صحبتِ مرشد سے انحراف سفرِ تباہی کا آغاز|Sohbat-e-Murshid se inhiraf safar-e-tabahi ka agaaz

صحبتِ مرشد سے انحراف سفرِ تباہی کا آغاز

تحریر: انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

یہ ایک مستند حقیقت ہے کہ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے اور اس کی ہدایات کے مطابق عمل کرتا ہے، جب اسے علم کی طلب ہوتی ہے تو معلم سے مستفید ہوتا ہے اور جب اسے جسم کی نشوونما کی فکر ہوتی ہے تو خوراک کے حصول کی خاطر حصولِ رزق کے ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے۔ الغرض انسان اپنی ہر ضرورت کی تسکین کے لیے ان کے ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ بیمار ہوئے ہوں اور ڈاکٹر سے علاج کروائے بغیر خود ہی گھر بیٹھے تندرست ہو جائیں یا گھر بیٹھے ہی معلم کے بغیر تمام علوم حاصل کر لیے ہوں۔ پس دنیاوی زندگی کے معاملات ہوں یا اُخروی زندگی کے معاملات‘ ان کو خوش اسلوبی سے سر انجام دینے کے لیے رہبر و رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اگر دورِ نبوت کا مطالعہ کیا جائے تویہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آقاپاک جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم متعدد معاشرتی و نفسانی بیماریوں کا شکار تھے لیکن جونہی ان اصحاب پاکؓ کو صحبتِ مرشد بصورتِ آقاپاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نصیب ہوئی تو نہ صرف ان کی تمام معاشرتی و نفسانی بیماریا ں ختم ہوگئیں بلکہ انہوں نے قربِ حق تعالیٰ کے دیدار کی لازوال لذّت بھی پائی۔
اس لیے کہا جاتا ہے کہ صحبت کا انسان کی زندگی پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر کسی انسان کی صحبت و مجلس فاسق و فاجر لوگوں کی ہو گی تو وہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو گا اور اچھی صفات بتدریج ناپید ہوتی جائیں گی اور اسے احساس تک بھی نہیں ہو گا ۔ اس کے بر عکس جس انسان نے کسی صاحبِ ایمان و متقی عارف باللہ کی صحبت اختیار کی ہو گی اس میں اعلیٰ و بلند روحانی صفات پروان چڑھیں گی جن سے وہ عمدہ اخلاق، پختہ ایمان اور معرفتِ الٰہیہ حاصل کرے گا اور اپنے نفس کے بُرے اثرات سے محفوظ ہو جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص کے کردار و شخصیت کو اس کی سنگت سے پہچانا جاتا ہے ۔ 
اللہ تعالیٰ بھی ایمان والوں کو اچھی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ ارشادِ خداوندی ہے:
ترجمہ:’’اے ایمان والو! ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور ہو جاؤ اچھے لوگوں کے ساتھ۔‘‘ (التوبہ۔119)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے :
ترجمہ:’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھیئے جو اپنے ربّ کو صبح و شام پکارتے ہیں، اس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں، اور آپ کی نگاہیں ان سے نہ ہٹیں۔ کیا آپ دنیاوی زندگی کی زینت چاہتے ہیں۔ اور اس (بد نصیب) کی پیروی نہ کیجیے جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور وہ خواہشاتِ نفس کی اتباع کرتا ہے اوراس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے۔‘‘ (الکہف۔28)
سورۃ الکہف کی اس آیت سے ہر اہلِ عقل یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ جب اللہ نے اپنے پیا رے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اہلِ ذکر کی مجلس اختیار کرنے کا حکم دیا ہے تو یہ کیسے ممکن کے کہ اُمتِ محمدیہ پر یہ حکم نافذ نہیں ہوتا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:
ترجمہ:’’اچھے اور بُرے دوست کی مثال کستوری والے اور بھٹی والے کی طرح ہے، کستوری والا یا تو تمہیں عطا کر دے گایا تم اس سے خرید لو گے،یا اس سے اچھی خوشبو پاؤ گے۔ بھٹی والا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے بد بو پاؤ گے۔‘‘ (بخاری ، مسلم)
*حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ کونسا دوست بہتر اور افضل ہے ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس کا دیدار تمہیں اللہ کی یاد دلادے اور جس کی گفتگو تمہارے عمل میں زیادتی کا باعث ہو ، جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد تازہ کرا دے۔‘‘ (مجمع الزوائد 10 ص۔ 226)
مندرجہ بالاآیت و حدیث کی رو سے حقیقی دوست کون ہے؟ اللہ پاک نے ہر انسان کو یہ شعور عطا کیا ہے کہ وہ جان سکے کہ اُس کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں۔ بس ضرورت اپنے باطن میں غوروفکر کرنے کی ہے ۔ ہمیں اس بات پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے اردگرد کا ماحو ل، دوست احباب جنہیں ہم ہر وقت راضی کرنے میں مصروفِ عمل نظر آتے ہیں ان کی سنگت سے ہمارے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں اضافہ ہو رہا ہے ؟ کیا اس سنگت میں ہم ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے بے حد پیارے اللہ کو یاد کرتے ہیں؟ یقیناًجواب نفی میں ہی ہو گا۔ تو پھر وہ کون سا دوست ہے جس کی محفل اللہ کی یاد دلا دیتی ہے؟ اس بارے میں حدیثِ نبویؐ ہے:
* حضرت عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:’’اللہ کے کچھ بندے ایسے ہونگے جو نبی ہوں گے نہ شہدا۔ روزِ قیامت اللہ کے نزدیک ان کے رتبہ کی وجہ سے انبیا و شہدا ان پر رشک کریں گے۔‘‘صحابہ کرامؓ نے عرض کی کہ ہمیں بتائیں وہ کونسے لوگ ہیں ؟ فرمایا ’’یہ وہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں ، ان کے درمیان نہ تو رشتہ داری ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مال کا لین دین ۔قسم بخدا ان کے چہرے نور ہوں گے۔ اور وہ نور کے منبروں پر بیٹھے ہوں گے انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا جب لوگ خوف زدہ ہوں گے۔ اور نہ وہ غمگین ہوں گے جب دوسرے لوگ غم زدہ ہوں گے۔ پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی
*اَلَآ اِ نَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لٓا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُونَ۔ (یونس۔62)
ترجمہ: ’’خبردار!بیشک اولیا اللہ کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے۔‘‘ 
اب یقیناًآپ یہ بات جان گئے ہیں کہ وہ سنگت صرف اور صرف اولیا کاملین کی ہے جن کی صحبت سے دِ لوں میں نورِ ایمان کے شعلے بھڑکتے ہیں، اللہ کے دیدار کی طلب پیدا ہوتی ہے، آقا پاک علیہ الصلوٰۃ السلام کی ذات سے عشق ہوتا ہے اور پیارے اور پاکیزہ صحابہ کرامؓ کی حیاتِ طیبہ صحیح معانی میں سمجھ آتی ہے۔ اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ:’’پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔‘‘

صحبتِ مرشد کے متعلق بزرگانِ دین کے اقوال

اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ صحابہ کرامؓ کو جو بلند مراتب حاصل ہیں وہ نبی کریم ؐ کی صحبت و ہمنشینی سے حاصل ہوئے ہیں۔ اسی طرح تابعین کو بھی جو عظیم شرف حاصل ہوئے ہیں وہ صحابہ کرامؓ کی اطاعت و پیروی سے حاصل ہوئے ہیں، تبع تابعین نے بھی صحبتِ تا بعین کی برکت سے عظیم الشان مراتب حاصل کئے۔اسی طرح فقرا کاملین اور عارفین نے جو اعلیٰ روحانی مراتب حاصل کئے وہ تبع تابعین کی صحبت سے ہی پائے۔ پس جو شخص ان اولیا کاملین (انسانِ کامل ) کی صحبت میں بیٹھتا ہے اس کے دِل میں نورِ ایمان اس قدر سرایت کر جاتا ہے کہ وہ باطن میں مجلسِ محمدی ؐ میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ چشمۂ نبوت سے فیض یاب ہوتا رہتا ہے۔
صحبتِ اولیا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مولانا رومؒ فرماتے ہیں:

یک زمانہ صحبت بااولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

ترجمہ: اولیا کی صحبت میں گزرا ہوا ایک لمحہ سو سال کی بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔
حضرت امام فخرالدین رازی ؒ سورۃ الفاتحہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
* بعض بزرگوں نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ‘‘ فرمایا تو اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا: ’’صِرَاطَ الَّذِ ینَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مرید کے لیے ہدایت اور مکاشفہ کے مقامات تک پہنچنے کا سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ وہ کسی ایسے شیخِ کامل کی اتباع کرے جو اس کی صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرے اور گمراہی اور ضلالت کے راستے سے بچائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر مخلوق پر نقص غالب ہوتا ہے اور ان کی عقول ادراکِ حق اور خطا وصحیح کے درمیان تمیز نہیں کر سکتیں۔ اس لئے ایسے شیخِ کامل کا ہونا ضروری ہے جس کی ناقص شخص اتباع کرے یہا ں تک کہ اس کی ناقص عقل شیخِ کامل سے حاصل کردہ نور سے قوی و پختہ ہو جائے اور اس طرح وہ بھی مراتبِ سعادت اور کمالات کی بلندیوں پر فائز ہو جائے۔ (تصوف کے روشن حقائق)

شیخ ابرا ہیم باجوری ؒ ’’ جوہر توحید‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں :
* کسی شیخِ کامل کے ہاتھ پر ریاضت کی منازل طے کرنا زیادہ منافع بخش ہے کیونکہ صوفیا کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قول ہے کہ ایک ہزار آدمیوں کے لیے ایک مردِ کامل کا حال ایک آدمی کو ہزار آدمیوں کے وعظ سے بہتر ہے۔ سالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے شیخِ کامل کی اتباع کرے جو قرآن و سنت کا جاننے والا ہویعنی بیعت کرنے سے پہلے اسے پرکھ لے۔ اگر وہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہو تو اس کی صحبت کو لازم پکڑے، اس کے حضور مؤدب رہے۔ہو سکتا ہے کہ اس کی توجہ سے اس کا دِل صاف ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت کا والی ہے۔
شیخ محمد یوسف معروف بالکافیؒ اپنی کتاب ’’نورِ مبین علی مرشد المعین ‘‘ میں فرماتے ہیں:
* شیخ کی صحبت سے حاصل ہونے والے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ شیخِ کامل کا دیدار کرنے سے ربّ یاد آجاتا ہے یعنی شیخِ کامل ایک مضبوط واسطہ ہے جس کی وجہ سے مرید اپنے ربّ کو یاد کرتا ہے کیونکہ وہ شیخ کے چہرہ مبارک پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ انوار و تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے۔
آپؒ مزید فرماتے ہیں:
* شیخِ کامل کی صحبت کا ثمر یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ کو اپنے مولیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔ کیونکہ وہ اس کو اِس کے نفسانی عیوب سے آگاہ کرتا ہے اور غیر اللہ کو چھوڑ کر بارگاہِ خداوندی میں آنے کی نصیحت کرتا ہے۔ پس سالک اپنی ذات اور تمام مخلوق میں سے کسی سے بھی نفع و ضرر کی اُمید نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی تکلیف کو دور کرنے اور حصولِ نفع کے لیے کسی مخلوق کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ بلکہ اس کی تمام سکنات و حرکات اور تصرفات محض اللہ کے لئے ہوتے ہیں اور وصول الی اللہ کا یہی مفہوم ہے۔ 
صحبتِ مرشدکے متعلق سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں :
* اے اللہ کے بندے تُو اولیا کرام کی صحبت اختیار کر کیونکہ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب کسی پر نگاہ اور توجہ کرتے ہیں تو اس کو زندگی عطا کر دیتے ہیں ۔اگرچہ وہ شخص جس کی طرف نگاہ پڑی ہے یہودی یا نصرانی یا مجوسی ہی کیوں نہ ہو۔ (الفتح الربانی۔ملفوظاتِ غوثیہ)
* تم کسی ایسے شیخِ کامل کی صحبت اختیار کروجو حکمِ خداوندی اور علمِ لدنیّ کا واقف کارہو اور وہ تمہیں اس کا راستہ بتائے۔جو کسی فلاح والے کو نہیں دیکھے گا فلاح نہیں پا سکتا۔تم اس شخص کی صحبت اختیار کرو جس کو اللہ کی صحبت نصیب ہو۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 61)
* اہلِ اللہ کے پاس بیٹھنا ایک نعمت ہے اور اغیار کے پاس بیٹھنا جو کہ جھوٹے اور منافق ہیں ایک عذاب ہے۔(الفتح الربانی۔ مجلس 55)
* محبّ تو محبین کے پاس ہی جاتے ہیں تاکہ ان کے پاس اپنے محبوب کو پا لیں ۔ اللہ تعالیٰ کو چاہنے والے اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ان کو دوست بنا لیتا ہے اور ان کی مدد فرماتا ہے اور ان میں ایک کو دوسرے سے تقویت پہنچاتا ہے۔ پس وہ مخلوق کو دعوتِ الٰہی دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے معاون بنتے ہیں۔(الفتح الربانی۔ مجلس 17)
سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
* مرشدِ کامل اکمل باطن کی ہر منزل اور ہر راہ کا واقف ہوتا ہے ۔ باطن کی ہر مشکل کا مشکل کشا ہوتا ہے ۔ مرشدِ کامل توفیقِ الٰہی کا نام ہے، جب تک توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہو کوئی کام سر انجام نہیں پاتا۔ مرشدِ کامل کے بغیر اگر تُو تمام عمر بھی اپنا سر ریاضت کے پتھر سے ٹکراتا رہے تو کوئی فائدہ نہیں ہو گاکہ بے مرشد و بے پیر کوئی شخص خدا تک نہیں پہنچ سکا۔ مرشدِ کامل اکمل جہاز کے دیدہ بان معلم کی طرح ہوتا ہے جو جہاز رانی کا ہر علم جانتا ہے اور ہر قسم کے طوفان وبلا سے جہاز کو نکال کر غرق ہونے سے بچا لیتا ہے ۔ مرشد خود جہاز ، خود جہاز ران ہوتا ہے (سمجھ والا سمجھ گیا)۔ (عین الفقر)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

سَے روزے سَے نفل نمازاں، سَے سجدے کر کر تھکّے ھُو
سَے واری مکّے حج گزارن، دِل دِی دوڑ ناں مکّے ھُو
چِلّے چَلیہے جنگل بھَونا، اِس گَل تِھیں ناں پکّے ھُو
سَبھے مطلب حاصل ہوندے بَاھُوؒ ، جد پیر نظر اِک تکّے ھُو

مفہوم:مرشد کامل اکمل کی رہبری و رہنمائی کے بغیر معرفتِ الٰہی کے حصول کے لیے ہزاروں نوافل ادا کیے، سینکڑوں مرتبہ سجدہ میں سر رکھ کر التجا کی، حج ادا کیے، چالیس چالیس روز چلّہ کشی بھی کی اور پھر جنگلوں میں تلاشِ حق کے لیے بھی پھرتے رہے لیکن ناکام رہے اور معرفتِ الٰہی سے محروم رہے لیکن جب میں نے مرشد کامل کی غلامی اختیار کی اور میرے مرشد کامل نے ایک نگاہِ فیض مجھ پر ڈالی تو میں نے اپنی منزلِ حیات کو پا لیا۔

ناں ربّ عرش معلی اُتے، ناں ربّ خانے کعبے ھُو
ناں ربّ علم کتابیں لبھا، ناں ربّ وِچ محرابے ھُو
گنگا تیر تِھیں مول نہ مِلیا، مارے پینڈے بے حسابے ھُو
جد دا مرشد پھڑیا بَاھُوؒ ، چُھٹے کُل عذابے ھُو

مفہوم:میں نے اللہ تعالیٰ کو تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ اللہ پاک کا ٹھکانہ نہ ہی عرشِ معلّٰی پر اور نہ ہی خانہ کعبہ میں ہے ۔نہ ہی کتابوں کے مطالعہ میں اور علم حاصل کرنے میں ہے اور نہ ہی مساجد و محراب اور عبادت گاہوں میں ہے اور نہ ہی جنگلوں میں جا کر زہد و ریاضت کرنے میں ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کا ٹھکانہ مرشد کامل اکمل (صاحبِ راز) کے سینے میں ہے۔ میں نے جب سے مرشد کا دامن پکڑا ہے تلاشِ حق تعالیٰ کے لیے میری ساری مشقتیں اور پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں۔ (ابیاتِ باھُوؒ کامل)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے مندرجہ بالا ابیات بھی مرشد کامل اکمل کی تلاش اور اُن کی صحبت اختیار کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ صحبتِ مرشد کے متعلق فرماتے ہیں :
* مرشد کامل کی مجلس میں بیٹھنے سے دِل میں محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ حدیثِ نبویؐ ہے ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ کونسا دوست افضل اور بہتر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جس کا دیدار تمہیں اللہ کی یاد دلائے اور جس کی گفتار تمہارے عمل میں زیادتی کا باعث بنے۔‘‘ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات) 
* طالب کو چاہیے کہ مشاہدۂ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے لیے ذکر، تصور اور مشق مرقومِ وجودیہ اسمِ اللہ ذات یا تصورِ اسمِ محمد (جیسا مرشد حکم دے) جاری رکھے اور مرشد کی مجلس میں حاضری کی کثرت رکھے کیونکہ مرشد کی صحبت اور مجلس ہی ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جس میں زنگ آلود قلوب کو پاک اور صاف کر کے ان میں نورِ ایمان داخل کیا جاتا ہے۔ مرشد کی ایک نگاہ وہ کام کرتی ہے جو ذکر وتصور چھ ماہ میں بھی نہیں کر سکتے جیسا کہ میاں محمد بخش ؒ فرماتے ہیں :’’صحبت پیر میرے دی بہتر نفل نمازوں۔‘‘ اگر مرشد کی بارگاہ میں روزانہ حاضر نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار اور اگر ایسا بھی نہ ہو سکے تو مہینہ میں ایک بار ضرور مرشد کی مجلس میں صدق اور یقین کے ساتھ حاضر ہو کیونکہ مرشد کی محفل اور مجلس میں حاضری کے بغیر اسمِ اللہ ذات بھی دِل میں قرار نہیں پکڑتا۔(سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات) 
امام الوقت، مجددِ دین،شبیہِ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* جب تک طالب صحبتِ مرشد سے فیض یاب نہ ہو اسمِ اللہ ذات کا اثر شروع نہیں ہوتا۔
* آج تک کسی ولی کامل کو ولایت، معرفتِ الٰہی اور مشاہدۂ حق تعالیٰ بغیر مرشد کامل اکمل کی بیعت اور تربیت کے حاصل نہیں ہوا۔ امام غزالیؒ درس و تدریس کا سلسلہ چھوڑ کر حضرت یوسف نساجؒ کی بیعت نہ کرتے تو آج ان کا شہرہ نہ ہوتا ،مولانا روم ؒ اگر شاہ شمس تبریزؒ کی غلامی اختیار نہ کرتے تو انہیں ہرگز یہ مقام نہ ملتا ۔ قصّہ مختصر کہ فقر و طریقت کی تاریخ میں آج تک کوئی بھی مرشد کی راہنمائی اور بیعت کے بغیر اللہ تک نہیں پہنچ سکا۔(سلطان العاشقین)
پس قرآن و حدیث اور اولیا کاملین کے ارشادات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نہ صرف ظاہری زندگی کی بہتری بلکہ باطنی بہتری کے لیے اللہ کے چُنے ہوئے برگزیدہ بندوں (مرشد کامل اکمل ) کی صحبت اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
اب ان لوگوں کی غلط فہمی دور کر دیتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے انسانِ کامل کی بیعت و صحبت کی کیا ضرورت ہے؟ ان کے لیے دورِ نبوت کا ہی واقعہ پیش ہے:
جلیل القدر صحابی حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ اس نے نماز میں ایسی قرأت کی جس کو میں نے پسند کیا۔پھر ایک اور آدمی داخل ہوا جس نے نماز میں دوسری قرأ ت کی۔ جب انہوں نے نماز ختم کی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس آدمی نے ایسی قرأت کی جسے میں نے پسند کیا ہے اور دوسرے آدمی نے ایک اور قرأت کی ہے۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دونوں کو قرآن پڑھنے کا حکم فرمایا۔ جب دونوں نے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دونوں کی قرأت کی تحسین فرمائی۔ حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ صورتِ حال دیکھی تو میرے دِل میں شک و شبہ کے بادل چھا گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے میری اس حالت کو ملاحظہ فرمایا تو میرے سینہ پر دستِ اقدس کو ماراجس کی وجہ سے میں پسینے میں شرابور ہو گیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرامؓ بھی محض قرآنِ کریم کی تلاوت سے اپنے نفوس کا علاج نہیں کر سکتے تھے بلکہ وہ بھی محمدی شفا خانہ میں حاضر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے نفوس کا تزکیہ اور ان کی تربیت فرماتے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’وہی اللہ تعالیٰ جس نے اُمیوں میں سے ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معبوث فرمایا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کے دِلوں کو پاک کرتا ہے اور انہیں قرآن و حکمت سکھاتا ہے۔‘‘ (الجمعہ:2)

صحبتِ مرشد سے انحراف کے نقصانات

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:اوراس دِن ہر ظالم ( غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا(اور ) کہے گا: کاش !میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتا۔ ہائے افسوس ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا اور شیطان انسان کو( مصیبت کے وقت) بے یارو مدد گار چھوڑ دینے والا ہے۔ (فرقان۔ 27-29)
اب ذکر اس شخص کا کرتے ہیں جس کو ہدایت کا راستہ(انسانِ کا مل کی صحبت) مل بھی گیا ،اس نے اُسے پا بھی لیا لیکن پھر خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہوئے اُس سے منکر ہو گیا ۔ یعنی ایسا مرید جس نے امام الوقت کی بیعت تو کر لی ہو مگر وہ صحبتِ مرشد سے ہر گز مستفید نہ ہوتا ہو۔عام طور پر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ مرشد یا شیخ کے ہاتھ پر بیعت تو کر لیتے ہیں مگر بعد از بیعت مرشد کی صحبت اختیار کرنے سے انحراف کرتے ہیں۔
مولانا جلال الدین رومی ؒ فرماتے ہیں:
* مرشد اور مرید کا تعلق روح اور جسم کی طرح ہوتا ہے۔ اگر مرید بیعت ہو کر مرشد سے رابطہ ختم کر دے تو روح بیمار ہو جاتی ہے ،روح کی تازگی مرشد کا دیدار ہے اور مرشد کی تھوڑی بھی ناراضگی ہو تو مرید کے دونوں جہان برباد ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اس لیے ہمیشہ اپنے مرشد کو راضی رکھیں۔ 
جو مرید بیعت ہونے کے بعد صحبتِ مرشد اختیار کرنے کو لازم نہیں سمجھتا حقیقتاً وہ اَنا پرست ہوتا ہے، ایسے مرید کی نظر دیدارِ حق کی لذّت کی طرف نہیں ہوتی بلکہ ظاہری و مالی حالت درست کرنے کی طرف ہوتی ہے۔ ایسا مرید زبان سے تو اپنے مرشد کے کامل ہونے کا اقرار کرتا رہتا ہے اور بعض اوقات بیعت ہونے کے بعد ابتدائی دور میں شوق و مستی میں صحبتِ مرشد بھی اختیار کر لیتا ہے لیکن جونہی نوازا جاتا ہے تو مغرور ہو کر صحبتِ مرشد کو ضروری نہیں سمجھتا یا آزمایا جاتا ہے تو حیلے بہانے تراشنے لگتا ہے اور دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔ 
مرید کو صحبتِ مرشد سے صرف اُسی وقت مکمل فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جب وہ اپنے مرشد کی ہر بات اور عمل کو منجانب حق سمجھے اور اس کے کسی قول و فعل پر اعتراض ہرگز نہ کرے۔ مرید پر لازم ہے کہ مرشد کے ہر حکم کی عاجزی و اخلاص کے ساتھ اتباع کرے کیونکہ شیخ کے احکامات کی پیروی رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے اور شیخ کی نافرمانی عمر بھر کے اعمال کے غارت ہونے کے سفرکا آغاز ہے۔ وہی مرید اپنی منزل کو پاتا ہے جو مرشد کے کسی بھی عمل پر اعتراض کئے بغیر اُن سے سچی محبت اور اُن کی باادب صحبت اختیار کرتا ہے کیونکہ مرشد کامل اکمل کی حقیقی شان و مقام سے صرف اللہ اور اُس کا محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی واقف ہیں پھر مرید کی کیا مجال کہ وہ اپنی محدود عقل کو استعمال کرتے ہوئے مرشد کی ذات میں تصرف کر سکے یا توبہ نعوذ باللہ خود کو مرشد کے برابر سمجھنے لگے۔ قارئین کو صحبتِ مرشد کی اہمیت اور اس سے اجتناب کی صورت میں نقصان کو واضح کرنے کے لیے حضرت جنید بغدادی ؒ کے ایک مرید کا واقعہ تحریر کیا جا رہا ہے: 
حضرت جنید بغدادی ؒ کے مریدوں میں سے ایک کو یہ خیال گزرا کہ میں درجہ کمال کو پہنچ گیا ہوں، اب میرے لیے اکیلا رہنا صحبت سے بہتر ہے۔ چنانچہ اس نے مرشد کی صحبت چھوڑ دی ۔ ایک رات اس نے خواب دیکھا کہ کچھ لوگ ایک اونٹ لے کر آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رات تمہیں جنت میں گزارنی چاہیے۔ یہ لوگ اسے اونٹ پر سوار کر کے ایسی جگہ لے گئے جہاں حسین و خوبصورت چہروں والے لوگ، نفیس طعام اور پانی کے چشمے رواں تھے، اسے صبح تک وہاں رکھا گیا۔ یہ سلسلہ اسی طرح کئی روز جاری رہا یہاں تک کہ بشری غرور اور رعونت نے غلبہ پایااور اس کی زبان پر اپنے کمال کا دعویٰ جاری ہو گیا۔ لوگوں نے اس کی خبر حضرت جنید بغدادی ؒ کو پہنچائی، آپؒ اُٹھے اور اس کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔اُس سے حال دریافت کیا تو اُس نے سارا حال بیان کر دیا ۔حضرت جنیدبغدادی ؒ نے فرمایا کہ جب تو آج رات وہاں پہنچے تو تین مرتبہ ’’لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ العَظِیْم‘‘ پڑھنا۔ چنانچہ جب رات کو اسے حسبِ سابق لے جایا گیا تو اگرچہ وہ دِل سے اپنے مرشد کامل کا انکاری ہو گیا تھا لیکن محض تجربے کے لیے اس نے تین مرتبہ لاحول پڑھا۔ یکایک اسے لے جانے والے تمام لوگ چیخ مار کر بھاگ گئے اور خود کو اس نے نجاست اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پڑا پایا جہاں چاروں طرف جانوروں کی مردار ہڈیاں پڑی ہوئی ہیں۔ اس وقت اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔دِل سے توبہ کی اور ہمیشہ صحبت مرشد میں رہنے لگا۔ مرید کے لیے اکیلے رہنے سے بڑھ کر کوئی آفت نہیں۔ (کشف المحجوب)
حضرت شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں:
*جب تک تم اپنی خودی کے احساس میں سر مست ہو تم کسی باکمال کے کمالات کی کیا قدر کر سکتے ہو۔
ہر اہلِ عقل یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ جس طرح روح کو جسم پر برتری حاصل ہوتی ہے اسی طرح روحانی تربیت کو جسمانی تربیت پر فوقیت حاصل ہوتی ہے اور روحانی تربیت کی منازل طے کرنا مرشد کامل اکمل کی صحبت اختیار کیے بغیر ناممکن ہے۔ جس طرح ظاہری یا جسمانی تربیت کے لیے معلم کے ساتھ ساتھ سبق اور جسمانی علاج کے لیے طبیب کے ساتھ ساتھ دوا کا ہونا ضروری ہے اسی طرح روحانی تربیت میں بھی مرش کامل اکمل (طبیب) کے ساتھ روح کی اصلاح کے لیے کوئی دوا ضروری ہے اور وہ دوا اسمِ اللہ ذات ہے۔
حدیثِ نبویؐ ہے:
ترجمہ: ہر چیز کے لیے صیقل( صفائی کرنے والا آلہ) ہے اور دِل کی صیقل اسمِ اللہ ذات ہے ۔
یعنی ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے بغیر کوئی بھی مرید ہر گز معرفتِ الٰہی کی خوشبو تک نہیں پہنچ سکتا اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کا حصول اور اس کااثر مرشد کامل اکمل کی صحبت کے بغیر ناممکن ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ کے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ دور کے حقیقی و روحانی وارث مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* جب تک طالب صحبتِ مرشد سے فیض یاب نہ ہو اسمِ f ذات کا اثر شروع نہیں ہوتا۔ (سلطان العاشقین)
ہر وہ مرید جو مرشد کی نورانی و پاکیزہ محفل اور اس میں موجود مخلص مریدین پر اپنی محدود عقل کے مطابق نفسانی رنگ دے کر اعتراض کرتا ہو وہ جاسوس و ناقص مرید ہوتا ہے۔ ایسے مرید کی مثال اس گندی مکھی جیسی ہوتی ہے جو سارا صاف جسم چھوڑ کر صرف گندے زخم پر بیٹھتی ہے۔ ایسے ہی خام، جاسوس اور ناقص طالبوں کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں:
* طالب مردکون ہے؟ نامرد کون ہے؟ نا مرد طالب وہ ہے جو مرشد سے دنیاوی مال و زر طلب کرتا ہے اور مرد طالب وہ ہے جان و مال راہِ حق میں صَرف کر کے راہِ حق کو تلاش کرتا ہے۔ (توفیق الہدایت)
* بے اخلاص، بے ادب، بے وفا اور بے حیا طالب سے کتا بہتر ہے۔ جو مرید(طالب) دنیا مردار سے محبت کرتا ہے وہ طلبِ معرفت میں مردار رہتا ہے۔ (فضل اللقا)
بیت:

خام کی جانن سار فقر دی، جیہڑے محرم ناہیں دِل دے ھُو
آب مٹی تھیں پیدا ہوئے ، خامی بھانڈے گِل دے ھُو
لعل جواہراں دا قدر کی جانن، جو سوداگر بِل دے ھُو
اِیمان سلامت سوئی لے وَیسن بَاھُوؒ ، جیہڑے بھج فقیراں مِلدے ھُو

استفادہ کُتب:
الفتح الربانی۔۔سیّدنا غوث الاعظمؓ
کشف المحجوب۔۔داتا گنج بخشؒ 
عین الفقر، فضل اللقا، توفیق الہدایت۔۔حضرت سخی سلطان باھوؒ 
سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات، شمس الفقرا،
ابیاتِ باھوؒ کامل (تحقیق و ترتیب و شرح)۔۔۔۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

اپنا تبصرہ بھیجیں