں۔ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی ہستی بھی انہی میں سے ایک ہے جن کا قدم تمام اولیا کی گردنوں پر ہے۔ جب معتقدین آپ رضی اللہ عنہٗ کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کے دلوں پر آپ رضی اللہ عنہٗ کی حکمرانی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ ایسی نصیحتیں فرماتے کہ سامعین کے دل کی دنیا بدل جاتی تھی جس سے ان کو مشاہدئہ حق نصیب ہو جاتا۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی زندگی متلاشیانِ حق اور راہ نور دانِ علم و معرفت کیلئے خضر ِراہ اور مینارئہ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی ولادت باسعادت 470ھ میں ہوئی۔سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی مجلس ِوعظ میں ستّر ستّر ہزار افراد کا مجمع ہوتا۔ ہفتہ میں تین بار جمعہ کی صبح اور منگل کی شام کو مدرسہ اور اتوار کی صبح درگاہ عالیہ میں وعظ فرماتے جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کرتے۔ بادشاہ، وزراء اور اہلیانِ مملکت نیاز مندانہ حاضر ہوتے، علما و فقہا کا جم ِغفیر ہوتا۔ بیک وقت چار چار سو علما قلم، دوات لے کر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے ارشاداتِ عالیہ قلم بند کرتے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ رقم طراز ہیں ’’حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی کوئی محفل ایسی نہ ہوتی جس میں یہودی، عیسائی اور دیگر غیر مسلم آپؓ کے دست مبارک پر اسلام سے مشرف نہ ہوتے ہوں اور جرائم پیشہ، بد کردار، ڈاکو، بدعتی، بدمذہب اور فاسد عقیدہ رکھنے والے تائب نہ ہوتے ہوں‘‘۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے عملی طور پر معروف انداز کی سیاست میں حصہ نہ لیا مگر سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سیاست کو دین سے جدا نہیں سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ اپنے مواعظ ِ حسنہ میں زبانی وعظ و تلقین اور پندو نصائح پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ربّانی فریضہ بحسن و خوبی انجام دیتے رہے اور حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ حق کہتے رہے۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ488 ھ سے سنہ وصال 561ھ تک اپنی حیات ظاہری میں بغداد کو اپنے فیوض و برکات سے نوازتے رہے۔ اسی اثنا میں پانچ خلفا کا زمانہ آپؓ نے دیکھا۔ اس دور میں سلجوقی سلاطین اور عباسی خلفا کی باہمی کشمکش عروج پر رہی۔ شورش، فتنہ اور باہمی افتراق کے زمانے میں سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے مواعظ کے ذریعے محبت و اخوت کا درس دیا۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ لوگوں کو آخرت کی طرف متوجہ کرتے۔ حب ِ جاہ و مال، دنیا کی تحقیر و تذلیل، نفاق، ریاکاری، بغض، کینہ کی مذمت اور عقیدہ آخرت، دنیا کی بے ثباتی، ایمان پر پختگی اور اخلاق کامل کی اہمیت پر زور دیتے۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ حکامِ وقت کی مطلق پرواہ نہ کرتے اور نہ کبھی ان کے دروازے پر جاتے۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے بادشاہوں کے درباروں میں بیٹھنے کو فقرا کیلئے اللہ کی طرف سے بہت جلد ملنے والی سزا اور گرفت قرار دیا۔ آج کے اس مادیت پرستی اور نفسانی خواہشات کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی روحانی، اخلاقی اور مذہبی تعلیمات سے روشناس کروایاجائے۔ لہٰذا اس ضرورت کے پیشِ نظر ذیل میں سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی چند تعلیمات درج ہیں جو آپ رضی اللہ عنہٗ اپنے مریدین کے لئے ارشاد فرماتے تھے جس کے مطالعہ سے اس امر کا اندازہ ہو جائے گا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ نے نہ صرف اپنے دور کی ضروریات کو پورا کیا بلکہ آپ رضی اللہ عنہٗ کے ارشادات کی اہمیت آج بھی بدستور باقی ہے جو قاری کو عمل کی ترغیب دلاتی ہیں۔

صحبت:

٭ اے بندے! بروں کے ساتھ تیری صحبت تجھے اچھوں سے بدگمانی میں ڈال دے گی۔ اگر تو قرآنِ حکیم اورحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی احادیث، قول و فعل کے سایہ میں چلے گا تو نجات پالے گا۔
٭ اے اللہ کے بندے! تو اولیا کرام کی صحبت اختیار کر کیونکہ ان کی یہ شان ہوتی ہے کہ جب کسی پر نگاہ اور توجہ کرتے ہیں تواس کو زندگی عطا کر دیتے ہیں۔اگرچہ وہ شخص جس پر نگاہ پڑی ہے یہودی یا نصرانی یامجوسی ہی کیوں نہ ہو۔(الفتح الربانی۔ملفوظاتِ غوثیہ)

ذکر:

٭ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہو جانادلوں کی موت ہے۔ پس جو کوئی اپنے دل کوزندہ کرنا چاہتا ہے اُس کو چاہیے کہ دل کو ذکرِ خداوندی کے لیے چھوڑ دے۔(الفتح الربانی)
٭ اے ذکر کرنے والے! تو اللہ تعالیٰ کا ذکر یہ جانتے ہوئے کیا کر کہ تو اس کے سامنے ہے۔ تو محض زبان سے اور دل کو غیر اللہ کی طرف متوجہ کرکے ذکر ِ خدا نہ کیا کر۔(الفتح الربانی۔ملفوظاتِ غوثیہ)

درجہ کمال:

٭ ہمیشہ اپنے حال کو چھپاتا رہ یہاں تک کہ توکامل ہو جائے اور تیرا دل واصل الی اللہ ہو جائے پس جب تو اس درجہ کمال پر پہنچ جائے گا تو اس وقت تجھے کسی کی پرواہ نہیں ہو گی۔
راضی برضائے الٰہی رہنا:
٭ اے بندے!اللہ تعالیٰ کی موافقت، خوف، نقصان، فقیری، امیری، سختی، نرمی، بیماری، عافیت، خیر و شر، ملنے نہ ملنے میں راضی رہو۔ میرے خیال میں تمہارے لئے سوائے تسلیم اور راضی برضا الٰہی رہنے کے سوا کوئی دوا نہیں۔ جب خدا تعالیٰ تمہارے اوپر کوئی حکم جاری کر دے تواس سے وحشت نہ کرو، نہ جھگڑا کرو اور اس کا گلہ اس کے غیر سے نہ کرو۔ تمہارا غیر ِ خدا سے شکوہ وگلہ تمہاری مصیبت و بلا کو بڑھا دے گا بلکہ سکوت و سکون اور گمنامی اختیار کرو۔ اس کے رو برو ثابت قدم رہو اور جو کچھ تمہارے ساتھ اور تمہارے معاملات میں تبدیلی آئے اس کو بخوشی دیکھتے جاؤ، اس کے تبّدل و تغیر پر خوش رہو۔ جب تمہارا خدا کے ساتھ ایسا معاملہ ہو جائے گا تو یقینا وہ تمہاری وحشت کو انس سے اور غم کو خوشی سے بدل دے گا۔

دنیا کے غموں کا علاج:

٭ اے بندے! اگر تجھے دنیا کے غموں سے فارغ و خالی ہونے کی قدرت ہے تو اسے کر گزر ورنہ دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف راغب ہو اور اس کے دامن ِ رحمت سے لپٹ جا۔ یہاں تک کہ تیرے دل سے دنیا کا غم نکل جائے۔

تمہارے عمل تمہارے حاکم ہیں:

٭ اے قوم! تم اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرو تاکہ تمہاری تابعداری کی جائے، خدمت گزاری کرو، قضا و قدر کے پیرو اور ان کے خادم بن جاؤ تاکہ وہ تمہارے پیرو اور خادم بن جائیں، تم ان کے سامنے جھک جاؤ تاکہ وہ تمہارے سامنے جھکیں۔ کیا تم نے نہیں سنا جیسی کرنی ویسی بھرنی، جیسے تم ہو گے ویسا تمہارا حاکم مقرر کیا جائے گا۔
ظاہر باطن کا آئینہ دار ہوتا ہے:
٭ ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں موجود ہو، تیرا عمل تیرے اعتقاد پر دلیل ہے، تیرا ظاہر تیرے باطن پر دلیل ہے اور اسی واسطے بعض اہل ِاللہ نے فرمایا کہ ظاہر باطن کا عنوان ہے۔ تیرا باطن اللہ اور اس کے خاص بندوں کے نزدیک ظاہر ہے۔

حکمت الٰہی کو پانے کا راز:

٭ اے بندے! اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور فعل کے آنے کے وقت خاموشی اختیار کر تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سی مہربانیاں تجھ کو نظر آئیں، کیا تو نے جالینوس حکیم کے غلام کا قصہ نہیں سنا کہ وہ کیسا گونگا، بیوقوف، بھولا اور چپ چاپ بنا رہا یہاں تک کہ جالینوس کا تمام علم سیکھ لیا۔ تیرے قلب کی طرف تیرے بہت جھک جھک کرنے اور اس کے ساتھ جھگڑا کرنے اور اعتراض کرنے سے حکمت ِالٰہی نہیں آئے گی۔

نیک نیتی:

٭ اے بندے! تو اس بات کی کوشش کر کہ تو کسی کو ایذا نہ دے اور تیری نیت ہر ایک کے لئے نیک رہے۔ ہاں جس کو ایذا دینے کا شرع میں حکم ہے پس اس کو ایذا دینا تیرے واسطے عبادت ہو گی۔

محبت الٰہی:

٭ اے بندے! تو جو خوبصورت چہروں کو دیکھ کر ان کو چاہنے لگتا ہے یہ ناقص محبت ہے، تو اس پر سزا کا مستحق ہے۔ صحیح محبت وہ ہے جس میں کبھی تغیر نہ آئے وہ اللہ ربّ العزت کی محبت ہے اور وہی ایسی محبت ہے جس کو تو اپنے قلب کی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے وہی صدیقوں اور روحانیوں کی محبت ہے۔ انہوں نے محض بوجہ ایمان محبت نہیں کی بلکہ یقین ومعائنہ کی بنا پر محبت کی۔ ان کے قلب کی آنکھوں سے پردے کھول دیئے گئے پس ان کو تمام وہ چیزیں جو غیب میں تھیں نظر آگئیں اور انہوں نے ایسی چیز دیکھی جن کا بیان ممکن نہیں ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ اور اس کے غیر کی محبت دونوں ایک قلب میں جمع نہیں ہو سکتیں۔

زینتِ دنیا سے بے نیازی:

٭ اے قوم! اگر تم دنیا کے دروازے سے منہ پھیر لو اور اللہ تعالیٰ کے دروازے کی طرف منہ کر لو تو دنیا خود تمہارے پیچھے آئے گی۔ جب دنیا اولیا اللہ کی طرف آتی ہے تو وہ اس سے کہتے ہیں چلی جا کسی اورکو دھوکہ دے۔ ہم تو تجھے پہچان چکے ہیں۔ ہم نے تجھے دیکھا ہے، ہم پر اپنا کھوٹاپن ظاہر نہ کر۔ تیری زینت لکڑی کے اس خالی بت کی طرح ہے جس میں روح نہیں۔

محنت کی عظمت:

٭ اے بندے! توحاجت مند ہے تو محنت کر تاکہ کوئی ہنر سیکھ لے۔ تو عمارت ہزار مرتبہ بناتا اور توڑتا ہے تاکہ تجھے ایسی عمارت بنانی آ جائے جو پھر نہ ٹوٹے، جب تو بنانے اور توڑنے میں خود فنا ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے ایسی عمارت بنا دے گا جو ٹوٹ نہ سکے گی۔

ترکِ دنیا:

٭ اے قوم! قبل اس کے کہ تم پر رویا جائے تم اپنے نفس پر رو لو۔ تمہارے گناہ بکثرت ہیں اور انجام نامعلوم۔ تمہارے قلوب دنیا کی محبت میں بیمار اور حرص کرنے والے ہیں تم زہد، ترکِ دنیا اور خدا کی طرف متوجہ ہونے کے ساتھ اس کا علاج کرو۔

شریعت کی پابندی:

٭ اے قوم! تم اللہ سے ملاقات کے لئے عمل کرو، اس کی ملاقات سے پہلے اس سے حیا کرو۔ تمہیں اس کے رو برو جانا ہے۔ مسلمان کی حیا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے ہے پھر اس کی مخلوق سے۔ مگر ایسے امر جس میں دین کی طرف راجع ہونا ہو اس میں شرمانا، حیا کرنا حلال نہیں۔

علم پر عمل:

٭ علم عمل کے لئے بنایا گیا ہے نہ کہ محض یاد کرنے اور مخلوق کے سامنے پیش کرنے کے لئے۔ خود علم سیکھ اور اس پر عمل کر بعد ازاں دوسروں کو سکھا۔ جب تو علم پڑھ کر اس پر عمل کرے گا تو علم تیری طرف سے کلام کرے گا اگرچہ تو خاموش رہے۔

بیداریٔ قلب:

٭ اے بندے! تو اپنی ہستی کے فنا ہونے سے پہلے اپنے قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر، تو نے محض صالحین کے حالات کے تذکرہ اور تمنا پر قناعت کر لی ہے۔ تیری مثال ویسی ہی ہے جیسے پانی کو مٹھی میں لینے والا جب ہاتھ کھولے تواس میں کچھ نہ پائے۔

تقویٰ اختیارکرنا:

٭ اے بندے! اگر تیرا ارادہ مقصود یہ ہے کہ تیرے روبرو کوئی دروازہ بند نہ رہے تو تقویٰ اختیار کر کیونکہ تقویٰ ہر دروازہ کی کنجی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ جس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ (الفتح الربانی)

غفلت سے اجتناب:

٭ اے بندے! کاہل نہ بن، کاہل آدمی ہمیشہ محروم رہتا ہے اور اس کے گریبان میں ندامت ہوتی ہے۔ اس لئے تم اپنے اعمال کو اچھا بناؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر دنیا و آخرت میں سخاوت و اچھائی کی ہے۔

شعور و آگہی:

٭ اے قوم! تمہارے اوپر نگہبان مقرر ہیں تم خدا تعالیٰ کی سپردگی میں ہو اور تم کو خبر نہیں تم غافل ہو، اپنے دل کی آنکھیں کھولو۔
٭ تو اپنے رزق کے بارے میں فکر نہ کر کیونکہ رزق کو جتنا تو تلاش کرتا ہے اس سے زیادہ رزق تجھے تلاش کرتا ہے۔(الفتح الربانی)
٭ جس کو خلوت میں تقویٰ حاصل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹاہے۔ (الفتح الربانی)
٭ ریا‘نفاق اور تکبر شیطان کے تیر ہیں جن سے وہ انسانی دل پر تیر اندازی کرتا ہے۔(الفتح الربانی)
٭ خلوص وہ اعلیٰ صفت ہے جس پر خالق کی نگاہِ عنایت ہر وقت ہے۔ (فتوح الغیب)
٭ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا ہمیشہ کے لیے زندہ ہے وہ ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔سوائے ایک لمحہ کے اس کے لیے موت نہیں۔ (الفتح الربانی)
٭ اگر تیرے بدن کا گوشت قینچیوں سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کاٹاجائے تب بھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لا‘شکوہ وشکایت سے اپنے آپ کو بچا اور محفوظ رکھ‘ اللہ سے ڈر‘اللہ سے ڈر‘پھر اللہ سے ڈر۔ بچ! بچ! شکایت سے بچ لوگوں پرطرح طرح کی جو مصیبتیں نازل ہوتی ہیں وہ اپنے ربّ سے شکایت کی وجہ سے آتی ہیں۔(فتوح الغیب)
٭ تم اللہ کی طرف رجوع کرواور توبہ کرو۔اس کے سامنے گریہ وزاری کرو اور اپنی آنکھوں اور دل کے آنسووں سے اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرو۔رونا عبادت ہے کیونکہ وہ کمال درجہ کی عاجزی اور ذلت ہے۔(الفتح الربانی)
٭ اے اللہ کے بندو! تم حکمت کے گھر میں ہو لہٰذا واسطہ کی ضرورت ہے۔ تم اپنے معبود سے ایسا طبیب(مرشد)تلاش کرو جو تمہارے دلوں کی بیماریوں کا علاج کرے۔تم ایسا معالج طلب کرو جو تمہیں دوا دے۔ایسا رہنما تلاش کرو جو تمہاری رہنمائی کرے اور تمہارے ہاتھ کو پکڑ لے۔تم اللہ کے مقرب اور مؤدب بندوں اور اس کے قرب کے دربانوں اور اس کے دروازہ کے نگہبان کی نزدیکی حاصل کرو۔ (الفتح الربانی۔ملفوظاتِ ربانی)
٭ اہلِ  اللہ کے پاس بیٹھنا ایک نعمت ہے اور اغیار کے پاس بیٹھنا جو کہ جھوٹے اور منافق ہیں‘ ایک عذاب ہے۔ (الفتح الربانی)
اگر غور کیا جائے تواندازہ ہو گا کہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل کا زمانہ اور اب کا زمانہ ایک سا ہے۔ہر کوئی اپنے نفس کے پیچھے لگا ہے۔سب دین کی اصل روح کو بھول چکے ہیں۔ ہر کوئی مذہب کے معاملہ میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بہت خوش ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کے نیک بندے ہر وقت دنیا میں موجود ہوتے ہیں جن کی بدولت اس کائنات کا نظام چلایا جاتا ہے۔ وہ ہستیاں اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتیں جب تک اللہ نہیں چاہتا اور وہ ہستیاں دین ِ اسلام کی بقااوراس کے نفاذ کے لیے اہم اقدامات کرتی ہیں۔ جس طرح سیّدنا غوث الاعظمؓ نے اپنے دور میں دینِ اسلام سے تمام بدعات کا خاتمہ کیا اوراس کی حقیقی روح کو اُجاگر کر کے دین کو حیاتِ نو عطا فرمائی اسی طرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دینِ محمدیؐ کی اصل روح کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ جس طرح سیّدنا غوث الاعظمؓ نے کمزور ہوچکے دین کو حیاتِ نو عطا کی اس طرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی دن رات اسی جدوجہد میں مصروف ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس نے مسند تلقین وارشاد سنبھالنے کے بعد فقر وتصوف کی دنیا میں جو انقلاب انگیز کام کیا وہ اگلی کئی صدیوں تک کافی رہے گااور طالبانِ مولیٰ کی حق کی طرف رہنمائی کرتا رہے گا۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں