امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

قسط نمبر14

دشمنانِ خدا پر خواہشاتِ نفس غالب ہوتی ہیں جو انہیں دربدر خوار سے خوار تر کرتی چلی جاتی ہیں اور حرص و طمع کے باعث وہ ہمیشہ حیران و پریشان رہتے ہیں جبکہ دوستانِ خدا نفس پر سواری کرتے ہیں اور علمِ یقین، علمِ اعتبار اور علمِ دیدارکے باعث دائمی حضوری اور نور میں غرق رہتے ہیں۔پس دوستانِ خدا کو ان کے کس عملِ خیر کے سبب پہچانا جا سکتا ہے اور اللہ کی دوستی، محبت اور معرفت کس چیز سے حاصل ہو سکتی ہے؟ اور مرشد کامل واصل باللہ سے کونسے مراتب حاصل ہو سکتے ہیں؟ اوّل ذکرِ نور، دوم تصورِ حضور، تصرفِ حضور، توجۂ حضور اور تفکرِ حضور۔ ذکرِ نوراور تصورِ حضور علمِ دعوت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے جب تک اہلِ روحانی کی قبور پر دعوت نہ پڑھی جائے۔ جو اولیا اللہ کی قبور پر اخلاص و اعتقاد کے ساتھ زیارت کی غرض سے جاتا ہے اور جو آیاتِ قرآن یاد ہوں انہیں اسمِ اللہ ذات اور اسمِ اعظم کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ   کے ساتھ پڑھتا ہے اور (اہلِ قبر کی) روح کی طرف متوجہ ہو کر تفکر اور مراقبہ کرتا ہے بے شک اسی وقت روحِ ولی قبر سے اس طرح باہر نکل آتی ہے جس طرح سانپ اپنی کھال سے باہر نکلتا ہے۔ پس ولی کی روح کا قبر سے باہر آنا جانا اسی طرح ہوتا ہے جس طرح غوطہ خور سمندر کے پانی میں آتا جاتا ہے۔ اگر اہلِ دعوت صاحبِ توفیق ہے تو وہ روح کو دیکھ لیتا ہے لیکن اگر وہ مردہ دل ہے تو روح کو نہیں دیکھ سکتا اگرچہ وہ تمام عمرقبر پر بیٹھا دعوت پڑھتا رہے۔ صاحبِ باطن سے دینی و دنیوی امور کے سلسلے میں روح ہم کلام ہوتی ہے۔ روح اہلِ نفس سے زبانِ نفس سے ہم کلام ہوتی ہے اور صاحبِ قلب و دل کے ساتھ زبانِ قلب و دل سے ہم کلام ہوتی ہے اور صاحبِ روح کے ساتھ زبانِ روح سے اور صاحبِ سرّ کے ساتھ زبانِ سرّ سے ہم کلام ہوتی ہے۔ ارواح کے ساتھ ہم کلام ہونے اور ان سے جواب باصواب پانے میں کسی قسم کا شبہ نہیں۔ نہ یہ شریعت کے خلاف ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اِذَا تَحَیَّرْتُمْ فِی الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِیْنُوْا مِنْ اَھْلِ الْقُبُوْرِ 
ترجمہ: جب تم اپنے (روحانی و باطنی) امور میں پریشان ہو جایا کرو تو اہلِ قبور (کی ارواح) سے مدد مانگ لیا کرو۔
تصورِ حضور اور ذکرِ نور کی برکت سے طالب ترک اور توفیقِ الٰہی سے مراتبِ نور حاصل کرتا ہے اور تجرید و تفرید کے مراتب طے کرنے سے طالب توحید کے مرتبہ پر پہنچتا ہے جہاں اُسے تصورِ حضور، توکل اور تحقیق حاصل ہوتی ہے۔ ابیات:

ذکر حق نور است فکرش باحضور
بے حضوری ذکر فکر و بُعد دور

ترجمہ: ذکرِ حق نور ہے اور یہ تفکر اور حضوری سے ہونا چاہیے۔ حضوری کے بغیر ذکر فکر حق سے دور کرتے ہیں۔

ذکر را بگذار مذکورش مگو
احتیاجی نیست ذکرش روبرو

ترجمہ: ذکر کو چھوڑ دے لیکن مذکور (اللہ) کو نہ چھوڑنا۔ حق کے روبرو ہو کر ذکر کی حاجت نہیں رہتی۔

شرح دعوت اہلِ قبور

گر ترا علم است دانش باشعور
نظر کن بر مردگان اہل القبور
عاقبت تو جائے خانہ شد قبر
کس نہ بُردہ در قبر این سیم و زر

ترجمہ: اگر تیرے پاس علمِ دانش و شعور ہے تو اہلِ قبور مردوں کو دیکھ۔ تیرا انجام اور گھر بھی قبر ہے جہاں کوئی مال و دولت نہیں لے جا سکتا۔ 

علم میباید علم بہر از عمل
جز محبت حق دگر باطل خجل

ترجمہ: اصل علم وہ ہوتا ہے جس پر عمل کیا جائے۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ محبتِ حق کے علاوہ دیگر ہر شے باطل اور شرمندہ کرنے والی ہے۔ 
مرد عارف اور عالم باللہ وہ ہے جو قوتِ قرآن اور قرب و معرفتِ الٰہی کی قوت سے اپنی قبر کو ایک قلعہ بناتا ہے اور وہ قلعہ جمعیت اور تجلی لقا کے انوار سے اس طرح پُر رہتا ہے کہ اس کے گرد آگ بھی نہیں آ سکتی۔دعوتِ قبوروہی شخص پڑھتا ہے جو دعوت کے احوال سے گزرا ہو اور اس لیے اہلِ قبور ارواح کے احوال اس پر منکشف ہوتے ہیں لہٰذا دعوت پڑھنے کے دوران اسے ارواح کے انوار حاصل ہوتے ہیں جس سے اس کے سامنے کوئی حجاب اور پوشیدہ پردہ باقی نہیں رہتا۔ بعض لوگوں سے دعوتِ قبور پڑھنے پر روح ہم کلام ہوتی ہے اور دعوت پڑھنے والوں کے سوالوں کے درست جواب دیتی ہے۔ بعض رجعت کھا کر خراب حال ہو جاتے ہیں اور بعض بے حجاب سب کچھ دیکھتے ہیں۔ بعض کثرتِ گریہ سے اپنی جان جلاتے ہیں، بعض نور کے اثرات کے باعث دن رات آہ و زاری کرتے ہیں اور خوف کے سبب رجا کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ عظیم روح کی قبر پر دعوت پڑھنے سے مراتبِ کبیر حاصل ہوتے ہیں اور عام روح کی قبر پر دعوت پڑھنے سے مراتبِ صغیر حاصل ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اہلِ قبور کے احوال کی حقیقت کس طریقِ تحقیق اور توفیق سے معلوم کی جا سکتی ہے کیونکہ قبر اور ارواح کی کچھ اقسام ہیں اور ان ارواح کے ان مراتب کے حساب سے چند خطاب اور نام ہیں۔ دعوت پڑھنے والے کو ارواح کے مراتب، منصب اور احوال کے مطابق مراتب، منصب اور احوال حاصل ہونے چاہیے۔ بعض قبور اہلِ نفس کی ہیں جو قبر میں قید، عذاب میں مبتلا اور خراب حال ہیں۔ ان اہلِ نفس کی قبر پر دعوت پڑھنے سے جنوں کی آوازیں آتی ہیں اور خطرات، واہمات اور وسوسۂ شیطانی صاحبِ دعوت کو فریب دیتے ہیں اور اس کی راہ روکتے ہیں اور حق سے دور کر کے غیر حق کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور صاحبِ دعوت کا ہرگز مطلب پورا نہیں ہونے دیتے۔ بعض قبور اہلِ دل روشن ضمیر فقیر اولیا اللہ کی ہوتی ہیں جن کے وجود مردہ لیکن جان زندہ ہوتی ہے۔ ان کی قبر پر جو دعوت پڑھتا ہے اسے جمعیت عطا ہوتی ہے کہ ان کی قبر جنت و بہشت سے بہتر ہے اور اس کے احوال کے موافق مؤکل فرشتے اسے آواز دیتے ہیں اور ان زندہ جان قبور سے شعلۂ انوار پیدا ہوتا ہے اور صاحبِ دعوت کی مہمات و مطالب حاصل ہو جاتے ہیں اور وہ تمام مشکلات سے آسانی پاتا ہے۔ بعض قبور اہلِ روح کی ہیں جن کی قبور پر دعوت پڑھنے سے صاحبِ دعوت کے ساتوں اندام سر تا قدم روشن ہو جاتے ہیں اور اس کا بدن اس کی روح کی چمک سے روشن ہو جاتا ہے اور دل ایسے ٹھاٹھیں مارتا ہے جیسے طوفانِ نوح۔ وہ روح صاحبِ دعوت سے ملاقات کرتی ہے اور دعوت پڑھنے والا اپنے مطالب تک پہنچ جاتا ہے۔ اہلِ اسرارِ الٰہی کی قبور پر دعوت پڑھنے سے اسرارِ الٰہی کھلتے ہیں اور عین حقیقت دکھاتے ہیں۔ بعض اہلِ اللہ کی قبور ہیں جو مکمل نور ہیں جن کی ہم نشینی میں دعوت پڑھنے سے صاحبِ دعوت نور بن جاتا ہے اور مجاہدہ و مشاہدہ سے انبیا اور اولیا اللہ کی حضوری میں پہنچ جاتا ہے۔ عارف کی ارواح نورِ ایمان سے پُر ہوتی ہیں اور اسی نور کی قوت سے لوگوں سے ملاقات کرتی ہیں اور ان کی قبور سے ذکر اور حقیقتِ مذکور کی آواز بلند ہوتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
*اِذَا تَحَیَّرْتُمْ فِی الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِیْنُوْا مِنْ اَھْلِ الْقُبُوْرِ 
ترجمہ: جب تم اپنے (دینی) امور میں پریشان ہو جایا کرو تو اہلِ قبور سے مدد مانگ لیا کرو۔
جسے تصور اسمِ اللہ ذات سے حضوری کے مراتب حاصل ہوں اور جس کا ظاہر باطن ایک ہو چکا ہے اسے ارواح کی قبور سے آواز سنائی دیتی ہے اور جمعیتِ جاودانی عطا کرتی ہے۔ بیت:

عمل قرآن و قبر قرب از خدا
این عمل حاصل شود از مصطفیؐ

ترجمہ: قبور پر قرآن سے دعوت پڑھنے سے قربِ خدا حاصل ہوتا ہے اور یہ عمل بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حاصل ہوتا ہے۔
قبر شیر کے گھر کی مثل ہے اور روح اس قبر میں نر شیر کی مثل ہے۔ قبر پر اُسے دعوت پڑھنی چاہیے جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام جیسی قوت اور توفیق حاصل ہو۔ بیت

قبر بیشہ شیر در قبر فقیر
شہسواری شیر خواند یابصیر

ترجمہ:فقیر کی قبر شیر کی کچھار کی مثل ہوتی ہے لہٰذا صاحبِ نظر ہی اس شیر کی مثل فقیر کی قبر پر دعوت پڑھ سکتا ہے۔
اولیا اللہ کی قبر قلعۂ نور ہوتی ہے جس میں ارواح دائمی حضوری سے مشرف ہوتی ہیں۔ ابیات:

ہر کرا شد معرفت وحدت لقا
خوش بخواند بر قبر آن اولیا

ترجمہ: جس کسی کو معرفتِ وحدت اور لقا حاصل ہو وہ ان اولیا کی قبر پر شوق سے دعوت پڑھ سکتا ہے۔

ہر کہ خواہد معرفت توحید نور
شد حضوری راز با اہل القبور

ترجمہ: جو نورِ توحید کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے اہلِ قبور سے حضوری کا راز حاصل کرنا چاہیے۔

باروحانی راہ روحی راہبر
باتصور می رود اندر قبر 

ترجمہ: صاحبِ دعوت راہِ روحی پر ارواح کی رہنمائی حاصل کرے اور تصور سے قبر کے اندر داخل ہو جائے۔

با یکدگر شد ہم سخن با ہم کلام
ہر حقائق یافتہ و ز خاص و عام

ترجمہ: اور ایک دوسرے سے ہم کلام ہو کر گفتگو کرے اور (روح سے) ہر خاص و عام حقائق حاصل کرے۔

ہر کہ این راہ نداند بے عمل
با وسوسہ خطرات شیطانی خلل

ترجمہ: جو کوئی اس راہ کو نہیں جانتا وہ بے عمل ہے اور وسوسہ و خطراتِ شیطانی اور خلل کا شکار ہے۔

بے سرے رفتند اولیا
روز اوّل شد مشرف بالقا

ترجمہ: اولیا بے سر ہو کر اس راہ پر چلتے ہیں اور روزِ اوّل ہی لقا سے مشرف ہو جاتے ہیں۔

باھُوؒ تو بہر از خدا این راہ نما
سر ز گردن کن جدا بہر از خدا

ترجمہ: باھُوؒ ! اللہ کے واسطے تو اس راہ پر ہمارا راہبر بن اور خدا کی خاطر گردن سے سر کو جدا کر دے۔
عارف اور عالم باللہ جو صاحبِ استغراقِ الٰہی ہو اور حضورِ پروردگار میں آتا جاتا ہو اسے مؤکلات اور جنوں کا کیا خوف اور اپنے گرد حصار باندھنے کی کیا ضرورت؟ اس کے وجود سے نورِ الٰہی کا ایسا شعلہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام مؤکل، فرشتے اور جن نورِ الٰہی کے جلال اور گرمی کے باعث اس سے دور بھاگتے ہیں۔ بیت:

مرد باشد حق شناسد باحضور
آن وجود لائق است دعوت قبور

ترجمہ: جو مرد حق شناس اور حضوری کا حامل ہو اسی کا وجود دعوتِ قبور پڑھنے کے لائق ہوتا ہے۔

شرح دیدار و لقا

دیدارِ پروردگار اور مشرفِ لقا ہونے کا کونسا طریقہ شریعت کے موافق اور جائز ہے؟ دیدارِ الٰہی کے پانچ طریقے ہیں اوّل خواب میں‘ جسے نوم الخیر کہتے ہیں۔ دوم مراقبہ‘ جو موت کی مثل ہے اور محرمِ محبت و معرفت بناتا ہے۔ ایسی موت وصالِ الٰہی عطا کرتی ہے۔ بلکہ موت سے غالب تر ہے کیونکہ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا کا مرتبہ ہے جو عارف کو لاھوت لامکان میں پہنچا کر ذاتِ حق کا بے حجاب مشاہدہ عطا کرتا ہے۔ اس مقام پر انوارِ ذات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ علمِ اجل سے فتوحات حاصل ہوتی ہیں اور موت انوارِ ذات میں غرق کر کے لقا و دیدار سے مشرف کرتی ہے۔ عارفین اولیا اللہ اس موت سے مطلق حیات پاتے ہیں اور جہاں (مقامِ ھاھویت پر پہنچ کر) معرفت، مشاہدہ، قربِ الٰہی اور مجلسِ انبیا و اولیا بھی ختم ہو جاتی ہیں (کیونکہ ہر شے وحدت میں غرق ہو کر عین وحدت ہو جاتی ہے)۔ عارفین اس موت سے توفیقِ الٰہی حاصل کر کے اسے رفیق بناتے ہیں اور اپنی موت کو ابدی حیات سے آراستہ کرتے ہیں۔ یہ وہ موتِ رحمت ہے جس کے باعث اللہ سے بے آواز ہم کلامی کا مکمل شرف حاصل ہوتا ہے اورقُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ  کے بے آواز علم سے طالب کی روح دونوں جہان میں زندگی حاصل کرتی ہے۔ اس مقام پر ولی اللہ کے لیے زندگی اور موت برابر ہوتی ہیں۔ ابیات:

باتصور اسم اللہ لازوال است
گر بہ بینم ہمہ اندر وصال است

ترجمہ: تصور اسمِ اللہ ذات سے لازوال دیدار حاصل ہوتا ہے۔ جب بھی میں اسمِ اللہ ذات کا تصور کرتا ہوں مجھے اس سے وصالِ الٰہی حاصل ہوتا ہے۔

کسے داند کہ ہرگز آن نداند
حجاب خود ز خود رویت بماند حق نگار

ترجمہ: اگر کوئی ا س کے متعلق جانتا ہے تو وہ یہ ہرگز نہیں جانتا کہ حق کے دیدار کے لیے اس کا اپنا وجود ہی حجاب ہے۔

مراتبِ عاشقان دیدار بین است
ز حق باحق رسد حق الیقین است

ترجمہ: عاشقوں کے مراتب یہ ہیں کہ انہیں دیدار حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ حق کے توسط سے حق تک پہنچ کر حق الیقین کے مرتبہ پر ہوتے ہیں۔

حیاتی شد بقا بہر از لقا شد
کسی این جا نہ بیند سر ہوا شد

ترجمہ: جو لقا کی خاطر زندہ ہوتے ہیں انہیں لقائے الٰہی سے جاودانی زندگی حاصل ہوتی ہے جس نے اس زندگی میں دیدار حاصل نہ کیا وہ خواہشاتِ نفس کا شکار ہے۔

اگر گوید کسی دیدار فردا
کہ فردا شد بہ آنرا صد بپردا

ترجمہ: اگر کوئی یہ کہے کہ قیامت کے روز دیدار ہوگا تو (وہ جان لے کہ) کل قیامت کے روز بھی اس کے سامنے سینکڑوں حجاب ہوں گے۔

خدا بیند مرا من چون نہ بینم
کہ امت از محمدؐ پاک اویم

ترجمہ: خدا مجھے دیکھتا ہے تو میں اسے کیوں نہ دیکھوں کہ میں اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت میں سے ہوں۔

لذتے و ز جاودانی لذت دیدار بہ
الٰہی مرتبہ دیدار دادی طاقت دیدار دہ

ترجمہ: ہر لذت سے دیدار کی جاودانی لذت بہتر ہے۔ الٰہی! تو نے مرتبہ دیدار تو عطا کر دیا اب طاقتِ دیدار بھی عطا فرما۔
اہلِ محبت، اہلِ ذکر فکر، اہلِ معرفت، اہلِ حضورِ حق، اہلِ مقربِ حق، اہلِ مشاہدۂ نور، اہلِ تجلی غرقِ دیدار، اہلِ مشرفِ لقا، فنا، بقا، درویش فقیر ولی اللہ، اولیا اللہ، واصل عاشق، عارف، عالم، عامل، جامع جو کامل مکمل اکمل اور رہنمائے خلق ہیں، غوث، قطب، ابدال، اوتاد، اخیار جن کے باطن معمور اور جن کے وجود پاکیزہ ہیں اور وہ ہمیشہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر رہتے ہیں۔ ان تمام اہلِ نصیب صاحبِ مراتب کو کونسے احوال سے پہچانا جا سکتا ہے؟ اہلِ اللہ اہلِ دیدار ہوتے ہیں جن کا نفس بیمار ہوتا ہے اور بیمار کو بولنے، سننے یا دیکھنے اور کھانے کی لذت و ذائقہ کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ اسی طرح اہلِ اللہ کو سوائے حضوری، مشاہدۂ دیدار کے سوا کچھ اچھا نہیں لگتا۔ ان کا سننا، دیکھنا اور بولنا دیدار کے سوا کچھ نہیں اور وہ دیدار سے ہی لذت و ذائقہ پاتے ہیں کیونکہ ان کا کھانا بھی نور ہوتا ہے جو تمام انوارِ الٰہی کا نور کہلاتا ہے۔ ابیات:

طلب کن دیدار دائم تا شوی طالب خدا
درمیان یک ہفتہ یابی معرفت وحدت لقا

ترجمہ: تو ہمیشہ دیدارِ حق کی طلب کر تاکہ تو طالبِ مولیٰ بن جائے اور ایک ہفتہ میں ہی معرفت و لقائے وحدت پا لے۔ 

ناقصاں را سال پنجہ کاملان را روز پنج
پنج پنجہ نیز ناقص عارفان یک روز گنج

ترجمہ: ناقصوں کو پچاس سال میں بھی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی جبکہ کاملوں کو پانچ روز میں ان کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ پانچ روز اور پچاس سال والے بھی ناقص ہیں۔ کیونکہ عارفین کو ایک روز میں ہی یہ (معرفت کا) خزانہ حاصل ہو جاتا ہے۔

پنج گنج نیز ناقص دم زدن بہ برد حضور
این مراتب جامع مرشد بود یا ذات نور

ترجمہ: پانچ خزانوں پر تصرف رکھنے والے بھی ناقص ہیں۔ یہ مراتب جامع مرشد جو نورِ ذات میں غرق ہوتا ہے‘ کے ہیں جو لمحہ بھر میں حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔

دم زدن ہم دیر باشد طرفہ زد حاضر کند
این مراتب انتہائے از خدا حاصل شود

ترجمہ: لمحہ بھر میں بھی دیر ہوتی ہے۔ جامع مرشد پل بھر میں حضوری میں پہنچا دیتا ہے اور یہ انتہائی مراتب اسے حق سے حاصل ہوتے ہیں۔ 

این ہریک مراتب ناقصان را راہزن شد طالبان
نادیدہ را دیدہ بہ بخشد میشود روشن عیان

ترجمہ: ناقصوں کے تمام مراتب سچے طالبوں کے لیے راہزن ہیں۔ کامل مرشد نابینا کو چشمِ بینا عطا کرتے ہیں جس سے ان پر ہر شے روشن و عیاں ہو جاتی ہے۔

باھُوؒ راہِ مردان باتوجہ بانظر ناظر قلب
در تصرف باتصور غرق کن در ذات ربّ

ترجمہ: باھُوؒ راہِ مردان یہ ہے کہ وہ توجہ اور نگاہ سے طالبوں کے قلب کو روشن کر دیتے ہیں اور اپنے تصرف سے تصور کے ذریعے انہیں ذاتِ ربّ میں غرق کر دیتے ہیں۔
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں