الف|alif

محی الدین سیّدنا غوث الاعظمؓ

سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو دنیائے اسلام میں ’’محی ّالدین ‘‘کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ آپ نے احیائے اسلام کے لئے بے مثال جدوجہد فرمائی۔ مجلس ِوعظ ہو یا خانقاہ کی خلوت‘ مدرسہ کے ا وقاتِ درس وتدریس ہوں یا مسندِ تلقین و ارشاد‘ ہر جگہ آپ کی جدوجہد احیائے دین کے محور کے گرد گھومتی تھی۔
ایک دفعہ سیّدنا غوث ا لاعظم رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ’’ محی ّالدین‘‘ کے لقب سے کیسے مشہور ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں اپنا ایک عجیب مکاشفہ بیان فرمایا:
’’ایک دن میں بغداد سے باہر گیاہوا تھا۔ واپس آیا تو راستے میں ایک بیمار اور خستہ حال شخص کو دیکھا جو ضعف و لاغری کے سبب چلنے سے عاجز تھا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو کہنے لگا ’’اے شیخ! مجھ پر اپنی توجہ کر اور اپنے دمِ مسیحا نفس سے مجھے قوت عطا کر۔‘‘ میں نے بارگاہِ ربّ العزت میں اس کی صحت یابی کے لئے دعا مانگی اور پھر اس پر دم کیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس شخص کی لاغری اور نقاہت یک لخت دور ہوگئی اور وہ تندرست و توانا ہوکر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ’’عبدالقادر مجھے پہچانا؟‘‘ میں نے کہا’’نہیں‘‘ وہ بولا ’’میں تمہارے نانا کا دین ہوں‘‘ ضعف کی وجہ سے میری یہ حالت ہوگئی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے تیرے ذریعے سے مجھے حیاتِ تازہ عطا کی ہے تو’’ محیّ الدین ‘‘ ہے اوراسلام کا مصلح اعظم ہے۔‘‘
’’میں اس شخص کو چھوڑ کر بغدادکی جامع مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں ایک شخص ننگے پاؤ ں بھاگتا ہوا میرے پاس سے گذرا اور بلند آواز سے پکارا ’’سیدی محی الدین‘‘۔ میں حیران رہ گیا پھر میں نے مسجد میں جا کر دوگانہ ادا کیا۔ جونہی میں نے سلام پھیرا میرے چاروں طرف لوگ انبوہ در انبوہ جمع ہوگئے اور محی الدین‘ محی الدین کے فلک شگاف نعرے لگانے لگے۔ اس سے پہلے کبھی کسی نے مجھے اس لقب سے نہیں پکارا تھا۔‘‘
یہ مکاشفہ تو اپنی جگہ پر ہے لیکن اس حقیقت سے کسی صورت میں انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپ واقعی ’’محیّ الدین‘‘ ثابت ہوئے۔ آپ کی بے غرضی‘ بے نفسی‘ دردمندی‘ اخلاص‘ خشیتِ الٰہی‘ پرُتاثیرشخصیت‘ پرُاثر کلام اور احیائے اسلام کی بے پناہ تڑپ کی بدولت دینِ حق کو حیاتِ تازہ ملی اور آپ رضی اللہ عنہ کا یہ عظیم الشان کارنامہ نصف النہار کے آفتاب کی طرح روشن ہے۔ راہِ حق میں آپ رضی اللہ عنہ کی محیرالعقول خدمات دیکھ کر انسان انگشت بدنداں ہو جاتا ہے اورآپ کا ’’محیّ الدین‘‘ ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں رہتا۔
سیّدنا غوث الاعظمؓ کے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فرقہ واریت کے اس دور میں سیّدنا غوث الاعظمؓ کی مثل دینِ محمدی کو حیاتِ نو عطا فرمائی جس بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی سے شبیہ غوث الاعظم کا لقب عطا ہوا۔ بلاشبہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مرشد کامل اکمل اور مجددِ دین ہیں۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر فیضِ فقر حاصل کریں اور اپنے قلوب کو منور کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں