alif | الف

Spread the love

Rate this post

alif |  الف

حقیقتِ حج 

حج دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ حج کے لغوی معنی ــ’’زیارت کرنا‘‘ اور’’ ارادہ کرنا‘‘ کے ہیں لیکن اصطلاحِ شریعت میں یہ وہ مخصوص عبادت ہے جو اسلامی ماہ ذوالحج کے چھ دنوں 8 ذوالحج سے 13ذوالحج تک منیٰ، میدانِ عرفات، مزدلفہ، بیت اللہ شریف میں ادا کی جاتی ہے۔ حج 9ہجری میں فرض ہوا اور ہر اُس صاحب ِاستطاعت مسلمان مرد اور عورت پرزندگی میں ایک بار فرض ہے جو عاقل، بالغ، تندرست اور آزاد ہواور مالی لحاظ سے حجِ بیت اللہ کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو۔ حج کا منکر دینِ اسلام سے خارج ہے اوراس کا تارک اور شرعی عذر کے بغیر دیر کرنے والا سخت گناہ گار، فاسق اور فاجر ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اور اللہ کی طرف سے اُن لوگوں پر اس گھر (بیت اللہ) کاحج فرض کر دیا گیا ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور جو کوئی اسے نہ مانے تو جان لو بے شک اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ (سورۃ آل عمران۔97)

 حجِ باطن

حج کیا ہے؟ یہ خالصتا اللہ کیلئے سفر کرنا ہے۔حج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حاجی بیت اللہ کا دیدار اورمقدس جگہوں کی زیارت کر کے گھر واپس آجائے بلکہ حج کا مقصد’’ صاحبِ خانہ کی حضوری، مشاہدہ اور مکاشفہ‘‘ ہے۔ اپنا وقت اور مال خرچ کرکے وہاں پر پہنچنا ہے جہاں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا پر سرِ تسلیم خم کر دیا اور دنیا کا نفع ونقصان نہ دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان مقامات کو اپنی نشانیاں بنا لیا اور اب بار بار اپنے محبوب بندوں کا عمل لوگوں سے کروا کر اُن کی محبت کے انداز کو دیکھ رہا ہے۔ حج کی تمام رسومات اِسی بات کا عملی اظہار ہیں۔ بندہ اپنے ربّ کی رضا کے لیے مصروفِ عمل ہے۔ وہ اللہ کے دوستوں کا دوست اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن ہے۔ روزِ قیامت حشر کے میدان میں اپنے اللہ کے سامنے حاضری کی کیفیت کو آج ہی اس نے اپنے اوپر طاری کر لیا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اپنے اللہ کو یاد کرنے والا ہے۔

حج بظاہر ایک وقتی عبادت ہے مگر دراصل یہ ایک بندۂ مومن کی پوری زندگی کی تصویر ہے۔ یہ بندے کا اپنے ربّ کی ربوبیت اور اپنی عبدیت کا اقرار نامہ ہے۔ حج مومن کی زندگی کی تعبیر بھی ہے اور اس کی موت کی تعبیر بھی۔ حج حق تعالیٰ کے دیدار کا نام ہے۔ یہ دنیا کی زندگی میں اپنے ربّ سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج بارگاہ ِقدس تک بندے کا پہنچ جانا ہے۔

کعبہ کے سامنے کھڑا ہو کر آدمی محسوس کرتا ہے گویا وہ خود اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے۔طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے ربّ کے گرد پروانہ وار گھوم رہا ہے۔ وہ ملتزم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتاہے گویا اپنے ربّ کا دامن ہاتھ آ گیا ہے جس سے وہ بے تابانہ لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔قلبِ انسانی پر ان کیفیات کانزول تب ہی ممکن ہے جب قلب میں تقویٰ ہو۔ 

(سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصنیفِ مبارکہ ’’حقیقتِ حج‘‘ سے اقتباس)

تقویٰ کا حصول اسم اللہ ذات کے ذکر و تصور سے ممکن ہے۔ اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور کے لیے آج ہی رابطہ کیجئے۔
0321-4507000،                       0321-4151910

 

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں